Hakeem Muhammad Mahtab

Hakeem Muhammad Mahtab

Share

I Am Muhammad Mahtab My professional work is herbal medicines

21/05/2023

پبلک سروس میسیج
اگر کسی کو اسطرح کے ٹیڑھے پاؤں والے بچوں کے بارے میں پتہ ھو تو انکا علاج بلکل مفت کیاجاتا ھے ۔ اپنے تمام دوست واحباب کو اس سے آگاہ کریں فون نمبر0919217901
پیراپلیجک سنٹر حیات آباد پشاور
پلیز انسانیت کی خدمت کی نیت سے شیئر کریں

21/05/2023

سبزیوں کے طبی فوائد
1۔ ادرک Ginger
۱۔ کاسر ریاح، ہاضم اور امراض معدہ میں مفید۔
۲۔ ریامی دردوں مثلا گنٹھیا، فالج میں اس کا استعمال مفید ہے، درد پشت ،درد کمر میں بیرونی طور پر تیل میں جلا کر یا دیگر ادویہ کے ہمراہ تیل بنا کر مالش کی جاتی ہے۔
۳۔ ادرک گردے اور مثانہ کو طاقت دیتی ہے۔
۴۔بچوں کی کھانسی کی صورت میں ادرک کا عرق شہد میں ملا کر دینے سے کھانسی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
۵۔ ہاضمے دار چورن بنانے کے لیے سونٹھ (خشک ادرک) اور اجوائن دیسی لے کر آب ادرک میں تر کریں اور پھر سایہ میں خشک کریں اور نمک ملاکر سفوف بنالیں، حسب ضرورت استعمال کریں۔

2۔ بند گوبھی Cabbage
۱۔ یہ بلغم بننے کو روکتی ہے۔
۲۔ اس کا بطور سلاد استعمال کولیسٹرول کے لیے بے حد مفید ہے۔
۳۔ اس کا استعمال موٹاپے کو کم کرتا ہے۔

3۔ پودینہ Pepper mint
۱۔ چہرے کے داغ دھبوں کو دور کرنے کے لیے پودینہ کو سرکہ میں پیس کر بطور لیپ استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔
۲۔ پودینہ کا استعمال مقوی معدہ ہوتا ہے۔
۳۔جسم سے ریاح کو خارج کرتا ہے۔
۴۔ پودینہ کو انجیر کے ہمراہ جوشاندہ کی صورت میں استعمال کرنے سے سینہ اور پھیپھڑوں سے غلیظ مواد آسانی سے خارج ہو جاتا ہے اورکھانسی دمہ، درد سینہ میں مفید ہے۔
۵۔ بھوک لگاتا ہے۔
٦۔ پودینہ پیشاب آور ہے۔
۷۔ اسہال میں پودینے کا استعمال مفید ہے۔
4۔ پیاز Onion
۱۔ تلی کے ورم کا سب سے کامیاب علاج پیاز کا استعمال ہے۔
۲۔ خارش میں پیاز کا رس ملنے سے آرام ہوتا ہےاور خارش دور ہو جاتی ہے۔
۳۔ پیاز کے عرق میں شہد کا اضافہ مقوی باہ ہوتا ہے۔
۴۔ پیاز کو مقوی و محرک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
5۔ پیٹھا White Pumpkin
۱۔ بلڈپریشر اور گرمی کے لیے مفید ہے۔
۲۔ دماغی کام کرنے والوں کے لیے پیٹھے کا حلوہ بے حد مفید ہے۔
۳۔ یہ ہڈیوں کی پرورش کرتا ہے اور نیند لاتا ہے۔
۴۔ پیشاب کی جلن کو ختم کرنے میں پیٹھا اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔
6۔ سہانجنہ Moringa
۱۔ بھوک لگاتا ہے۔
۲۔ وجع مفاصل اور درد کمر میں مفید ہے۔
۳۔ گلے کی سوزش کی صورت میں اس کا استعمال مفید ہے۔

7۔ توری۔ laActangu
۱۔ قبض کشا ہے۔
۲۔ بواسیر کو درست کرتی ہے۔
۲۔ حرارت کو تسکین دیتی ہے۔
۴۔ مسکن حرارت اور مدر بول ہے۔
8۔ ٹماٹر Tomato
۱۔ ٹماٹر خون کو صاف کرتا ہے۔
۲۔ جسم کی خشکی کو دور کرتا ہے۔
۳۔ وہم اور وحشت کو ختم کرتا ہے۔
۴۔ طبیعت کو فرحت دیتا ہے۔
۵۔ بچوں کے لیے اس کا جوس نہایت مفید ہے۔
٦۔ گردہ کی پتھری والے مریض ٹماٹر استعمال نہ کریں۔
9۔ چقندر Beet Root
١۔ اعصاب کو قوت بخشتا ہے اور جسم کو طاقتور بناتا ہے۔
٢۔ سر میں سکری ہو تواس کے پتے ابال کر سر دھونےسےدور ہو جاتی ہے۔
٣۔ اس کےپتےاگر مہندی کے ہمراہ رگڑ کر لگائیں تو سر کے بال نرم و ملائم ہو جاتے ہیں، گرتے بال رک جاتے ہیں۔
٤۔ مادہ تولید گاڑھا کرتا ہے۔
٥۔ جوڑوں کے درد میں چقندر نہایت مفید ہے۔
10۔ دھنیا Coriender
١۔ پیاس کو روکتاہے اورقےکو ختم کرتا ہے، مقوی معدہ ہے، معدےکا صفرا دور کرتاہے۔
٢۔ دل و دماغ کو ٹھنڈک اورطاقت دیتاہے۔
٣۔ تبخیر معدہ کے لیے پانچ تولہ مغز بادام ، پانچ تولہ سونف اور اڑھائی تولہ دھنیا ہمراہ دیسی تولہ چینی کے سفوف بنا کر ایک تولہ کھانا کھانے کے بعد کھانےسے مرض دورہوتاہے اوردماغ کو قوت ملتی ہے۔
٤۔ نزلہ، زکام، سر درد، سر چکرانے کی صورت اطریفل کثیر کا استعمال مفید ہے۔
11۔ شلجم Turnip
۱۔ جسم کو طاقتور بناتا ہے، بدن کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔
۲۔ خشک کھانسی میں بے حد مفید ہے۔
۳۔ ضعف جگر،گنٹھیا، ضعف مشانہ میں شلجم بے حدمفید ہے۔
12۔ کریلا Hairy Mardica
۱۔ یہ مغوی معدہ اور قاتل کرم شکم ہے۔
۲۔ کریلا صفرا اور بلغم کا مسہل ہے۔
۳۔ اعصابی طاقت دیتا ہے۔
۴۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔
13۔ گاجر Carrot
۱۔ کچی گاجر کھانے سے بینائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
۲۔ گاجر سیب کا بھی متبادل سمجھی جاتی ہے۔
۳۔ گاجر دل کے امراض میں مفید ہے۔
۴۔ گاجر مفرح اور مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔
14۔ لہسن Garlic
۱۔ یہ خوراک کو جلد ہضم کرتا ہے۔
۲۔ پیشاب اور حیض جاری کرتا ہے۔
۳۔ انار دانہ، پودینہ، ادرک اور لہسن کی چٹنی بہت سے طبعی فوائد رکھتی ہے۔
۴۔ بلند فشار خون میں اس کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔
15۔ سرخ مرچ Red Pepper
۱۔مرچ بھوک لگاتی ہے اور ریح کو جسم سے خارج کرتی ہے۔
۲۔مرچ وبائی امراض کا سب سے بڑا تریاق ہے۔
۳۔بلغمی امراض والوں کے لیے مرچ بہت مفید ہے اور کھانے کو ہضم کرتی ہے۔
۴۔حیض اورپیشاب کی بندش کو کھولتی ہے۔
16۔ مولی Radish
۱۔ مولی نمک کے ساتھ کھانے سے جگر کی اصلاح ہوتی ہے۔
۲۔ مولی کا مستقل استعمال گردہ اور مثانہ میں موجود پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے ہمیشہ کے لیے جسم سے خارج کردیتا ہے۔

