Crew Films Production
The song has been produced by the Green Eyes Films team. Green Eyes Films has been contributing to the film and drama industry fo
Its poetry, composition, and all stages of production have been creatively enhanced with the use of Artificial Intelligence.
21/05/2026
https://youtu.be/ScBmGP8B1mM?si=-LkyfSu9sG7HO1wQ
Inqilab I 2026 I Pakistan I Prison روزانہ کروڑوں نہیں بلکہ کھربوں روپے عوام سے مختلف ٹیکسوں، مہنگائی اور ناجائز بوجھ کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں، مگر افسوس کہ ان وسائل کا بڑا حصہ عوامی فلاح،...
# # # اردو
پشتو کا یہ خوبصورت اور لازوال گانا **"بیا مازیگر شو"** اپنے دور کے پی ٹی وی کے کلاسک گانوں میں شمار ہوتا ہے، جسے پشتو کی معروف گلوکارہ **میڈم شکیلہ ناز** نے اپنی دلکش آواز میں گایا تھا۔
اس گانے کے پروڈیوسر **جناب فرمان اللہ جان صاحب** جبکہ شاعر **رحمت شاہ سائل صاحب** ہیں۔
اب اس یادگار گانے کو **گرین اییز فلمز** نے جدید انداز میں دوبارہ ریمیک کیا ہے۔
اُمید ہے کہ پشتو موسیقی سے محبت کرنے والے ناظرین اس پیشکش کو پسند کریں گے۔
اس گانے کی تیاری میں جدید **ڈیجیٹل اے آئی ٹیکنالوجی** سے بھی مدد لی گئی ہے، جسے گرین اییز فلمز ٹیم نے خصوصی طور پر آپ کے لیے تخلیق کیا ہے۔
اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
آپ کی محبت اور پسندیدگی ہمارے لیے بے حد قیمتی ہے۔
**شکریہ**
**گرین اییز فلمز**
---
# # # پښتو
د پښتو دا ښکلی او تلپاتې سندره **"بيا مازيګر شو"** د خپل وخت د پي ټي وي له کلاسيکو سندرو څخه شمېرل کېږي، چې د پښتو نامتو سندرغاړې **مېډم شکيله ناز** په خپل خوږ آواز ویلې ده۔
د دې سندرې پروډیوسر **جناب فرمان الله جان صاحب** او شاعر **رحمت شاه سائل صاحب** دي۔
اوس دا يادګاري سندره **ګرين ايز فلمز** په نوي انداز بيا ريميک کړې ده۔
هيله ده چې د پښتو موسيقۍ مينه وال به دا نوې وړاندېز خوښ کړي۔
د دې سندرې په جوړولو کې د جديدې **ډيجيټل AI ټېکنالوجۍ** مرسته هم اخيستل شوې، چې د ګرین ایز فلمز ټيم ستاسو لپاره ځانګړې تياره کړې ده۔
مهرباني وکړئ خپله قیمتي رايه راسره شريکه کړئ۔
ستاسو مينه او ملاتړ زموږ لپاره ډېر ارزښت لري۔
**مننه**
**ګرين ايز فلمز**
---
# # # English
The beautiful Pashto classic song **"Bia Mazigar Sho"** is considered one of the timeless PTV classics of its era, originally sung by the renowned Pashto singer **Madam Shakila Naz**.
The song was produced by **Mr. Farman Ullah Jan**, while the lyrics were written by the legendary poet **Rahmat Shah Sail**.
Now, this memorable song has been recreated in a modern style by **Green Eyes Films**.
We hope that lovers of Pashto music will truly enjoy this new presentation.
Modern **Digital AI technology** has also been used in the production of this remake, specially crafted for you by the Green Eyes Films team.
Please share your valuable feedback and support with us.
Your love and appreciation mean a lot to us.
