Muhammad Ramzan
On this page you will find Islamic and informational videos
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا)“
(جامع ترمذی: 3540)
#شبگرد
سید نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”جو بھی شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے عوض میں اسے جہنم سے ستر برس کے فاصلے جتنا دور کر دیتا ہے۔“ ( صحیح ابن حبان : 3417)
#شبگرد
14/06/2024
انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی پرصابر و قانع رہ کر دوسروں سے بے نیاز رہنا اور ان سے کچھ نہ طلب کرنا درحقیقت یہی نفس کی مالداری ہے یعنی بندہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہے۔
اس بات کی مزید وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے، آپ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اے ابوذر! کیا تو خیال کرتا ہے کہ مال کی کثرت امیری ہے؟
میں نے کہا:
ہاں۔
آپ نے فرمایا:
”کیا تو سمجھتا ہے کہ مال کی قلت ناداری ہے؟“ میں نے عرض کی:
جی ہاں۔
آپ نے فرمایا:
امیری تو دل کی مال داری ہے اور فقیری تو دل کی ناداری ہے۔
(الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان: 396/2)
Seerat-e-Rasool S.A.W
Arab ki Tehzeeb | عرب کی تہذیب | S01E01
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ شدید بخار میں مبتلا تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھا لحاف کے اوپر سے مجھے حرارت محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو اتنا سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے حق میں جہاں آزمایش دو گنا ہوتی ہے وہاں اجر بھی دو گنا ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کن لوگوں پر آزمائش سب سے سخت ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء پر اور ان کے بعد نیکوکار لوگوں پر، بسا اوقات ان پر فکر و فاقہ کی ایسی کڑی آزمائش پڑتی ہے کہ جسم ڈھانپنے کے لیے ایک چوغہ کے علاوہ کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے، لیکن یہ لوگ ابتلا و امتحان پر اتنے ہی خوش ہوتے ہیں جتنا کہ لوگ فراخی و خوشحالی پر خوش رہتے ہو۔“ (سلسله احاديث صحيحه : 1690)
17/05/2024
(1) انسان کو اللہ کی رحمت کی امید اور اس کی ناراضی کا خوف، دونوں کی ضرورت ہے۔ امید اسے نیکیوں کی رغبت دلاتی ہے اور خوف اسے گناہ سے باز رکھتا ہے۔
(2) زندگی میں امید پر خوف کا غلبہ رہنا چاہیے لیکن وفات کے وقت امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔
(3) اللہ سے حسن ظن کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یہ امید رکھے کہ اس کی توفیق سےزندگی میں جو نیک کام ہوئے ہیں اللہ تعالی انھیں قبول فرمائے گا اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے گا۔
(4) امید کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی عادت ہو اور نیکیوں کی طرف رغبت نہ ہو۔ اور جب نصیحت کی جائے تو کہہ دے: اللہ بہت رحم کرنے والا ہے۔ یہ امید کا غلط تصور ہے۔
05/04/2024
" إنَّ اللَّهَ وَ مَلاَىِٔكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَا أيُّهَا الّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمَاً "
اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى نبيِّـنَا مُحَمَّدٍ ﷺ ❤️❤️
28/09/2023
فکر معاش انسان سے اس کی تخلیقی صلاحتیں چھین لیتی ہے۔
#شبگرد
جس دن انسان چھُپنے کی جگہ ڈھونڈے گا 😢
#شبگرد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Medina
42315