Ustaad AI
All about Ed-Tech, AI in Education, Digital Skills
Managed by Muhammad Kamran Khalid LND Helping Material
21/02/2026
نوٹ بک ایل ایم۔۔۔۔سیکھیے!
میں آج کل نوٹ بک ایل ایم کی مشق/پریکٹس کررہا ہوں
میں چاہتا ہوں کہ آپ دوستوں کو بھی شامل۔کروں
اس مقصد کے لیے ایک گروپ بنایا ہے آپ اس میں شامل ہوسکتے ہیں
NotebookLM
Google AI Tools
For Teachers
Lesson Plan
Audio/Video
Presentations
Infographic
Research
Paper/Test Making
Mind Map/Summary
Spreadsheets
etc....
واٹس ایپ گروپ لنک کمنٹ باکس میں
20/02/2026
غلطی ہائے مضامین
نیا قومی نصابِ تعلیم تیار کرنے والے توجہ فرمائیں!
احمد حاطب صدیقی (ابونثر)
ابھی کل اور پرسوں کی بات ہے، گیارہ اور بارہ فروری کی۔ پاکستان کا نیا قومی نصاب تیارکرنے کے لیے ’’وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت‘‘کے زیراہتمام اسلام آباد میں وفاقی اور صوبائی محکمہ ہائے تعلیم کے سربراہوں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ ہماری اس پاکستانی وزارتِ تعلیم کا سرکاری نام انگریزی میں ہے۔ اجلاس کا عنوان بھی انگریزی میں ہے۔ اجلاس کے انعقاد کا اعلان بھی انگریزی زبان میں کیا گیا ہے۔ نئے قومی تعلیمی نصاب کی تیاری میں قومی زبان کی جگہ ہر سطح پر برطانوی زبان کا غلبہ اور دور دورہ دیکھ کر دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں۔ ان کہانیوں میں سب سے دل خراش کہانی انگریزی ذریعۂ تعلیم کے جبری تسلط کی کہانی ہے۔
کہانی یہ ہے کہ استعماری آقاؤں نے ہمارے دورِ محکومی میں جو نظامِ تعلیم دیا تھا، اُس کا نصب العین صرف اور صرف مغربی استعمار کے لیے وفادار غلام تیار کرنا تھا۔ ایسے وفادار غلام جو اپنی اقدار، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنی زبان کو حقیر جانیں۔ اپنی ملت میں کسی خوبی کا نشان نہ پائیں۔ اپنی تعلیمی روایات سے کلیتاً بیگانہ ہوجائیں ۔ زندگی اور معاملاتِ زندگی کو استعماری آقاؤں کی عطا کردہ عینک لگاکر دیکھیں اور محض عقلیت، لادینیت، مادّیت اور جدیدیت پرمشتمل چند مفروضات کو علم و دانش کی معراج گردانیں۔ سو، یہ مقصد پورا ہوکر رہا۔
لارڈ الفنسٹن اس مقصد کو اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے:
’’ہمارا مقصد اِن کالجوں کے ذریعے سے لوگوں کا ایک ایسا گروہ تیار کرنا ہے جو اپنے ذہن و اخلاق کے اعتبار سے ہندوستان میں برطانیہ کی سول ایڈمنسٹریشن میں ملازمت کا اہل ہو‘‘۔ (بحوالہ:’’نظامِ تعلیم: نظریہ، روایت، مسائل‘‘۔ از:پروفیسر خورشید احمد۔ ص:۸۹۔ مطبوعہ دسمبر ۱۹۹۳ء)
انگریزی ذریعۂ تعلیم اس مقصد کے حصول میں کتنا کامیاب رہا؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہمارا ہر سند یافتہ شخص استعماری دنیا میں ملازمت حاصل کرکے اپنی قوم کی بجائے اُنھیں اقوام کی خدمت بجا لانے کو آج بھی اپنے علم ودانش کی معراج سمجھتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی انگریزی ذریعۂ تعلیم نے ہمارے ہاں ’’بہت اچھے غلام‘‘ پیدا کیے۔ زندگی کے ہر معاملے میں ان سند یافتگان کا نقطۂ نظر وہی ہوتا ہے جو استعمار کا ہے۔ اب جب کہ ہماری قوم مغربی استعمار کی ننگی جارحیت کا مشاہدہ اپنی کھلی آنکھوں سے کرتی جارہی ہے، محب قوم افراد میں استعمار کی فکری محکومیت اورذہنی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب قوم کے حقیقی اہلِ فکر و دانش کو آگے بڑھنا چاہیے اور حصولِ آزادی کے عملی طریقوں کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنی چاہیے۔