19/05/2023

🍑 آڑو کے فوائد 🍑

آڑو میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو اعصاب اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔
اسی طرح یہ جسم کے مختلف حصوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

☘جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین.

صبح ناشتے میں آڑو کھانا پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے جبکہ اس پھل میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔ آڑو فائبر کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے جو کہ جسمانی وزن میں کمی میں مدد دینے والا جز ہے۔

🍎جلد کے لیے فائدہ مند

آڑو وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جلد کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ پھل جلد کی رنگت کو بھی بہتر بناتا ہے۔

اس میں موجود وٹامن سی جھریوں کا امکان کم کرتا ہے، جلد کی ساخت بہتر اور اسے دھوپ و آلودگی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی عمر بڑھنے سے جلد میں آنے والی تبدیلیوں کی روک تھام کرتا ہے۔

💖دل کا دوست

آڑو میں بائیو ایکٹو کمپاﺅنڈ کا منفرد امتزاج ہے جو کہ خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کی بجائے پولی فینول سے بھرپور پھل آڑو کو ترجیح دینا امراض قلب کا خطرہ کافی حد تک کم کرتا ہے۔

اس میں موجود فائبر اور پوٹاشیم بھی دل کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، اسی طرح اس پھل میں موجود اجزا بلڈ پریشر کو مستحکم رکھ کر بھی امراض قلب کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

🍒نظام ہاضمہ بہتر کرے

جیسا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ اس پھل میں فائبر موجود ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو ریگولیٹ اور بہتر بناتا ہے، اسی طرح یہ پھل گردوں اور مثانے کی صفائی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

🌿بینائی کو بھی فائدہ پہنچائے

اس پھل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے لیوٹین وغیرہ اسے آنکھوں کی صحت کے لیے بہترین بناتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس پھل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس آنکھوں کو روشنی سے قرینے کو پہنچنے والے نقصان سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح لیوٹین عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے آنکھوں کے امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔

🍏ذیابیطس کے لیے فائدہ مند

اکثر ذیابیطس کے مریضوں کو کاربوہائیڈریٹس کے استعمال سے روکا جاتا ہے، لیکن یہ درست نہیں، بس مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

ایک آڑو سے جسم کو 15 گرام کاربوہائیڈریٹس حاصل ہوتے ہیں، جبکہ اس میں موجود دیگر اجزا مجموعی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض اس پھل کی کچھ مقدار روز کھا کر اپنی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں۔

🍃ورم کش

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ آڑو ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، اس میں موجود وٹامن سی جسمانی ورم پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے،

یہ خاص طور پر موٹاپے کے شکار افراد یا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن سی دمہ کے شکار افراد کے ورم کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

🍓خون کی کمی دور کرے

عام طور پر جسم میں خون کی کمی کی بڑی وجہ آئرن کی کمی ہوتی ہے، آڑو آئرن کے حصول کے لیے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔

اسی طرح خون کی کمی اکثر وٹامن سی کی کمی کا نتیجہ بھی ہوتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے جسم میں آئرن کے جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ آڑو آئرن اور وٹامن سی سے بھرپور پھل ہے اور اس طرح اینیما پر قابو پانے کے لیے اسے بہترین ثابت کرتا ہے۔

🍏عمر کے اثرات دور کرے

آڑو کا ایک بڑا فائدہ اس میں موجود فلیونوئڈز میں چھپا ہے جو کہ عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کی رفتار سست کرتے ہیں۔ اس میں موجود وٹامن سی بڑھتی عمر کے باوجود جسم پر اس کے اثر کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ آڑو میں وٹامن ای بھی موجود ہے جو کہ جلد کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

🍇ذہنی تناﺅ کم کرے

ایک تحقیق کے مطابق آڑو ذہنی تناﺅ میں کمی لانے کے لیے بھی بہترین ہے، یہ ذہنی بے چینی یا تشویش کو بھی کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

🌟ہڈیاں اور دانت مضبوط بنائے

آڑو میں موجود وٹامن سی دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے اور ان کی نشوونما بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مضبوط بناتا ہے

