Muhammadia Production
ہمارا مشن فلاح انسانیت شعور آگاہی مصطفوی معاشرے کا قیام خدمت دین۔
ایک اسلامی پلیٹ فارم ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں علم، ایمان اور محبتِ رسول ﷺ کو عام کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہاں آپ کو معیاری اسلامی ویڈیوز، بیانات، نعتیں، اسلامی اقتباسات اور علم دین سے متعلق مفید مواد فراہم کیا جاتا ہے۔ ہمارا مقصد امت مسلمہ میں دینی شعور پیدا کرنا اور محبتِ رسول ﷺ کو دلوں میں اجاگر کرنا ہے۔
09/05/2026
اس ملک میں اب زندگی گزارنا نہیں، صرف حالات سے لڑتے ہوئے دن کاٹنا رہ گیا ہے۔
گزشتہ رات لاہور سے واپسی پر اچانک میری بائیک کی چین ٹوٹ گئی۔ رات کے تقریباً 8 بج چکے تھے اور حکومتی پابندیوں کی وجہ سے تمام مکینک اور پنکچر کی دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ ایک سنسان سڑک، چاروں طرف اندھیرا، اور انسان بے بسی کے عالم میں کھڑا ہو… نہ کوئی مدد، نہ کوئی سہارا۔
وہ تو شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ ایک دوست نے بروقت فون اٹھا لیا اور میری مدد کے لیے آ گیا، ورنہ اس وقت حالات واقعی خوفناک محسوس ہو رہے تھے۔
لیکن وہاں کھڑے ہو کر جو منظر دیکھا، اس نے دل مزید بوجھل کر دیا۔ دو اور افراد اپنی فیملیز کے ساتھ سڑک کنارے پریشان کھڑے تھے۔ کسی کی بائیک پنکچر تھی، کسی کی خراب۔ ان کے ساتھ خواتین اور چھوٹے بچے بھی موجود تھے، مگر آس پاس ایک بھی دکان کھلی نہ تھی جہاں سے مدد مل سکتی۔ بچے خوفزدہ، خواتین پریشان، اور مرد بے بسی سے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ شاید کہیں سے کوئی سہارا مل جائے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں فیصلے تو ہو جاتے ہیں، مگر ان فیصلوں کے اثرات عام آدمی پر کیا پڑتے ہیں، اس کا شاید کبھی سوچا ہی نہیں جاتا۔ جو شخص دن بھر محنت مزدوری کے بعد رات کو اپنے گھر واپس جا رہا ہو، اگر راستے میں اس کی گاڑی خراب ہو جائے تو وہ کہاں جائے؟ کس کے دروازے پر دستک دے؟ کون اس کی مدد کرے؟
حکومت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ کم از کم مکینک، پنکچر اور ضروری گاڑیوں کی مرمت والی دکانوں کو رات گئے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ عوام کو اس طرح سڑکوں پر ذلیل و خوار نہ ہونا پڑے، خصوصاً وہ لوگ جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس ملک کے عام لوگوں پر رحم فرمائے، کیونکہ یہاں عوام کو سہولتیں کم اور آزمائشیں زیادہ دی جا رہی ہیں۔
حکومت کا پاکستانی عوام کو 9 مئی کے موقع پر تحفہ۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے اضافہ۔
01/05/2026
حنین شاہ بے شک آج کے ہیرو ہیں، مگر اس ٹیم کا ایک خاموش اور چھپا ہوا ہیرو حسان خان بھی ہے، جس کی آل راؤنڈ پرفارمنس مکمل طور پر میچ وننگ رہی پورے سیزن میں۔
بی بی ایل میں اچھی کارکردگی کے بعد پی ایس ایل میں کمال کر دیا۔
حسان خان صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک مکمل پیکج ہے۔
بیٹنگ میں اعتماد، بولنگ میں کنٹرول اور فیلڈنگ میں زبردست انرجی، آج سگر باؤنڈری نہ بچاتا تو گیم ہار گئے تھے، ہر شعبے میں اپنی موجودگی کا احساس دلوایا حسان خان نے۔