اِس تحریکِ آزادی کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟ یہ ایسا بنیادی سوال ہے جو قومی خودمختاری اور ملّی خودانحصاری کی کوشش کرنے والے ہر دردمند کے سامنے سب سے پہلے آتا ہے۔ اِس بنیادی سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمیں تبدیلی کا آغاز بنیادی سطح سے کرنا ہوگا۔
ہمارے طالب علموں کو ہمارے قومی تقاضوں کے مطابق تشکیل دیے جانے والے نصاب کے تحت اور خود اپنی زبانوں کے ذریعے سے حصولِ علم کے مواقع جب تک حاصل رہے، ہمارے نظامِ تعلیم نے برعظیم میں ایک ہزار برس تک نہ صرف علم وفضل کے میدان میں شان دار کارنامے سرانجام دیے بلکہ فنون اور صنعت وحرفت کے شعبوں میں بھی بے مثل ترقی کی۔ ہمارے تہذیب پرور اور انقلاب آفریں نظامِ تعلیم نے نہایت بلند مرتبت انسان تیارکیے۔ جرنیل، طبیب، کیمیادان، موجد، محقق، فقیہ، جغرافیہ دان، منتظم، خطیب، شاعر اور ادیب۔
ہمارے نظامِ تعلیم کی اِس مرد آفرینی کا اعتراف اپنوں ہی نے نہیں غیروں نے بھی کیا ہے۔ سر ڈبلیو ڈبلیو ہنٹرکہتے ہیں:
’’ملک (یعنی برعظیم پاک وہند) ہمارے ہاتھوں میں آنے سے پہلے مسلمان نہ صرف سیاسی اعتبار سے، بلکہ ذہن و فراست کے اعتبار سے بھی ہندوستان میں بڑی قوت رکھتے تھے۔ اُن کا نظامِ تعلیم اعلیٰ درجے کی ذہنی تربیت دے سکتا تھا، اس لیے مسلمانوں کا نظام ہندوستان کے تمام دیگر نظاموں سے بدرجہا فائق تھا‘‘۔ (’’نظامِ تعلیم: نظریہ، روایت، مسائل‘‘۔ از:پروفیسر خورشید احمد۔ ص:۷۸۔ مطبوعہ دسمبر ۱۹۹۳ء)
جنرل سیلی مین (Seeleman) نے بھی اُنیسویں صدی کی ابتدا میں مسلمانوں کے تعلیمی مقام اور مرتبے کا تذکرہ یوں کیا ہے:
’’دُنیا میں ایسی قومیں بہت کم ہوں گی، جن میں ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ تعلیم کا رواج عام ہو۔ ہر وہ شخص جسے ۲۰ روپے ماہانہ کی ملازمت حاصل ہوتی ہے، عام طور پر اپنے بیٹوں کو کسی وزیرِاعظم کے [بیٹے کے] برابر تعلیم دِلواتا ہے۔ جوکچھ ہمارے لڑکے یونانی اور لاطینی زبانوں کی وساطت سے سیکھتے ہیں، یہاں کے نوجوان وہی باتیں عربی اورفارسی کے ذریعے سے سیکھتے ہیں۔ سات سالہ مطالعۂ نصاب کے بعد یہاں کا مسلمان نوجوان علم کی شاخوں: قواعد، بلاغت، منطق وغیرہ سے قریب قریب اُتنا ہی واقف ہوجاتا ہے، جتنا آکسفورڈ کا کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ بھی اُسی طرح سقراط، اِرسطو، افلاطون، بقراط، جالینوس اور بوعلی سینا کے متعلق بڑی روانی سے گفتگو کرسکتا ہے‘‘۔(Seeleman Rambles and Collections p.523)
۱۸۱۳ء میں برطانوی پارلیمان نے ہندوستان میں تعلیمی حکمتِ عملی کے تعین کے لیے ایک قانون منظور کیا جو ’’چارٹر ایکٹ‘‘ کہلاتا ہے۔ اِس قانون کی رُو سے طے پایا کہ ’’ذریعۂ تعلیم کے طور پر انگریزی زبان کو اختیار کیا جائے گا‘‘۔ (گویا یہ فیصلہ آج سے دو سو تیرہ برس قبل ہوا تھا)