05/05/2023

What's app 03476442647

05/05/2023

WhatsApp 03476442648

25/04/2023

*تربوز*
تربوز معدہ میں صفرا کی مقدار کو کم کرتا ہے اور پیاس کو بجھاتا ہے۔ خصوصاً اپریل، مئی اور جون کی گرمی میں اس کا استعمال جسمانی حرارت اور گرمی کم کرنے کے لئے اکثیر کا درجہ رکھتا ہے۔ اطباء کے نزدیک بوڑھے اور سرد مزاج کے حامل افراد کو تربوز زیادہ نہیں کھانا چاہئے۔ تربوز میں پانی زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ گردے اور مثانے کی پتھری کے اخراج میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے.۔
شیخ الرئیس ابنِ سینا نے اپنی معروف کتاب ’’القانون‘‘ میں تربوز کے فوائد کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ معدے میں پہنچ کر انتہائی فائدہ مند صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اس کے بیج جلد کی صفائی کے لئے انتہائی مفید ہوتے ہیں اور اگر اس کے چھلکے کا لیپ پیشانی پر کر دیا جائے تو آنکھوں کے امراض کے لئے مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

پرانے زمانے اور موجودہ جدید دور کے طبیب اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ توبرز کو کھانے کے فوری بعد استعمال نہ کیا جائے، اس صورت میں یہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور خصوصاً ہیضہ کی شکایت ہوسکتی ہے۔ تربوز کھانا کھانے سے کم از کم ۲ گھنٹے پہلے یا ۲ گھنٹے بعد کھانا چاہیئے۔کھانے کے فوری بعد اس کے استعمال سے قولنج (پیٹ کا درد) یا تخمہ کا احتمال ہے۔ حکیم مظفر حسین نے اپنی کتاب ’’المفردات‘‘ میں تربوز کو تپ صفراوی، سوزش بول، سوزاک، یرقان اور اسہال صفراوی میں مفید بتایا ہے۔
جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خون کے دباؤ کی زیادتی میں مغز تربوز کے اندر موجود خاص مادے ’’کوکر بوٹرین‘‘ سے بہت فائدے حاصل ہوتے ہیں، جس سے ۸۲ فیصد مریضوں میں دل پر سے بوجھ کم ہوتا ہے۔ تربوز کے بیج بدن کو فربہ کرتے ہیں، جبکہ خود تربوز میں ایک خاص قسم کا جزو ’’گلٹاتھی اون‘‘ موجود ہوتا ہے، جو سرطان کو بے بس کردیتا ہے۔ بعض ڈاکٹروں نے اس خاص جزو کو ایسے پہلوان سے تشبیہ دی ہے جو جسم کو نقصان پہنچانے والے خطرناک اجزاء کو پچھاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک ’’گلٹاتھی اون‘‘ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ سرطان کے خلیات کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہ مادہ تربوز کے علاوہ دیگر پھلوں اور سبزیوں میں بھی پایا جاتا ہے، جس کے استعمال سے جسم کو بہت فائدہ ملتا ہے۔ جو لوگ ان سبزیوں اور پھلوں کو باقاعدہ استعمال کرتے ہیں ان میں سرطان سے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ تربوز بالخصوص ’’گلٹاتھی اون‘‘ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

تربوز کے استعمال سے آنتوں کی سختی میں کمی آتی ہے اور شریانوں کی لچک بھی قائم رہتی ہے۔ امام ابن القیم الجوزیہؒ اپنی کتاب ’’طبِ نبوؐی‘‘ میں تربوز کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تربوز کے بارے میں تمام احادیث غیر مستند ہیں سوائے اس حدیث کے جسے امام ابو داؤد اور امام ترمزی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ نبی کریمؐ تربوز کو اکثر کجھور کے ساتھ کھایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہم اس کجھور کی گرمی کو تربوز کی ٹھنڈک کے ذریعے اور تربوز کی ٹھنڈک کو کجھور کی گرمی کے ذریعے ختم کرتے ہیں.۔ ( ابو داؤد، ترمزی)۔

دوسری جانب ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تربوز کے کثرتِ استعمال سے جوڑوں کے درد اور بلغم کے امکانات ہوتے ہیں، اس لئے تربوز کو ہمیشہ اعتدال سے کھانا چاہیئے۔ تربوز کھانے کے فوری بعد سکنجبین دہی اور کوئی شربت یا چائے وغیرہ کسی بھی قسم کی چیز استعمال نہیں کرنی چاہئے

25/04/2023

بادام کا دودھ اپنی بھرپورغذائیت، ذائقہ اور مزیدار خوشبو کی وجہ سے دنیا کے بہت سارے ممالک میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔
بولڈ سکائی ویب سائٹ کے مطابق بادام انسانی صحت کے لیے بے شمار فوائد اور بہترین ذائقے کے ساتھ ایک ہلکی پھلکی غذا ہے۔
بادام کا دودھ بادام سے تیار کردہ اشیا میں سے سب سے زیادہ مشہور ہے۔ یہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی بھرپور غذائیت اور ذائقہ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مقبول ہوا ہے کیونکہ یہ صحت مند اور مزیدار خوشبو والا دودھ ہے۔
غذائی ماہرین اسے گائے کے دودھ کا متبادل کہتے ہیں۔ بادام کے دودھ کے فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے پیس کر کریم بنا لیں اس کے بعد اس کا دودھ تیار کر لیں۔
بادام کا دودھ بنانے کا طریقہ
مزید پڑھیں

مچھلی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے 6 طریقے

پھلوں کے تازہ جوس سے کون سی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے؟