**Thank You**
**Green Eyes Films**
#شکیلہ #پښتو
01/05/2026
ہیر رانجھا کی داستان اور پشتو کلاسیکی ادب میں اس کا ذکر**
تحریر: دکتور لطیف یاد
ترجمہ : فیروز افریدی
ہیر رانجھا
ہیر رانجھا اصل میں پنجاب کی سرزمین کی چار مشہور رومانوی داستانوں میں سے ایک قدیم ترین کہانی ہے، جو پنجابی، اردو، ہندی، پشتو اور فارسی زبانوں میں نثر اور زیادہ تر نظم (شاعری) کی صورت میں لکھی گئی ہے۔ اگرچہ بہت سے پنجابی شعراء مثلاً گورداس، مقبل اور احمد گوجر نے ہیر رانجھا کی کہانی منظوم کی ہے، لیکن ان سب میں مشہور ترین پنجابی صوفی شاعر **وارث شاہ** (1722-1798ء) کا لکھا ہوا "منظوم ہیر رانجھا" ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ ہیر اور رانجھا ہندوستان کے پشتون لودھی حکمرانوں کے دور (1451ء - 1526ء) میں گزرے ہیں، اسی لیے اسے قرونِ وسطیٰ کی قدیم داستان مانا جاتا ہے۔
# # # **ہیر اور رانجھا کون تھے؟**
ہیر اور رانجھا پنجاب کے خطے کی ایک عشقیہ داستان ہے اور یہ دونوں وہ عاشق تھے جو ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ہیر ایک نہایت خوبصورت لڑکی اور جھنگ کے ایک امیر پنجابی کی بیٹی تھی، جس کا تعلق جاٹ قوم کے "سیال" قبیلے سے تھا اور وہ جھنگ میں رہتی تھی۔ جھنگ آج کل پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے اور پنجاب کے مرکز لاہور سے تقریباً 210 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہیر تیرہ سال کی عمر تک اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ دریا کے کنارے جا کر کھیلا کرتی تھی۔
رانجھا کا اصل نام **دھیدو** تھا، لیکن اسے رانجھا کہا جاتا تھا۔ رانجھا کا تعلق بھی جاٹ قوم سے تھا اور وہ "تخت ہزارہ" کا رہنے والا تھا۔ تخت ہزارہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں واقع ہے۔ رانجھا کے آٹھ بھائی تھے، لیکن چونکہ وہ سب سے چھوٹا تھا اس لیے اپنے والد کا بہت لاڈلا تھا۔ دوسرے بھائی اپنے والد کی زمینوں پر کام کرتے تھے جبکہ رانجھا اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیلتا اور بانسری بجاتا تھا۔
کچھ عرصے بعد جب رانجھا کے والد کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائیوں نے اس کے ساتھ زیادتیاں شروع کر دیں اور اس کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی کر دیں۔ ایک رات رانجھا بہت غمگین تھا کہ اسے خواب میں ہیر نظر آئی۔ ہیر نے خواب میں اسے کہا: "اگر میرا وصال چاہتے ہو تو خود کو مجھ تک پہنچاؤ۔" جب رانجھا خواب سے بیدار ہوا تو اس نے سفر کا ارادہ کیا اور تین دن کی مسافت کے بعد خود کو ہیر کے علاقے میں پہنچا دیا جو دریائے چناب کے کنارے واقع تھا۔ وہاں پہنچتے ہی اس نے ایک کشتی دیکھی جس میں سونے کے لیے ایک خوبصورت پلنگ (تخت) بچھا تھا۔ رانجھا نے ملاحوں سے اجازت مانگی اور وہاں سو گیا۔
اسی دوران ہیر اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہاں پہنچی اور دیکھا کہ اس کے پلنگ پر کوئی اجنبی سو رہا ہے۔ ہیر ملاحوں پر غصہ ہوئی کہ یہ کون ہے جو میرے بستر پر سویا ہے؟ ملاحوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ہیر کی سہیلیوں نے مشورہ دیا کہ اسے دریا میں پھینک دینا چاہیے، لیکن جیسے ہی ہیر نے اس کے چہرے سے چادر ہٹائی تو پہلی ہی نظر میں اپنا دل ہار بیٹھی اور بے ہوش ہو گئی۔ ہوش آنے پر ہیر نے رانجھا سے اس کا حال پوچھا، جس پر رانجھا نے پوری کہانی بیان کر دی۔ ہیر نے گھر جا کر اپنے والد کے سامنے رانجھا کی تعریفیں کیں اور اس کے والد نے رانجھا کو بھینسیں چرانے کے کام پر رکھ لیا۔ رانجھا دن بھر جنگل میں مال مویشی چراتا، ہیر گھر سے اس کے لیے کھانا لاتی اور دونوں جنگل میں محبت کی باتیں کرتے۔
آخر کار ایک مکار شخص کو ان کی محبت کا علم ہو گیا اور اس نے ہیر کے چچا (کیدو) کو بتا دیا۔ ایک دن جب ہیر رانجھا کے لیے کھانا لے کر گئی تو کیدو فقیر کے بھیس میں وہاں پہنچا اور اس نے اپنی آنکھوں سے سب دیکھ لیا۔ اس نے فوراً ہیر کے والد کو جا کر ساری کہانی سنا دی۔ اس کے بعد ہیر کا گھر سے نکلنا بند کر دیا گیا اور اس کا رشتہ کسی دوسری جگہ طے کر دیا گیا۔ ہیر کے والد نے سسرال والوں سے کہا کہ شادی جلدی کریں، جس پر ہیر بہت بیمار ہو گئی۔ شادی ہو گئی اور دولہا ہیر کو لے گیا، لیکن ہیر بے ہوشی اور صدمے کی حالت میں تھی۔
ہیر کی نند، جس کا نام **سہتی** (شہدۍ) تھا، بھانپ گئی کہ ہیر کسی اور کی محبت میں گرفتار ہے۔ چونکہ سہتی خود بھی کسی سے محبت کرتی تھی، اس لیے وہ عشق کی تپش سے واقف تھی۔ اس نے ایک کاتب کے ذریعے رانجھا کو خط لکھوایا۔ اس وقت رانجھا جدائی کے غم میں اس قدر نڈھال تھا کہ دریا میں ڈوب کر خودکشی کرنا چاہتا تھا، لیکن حضرت خضر علیہ السلام نے اسے روکا، تسلی دی اور صبر کی تلقین کی۔