اگر واقعی میرٹ پر فیصلے ہوں تو حسان خان کو نیشنل ٹیم میں جگہ ضرور ملنی چاہیے، کیونکہ وہ موجودہ کئی نامور آل راؤنڈرز سلمان علی آغا شاداب خان ، محمد نواز سے زیادہ مؤثر اور اٹیکنگ کرکٹر ثابت ہو رہا ہے۔
ایسے ٹیلنٹ کو نظر انداز کرنا پاکستانی کرکٹ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
01/05/2026
شہباز شریف صاحب کے فیس بک پیج کی یہ پوسٹ 2021 کی ہے،
اس سے پہلے کے پوسٹس ڈیلیٹ ہو جائیں،
خود اندازہ لگائیں ایک روپے ریٹ بڑھنے پر یہ کیا کہتے تھے اور اب حالات آپ کے سامنے ہیں۔۔
30/04/2026
حضرات ایک اعلان ضروری سن لیں کچھ دیر پہلے ایک بہت بڑا پتھر وزیراعظم ہاؤس کی جانب دیکھا گیا ہے امید یہ ظاہر کی جا رہی ہے یہ پتھر شہباز شریف صاحب نے منگوایا ہے دل پر رکھنے کے لیے باقی آپ اپنے دل پر رکھنے کے لیے بھی پتھر ڈھونڈ لیں۔
پیٹرولیم مہنگا کرنے کی بات جنگ سے شروع ہوئی تھی
اور اب آئی ایم ایف کی شرائط پہ آ گئی ہے۔
کیسے کیسے چونے لگا رہے ہیں حکمران
25/04/2026
عالمی حالات کا سہارا لے کر پی ایس ایل 2026 کو شائقین کے بغیر کروانے کا فیصلہ محض ایک انتظامی مجبوری نہیں بلکہ ایک بڑی ناکامی کو چھپانے کی کوشش محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی حالات اتنے ہی خراب تھے تو پھر بھارت میں آئی پی ایل کیسے بھرپور شائقین کے ساتھ کامیابی سے جاری ہے؟ وہاں اسٹیڈیم بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہاں خالی گراؤنڈز اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسئلہ کہیں اور ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی، خاص طور پر ورلڈ کپ میں شرمناک نتائج، نے شائقین کے دل توڑ دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پی سی بی کی نااہلی، بار بار کی غلط پالیسیاں، اور سلیکشن کمیٹی میں سفارش اور پرچی کلچر نے کرکٹ کا معیار بھی متاثر کیا اور عوام کا اعتماد بھی ختم کر دیا۔ جب میرٹ کو نظر انداز کیا جائے اور فیصلے شفاف نہ ہوں تو اس کا اثر صرف ٹیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے کرکٹ کلچر کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ایسے حالات میں اگر پی ایس ایل کو شائقین کے ساتھ کروایا جاتا تو خالی اسٹیڈیمز پوری دنیا کے سامنے پاکستان کرکٹ کی اصل صورتحال کو بے نقاب کر دیتے۔ اسی ممکنہ جگ ہنسائی سے بچنے کے لیے شاید یہ راستہ اختیار کیا گیا، مگر یہ وقتی پردہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ویورشپ کے اعداد و شمار نے خود بتا دیا کہ عوام کی دلچسپی کم ہو چکی ہے اور لوگ اس ٹورنامنٹ سے دور ہو رہے ہیں۔
اب فائنل کے ایک میچ کے لیے تو ظاہر سی بات ہے عوام آئے گی۔۔ اگر پی سی بی واقعی کرکٹ کو دوبارہ زندہ دیکھنا چاہتا ہے تو اسے میرٹ، شفافیت اور پروفیشنلزم کو ترجیح دینا ہوگی اور اس پی ایس ایل میں جن کھلاڑیوں نے اچھا پرفارم کیا ہے ان کو موقع دینا ہو گا اور جن کی پرفارمینس اچھی نہیں رہی انہیں ریسٹ کے ساتھ نیشنل لیول پہ کھلانا ہو گا اگر پرچی سلیکشن کے ہی فیصلے ہوتے رہیں گے تو کرکٹ شائقین مزید بددل ہوتے جائیں گے۔
اور پاکستان میں کرکٹ کوئی نہیں دیکھے گا۔
21/04/2026
رائیلی روسو کی شاندار ففٹی… اور سیلیبریشن ایسا کہ گرنے والے جہاز یاد کروا دیئے پڑوسیوں کو 😂✈️🔥
انڈیا میں اگ لا ڈیتی 😄
21/04/2026
فخر زمان کی پاکستان سپر لیگ میں شاندار سنچری،
عاقب جاوید کے منہ پر ایک اور تھپڑ۔
Fakhar Zaman 100 💯💪💪💪💪