تکیے کے غلاف اور چادروں میں بیکٹریا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ
درج ذیل طریقے پر عمل کر آپ اپنے گھر میں ہی بادام کا دودھ تیار کر سکتے ہیں:
رات میں دو کپ بادام پانی میں بھگو دیں اور صبح انہیں چھان کر پانی سے الگ کر لیں۔
اب بادام کے چھلکے اتار لیں اور چھلے ہوئے باداموں کو گرینڈر میں ڈال کر اچھی طرح پیس لیں
پسے ہوئے کریم نما باداموں کو پانی میں ڈال کر ایک سے دو منٹ تک مکس کر لیں۔
بادام کا دودھ 4-5 دن فریج میں رکھا جا سکتا ہے۔
گائے کے دودھ کا متبادل
محققین کا خیال ہے کہ بادام کا دودھ ان بچوں اور بڑوں کے لیے ایک اچھا متبادل ہے جو دودھ استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ سبزی خور انسانوں کےلیے بھی بطور غذا ایک اچھا انتخاب ہے۔
بادام کا دودھ بہت سے وٹامنز اور معدنیات سے مالا مال ہوتا ہے۔ ان میں وٹامن ای، رائبو فلاوین، وٹامن ڈی، تانبا ، زنک، کیلشیم، میگنیشیم اور فاسفورس موجود ہیں۔ تاہم اسے خریدتے وقت احتیاط برتیں اور اس میں زیادہ چینی یا اضافی مواد نہ ہو۔
بادام کے دودھ کے سات فوائد

بادام کے دودھ میں موجود وٹامن ای الزائمر کی بیماری کی رفتار کو سست کرنے میں مدد کرتا ہے: فوٹو فری پکس

1-وزن میں کمی
بادام کے دودھ میں درجہ حرارت کی کمی اسی طرح شوگر کی کم مقدار ہوتی ہے۔اس وجہ سے اس سے وزن نہیں بڑھتا کیونکہ یہ اشیاء وزن بڑھاتی ہیں۔ب ادام میں وزن کم کرنے والے اجزاء کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے۔
2-خون میں شوگر کی مناسب مقدار
بادام کا دودھ خون میں شوگر کی مقدار کو نہیں بڑھاتا، شوگر کے مریضوں کےلیے یہ مناسب دودھ ہے۔بادام کا دودھ ایک کاربوہائیڈ مشروب ہے۔ یہ بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔
3-ہڈیوں کی مضبوطی
بادام کے دودھ میں وٹامن ڈی اور کیلشیم ہوتا ہے اس لیے ہڈیوں کی مضبوطی کا سبب بنتا ہے۔
4-دل کی حفاظت
بادام کے دودھ میں صحت مند تیل کی کافی مقدارہوتی ہے۔ جیسے مونوسریٹوریٹ فیٹی ایسڈ اور پولی ساسٹریٹ فیٹی ایسڈ، جو دل کی صحت کے لئے اچھے ہیں۔
بادام کا دودھ پینے سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول خراب ہو سکتا ہے اور اچھے ایچ ڈی ایل کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح دل کی صحت میں بہتری آ سکتی ہے۔
5-رگوں کی حفاطت
بادام کا دودھ وٹامن ای کا ایک اچھا ذریعہ ہے ، جو چربی میں گھلنشیل وٹامن ہے جو جسم کے خلیوں کو کسی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے درکار ہوتا ہے۔
وٹامن ای جسم میں سوجن اور آکسیڈیٹیو تناؤ سے بھی لڑتا ہے۔ اس طرح دائمی بیماری کے خطرے کو روکتا ہے۔
6-پٹھوں کی حفاظت
بادام کے دودھ میں موجود وٹامن ای الزائمر کی بیماری کی رفتار کو سست کرنے میں مدد کرتا ہے۔
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وٹامن ای ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور الزائمر کی بیماری کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
7-لییکٹوزاور دیگر دودھ کے اجزاء سے پاک

بادام کے دودھ میں صحت مند تیل کی کافی مقدارہوتی ہے: فوٹو فری پکس

بادام کا دودھ قدرتی طور پر لییکٹوز سے پاک ہونے کے باعث لییکٹوز کے شکار افراد کے لیے ایک مناسب آپشن ہے۔ کچھ لوگ گائے کے دودھ میں پائے جانے والے شوگر لییکٹوز کو ہضم کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
ایسے افراد کے لیے اس کے اثرات سے بچنے کا ایک بہترین حل ہے جو ڈیری مصنوعات کھانے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
بادام کے دودھ کے نقصانات
اگرچہ بادام کے دودھ میں صحت سے متعلقہ بہت سے فوائد ہیں لیکن اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہیں۔ بادام کے دودھ میں پروٹین کی کمی ہوتی ہے۔
یہ پٹھوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتی ہے یہ جسم کےدوسرے کام انجام دینے کے لیے ہارمونز کی تیاری میں ضروری ہوتا ہے۔
پیڈیاٹرکس جرنل میں شائع ہونے والی 2015 کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے بادام کا دودھ بڑی مقدار میں پیتے ہیں، ان میں سے کچھ میں گردے کی پتھری ہوتی ہے۔
محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بادام کا دودھ غذائی آکسالیٹ کا ایک بھرپور ذریعہ ہے جو گردوں کی پتھری کا سبب بنتا ہے لہٰذا بچوں کو ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ڈاکٹروں نے یہ بھی انتباہ کیا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو یہ دودھ نہیں دینا چاہیے، جس میں بادام کا دودھ بھی شامل ہے کیونکہ یہ آئرن جذب ہونے میں مداخلت کرتا ہے اور اس سے غذائیت کی کمی ہو سکتی ہے۔

متعدد استعمال
غذا میں بادام کا دودھ شامل کرنے اور اس کا بہترین استعمال کرنے کے لیے بہت ساری تجاویز ہیں۔
ناشتے میں بادام کا دودھ شامل کیا جاتا ہے۔
اس کو چائے، کافی، کوکو یا گرم چاکلیٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔
بادام کا دودھ تازہ قدرتی جوس میں شامل کیا جاتا ہے۔
اس میں سوپ، چٹنی اور سلاد ڈریسنگ شامل کی جاتی ہے۔
بادام کا دودھ کیک، آئس کریم اور میٹھا بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے

25/04/2023

Mong Phali Benefits – مونگ پھلی کے چند حیرت انگیز فائدے
مونگ پھلی معدے اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتی ہے۔
مونگ پھلی کمزور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اس لیے اسے کھانا صحت کے لیے بہتر ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ یہ شوگر کے لیول کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔
مونگ پھلی میں حیاتین کی مقدار گوشت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
100 گرام کچی مونگ پھلی میں ایک کلو دودھ کے برابر لحمیات ہوتے ہیں۔
مونگ پھلی کا استعمال سرطان کے خلاف لڑنے میں مدد دیتی ہے۔
اس میں موجود قدرتی اجزا خون کے نئے خلیات بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مونگ پھلی کا استعمال انسولین کا استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے بہترین ہے کیونکہ یہ انسولین کی مقدار کو برقرار رکھتی ہے۔
جن لوگوں کے معدے اور پھیپھڑوں میں پتریا ہوتی ہیں انہیں مونگ پھلی کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے۔ اس کی چائے بنا کر پئیں جس کی وجہ سے پتریاں خود بخود پیخانے کے زریعے خارج ہو جائینگی۔
مونگ پھلی کو زیادہ پکا کر استعمال نہ کریں کونکہ اسکو زیادہ گرمائش دینے سے اس میں موجود غذائیت مر جاتی ہے اور یہ مکمل افادیت نہیں پہنچاتی۔
مونگ پھلی میں پائے جانے والے وٹامن اے کینسر کے خلاف لڑنے میں بے حد فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈینٹ کی بھی بھاڑی مقدار حاصل ہوتی ہے۔
مونگ پھلی کے 7 حیران کن فوائد
۔1 کمزوری کو دور کرتی ہے
مونگ پھلی ان سب افراد کے لیے بہت مفید ہے جو دبلے ہیں پتلے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان پر کچھ فیٹ ایسیڈ ایسے اہوتے ہیں جو چربی بناتے ہیں اس لیے ایسے افراد کو مونگ پھلی کھانی چاہیئے۔ اس میں موجود فولاد جسم میں کمزوری کو دور کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک قدرتی طریقہ ہے صحت مند رہنے کا بغیر کسی بھی قسم کی ادویات استعمال کیے۔

۔2 باڈی بلڈر اور مونگ پھلی کا استعمال
مونگ پھلی کو باڈی بلڈر کھانے میں استعمال کر کے اس سے بھرپور فائدے اٹھا سکتے ہیں یہ انکی اعصابی کمزوری کو بھی دور کرے گی اسے کے ساتھ پٹھوں کے کچھائو اور اسے کے درد سے بھی دور رکھے گی۔

۔3 دانتوں اور مسوڑوں کے لیے مفید
دانتو اور مسوڑوں کی صحت کے لیے مونگ پھلی اکسیر ہے۔ اسے نمک کے ساتھ ملا کر اچھی طرح چبا کر کھایا جائے تو اس سے مسوڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے وہ تمام جراثیم کا خاتمہ ہو جا تا ہے جو ہماری صحت کے لیے بلکل بھی مفید نہیں ہیں۔ اس سے دانتوں کی قدرتی چمک برقرار رہتی ہے، دانت جلدی خراب نہیں ہوتے۔ مونگ پھلی کھانے کے بعد دانتوں کو پانی سے اچھی طرح صاف کر لیں تا کہ اس کے زرات دانتوں میں نہ رہ جائیں۔

۔4 جریان خون اور نکسیر کے لیے
اکثر ہم دیکتھے ہیں کہ کچھ لوگوں کو جب چوٹ لگتی ہے تو انکا مسلسل خون نکلتا رہتا ہے۔ خون بہنا بند نہیں ہوتا ایسے لوگوں کو مونگ پھلی کا متوازن استعمال کرنا چاہیے کہ یہ جریان خون کا علاج ہے۔

۔5 چہرے کی تازگی اور اسکی قدرتی رنگت کو برقرار رکھتی ہے
مونگ پھلی کا تیل جلد کی قدرتی طور پر حفاظت کرتی ہے اور چہرے کی رنگت کو تازہ اور برقرار رکھتی ہے، بیرونی جلد کی نشونما کرتی ہے اور اسکی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جوانی میں ہی چہرے پر پیدا ہونے والے کیل، مہاسوں چھائیوں کی پیدائش کو روکتی ہے۔ ونگ پھلی کے تیل میں اگر لیمو ڈال کر استعمال کیا جائے تو یہ اور زیادہ فائدہ مند ہو جائے گی۔ رات کو اسکے تیل میں لیمو کا رس ڈال کر اسکو رات ساری لگا رہنے دیں اور صبح اپنے چہرے پر اسکا ایک خوبصورت رزلٹ اپنے چہرے پر پائیں۔

۔6 معدے لے لیے مفید
مونگ پھلی معدے کے اندر موجود ایسڈ کو کم کرتی ہے یہاں تک کہ معدے میں موجود پیراکو ایسڈ کی جو زیادتی ہو جاتی ہے جس سے معدے کے کینسر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یہ اسکی روک تھام کرتی ہے۔

۔7 فالج کے علاج کے لیے
مونگ پھلی کھانے سے فالج اور ہارٹ اٹیک کا خدشہ کم ہو جاتا ہے اور اگر کوئی ہارٹ کا مریض ہے تو اسے چاہئے کہ مونگ پھلی کو صبح ناشتے سے پہلے کھائے کہ یہ صحت کے لیے موثر ہے۔ یہ دل کی مضبوطی کے لیے بہترین پھل ہے۔

مونگ پھلی کا استعمال مکھن کے ساتھ
مونگ پھلی کا مکھن بنا کر بچے اور بڑے بہت چوق سے کھاتے ہیں لوگ اسا کا سنڈوچ بنا کر کھاتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ اس کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔

مانگ پھلی کے مکھن کو گھریلو صفائی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ببل گم کو ہٹآنے کے لیے اسے استعمال کریں کہیں بھی اگر یہ چپک جائے تو وہاں مونگ پھلی کا یہ پیسٹ لگائیں اس سے ببل اکھڑ جائے گی وہ بھی با آسانی۔

اگر آپکا کھانے کا تیل ختم ہو گیا ہے تو آپ مونگ پھلے کے تیل سے بھی کھانا بنا سکتے ہیں اس سے کھانا بہت لزیز بنے گا۔

اگر آپنے گھر میں مچھلی بنائی اور اسکی بو پورے گھر میں پھیل گئی یے تو پریشان ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں آپ بس مونگ پھلی سے بنے مکھن کو تھوڑٰی دیر تک جلائیں اس سے پورے گھر میں پھیلی مچھلی کی بو ختم ہو جائے گی۔