جب رانجھا کو ہیر کا خط ملا، تو وہ فقیر کا بھیس بدل کر ہیر کے سسرال پہنچا تاکہ خیرات مانگنے کے بہانے ہیر کا پتہ لگا سکے۔ سہتی نے اسے پہچان لیا اور اسے ایک منصوبہ بتایا۔ ایک دن سہتی ہیر کو لے کر باہر نکلی جہاں رانجھا ٹھہرا ہوا تھا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی اور سہتی نے گھر آکر یہ مشہور کر دیا کہ ہیر کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ پھر اس نے اپنی ماں سے کہا کہ گاؤں کے باہر ایک فقیر (رانجھا) ہے جو زہر اتار سکتا ہے۔ رانجھا کو بلایا گیا اور اس نے منتر پڑھنے کے بہانے ہیر کے قریب ہونے کا موقع پا لیا۔ سہتی کے تعاون سے رانجھا اور ہیر وہاں سے بھاگ نکلے، جبکہ سہتی بھی اپنے محبوب کے ساتھ چلی گئی۔
آخر میں لوگوں نے ہیر کو پکڑ لیا اور قاضی کے پاس لے گئے۔ قاضی نے حکم دیا کہ ہیر کو اس کے شوہر کے حوالے کر دیا جائے۔ رانجھا اس پر بہت دکھی ہوا اور بددعا دی، جس سے پورے شہر میں آگ لگ گئی۔ اس وقت کے بادشاہ کو جب خبر ہوئی تو اس نے حکم دیا کہ ہیر رانجھا کے حوالے کر دی جائے۔ دونوں خوشی خوشی تخت ہزارہ کی طرف روانہ ہوئے، لیکن راستے میں رانجھا بیمار ہو کر فوت ہو گیا اور ہیر بھی اسی غم میں جان دے بیٹھی۔ لوگوں نے ان دونوں عاشقوں کے لیے ایک ہی قبر بنائی اور انہیں اکٹھے دفن کر دیا۔ ان کا مزار آج بھی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں موجود ہے جہاں لوگ زیارت کے لیے جاتے ہیں۔
# # # **پشتو ادب میں ہیر رانجھا کا ذکر**
اگر ہم پشتو کے کلاسیکی ادب میں خوشحال خان خٹک، کامگار خٹک اور رحمان بابا کے دیوانوں کا مطالعہ کریں، تو واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے ہیر رانجھا کا تذکرہ کیا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
**خوشحال خان خٹک** ہیر رانجھا کا تذکرہ یوں کرتے ہیں:
> **شور وشر به درانجها په جهان نه و**
> **که دهیر صورت پیدا نه وای په شور کې**
> *(اردو مفہوم: دنیا میں رانجھا کا یہ شور و غوغا (عشق کا چرچا) نہ ہوتا، اگر حسن کے ہنگامے میں ہیر کی صورت پیدا نہ ہوتی۔)*
>
اسی طرح خوشحال خان خٹک کے خاندان کے ایک اور شاعر **کامگار خٹک** کہتے ہیں:
> **که په زړه کې درانجها صبر شکیب وي**
> **په خپل وصل کې به خوښ کړی و هیر ورو ورو**
> *(اردو مفہوم: اگر رانجھا کے دل میں صبر و شکیب ہوتا، تو وہ آہستہ آہستہ (مستقل مزاجی سے) ہیر کو اپنے وصل (میلان) سے خوش کر دیتا۔)*
>
پشتو زبان کے نامور صوفی شاعر **رحمان بابا** اپنے دیوان میں لکھتے ہیں:
> **ډیر هندکي په جهان ګرځي دچایاد دي**
> **عشق عالي پایه دهیر او درانجها کړه**
> *(اردو مفہوم: دنیا میں بہت سے ہندواسی (لوگ) پھرتے ہیں، انہیں کون یاد رکھتا ہے؟ یہ تو عشق ہی ہے جس نے ہیر اور رانجھا کا مرتبہ بلند کر دیا کہ سب انہیں یاد کرتے ہیں۔)*
>
پشتو زبان میں ہیر رانجھا کا قصہ **اچرج سنگھ ہوڑا** نے بھی لکھا ہے، جو پنجاب کے علاقے چندی گڑھ کے رہنے والے تھے اور آل انڈیا ریڈیو کے پشتو شعبے سے وابستہ تھے۔ وہ تقسیم ہند سے پہلے پختونخوا کے شہر مردان میں رہتے تھے اور 1947ء کے بعد ہندوستان چلے گئے۔
**حوالہ جات:**
1. کلیاتِ خوشحال، اکیڈمی آف سائنسز افغانستان، ص 470، کابل (1358ھ)۔
2. دیوانِ کامگار خٹک، اکیڈمی آف سائنسز افغانستان، ص 70، کابل (1356ھ)۔
3. دیوانِ رحمان بابا، پشتو تولنہ، ص 152 (1356ھ)۔
29/04/2026
Rahat Kazmi is a legendary Pakistani actor, screenwriter, and academician who became a household name through iconic PTV dramas like *Dhoop Kinare* and *Parchaiyan*. He is married to the accomplished actress and director Sahira Kazmi, and together they have two children, Ali Kazmi and Nida Kazmi, who followed in their creative footsteps. Known for his intellectual depth, he has also served as a director at the National Academy of Performing Arts (NAPA) and taught English literature. Contrary to occasional social media rumors, Rahat Kazmi is alive as of 2026, though he has stepped back from the limelight to focus on his health and academic pursuits. He remains one of the most respected figures in the history of Pakistani television for his sophisticated performances and contributions to art. 🎭📚❤️🩹🫂
🌟🇵🇰
29/04/2026
رشی کپور کی دلیپ کمار سے متعلق یادداشتیں
میں یوسف انکل کیلیے کبھی بھی رشی یا چنٹو نہیں رہا ، میں ان کا "سنی بوائے " ہوں. بچپن کی جو یادیں میرے ذہن میں آج بھی تازہ ہیں وہ یوسف انکل کی ہمارے بمبئی والے گھر آمد کی ہیں. عموما" وہ مہینے کے دوسرے اتوار کو آیا کرتے تھے جب فلم ورکرز اور اسٹارز چھٹی کرتے تھے.وہ گھر کے سامنے والے باغیچے کے پاس سے گزرتے جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا ہوتا.وہ میرے پاس رکتے اور مجھے پاس بلا کر میرے بال بگاڑ دیتے اور پوچھتے " کیسے ہو میرے سنی بوائے؟"..