۱۸۳۵ء میں لارڈ میکالے کی سفارشات کے مطابق ۷؍مارچ کو برطانوی پارلیمان میں ہندوستان کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی جو“Bentincks Resolution” کہلاتی ہے۔ اِس میں طے کیا گیا کہ ’’تعلیم کا اصل مقصد یورپی ادب اور یورپی سائنس کا فروغ ہوگا۔ ذریعۂ تعلیم انگریزی ہوگا۔ اورشعبۂ تعلیم کے لیے مختص کی جانے والی سرکاری خزانے کی تمام رقوم صرف اِسی تعلیم پر خرچ ہوں گی‘‘۔
۱۸۸۲ء میں ’’انڈین ایجوکیشن کمیشن‘‘ قائم ہوا، جس کی سفارشات پر عمل درآمد کے نتیجے میں برصغیر کا تمام تر تعلیمی نظام بدیسی حکومت کی گرفت میں آگیا۔ انگریزی ذریعۂ تعلیم پر اُس وقت بھی صرف مسلمان ماہرینِ تعلیم کو اعتراض تھا۔ اعتراض یہ تھا کہ انگریز ی ذریعۂ تعلیم ہماری زبان، ہماری تہذیب اور ہمارے تمدن کو موت کے گھاٹ اُتار رہا ہے، ہمارے بچوں کو ہماری ثقافت سے دُور کررہا ہے۔ زبان سیکھنے پر اُس وقت بھی اعتراض نہ تھا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز ؒ نے تو فتویٰ بھی دیا تھا کہ
’’انگریزی زبان سیکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں‘‘۔
انگریزی زبان سیکھنا دانش مندانہ فیصلہ تھا، مگر انگریزی زبان کو اپنے بچوں کا ذریعۂ تعلیم بنائے رکھنا احمقانہ فیصلہ ہے۔ اگر صرف اور صرف انگریزی زبان میں بچوں کو تعلیم دینا ترقی کی کلید ہوتا تو آج انگریزی ذریعۂ تعلیم کے نفاذ کے دو سو برس بعد یا قیامِ پاکستان کے بعد کے ۷۹ برسوں میں ہم کم ازکم چین، جاپان اور کوریا ہی سے آگے بڑھ چکے ہوتے جو اپنے بچوں کو تمام علوم و فنون اپنی زبان میں سکھاتے ہیں۔
انگریزی ذریعۂ تعلیم کے غلبے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انتہائی اعلیٰ تعلیمی اسناد رکھنے والے افراد بھی بڑے تیقن سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اُردو علمی زبان نہیں۔ اُن کے اس دعوے پر ہمیں قطعاً حیرت نہیں ہوتی۔ انگریزی ذریعۂ تعلیم کے نفاذ کا نصب العین یہی تھا کہ ہماری نسلوں کی نسلیں اپنے تمام ذخیرۂ علوم و فنون سے کلیتاً بیگانہ ہوجائیں۔ ان لا علم دعوے داروں کو کیا علم کہ آج بھی اُردو زبان میں سائنسی علوم اور سائنسی ادب پر مشتمل کتب کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ماضی میں بھی یعنی اُنیسویں اور بیسویں صدی میں جامعہ عثمانیہ کی تالیف کردہ سائنس اور ریاضی کی کتابوں کی تعداد تین سو تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے اُردو میں چودہ سو(۱۴۰۰) سے زائد سائنسی کتب کی فہرست تیار کی تھی۔ سائنسی مضامین پراُردو میں ترجمہ شدہ کتب کی تعداد اس وقت ساڑھے چار سو سے زائد ہے۔ پنجاب میں گجرات یونیورسٹی اوراسلام آباد میں علامہ اقبال یونیورسٹی میں دارالترجمہ قائم ہوچکا ہے۔صورتِ حال مایوس کُن نہیں، امید افزا ہے۔ بس دیر اس بات کی ہے کہ کوئی محب وطن اور محب قوم قائد ہمیں ایسا میسر آئے جو اُردو ذریعۂ تعلیم کا آغاز کرکے ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گام زن کردے۔
20/02/2026
گوگل کی نئی اپڈیٹ
ہ Gemini 3.1 Pro