احتیاط
مونگ پھلی کے جہاں اتنے فائدے ہیں وہاں آپکو مزید بتاتے چلیں کہ مونگ پھلی کو پکا کر کھایا جائے تو یہ معدے کے لیے آسانی پیدا کرتی ہے معدہ اسے آسانی سے ہضم کر لیتا ہے کیونکہ مونکہ مونگ پھلی دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ کچھ ایسی امراض ہیں جس میں بہت احتیاط کرنی پرتی ہے اس لیے ان سب خطرناک امراض کے لوگوں کے لیے مونگ پھلی کا استعمال طب کی ہدایت کے بغیر ہر گز مت کریں۔

مونگ پھلی حاملہ خواتین کھانے سے گریز کریں کہ اس کے زیادہ استعمال سے خشکی ہو جاتی ہے اور یہ الرجی کا باعث بن سکتی ہیں لہذا حمل کے دوران مونگ پھلی کھانے سے گریز کریں

23/04/2023

دار چینی کیا ہے؟ – Cinnamon in Urdu
دار چینی ایک پسندیدہ گھریلو مصالحہ ہے، اور صدیوں سے دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے.کسی وقت میں کرنسی کے طور پر تجارت ہونے والے اس مصالحے میں ایک خوشگوار ذائقہ اور گرم بو ہوتی ہے جس نے اسے کھانا پکانے میں مقبول بنا دیا ہے، خاص طور پر بیکینگ اور کری میں۔

مصالحہ ایک چھوٹے سدا بہار درخت کی اندرونی چھال سے آتا ہے۔چھال کو چھیل کر دھوپ میں خشک کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے، جہاں یہ رولز میں کرل ہو جاتا ہے جسے دار چینی کی چھڑیاں کہا جاتا ہے۔دار چینی پاؤڈر کی شکل میں بھی دستیاب ہے۔

:تاریخ کے لحاظ سے دارچینی بطور دوا
دارچینی صدیوں سے روایتی آیورویدک اور چینی طب میں بطور دوا استعمال ہورہی ہے۔ عمل انہضام اور معدے کی شکایات سے وابستہ فوائد کے لئے جانی جانے والی ، دار چینی طویل عرصے سے جلن ، بدہضمی اور متلی کے گھریلو علاج کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

دارچینی ایک انتہائی لذیذ مصالحہ ہے۔ اسے ہزاروں سالوں سے اپنی دواؤں کی خصوصیات کے لئے انعام دیا گیا ہے۔ جدید سائنس نے اب اس بات کی تصدیق کردی ہے۔

دار چینی کے صحت سے متعلق فوائد جو سائنسی تحقیق کے ذریعہ معاون ہیں
:دار چینی اینٹی اکسیڈنٹس سے بھرپور ہے
اینٹی آکسیڈینٹس آپ کے جسم کو فری ریڈیکلز کی وجہ سے آکسیڈیٹیو نقصان سے بچاتے ہیں۔

دار چینی طاقتور اینٹی آکسیڈینٹوں سے لدی ہے ، جیسے پولیفینول

ایک مطالعہ میں جس نے 26 مصالحوں کی اینٹی آکسیڈینٹ سرگرمی کا موازنہ کیا ، دار چینی صاف فاتح کی حیثیت سےسامنے ائی، یہاں تک کہ لہسن اور اوریگانو جیسے “سپر فوڈز” کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

در حقیقت ، یہ اتنی طاقتور ہے کہ دار چینی کو قدرتی غذائی اجزاء کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

:دار چینی میں اینٹی- انفلامیتری خصوصیات پائی جاتی ہیں
سوزش ناقابل یقین حد تک اہم ہے۔

یہ آپ کے جسم میں انفیکشن سے لڑنے اور ٹشو کے ہونے والے نقصان کی اصلاح میں مدد کرتا ہے۔

تاہم ، سوزش ایک مسئلہ بن سکتی ہے جب یہ دائمی ہو اور آپ کے جسم کے اپنے ٹشوز کے خلاف ہو۔

دار چینی اس سلسلے میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مصالحہ اور اس کے اینٹی آکسیڈینٹس میں اینٹی سوزش کی مضبوط خصوصیات ہیں

:دار چینی دل کی بیماری کا خطرہ کم کرسکتی ہے
دارچینی دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک ہے ، جو دنیا میں قبل از وقت موت کی سب سے عام وجہ ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد میں ، دن میں 1 گرام یا آدھا چائے کا چمچ دارچینی کے بلڈ مارکرز پر فائدہ مند اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

یہ کل کولیسٹرول ، “خراب” ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائڈز کی سطح کو کم کرتا ہے ، جبکہ “اچھے” ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کو مستحکم کرتا ہے

ابھی حال ہی میں ، ایک بڑے مطالعے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک دن میں صرف 120 ملی گرام دار چینی کی خوراک سے یہ اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں ، دار چینی نے “اچھے” ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں بھی اضافہ کیا ہے

جانوروں کے مطالعے میں دار چینی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لئے دکھایا گیا ہے

یہ تمام عوامل جب مل جاتے ہیں تو ،آپ کے دل کی بیماری کے خطرے کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

:دار چینی انسولین ہارمون کی حساسیت کو بہتر بنا سکتی ہے
انسولین ان اہم ہارمونز میں سے ایک ہے جو میٹابولزم اور اینرجی یوز کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔

یہ آپ کے خون کے بہاؤ سے اپ کے خلیوں میں بلڈ شوگر لے جانے کے لئے بھی ضروری ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ انسولین کے اثرات کے خلاف ریزسٹنٹ ہیں۔

یہ انسولین ریزسٹنس کے طور پر جانا جاتا ہے ، میٹابولک سنڈروم اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسے سنگین حالات کی ایک خاص علامت ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ دار چینی انسولین کے خلاف ریزسٹنس کو حیران کن طور پر کم کرسکتی ہے ، جس سے اس اہم ہارمون کو اپنا کام کرنے میں مدد مل سکتی

انسولین کی حساسیت میں اضافہ کرکے ، دار چینی بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرسکتی ہے۔

:دار چینی بلڈ شوگر کو کم کرتی ہے اور اس کے اندر اینٹی ذیابیطس کا اثر ہے
دار چینی بلڈ شوگر کم کرنے والی خصوصیات کے لئے مشہور ہے۔