میں جانتا تھا کہ یہ شخص سپر اسٹار دلیپ کمار ہے اور میرے پاپا کے ساتھ کام کرتا ہے.میرے دوست بھی یوسف انکل کو دیکھتے اور وہ بھی میرے دوستوں کو دیکھ کر مسکراتے.پھر میرے پپا باہر آکر ان کو خوش آمدید کہتے اور شکوہ کرتے
" لالے تو نے دیر کردی میں صبح سے تیرا انتظار کررہا تھا". پھر وہ دونوں بغلگیر ہوتے اور شام تک آپس میں مگن رہتے.پپا کا اور یوسف انکل کا وہ لازوال برادرانہ تعلق تھا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا.پیشے کے اعتبار سے وہ دونوں ایک دوسرے کے حریف تھے مگر ویسے وہ دونوں ایک دوسرے سے یوں محبت کرتے تھے گویا ایک ہی والدین کی اولاد ہوں.جب یوسف انکل ہمارے گھر آتے تو گھر میں جشن کا سماں ہوتا تھا.مما باورچی کو ہدایات دے رہی ہوتیں کہ کھانے میں کیا بنانا ہے اور چائے میں کیا ہوگا..پپا فریش ہو کر ایک دم پشتون حلیے میں آ کر چھوٹے بچوں کی طرح پرجوش ہوجاتے.میرے خیال میں یہ ان کے بچپن کی یادیں تھیں جن کو وہ زندہ کرتے تھے جو انہوں نے پشاور میں اکٹھے گزارا یا خالصہ کالج بمبئی کا زمانہ طالبعلمی یا پھر بمبئی ٹاکیز میں گزارے ہوئے ابتدائی سال..
میرا خیال ہے راج کپور یوسف انکل سے اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی وہ اپنے بھائیوں شمی اور ششی سے کرتے تھے.لیکن وہ اپنے جذبات ، احساسات یوسف انکل سے زیادہ شئیرکرتے تھے بجائے اپنی فیملی کے..
اس میں کوئی شک نہیں کہ پیشے کے حوالے سے ایک دوسرے کے حریف تھے.مگر انہوں نے کبھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے یا نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی.ان دونوں کو ایک دوسرے پہ فخر تھا .مجھے ان کی موجودگی یاد ہے جب آر کے تھیٹر میں فلم بوبی اور میرا نام جوکر تیاری کے مراحل میں تھیں.پاپا یوسف انکل کی رائے کی بہت قدر کرتے تھے.ایک بار کوئی بھونچال آگیا تو پپا اور یوسف انکل اکٹھے آفس میں بیٹھ کر امدادی رقم اکٹھی کرتے رہے تھے.مجھے وہ منظر اچھی طرح یاد ہے.
میری نوجوانی کی تین یادیں ہیں جو میں بنا کسی لگی لپٹی کے سنا سکتا ہوں.ان میں سے پہلی تو آج بھی مجھے دہلا دیتی ہے.یہ اس وقت کی بات ہے جب پاپا کو آخری بار اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا.انڈسٹری کا ہر آدمی عیادت کیلیے آیا اور حوصلہ دے کر گیا.ہم سب جانتے تھے کہ پاپا کا وقت قریب ہے کیونکہ پاپا مسلسل کومہ میں تھے.یوسف انکل ان دنوں صدر پاکستان کی دعوت پہ پاکستان گئے ہوئے تھے پاپا کو دہلی میں اپالو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان کو دل کا دورہ پڑا.یوسف انکل جیسے ہی بمبئی واپس آئے تو ائیرپورٹ سے ہی دہلی کی فلائٹ پکڑ لی.یوسف انکل بھاگم بھاگ اسپتال پہنچے اور اس کمرے میں داخل ہوئے جہاں پاپا بے ہوش و حواس لیٹے تھے.یوسف انکل نے کرسی کھینچی اور پاپا کا ہاتھ پکڑ کر بولے : "راج ! آج بھی میں دیر سے آیا ، مجھے معاف کردو.مجھے پتا ہے تمہیں شہرت اور توجہ پسند ہے.اب بہت ہوگیا ہے.چلو شاباش اٹھو اور میری بات سنو ، میں ابھی پشاور سے واپس آیا ہوں اور تمہارے لیے چپلی کباب کی مہک قید کرکے لایا ہوں.تم اور میں دونوں پشاور جائیں گے اور بازار میں ویسے ہی گھومیں گے جیسے بچپن میں گھومتے تھے اور روٹیاں اور کباب اڑائیں گے..راج ایکٹنگ بند کرو.مجھے پتا ہے تم بہت بڑے ایکٹرہو .. راج ! تو مینوں لے کے جانا اے پشاور والے گھر دے آنگن وچ ، راج اٹھ یار. .."
