Concept Computer Training Center Adda Pipli

Concept Computer Training Center Adda Pipli

Share

* MS Office Diploma
* Shorthand+Typing
* E-Commerce (Shopify & Amazon)
* Freelancing (Upwork Fiverr)

14/04/2026
04/04/2026

Admission Open

20/03/2026

Eid Mubarak! 🌙✨

May Allah bless you and your family with happiness, health, and prosperity.
May all your prayers be accepted and your life be filled with peace and success.

11/03/2026

Concept Computer Training Center Adda Pipli

* Admission Open
* Class Start From 01 April
* Class Time: 4 PM To 6 PM
* Fee 2000 Per Month
* 3 Months & 6 Months Course

Contact Now:
Ph # 0306-2024491

Address: Khanewal Road Adda Pipli

15/02/2026

ٹک ٹاک چین کی نمبر ون ایپ ہے، مگر اس کی مونیٹائزیشن کی سہولت امریکہ جیسے ممالک کو دی گئی ہے، جبکہ پاکستان—جو چین کا قریبی دوست ہے—اس سے محروم ہے۔ اسی طرح، فیس بک جو دنیا بھر میں مونیٹائزیشن فراہم کرتا ہے، پاکستان میں اس کی رسائی انتہائی محدود (تقریباً 30%) ہے۔
یوٹیوب کا حال بھی مختلف نہیں؛ دنیا بھر میں اشتہارات کے ریٹس (CPM) زیادہ ہیں، لیکن پاکستان میں یہ اتنے کم ہیں کہ ایک یوٹیوبر کی آمدنی بمشکل ایک عام مزدور کی تنخواہ کے برابر بنتی ہے۔ پے پال (PayPal) اور اسٹرائپ (Stripe) جیسے بڑے پلیٹ فارمز آج تک پاکستان میں اپنی خدمات شروع نہیں کر سکے، حالانکہ 25 کروڑ کی آبادی اور کروڑوں انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ یہ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔
مجموعی صورتحال دیکھی جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان ڈیجیٹل دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں انٹرنیٹ کی فراہمی میں وہ معیار برقرار نہیں رکھ پائیں جو جدید دور کا تقاضا ہے جیسے ہم کسی جنگل میں رہتے ہوں، اور رہی سہی کسر "سیکیورٹی" کے نام پر بار بار انٹرنیٹ کی بندش نکال دیتی ہے۔ اس کے برعکس، ہمارا ہمسایہ ملک بھارت یہ تمام سہولیات نہ صرف حاصل کر چکا ہے بلکہ ان سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ فرق پاکستانی صارفین کے لیے محض ایک مسئلہ نہیں، بلکہ ملک کی ڈیجیٹل ترقی کی راہ میں ایک بہت بڑی دیوار ہے۔

10/02/2026

آج کے دور میں بچوں کو AI کی طرف لانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں کم عمری میں کمپیوٹر کے پیچیدہ کوڈ سکھانا شروع کر دیں، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم بچوں کے اندر سوچنے، سوال کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی عادت پیدا کریں۔ AI دراصل ایک ٹول ہے، اور ٹول وہی اچھا استعمال کر سکتا ہے جس کے پاس درست سوچ ہو۔ اس لیے ابتدا ہمیشہ ذہن سازی سے ہوتی ہے، مشین سے نہیں۔
چھوٹی عمر یعنی پانچ سے سات سال کے بچوں کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ چیزوں کو غور سے دیکھنا اور ان پر سوال کرنا سیکھیں۔ اس عمر میں اگر بچہ یہ سمجھ لے کہ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے اور حل سوچ کر نکالا جا سکتا ہے، تو یہی سوچ آگے جا کر AI سمجھنے کی بنیاد بنتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں سے روزمرہ کے کاموں پر سوال کریں، جیسے اگر لائٹ نہ جلے تو کیا کریں گے یا اگر کھلونا خراب ہو جائے تو اسے کیسے ٹھیک کریں گے۔ اس طرح بچے کی منطقی سوچ آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی ہے۔
آٹھ سے دس سال کی عمر میں بچہ ٹیکنالوجی کو صرف کھیل کے آلے کے بجائے سیکھنے کے ذریعے کے طور پر سمجھنا شروع کر سکتا ہے۔ اس مرحلے پر بچوں کو یہ احساس دلایا جانا چاہیے کہ کمپیوٹر اور موبائل وہی کام کرتے ہیں جو ہم انہیں بتاتے ہیں۔ اس عمر میں تصویری اور آسان انداز کی کوڈنگ یا ڈیجیٹل سرگرمیاں بچے کو یہ سکھاتی ہیں کہ ہر کام ایک ترتیب سے ہوتا ہے۔ یہی ترتیب بعد میں AI کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، چاہے بچہ خود کوڈر بنے یا نہ بنے۔
گیارہ سے تیرہ سال کی عمر میں بچے کو آہستہ آہستہ AI سے متعارف کروایا جا سکتا ہے، لیکن ایک مددگار کے طور پر۔ اس عمر میں بچے کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے کہ AI سے صحیح سوال کیسے پوچھا جاتا ہے۔ جب بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ بہتر سوال بہتر جواب پیدا کرتا ہے تو وہ AI کو صرف تفریح نہیں بلکہ سیکھنے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔ یہاں ذمہ دار انٹرنیٹ استعمال اور سچ اور جھوٹ میں فرق کی تربیت بھی بہت اہم ہو جاتی ہے۔
چودہ سے سولہ سال کی عمر میں AI بچے کی پڑھائی کا ایک مضبوط ساتھی بن سکتا ہے۔ اس مرحلے پر بچے کو یہ سمجھایا جانا چاہیے کہ AI نقل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سمجھنے اور تیاری کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب بچہ AI سے نوٹس بنوانا، مشکل تصورات کو آسان الفاظ میں سمجھنا اور اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا سیکھ لیتا ہے تو وہ خود سیکھنے والا طالب علم بن جاتا ہے، جو آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
سترہ سال اور اس سے اوپر کی عمر میں AI کو کیریئر کے زاویے سے متعارف کروایا جانا چاہیے۔ اس عمر میں طالب علم یہ سیکھ سکتا ہے کہ AI کس طرح تعلیم، فری لانسنگ، ڈیزائننگ، لکھائی اور دیگر مہارتوں کے ساتھ مل کر کمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہاں AI محض ایک سافٹ ویئر نہیں رہتا بلکہ ایک عملی ساتھی بن جاتا ہے جو بچے کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ AI بچوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع ہے، بشرطیکہ اسے درست رہنمائی کے ساتھ متعارف کروایا جائے۔ اگر والدین اور اساتذہ خود سیکھنے کا رویہ اپنائیں، نقل کی حوصلہ شکنی کریں اور بچوں کو سوال کرنے کی آزادی دیں تو AI ہمارے بچوں کو مشین نہیں بلکہ بہتر انسان بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

Photos from Concept Computer Training Center Adda Pipli's post 21/11/2025

We proudly awarded certificates to our hardworking students. Congratulations to all of you for your dedication and effort. Keep moving forward and learning every day!"

20/10/2025

Admission Open
Contact Now:
0306 2024491

Want your school to be the top-listed School/college in Vehari?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Vehari