انسولین ریزسٹنس پر فائدہ مند اثرات کے علاوہ ، دار چینی کئی دیگر میکانزم کے ذریعہ بلڈ شوگر کو کم کرسکتی ہے۔

پہلے ، دار چینی میں گلوکوز کی مقدار کو کم کرنے کے لئے دکھای جاتی ہے جو کھانے کے بعد آپ کے خون میں داخل ہوتا ہے۔

یہ متعدد ہاضم انزائمز میں مداخلت کرکے ایسا کرتا ہے ، جو آپ کے ہاضمے میں کاربوہائیڈریٹ کی خرابی کو سست کرتا ہے

دوسرا ، دار چینی میں ایک مرکب انسولین کی نقالی کرکے خلیوں پر کام کرسکتا ہے۔

یہ آپ کے خلیوں کے ذریعہ گلوکوز لینے کو بہت بہتر بناتا ہے ، حالانکہ یہ خود انسولین سے کہیں زیادہ آہستہ کام کرتا ہے۔

بے شمار انسانی مطالعات میں دار چینی کے ذیابیطس کے ریزسٹنس کے اثبات کی تصدیق کی گئی ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روزہ رکھنے کی حالت میں بلڈ شوگر کی سطح کو 10-29٪ سے کم کرسکتا ہے۔

مؤثر خوراک عام طور پر فی دن 1-6 گرام یا دار چینی کے 0.5-2 چائے کے چمچ ہے۔

:دار چینی نیوروڈیجینیریٹو بیماریوں پر سود مند اثرات مرتب کرسکتی ہے
دماغی خلیوں کے سٹرکچر یا اس کے فنکشن کے ترقی پسند نقصان کی وجہ سے نیوروڈیجینریٹو بیماریوں کی خصوصیات ہوتی ہے۔

الزائمر اور پارکنسن کی بیماری دو عام قسمیں ہیں۔

الزائمر اور پارکنسن کی بیماریاں دو اعصابی حالتیں ہیں جو آج کے دور میں بھی ناقابل علاج ہیں۔ لہذا ان بیماریوں کے علاج کا ایک بہت بڑا حصہ علامات کے انتظام میں ہے ، اور اس کو مستقل طور پر دارچینی کے اضافے سے فروغ دیا جاسکتا ہے۔

دار چینی میں پائے جانے والے دو مرکبات دماغ میں تاؤ نامی پروٹین کی تشکیل کو روکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو الزائمر بیماری کی ایک علامت ہے۔

پارکنسنز کی بیماری والے چوہوں پر ہونے والے ایک مطالعہ میں ، دار چینی نے نیوران ، معمولی نوعیت کے نیورو ٹرانسمیٹر کی سطح اور موٹر کی بہتر کارکردگی میں مدد کی ہے۔

اِن اثرات کو انسانوں میں مزید مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

:دار چینی کینسر کے خلاف حفاظت کر سکتی ہے
کینسر ایک سنگین بیماری ہے ، جس میں خلیات کی بے قابو نشوونما ہوتی ہے۔

دار چینی پر کینسر کی روک تھام اور علاج میں اس کے استعمال کے لئے وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر ، ثبوت صرف ٹیسٹ ٹیوب اور جانوروں کے مطالعے تک ہی محدود ہیں ، جو تجویز کرتے ہیں کہ دار چینی کا عرق کینسر سے بچا سکتا ہے

یہ کینسر کے خلیوں کی نشوونما اور ٹیومر میں خون کی رگوں کی تشکیل کو کم کرکے کام کرتا ہے اور یہ کینسر کے خلیوں کے لئے زہریلا معلوم ہوتا ہے ، جس سے خلیوں کی موت ہوتی ہے۔

کولن کینسر کے ساتھ چوہوں میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دار چینی بڑی آنت میں خفیہ انزائمز کا ایک مضبوط متحرک کارکن ہے ، جو کینسر کے مزید اضافےسے بچاتا ہے۔

ان نتائج کی جانچ ٹیوب کے تجربات سے کی گئی ، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ دار چینی انسانی آنتوں کے خلیوں میں حفاظتی اینٹی آکسیڈینٹ ردعمل کو چالو کرتی ہے

:دار چینی بیکٹیریل اور فنگل انفیکشن سے لڑنے میں مدد کرتا ہے
سنامالڈیہائڈ ، دار چینی کے اندر پائے جانے والا ایک اہم فعال جزو طرح طرح کے انفیکشن سے لڑنے میں مدد ہے۔

دار چینی کا تیل فنگس کی وجہ سے ہونے والی سانس کی نالیوں کے انفیکشن کا مؤثر طریقے سے علاج کرنے کے لئے دیکھا گیا ہے۔

یہ کچھ بیکٹیریا کی افزائش کو بھی روک سکتا ہے ، بشمول لیسٹریا اور سالمونیلا

تاہم ، ثبوت محدود ہیں اور اب تک دار چینی میں جسم میں کہیں اور ہونے والی بیماریوں کے ہونے کو کم کرنے کے لئے نہیں دیکھا گیا ہے۔

دار چینی کے اینٹی مائکروبیل اثرات دانتوں کی خرابی کو روکنے اور بو کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں

:دار چینی ایچ ائی وی وائرس سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے
ایچ آئی وی ایک ایسا وائرس ہے جو آہستہ آہستہ آپ کے مدافعتی نظام کو توڑ دیتا ہے ، جو اگر علاج نہ کیا گیا تو بالآخر ایڈز کا سبب بن سکتا ہے

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیسیا کی اقسام سے نکلی ہوئی دارچینی ایچ ائی وی-1 کے خلاف لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے ، جو انسانوں میں ایچ آئی وی وائرس کا سب سے عام تناؤ ہے۔

ایک لیبارٹری مطالعہ نے ایچ آئی وی سے متاثرہ خلیوں کی تلاش کی تھی کہ پائے گئے مطالعے میں تمام 69 دواؤں کے پودوں میں دار چینی سب سے موثر علاج تھا۔

