Sunny804
Public Figure
Do u agree ?
26/05/2026
24/05/2026
خدیجہ میرا کون یقین کرے گا؟
آپ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا یہ جملہ ہمیشہ میرے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔
اے اللّٰہ کے نبی گواہ رہیے گا ہم آپ پر بن دیکھے ایمان لائے
ہم نے آپ کو نہیں دیکھا لیکن خدا کی قسم ہم آپ سے بےپناہ محبت کرتے ہیں
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم🌸♥
24/05/2026
اس بار خطبہ حج یہ سادہ سے دکھنے والے بابا جی دیں گے۔ اس مردِ قلندر کا نام شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی ہے۔ آپ نے مسجد نبوی شریف میں اکثر ان کے پیچھے نمازیں ادا کی ہوں گی۔ شیخ علی بن عبدالرحمن الحزیفی کا تقویٰ، طہارت، سادگی اور نیک طبیعت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ شیخ اس عمر میں بھی مسجد نبوی شریف کی امامت اس خشوع و خضوع سے کرتے ہیں، کہ ان کے پیچھے مقتدی کو دلی سکون اور ذہنی اطمینان پہنچتا ہے۔اور عشق صحابہ و اہلبیت شیخ حذیفی میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔
الله تعالیٰ تمام حجاج کرام کے حج کو مقبول فرمائے اور شیخ کی زندگی میں برکتیں عطاء فرمائے ہمیں بھی اپنی گھر کی زیارت نصیب فرمائے ۔ آمین
Life in Saudi Arabia
18/05/2026
منی خیموں کا شہر
رات کا منظر
11/05/2026
دمشق ایک ایسی عظیم اور تاریخی شہر ہے کہ ایک زمانے میں اسپین، پرتگال، جنوبی فرانس، ایران (قدیم فارس)، وسطی ایشیا، چین، اناطولیہ، مصر اور پورا شمالی افریقہ یہ سب ایک ہی سلطنت کے علاقے تھے، اور اس عظیم سلطنت کا مرکز دمشق تھا۔
یہ وہ دور تھا جب دنیا کا ایک بڑا حصہ ایک ہی حکومت کے تحت تھا، اور اس کی دارالحکومت دمشق تھی۔ خاص طور پر خلافتِ بنو امیہ (661ء – 750ء) کے زمانے میں دمشق کو عالمی سیاسی، فوجی اور تہذیبی مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔
دمشق کی تاریخ اس سے بھی کہیں زیادہ قدیم ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک ہے، جس کی تاریخ تقریباً 3000 قبل مسیح یا اس سے بھی پہلے تک جاتی ہے۔ یہ شہر قدیم آرامی تہذیب کا بھی مرکز رہا، جہاں سے ایک عظیم ثقافتی اور لسانی ورثہ پروان چڑھا۔
خلافتِ بنو امیہ کے دور میں، دمشق سے نکلنے والی حکومت کی سرحدیں مشرق میں چین کے قریب علاقوں تک اور مغرب میں اندلس (اسپین) اور جنوبی فرانس تک پھیل چکی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بنو امیہ کے آثار ہمیں اس وسیع سلطنت کی داستان سناتے ہیں، چاہے وہ ایشیا کے کنارے ہوں یا یورپ کے مغربی علاقے۔
دمشق نہ صرف ایک سیاسی دارالحکومت رہی بلکہ علم، فن، تعمیرات اور تہذیب کا بھی مرکز رہی۔ بہت کم شہر ایسے ہیں جو اس کے تاریخی جلال اور عظمت کا مقابلہ کر سکیں۔
دمشق صرف ایک شہر نہیں، بلکہ ہزاروں سال پر محیط تاریخ، تہذیبوں کا سنگم، اور اسلامی خلافت کا ایک سنہرا باب ہے۔ جو آج بھی اپنی عظمت کی گواہی دیتا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Lahore
0423