یہ کہتے ہوئے یوسف انکل کی آواز رندھ گئی اور ان کے آنسو بہنے لگے.میں اور رندھیر چپ چاپ کھڑے تھے.مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یوسف انکل کمرے سے باہر جانے کیلیے تیار نہیں تھے،کافی ضد کے بعد جب باہر گئے تو آخری بار اپنے پیارے دوست کی جانب جس بے بسی سے انہوں نے دیکھا میں کبھی نہیں بھول سکتا.
دوسرا قصہ یہ ہے کہ ہم اپنے اسٹوڈیو میں پریم روگ کی شوٹنگ میں مصروف تھے.پاپا اس کے ڈائریکٹر تھے..میرا کردار اس میں ایک عاشق کا تھا.میں شدید محبت کے ایکسپریشن دینے کی کوشش کر رہا تھا مگر دے نہیں پا رہا تھا جس سے پاپا کو غصہ آرہا تھا.پھر وہ سارے عملے کے سامنے چلائے .
" مجھے یوسف چاہیے، مجھے بالکل ویسی لک چاہیے جیسی یوسف کی ہوتی تھی.تمہاری آنکھوں سے محبت کے اظہار کے وقت وہی پیار اور بے ساختگی چھلکنی چاہیے جو یوسف کی آنکھوں سے چھلکتی تھی"..
سارا یونٹ خاموش تھا.کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ یہ بات دلیپ کمار کا سب سے بڑا حریف کہہ رہا ہے.میں سمجھتا ہوں یہ پاپا کا خراج عقیدت تھا جو انہوں نے دلیپ کمار کی لازوال اداکاری کو پیش کیا تھا اور یہ اسی لیے ممکن ہوا کہ ان کے دل میں ایک دوسرے کی عزت تھی.کیا آج شاہ رخ خان یا سلمان خان سے آپ یہ توقع کرسکتے ہیں؟
ایک موقع وہ جب بال ٹھاکرے نے یوسف انکل کو تنگ کرنا شروع کیا کیونکہ یوسف انکل نے پاکستان حکومت سے نشان امتیاز قبول کیا تھا.ان کے گھر کے باہر دنگے ہوئے اور وہ گھر میں محصور ہو کر رہ گئے اور شیو سینا کو لگام ڈالنے کیلیے کوئی آگے نہ آیا..یوسف انکل نے اس وقت کہا کہ مجھے آج میرا دوست راج بہت یاد آرہا ہے.آج اگر راج زندہ ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ ہونے دیتا..راج کبھی مجھ پہ یہ وقت نہ آنے دیتا اور بے خوفی سے میرا دفاع کرتا.
ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ دلیپ کمار جیسے عظیم انسان کے دل میں ہمارے پاپا کیلیے عزت و احترام تھا اور وہ پاپا کو اپنے مشکل وقت کا ساتھی سمجھتے تھے جو مشکل وقت میں ہمیشہ ہرمظلوم آرٹسٹ کے شانہ بشانہ کھڑا رہا. ❤️
کتاب : Dilip Kumar , The substance and the Shadow , An autobiography
ترجمہ : حسنین چوہدری
27/04/2026
پشتون اداکار
**رنگیلا (سعید خان) — ایک سبق آموز زندگی کی کہانی**
فلم اور فن کے ہمہ جہت پشتون فنکار **رنگیلا**، جن کا اصل نام **سعید خان** تھا، یکم جنوری 1937ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کی جڑیں افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملتی تھیں، جو بعد میں پشاور آ کر آباد ہوا۔ پشتو فلموں کے معروف مزاحیہ اداکار **چبیلا** نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کا خاندان کرمہ کے علاقے سے تعلق رکھتا تھا، جو بعد میں پشاور منتقل ہوا۔ رنگیلا نے تین شادیاں کیں اور ان کے چودہ بچے تھے، جن میں آٹھ بیٹیاں اور چھ بیٹے شامل تھے، اور بعض بچوں نے اداکاری کے شعبے میں بھی قدم رکھا۔
رنگیلا کی زندگی بچپن سے لے کر ستارہ بننے تک مشکلات، محرومیوں اور مسلسل جدوجہد سے بھری ہوئی تھی۔ ان کی زندگی آج اور آنے والی نسلوں کے لیے محنت، ہمت اور استقامت کا ایک روشن پیغام ہے۔
جب سعید خان جوانی کی عمر کو پہنچے تو پشاور میں انہیں کشتی اور باڈی بلڈنگ کا شوق تھا۔ کافی عرصہ وہ اس مشغلے میں رہے، لیکن آخرکار قسمت نے انہیں فلمی دنیا کی طرف موڑ دیا۔
وہ نہایت غریب تھے، مگر فلموں سے محبت نے انہیں پشاور سے لاہور آنے پر مجبور کر دیا۔ وہ ٹرین میں بیٹھ کر لاہور روانہ ہوئے، لیکن کرایہ ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ جب ٹکٹ چیکر آیا تو انہوں نے فوراً نیت بدل لی اور بغیر ٹکٹ لاہور پہنچ گئے۔