ان اثرات کی تصدیق کے لئے انسانی تجربات کی ضرورت ہے

:اس کی پری بائیوٹک خصوصیات آنتوں کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے
دار چینی سمیت کچھ مصالحے میں پری بائیوٹک خصوصیات ہیں جو فائدہ مند بیکٹیریا کی افزائش کو فروغ دیتی ہیں اور بیماری پھیلانے والے بیکٹیریا کی نشوونما کو روکنے میں مدد کرتی ہیں۔ لہذا ، آپ کی غذا میں مستقل طور پر مصالحے شامل کرنا آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

دار چینی مینگنیز کا ایک مفید ذریعہ بھی ہے اور اس میں کیلشیم اور فائبر کی تھوڑی مقدار بھی ہوتی ہے۔

آپ کو روزانہ کتنی دار چینی استعمال کرنی چاہیئے؟
دار چینی میں اینٹی آکسیڈینٹ ، اینٹی بائیوٹک ، اور اینٹی سوزش کی خصوصیات ہیں ، لیکن ابھی تک ، اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی مطالعات موجود نہیں ہیں کہ لوگوں میں یہ اچھی طرح سے کام کرتی ہے یا نہیں۔

عام طور پر دارچینی کے استعمال سے آپ کی صحت پر زیادہ اثر ڈالنے کا امکان نہیں ہے۔ اور اس کو بہت زیادہ مقدار میں کھا لینا بھی اچھا خیال نہیں ہے۔

چونکہ دارچینی بطور علاج ناقابل تصدیق ہے لہذا ، اس کی کوئی ایک مقررہ خوراک نہیں ہے۔ کچھ ماہرین دن میں 1/2 سے 1 چائے کا چمچ (2-4 گرام) پاؤڈر تجویز کرتے ہیں۔ کچھ مطالعات میں 1 گرام اور 6 گرام دار چینی شامل ہے۔ یہ زیادہ مقدار میں زہریلی بھی ہوسکتی ہے

23/04/2023

کالی مرچ ہمارے ملک میں کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں۔ اکثرکھانوں میں اسے لازمی جز قرار دیا جاتا ہے اس کو فلفل اسودیا فلفل سیاہ بھی کہا جاتا ہے کالی مرچ گرم مصالحے کا ایک لازمی جزہے یہ ریاح کو خارج کرتی ہے ورم کو گھلاتی اوربلغم کی اصلاح کرتی ہے یہ حافظے اور اعصاب کو بھی تقویت بخشتی ہے

اس کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے معدے کاالسر ہو سکتا ہے یہ اعضائے رئیسہ اور جگر اور دماغ کو تقویت دیتی ہے دمہ و کھانسی زکام اور بدہضمی میں نہایت مفید ہے کالی مرچ میں غذائی فوائد کے ساتھ ساتھ قدرت نے شفائی خصوصیات بھی رکھی ہیں اپنی شفائی خصوصیات کی بناءپر ستر 70 سے زیادہ داخلی اور خارجی امراض میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے یہ غذ ا کو بخوبی ہضم کر دیتی ہے اور کھانے میں بے حد لذیذ ہوتی ہے اس کے علاوہ پیٹ کے درد اور بھوک نہ لگنے کی شکایت کے لئے بے حد مفید شئے ہے ۔

قوت بصارت میں اضافے کے لئے گھی اور شکر کے ساتھ کھلایا جاتا ہے کالی مرچ 150 گرام شکر 30 گرام تک چمکنی (ایک بوٹی )پیس کرشامل کر لی جائے پانچ گرام سفوف ایک کپ میٹھے دودھ کے ساتھ صبح نہار منہ کھا لیا جائے اور ایک گھنٹے تک پانی نہ پیا جائے ۔ کالی مرچ کا یہ مرکب نہ صرف دماغی امراض بلکہ دوسری سرد بیماریوں میں بھی فائدہ دیتا ہے۔

کھانسی دمہ سینے کا درد کے لئے نصف گرام کالی مرچ کا سفوف شہد کے ساتھ شامل کر کے چاٹنا مفید ہے معدے کی تقویت ٗ ضعف ہضم اور بھوک کی کمی دور کرنے کے لئے کالی مرچ‘ ہینگ اور سونٹھ ہم وزن لے کر چنے کے برابر گولیاں بنا لی جائیں ایک ایک گولی تینوں وقت کھانےکے بعد استعمال کی جائے گلا بیٹھنے کی صورت میں گیارہ کالی مرچیں بتاشے میں رکھ کر چبائی جائیں ۔

لقوے کے مرض میں کوئی بھی دوا کالی مرچ سے زیادہ مفید نہیں سمجھی جاتی کالی مرچوں کو باریک پیس کر کسی روغن میں ملا کر مائوف مقام پر لیپ کیا جائے ۔

کالی مرچ کھانے والا خراب سے خراب آب و ہوا میں بھی بیمار نہیں ہوتا۔ اطباء کا کہنا ہے کہ کالی مرچ روزانہ کھانے کاطریقہ یوں ہے کہ طلوع آفتاب سے پہلے یا سورج طلوع ہونے تک کالی مرچ کے دانے چبائے جب اچھی طرح دانتوں میں باریک ہوجائیں تو بعد میں دودھ یا چائے پی لے یا انڈا کھالے۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عمر کے حساب سے اس کو استعمال کرے۔بچے کو روزانہ ایک دانہ دیں جبکہ بڑے روزانہ پانچ دانےچبا کر اور چوس کر کھائے۔کالی مرچ کے سونگھنے (نسوار کی شکل) سے درد شقیقہ کو بے حد فائدہ ہوتا ہے۔

شہد میں ملا کر کھانا باعث مقوی باہ ہے۔ سینے کا درد دور کرنے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کرنے کیلئے شہد میں ملا کر چاٹنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

اس میں فولاد اور وٹامن بی اور ای شامل ہوتے ہیں۔ کالی مرچ کے استعمال سے بند پیشاب کھل جاتا ہے۔

نوٹ:
درد گردہ کی بیماری میں مبتلا مریضوں کو کالی مرچ کا استعمال مناسب نہیں‘ گرم مزاج والے لوگ کم سے کم استعمال کریں

Want your business to be the top-listed Clothing Store in Taunsa?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Taunsa
32120