SAYA

SAYA

Share

Marketing, Investment, Town planer, Builder

14/04/2026

سابق رکن قومی اسمبلی محمد اصغر خان نوانی 1970ء کی دہائی میں ایس پی اچھرہ، لاہور ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنے سخت گیر رویے کی وجہ سے ہلاکو خان کہلاتے تھے۔ انہوں نے مجھے اپنی زندگی کے چند واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت سی قدر آور شخصیات کو اپنی ملازمت کے دوران گرفتار کیا لیکن جس شخص نے تقویٰ اور سادگی و علمیت سے مجھے متاثر کیا وہ جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل محمد تھے۔
بقول اصغر خان ’مجھے حکم ہوا کہ ان کو گرفتار کریں اور میں ایک ڈی ایس پی اور تین دوسرے پولیس افسران کے ہمراہ ان کے گھر اچھرہ لاہور گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے خود ہی دروازہ کھولا۔ میں نے مدعا بیان کیا تو انہوں نے کہا مجھے کپڑے اور چند کتابیں اکٹھی کرنے دیں، آپ چند منٹ انتظار کر یں۔ مجھے جس کمرے میں بٹھایا گیا وہ ایک چار پائی، ایک میز، چار معمولی کرسیوں اور بہت سی کتابوں سے سجا ہوا تھا۔ وہ کرائے کا مکان تھا۔ میاں طفیل اندر گئے تو ڈی ایس پی نے مجھے کہا کہ آپ نے کیوں اجازت دی۔ یہ دوسرے دروازے سے بھاگ جائیں گے تو میں نے جواباً اس سے کہا یہ سادگی دیکھ رہے ہو؟ اگر یہ شخص دولت اکٹھی کرنی چاہے تو سارے کمرے میں نوٹ ہی نوٹ ہوں، تمہیں ایمان داری، سادگی نظر نہیں آرہی۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ یہ اتنے طاقت ور ہیں کہ پورے ملک میں آگ لگا سکتے ہیں مگر یہ بزدل اور غیر محب وطن نہیں۔ یہ نظریاتی شخصیت ہیں اور نظریاتی نرسری سے لاکھوں نظریاتی لوگ پیدا کررہے ہیں‘۔
بقول ہلاکو خان (محمد اصغر خان نوانی) ’ابھی ہماری بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ میاں طفیل محمد تیار تھے اور ہم ان کو اپنے ساتھ لے کر سول لائنز تھانے چلے گئے.
ڈان نیوز کے عظیم چوہدری کا حالات حاضرہ کے تناظر میں سابق ڈی آئی جی سردار اصغر خان نوانی مرحوم کے ایک یادگار واقعہ کا زکر