لاہور میں رہنے کے لیے ان کے پاس جگہ نہ تھی، اس لیے ایک مسجد میں قیام کیا۔ وہاں مسجد کے امام سے دوستی ہو گئی۔ امام صاحب کے مشورے پر انہوں نے **فیروز سنز** میں مزدوری شروع کر دی۔ وہاں وہ قرآن پاک لوگوں تک بطور تحفہ پہنچاتے اور تھوڑی بہت آمدنی حاصل کرتے، مگر گزارا مشکل تھا۔
اسی دوران پشاور کے ایک شخص **کاکے خان** سے ملاقات ہوئی، جو لاہور میں رہتا تھا۔ اس نے سعید خان کو فوٹوگرافی کے کام سے وابستہ کیا تاکہ روزگار کے مسائل حل ہو سکیں۔ کچھ عرصہ انہوں نے ہوٹل میں مزدوری بھی کی، مگر جلد ہی فوٹوگرافی اور تصویری کام پر پوری توجہ دے دی۔ جب اس فن میں مہارت حاصل ہوئی تو اپنی تصویر سازی کی دکان کھول لی۔
سعید خان کی شکل و صورت اور انداز میں فطری مزاح تھا۔ لوگ انہیں دیکھ کر بے اختیار ہنس پڑتے تھے۔ فوٹوگرافی کے استاد **اقبال بٹ** نے مشورہ دیا کہ وہ ایک کامیاب مزاحیہ اداکار بن سکتے ہیں۔ سعید خان نے یہ بات دل سے لگا لی اور کامیڈین بننے کا فیصلہ کر لیا۔
اس زمانے میں وہ مختلف فلموں کے پوسٹر اور تصویریں بناتے اور فلم اسٹوڈیوز بھیجتے تھے۔ فلمی ہدایت کار بھی ان کی دکان پر آیا کرتے تھے۔ ایک دن مسجد جاتے ہوئے ان کی ملاقات فلم ڈائریکٹر **ایم جے رانا** سے ہوئی۔ سعید خان نے ان سے بہت درخواست کی کہ مجھے کسی فلم میں کام کا موقع دیں۔ آخرکار رانا صاحب نرم پڑ گئے اور اپنی پنجابی فلم **“جٹی”** میں ایک چھوٹا سا کردار دے دیا۔
یہ 1958ء کی بات ہے۔ یہی چھوٹا سا کردار ان کی کامیابی کا دروازہ بن گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں میں مزاحیہ کردار ادا کیے اور سعید خان کو فلمی دنیا نے **رنگیلا** کا نام دے دیا۔ یوں رنگیلا فلم سازوں اور ہدایت کاروں کی ضرورت بن گئے۔
غربت کے دن ختم ہوئے تو انہوں نے اپنی فلم کمپنی **رنگیلا پروڈکشنز** قائم کی اور باقاعدہ فلم سازی اور ہدایت کاری شروع کر دی۔ بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم 1969ء میں **“دیا اور طوفان”** تھی، جس میں انہوں نے بہترین اداکاری بھی کی۔
اداکاری، فلم سازی، ہدایت کاری اور کہانی نویسی کے ساتھ ساتھ رنگیلا نے گلوکاری بھی کی اور کئی یادگار فلمی گیت گائے۔
انہوں نے ہیرو، ولن، سنجیدہ کردار، مزاحیہ کردار اور کریکٹر رولز سمیت ہر انداز میں کام کیا اور ہر بار ناظرین کو حیران کر دیا۔ ان کی اداکاری لوگوں کو رلاتی بھی تھی اور ہنساتی بھی تھی۔
ایک ہی فلم میں دو یا تین مختلف کردار ادا کرنا رنگیلا کا خاص کمال تھا۔ فلم **“میری زندگی ہے نغمہ”** میں انہوں نے باپ اور دو بیٹوں کے تین کردار نہایت مہارت سے نبھائے۔ فلم **“دو رنگیلے”** میں انہوں نے دو کردار اپنے منفرد انداز میں ادا کیے۔
یہ حیرت کی بات ہے کہ کشتی، خطاطی اور مصوری جیسے فنون میں مہارت رکھنے والے رنگیلا فلمی دنیا میں بھی کتنے باصلاحیت تھے۔ وہ اداکاری میں ممتاز تھے، اور منور ظریف، لہری اور ننھا جیسے بڑے فنکاروں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی مثال آپ تھے۔
وہ مصنف، شاعر، گلوکار، موسیقار، ہدایت کار اور پروڈیوسر بھی تھے۔ بھارتی مزاحیہ اداکار **جانی لیور** نے بھی ان سے کامیڈی سیکھنے کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے اردو، پنجابی اور پشتو فلموں سمیت ساڑھے پانچ سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ انہیں کئی بار **نگار ایوارڈ** اور **صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی** سے نوازا گیا۔
ان کا فلمی سفر کامیابیوں سے بھرپور رہا، لیکن ان کی آخری فلم **“قبرہ عاشق”** نے بطور فلم ساز اور ہدایت کار انہیں مالی نقصان پہنچایا۔ اس ناکامی نے ان کی کمر توڑ دی اور ان کے فلمی سفر پر بھی اثر ڈالا۔