پاکستان میں بیروزگاری کے دور میں "سولوپرینیورشپ" یعنی اکیلے کاروبار چلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ Gemini 3.1 Pro نے اس شعبے میں ایک ایسی تبدیلی برپا کی ہے جسے ہم "ون مین آرمی آٹومیشن" کہہ سکتے ہیں۔
1-فرض کریں ایک پاکستانی نوجوان اپنی "واٹس ایپ اکیڈمی" شروع کرنا چاہتا ہے جہاں وہ 'گرافک ڈیزائننگ' سکھانا چاہتا ہے۔ ماضی میں اسے کورس کا مواد لکھنے، اسٹوڈنٹس کا ڈیٹا سنبھالنے اور روزانہ کے اسباق بھیجنے کے لیے مینیجرز کی ضرورت ہوتی تھی۔
یہ ماڈل نہ صرف 30 دن کا مکمل سلیبس تیار کرے گا بلکہ گوگل شیٹس کے ساتھ مل کر ایک ایسا خودکار نظام بنا دے گا جو ہر طالب علم کی حاضری، ان کے ٹیسٹ کے نتائج اور فیس کا ریکارڈ خود بخود اپ ڈیٹ کرتا رہے گا۔
اب ایک پاکستانی نوجوان بغیر کسی دفتر یا اسٹاف کے، اپنے کمرے میں بیٹھ کر ہزاروں طلباء کو معیاری تعلیم دے سکتا ہے۔
پاکستان کے دیہی علاقوں اور یہاں تک کہ بڑے شہروں میں بھی موبائل ڈیٹا (3G/4G) کی رفتار اکثر مایوس کن ہوتی ہے۔ بھاری ویب سائٹس اور گرافکس لوڈ ہونے میں منٹوں لیتی ہیں جس سے یوزر ایکسپیرینس (User Experience) تباہ ہو جاتا ہے۔
اب براہ راست SVG کوڈنگ کر سکتا ہے۔
ایک عام تصویر JPEG یا PNG اگر 2 میگا بائٹ (MB) کی ہے، تو Gemini اسی تصویر یا اینیمیشن کو چند کلو بائٹ (KB) کے کوڈ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اگر آپ ایک ای کامرس ویب سائٹ بنا رہے ہیں، تو Gemini آپ کو ایسے اینیمیٹڈ لوگوز اور آئیکنز بنا کر دے گا جو بجلی کی اسپیڈ سے لوڈ ہوں گے۔ یہ فیچر ان پاکستانی ڈویلپرز کے لیے گیم چینجر ہے جو ایسی ایپس بنانا چاہتے ہیں جو سست انٹرنیٹ پر بھی بہترین کام کریں۔
مصنوعی ذہانت کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ "Hallucinations" (غلط معلومات یا گپیں مارنا) رہا ہے، خاص طور پر اردو زبان میں۔ لیکن 3.1 پرو ماڈل کی لاجک اور سمجھنے کی صلاحیت نے اس خلا کو پر کر دیا ہے۔
پاکستانی صحافیوں اور ریسرچرز کے لیے اب حقائق کی تصدیق (Fact-checking) 50 فیصد سے زیادہ بہتر ہو چکی ہے۔
اگر کوئی صحافی 1947 کے کسی پیچیدہ تاریخی واقعے پر ریسرچ کر رہا ہے یا کسی سائنسی تحقیق کا اردو ترجمہ کرنا چاہتا ہے، تو یہ ماڈل اب معلومات کو توڑنے مروڑنے کے بجائے مستند ذرائع سے ڈیٹا کو کراس چیک کرتا ہے۔ اس کی (معلومات کو یاد رکھنے کی صلاحیت) اتنی وسیع ہے کہ یہ پوری کتاب پڑھ کر اس کا تنقیدی جائزہ پیش کر سکتا ہے۔
پاکستان کا میڈیا انڈسٹری اور بچوں کے لیے مواد اب ایک نئے موڑ پر ہے۔ Gemini 3.1 Pro صرف متن تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ تکنیکی ایگزیکیوشن کا ماہر بن چکا ہے۔
عملی اطلاق: اگر آپ بچوں کے لیے کوئی اردو کارٹون سیریز بنانا چاہتے ہیں:
اسکرپٹ: یہ کرداروں کی نفسیات کے مطابق مکالمے لکھے گا۔
ٹیکنیکل کوڈ: یہ Unity یا Unreal Engine کے لیے پیچیدہ اسکرپٹس اور 3D ماڈلنگ کے لیے 'Python' کوڈز تیار کر دے گا۔
منظر کشی: یہ ہر سین کی ایسی تفصیلی ڈسکرپشن لکھتا ہے جسے ویڈیو بنانے والے AI ٹولز جیسے Veo یا Kling آسانی سے سمجھ کر شاندار ویژولز بنا سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج "پیداواری لاگت" ہے۔ Gemini 3.1 Pro اس لاگت کو صفر کے قریب لے آیا ہے۔