اس کے بعد انہوں نے بہت کم فلموں میں کام کیا، اور ہدایت کاری و فلم سازی میں بھی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
آخرکار 4 مئی 2005ء کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
27/04/2026
غیر منقسم ہندوستان کے شہر پشاور میں راج کپور اور شمی کپور (1940ء)
بائیں جانب کرسی پر راج کپور بیٹھے ہیں اور ان کے برابر میں بیٹھا لڑکا شمی کپور ہے۔
کھڑے ہوئے افراد میں دائیں جانب سے دوسرے نمبر پر انیل کپور کے والد سریندر کپور ہیں۔
کچھ دلچسپ معلومات
تاریخی پس منظر: کپور خاندان کا آبائی گھر 'کپور حویلی' پشاور کے قصہ خوانی بازار میں واقع ہے، جہاں بالی وڈ کے ان عظیم ستاروں کا بچپن گزرا۔
خاندانی رشتہ: سریندر کپور (انیل کپور کے والد) پرتھوی راج کپور کے کزن تھے، اسی لیے ان خاندانوں کے درمیان شروع سے ہی گہرا تعلق رہا ہے۔
26/04/2026
ناز کی فرمائش پر شمیم کے لیے لکھنے بیٹھی تو ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ شروعات کہاں سے کروں ۔ 1998 میں پہلی ملاقات سے لے کر کچھ دن پہلے کی آخری ملاقات تک بہت سی یادیں ذہن کی پوٹلی میں بندھی ہوئی ہیں اور آپس میں گڈمڈ ہو رہی ہیں ۔ بعض لوگ ہمارے لیے اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ہم ان کو کھونے کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور وہ لوگ خود بخود قیمتی نہیں بن جاتے ۔ بلکہ ان کا اخلاق ان کا کردار اور ان کی عادتیں انہیں قیمتی بنا دیتی ہیں ۔ شمیم بھی انہی قیمتی لوگوں میں سے ایک تھیں جن کو جب بھی جانچنا چاہا کسی معیار پر بھی تولنا چاہا تو ہر معیار پر پورا اتریں ۔ اپنی 28 سالہ دوستی میں میں نے ہمیشہ شمیم کو پیار بانٹتے ہوئے دیکھا سادہ اتنی کہ دیکھنے میں گاؤں کی سیدھی ساری چادر یا دوپٹے کی بکل مارے ہوئے کہیں سے بھی رائٹر نہیں لگتی تھیں ،
ان کی شخصیت میں کوئی بناوٹ یا مصنوعی پن نہیں تھا ۔ لباس سے لے کر عادات تک وہ ایک سادہ سچی اور کھری شخصیت تھی ۔ جو دل میں ہوتا بغیر لگی لپٹی رکھے منہ پر کہہ دیتی ۔ پورے پاکستان کی مانی ہوئی رائٹر جو مختلف رسالوں میں افسانے لکھ کر بہترین افسانہ نگار کے کئی ایوارڈز حاصل کر چکی تھی۔ لیکن کبھی اس کا چرچا اپنی زبان سے نہیں کیا ۔
۔ وہ صرف ایک افسانہ نگار، ناول نگار یا ڈرامہ نگار نہیں تھیں، بلکہ ایک حساس اور بیدار شعور رکھنے والی تخلیق کار تھیں جنھوں نے اپنے قلم کے ذریعے انسانی باطن کی گہرائیوں کو اجاگر کیا۔ ان کے افسانوں میں کردار سازی کا جو منفرد انداز تھا، وہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا اور اسے ایک ایسی فکری دنیا میں لے جاتا تھا جہاں ہر کردار اپنی مکمل نفسیاتی اور جذباتی جہتوں کے ساتھ زندہ محسوس ہوتا تھا۔ وہ اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے معاشرے کے زندہ کرداروں سے ایک منفرد انداز میں کہانی بنتی تھیں اور یوں اپنے قاری کو اپنے ساتھ انگلی پکڑ کر چلاتی تھیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے قاری خود بھی اسی کہانی کا ایک کردار بن جاتا تھا
ادبی محافل میں ان کا آنا، پچھلی سیٹوں پر بیٹھنا اور خاموشی سے اٹھ کر چلے جانا ۔ میں اکثر انہیں کہتی تھی کہ شمیم آپ ادبی محافل میں آتی ہیں تو سب سے ملا کریں ۔ خاص طور پر لکھاری بھائیوں سے ۔ اپنی کتابیں ان کو دیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ شمیم فضل خالق کس شخصیت کا نام ہے ۔ لیکن وہ میری بات کو ہنس کر ٹال دیتیں۔ حالانکہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہمارے سامنے آئے اور قلم پکڑ کر لکھنا سیکھا اور اب وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم تو بچپن سے لکھتے چلے آ رہے ہیں ۔ لیکن شمیم جو ہم سے بہت پہلے دوشیزہ پاکیزہ اور دوسرے ڈائجسٹوں میں لکھتی رہی ہیں انہوں نے کبھی ایسا کوئی دعوی نہیں کیا
کبھی کسی موقع پر اپنے آپ کو آگے کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے بہت سارے معیاری اردو ڈرامے اور بچوں کے لیے دو سیریلز لکھنے کے باوجود کبھی ڈرامہ نگار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ۔ کسر نفسی کی انتہا دیکھیے کہ میں نے کاروان حوا کے رسالے کے لیے جب بھی افسانہ مانگا تو انہوں نے افسانہ بھیجتے ہوئے ضرور کہا کہ بشریٰ اس کو ایک نظر دیکھ لیں ۔ کمی بیشی ہو تو ٹھیک کر دیں ۔ یہ وہ باون گز کی خاتون تھی اس نے اپنے آپ کو کبھی ایک انچ بھی نہیں سمجھا ۔ایک مرتبہ ایوارڈز کے کے مقابلے میں بھیجنے کے لیے ان کا تعارف مانگا تو کہنے لگیں مجھے تو تعارف لکھنا نہیں آتا۔ بس افسانہ نگار ہوں آپ خود ہی جو مناسب سمجھیں لکھ لیں۔ تابندہ نے ان سے تمام اچیومنٹس پوچھ کر ان کا تعارف لکھا اور مجھے دینے کے ساتھ ان کو بھی بھیج دیا کہ آنٹی اس کو سنبھال لیں اور جب بھی ضرورت ہو استعمال کریں وہ اتنی خوش ہوئیں کہ تابندہ تم نے میرا اتنا خوبصورت تعارف لکھا۔اب آپ ہی بتائیں اس دنیا میں اتنے قیمتی لوگ کہاں نظر آتے ہیں ۔ ریا سے پاک خلوص و محبت کا پیکر دنیاوی شہرت کی لالچ سے دور اور عجز و عاجزی سے بھرپور ایک کونے میں بیٹھ کر اپنے رب کا شکر ادا کرنے والی شمیم فضل خالق ہماری یادوں میں ہماری سوچوں میں اور اپنی تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہے گی
بشری فرخ
26/04/2026
پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شان کی نئی فلم ”بلھا“ نے عید پر ریلیز ہونے کے بعد سے شاندار کامیابیاں اپنے نام کرتے ہوئے عالمی سطح پر بھی اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ ”جیو“ اس فلم کا میڈیا پارٹنر ہے۔ فلم نے دنیا بھر سے 28 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر لیا ہے
26/04/2026
پاکستان ٹیلی ویژن کے ان سنہری ناموں میں ایک نام محمود اختر کا بھی ہے ۔ محمود اختر بلاشبہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک معتبر نام ہیں جن کی فنی خدمات پانچ دہائیوں پر محیط ہیں۔
میں ان جیسی قد آور شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے 60 کی دہائی کے آخر میں فیروز نظامی کی موسیقی کی دنیا سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور پھر پی ٹی وی کے سنہری دور کے ایک لازمی جزو بن گئے۔
محمود اختر نے پاکستانی میڈیا کی تاریخ کے کئی یادگار ڈراموں میں اہم کردار ادا کیے ہیں۔ جن میں انہوں نے 80 کی دہائی میں دہلیز (1981) اور آنا (1984) جیسے کلاسک ڈراموں سے اپنی پہچان بنائی۔
انارکلی (1988): اس شاہکار پروڈکشن میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا، جو کہ زیبا بختیار کا پہلا ڈرامہ بھی تھا۔
کشکول، چاند گرہن اور ہوائیں جیسے ڈراموں میں ان کی اداکاری نے ثابت کیا کہ وہ ہر طرح کے پیچیدہ کردار بخوبی نبھا سکتے ہیں۔
اپنے ہم عصر اداکاروں کے برعکس، انہوں نے نجی چینلز کے دور میں بھی اپنی جگہ برقرار رکھی اور میرے مہربان اور گلِ رانا جیسے مقبول ڈراموں میں نظر آئے۔
اداکاری کے علاوہ وہ ایک بہترین اسکرین رائٹر، ہدایت کار اور گیت نگار بھی ہیں۔ انہوں نے ڈرامہ مورت کا ٹائٹل سانگ لکھا، جب کہ فلم نا بینڈ نا باراتی (2018) کی ہدایت کاری بھی کی۔ تھیٹر سے ان کی وابستگی آج بھی قائم ہے، جس کی تازہ مثال ان کا ڈرامہ ایک فنکار 300 بیمار ہے۔ دو دن پہلے محمود اختر صاحب کی سالگرہ گزری ہے ان کو ہماری طرف سے سالگرہ مبارک ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
18/05/2026