ایک فری لانسر جو انگریزی میں کمزور ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل کلائنٹ نہیں پکڑ پاتا تھا، اب اس ماڈل کے ذریعے پروفیشنل ای میلز، پروپوزلز اور میٹنگ نوٹس منٹوں میں تیار کر سکتا ہے۔
چھوٹے دکاندار اپنے برانڈ کی مارکیٹنگ اسٹریٹیجی اور سوشل میڈیا پوسٹس خود ڈیزائن کر سکتے ہیں۔
گوگل کا جیمنی پاکستان کے محدود وسائل اور لامحدود صلاحیتوں کے درمیان ایک پل ہے۔ یہ ان نوجوانوں کے لیے ایک ہتھیار ہے جو عالمی مارکیٹ میں ڈالر کمانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس بڑی ٹیمیں یا بھاری سرمایہ نہیں ہے۔ اب مقابلہ اس بات کا نہیں ہے کہ آپ کے پاس کتنے وسائل ہیں، بلکہ مقابلہ اس بات کا ہے کہ آپ اس "مصنوعی ذہانت" کو کتنی مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان کا مستقبل اب صرف محنت میں نہیں، بلکہ Gemini 3.1 Pro جیسے ٹولز کے ساتھ "سمارٹ ورک" کرنے میں چھپا ہے۔
عامر پٹنی
20 فروری 2026
#عامرپٹنی
#فروری
26/04/2024
`رجسٹریشن تدریس اردو کانفرنس`
رجسٹریشن برائے تیسری تدریسِ اردو کانفرنس 2024
زیر اہتمام:پاکستانی تنظیم اساتذہ برائے تدریسِ اردو ( پتا بتا)
نوٹ: رجسٹریشن کی آج آخری تاریخ ہے۔
*رجسٹریشن لنک* https://forms.gle/ZoHEgRZGWcgcHGcn9
*دن/تاریخ*
27 اپریل 2024
*وقت:* دوپہر 2 بجے تا رات 8 بجے
بذریعہ آن لائن (بذریعہ زوم میٹنگ اور فیس بک لائیو)
`رجسٹریشن کی کوئی فیس نہیں ہے، بالکل مفت ہے`
مزید رابطہ:
03027980636
18/10/2023
Join us at the Khwarizmi Science Society (خوارزمی سائنس سوسائٹی)'s Lahore Science Mela (LSM) 2023! 🌟
Explore the wonders of science and technology at this free, two-day, open-to-all festival. Curated to spark curiosity among the Pakistani public and students, the event will host captivating exhibits and performances from both local and international talents. You don't want to miss it!
🗓 : 28 and 29 October 2023
📌: Crescent Model Higher Secondary School, Lahore (Boys Campus)
⌛: 9 am to 5 pm
Entry: Absolutely FREE and open for everyone
Don't forget to bring your family, friends, and young ones to experience science like never before!
Event Page: https://fb.me/e/Jb5YsuwT
For more information: https://linktr.ee/kss_pk
28/07/2022
28/07/2022
04/11/2021
Student Council Elections 2021
In Govt School South Punjab
Highlights
GES 145wb
GES 116wb
GES Shatab Garh
GES Ali Wah
GES 118wb
GHSS Islamia Garha Mor
#صدر
04/11/2021
Student Council Elections 2021
In Govt School South Punjab
Highlights
GES Dhodha Mailsi
#صدر
04/11/2021
Student Council Elections 2021
In Govt School South Punjab
Highlights
GES Dhalloo Mailsi
#صدر
Student Council Elections 2021
In Govt School South Punjab
Highlights
GES Burana
#صدر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Vehari
61200