05/04/2026

بھٹو، نور خان اور پی آٸی اے
بھٹّو اک بڑا آدمی تھا لیکن بدقسمتی سے وہ ائر مارشل نور خان سے ٹکرا گیا۔
محفوظ مصطفی بھٹو جو کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹّو کا بھانجا تھا، جس کی تعلیمی قابلیت قطعی اس پوسٹ کے معیار کے مطابق نہ تھی لیکن اسے پی آئی اے میں سیلز پروموشن آفیسر جیسی اہم پوسٹ پر تعینات کرا دیا گیا تھا جس کے لیے لوگ نہ جانے کتنی سفارشیں، رشوت اور دھکے کھاتے ہیں۔
محفوظ مصطفی بھٹو کا دفتر اُس وقت کراچی جم خانہ کلب کے نزدیک تھا، انہیں پی آئی اے کی طرف سےایک بہترین گاڑی اور خاطر تواضع کے لیے پر کشش بجٹ مہیا کیاجاتا۔ اسکا نام محفوظ مصطفی بھٹو تھا لیکن عرف عام میں وہ ٹِکو کے نام سے مشہور تھا اور اسکے اصل نام سے بہت کم لوگ واقف تھے۔
ممتاز علی بھٹو اس وقت سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے اس لئے محفوظ مصطفی عرف ٹِکو کی تمام سر گرمیوں کا تعلق پی آئی اے سے نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ ہاؤس سے مختلف وزرا، سیکرٹریٹ سمیت وفاق کے سرکاری دفاتر میں گھومنےپھرنے اور مختلف فائلوں پر دستخط کرانے تک ہی محدود رہتا اور پی آئی اے کے معاملات سے اس کی لاپروائی اس قدر بڑھ گئی کہ اس کے سینئر افسران نے نوٹس لیتے ہوئے اسے وارننگ لیٹر جاری کردئیے لیکن اسکے خلاف کوئی انضباطی کارروائی کرنے سے ڈر جاتے۔ بات چلتے چلتے چیئرمین پی آئی اے ائیر مارشل ریٹائرڈ نور خان کی میز تک جا پہنچی جس کا انہوں نے سخت نوٹس لیتے ہوئے محفوظ مصطفی کی اچھی طرح کھچائی کرتے ہوئے اسے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پی آئی اے میں رہنا ہے تو آپ کو کام کرنا ہو گا اور آپ کے کام کی رپورٹ مانگی جائے گی۔ اگر آپ ایسا نہیں کر تے تو پھر آپ کو بغیر کسی نوٹس کے گھر بھیج دیا جائے گا، ذہن نشین کر لیجئے کہ اپنے فرائض میں دلچسپی کے سوا آپ کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔
محفوظ مصطفی عرف ٹکوکو چیئر مین/منیجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے کی جانب سے وارننگ لیٹر جاری ہونےکےچند روز بعد وزیراعظم ہاؤس سے ائیرمارشل نور خان کو پیغام موصول ہوا کہ پرائم منسٹر لاڑکانہ جا رہے ہیں انہوں نے آپ کو پی آئی اے کے فلاں فلاں معاملات پر بریفنگ کے لیے بلایا ہے۔ پیغام ملتے ہی ائیر مارشل نور خان نے متعلقہ معاملات کی فائلیں اور بریفنگ تیار کیں اور مقررہ دن کراچی سے لاڑکانہ پہنچ گئے جہاں المرتضیٰ ہاوُس میں وزیر اعظم بھٹو سے انکی ملاقات ہونا تھی۔ اس میٹنگ میں ائیر مارشل نور خان نے پی آئی اے کے معاملات پر تفصیل سے بریفنگ دی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ میٹنگ کے بعد ائیر مارشل نور خان وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہاتھ ملانے کے بعد جانے لگے تو پرائم منسٹر نے سپاٹ لہجے میں کہا: ائیر مارشل مت بھولئے گا کہ بھٹو جہاں بھی ہے وہ بھٹو ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ تھے۔
‏Air Marshal, A Bhutto is a Bhutto where ever he is
ائیرمارشل نورخان سمجھ گئے کہ انہیں محفوظ مصطفی بھٹو عرف ٹیکو سیلز پرومومشن آفیسرز پی آئی اے کے حوالے سے متنبّہ کیا جا رہا ہے جو والدہ کی طرف سے بھٹو ہے۔ نور خان نے اس بات پر کسی قسم کا رد عمل یا اسکا جواب نہیں دیا بلکہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے وزیراعظم کو خداحافظ کہتے ہوئے لاڑکانہ سے سیدھےکراچی اپنے دفتر پہنچے اور چند منٹوں بعد اپنا استعفیٰ وزیر اعظم ہاوُس فیکس کردیا محفوظ مصطفیٰ بھٹووہ پہلی ٹیڑھی اینٹ تھی جو سابقہ وزیر اعظم بھٹّو کے ہاتھوں پی آئی اے میں لگی اور اس کے بعد تو پوری عمارت ھی ٹیڑھی اینٹوں سے بھردی گئی وہ پی آئی اے جو ائرمارشل نورخان کے زمانے میں پاکستان کے وقار کی علامت تھی آج پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کی وجہ بن گئی ہے۔
میڈیا سمیت ہوائی سفر کےتمام محکموں اور برانچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ ائیرمارشل نور خان کے بعد پی آئی اے آہستہ آہستہ نیچے کی جانب گرتی چلی گئی اور پھر ایسی گری کہ کبھی سنبھالی ہی نہیں جا سکی۔ آج نہیں تو کل وقت بتائے گا کہ جو ائیر لائن کبھی دنیا بھر میں اپنا مقام رکھتی تھی، تباہی کی اِس حالت کو کیسے پہنچی؟
ائیر مارشل نور خان اس قوم کا وہ ستارہ تھا جو ائیر فورس، پی آئی اے، سکوائش، ہاکی اور کرکٹ کے ہر عہدے پر جہاں جہاں بھی براجمان ہوا پاکستان کے نام اور مقام کو بلندیوں تک لے گیا۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کے سیاح اور ٹریولر اپنے اپنے ملکوں کی ائیر لائنز پر پی آئی اے کو ترجیح دیتے تھے۔ نور خان مرحوم کی وطن سے محبت اور مر مٹنے کا جذبہ اس ایک واقعہ سے ہی سمجھ لیں کہ ۲۰, جنوری ۱۹۷۸ کو پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں ہائی جیک کر لیا گیا اور ہائی جیکر نے پائلٹ کو حکم دیا کہ جہاز کو بھارت لے جایا جائے۔ ائیر مارشل نورخان ہائی جیکر سے بات کرنے کیلئے جہاز کے اندر اکیلے ہی خالی ہاتھ جا پہنچے اور اسے باتوں میں مصروف رکھتے ہوئے اچانک اس کے ہاتھ سے پستول چھیننے کیلئے اس پر جھپٹے، اس دوران ہائی جیکر کی چلائی گئی گولی سے ان کی ٹانگ زخمی ہو گئی لیکن اس کے باوجود ہائی جیکر پر قابو پاتے ہوئے جہاز کے مسافروں کی زندگیاں محفوظ بنانے میں کامیاب رہے۔
آج یہ حالت ہے کہ پی آئی اے اونے پونے سیل ھو چکی ھے۔ جبکہ وہ ائیر لائنز جنہیں پی آئی اے نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہے آج وہ پی آئی اے کی جگہ اس ریجن کا بزنس سنبھال رہی ہیں۔پی آئی اے کے ساتھ جو ہوا اس پر کاش کوئی ایسا کمیشن بنے جو اوپن کورٹ میں ہر ذمہ دار کو قوم کے سامنے لاکر بتائے کہ پی آئی اے کو کس کس نے لوٹا اور بے دردی سے تباہ کیا۔۔۔ بشکریہ مداری نامہ ۔۔۔۔

25/03/2026

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی
حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اسنے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا..ایک طرف موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود الله کے بندوں،اولیاں اور علما کے خوں سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سبکو محفوظ رکھے..!! آمین"
حوالہ جات
البدایہ والنہایہ از امام ابن کثیر
تاریخ طبری از امام طبری
الکامل فی التاریخ از ابن اثیر
حافظ ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد ہفتم،226۔

22/03/2026

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

شرح:
علامہ اقبال کے یہ اشعار جدید تہذیب، طاقت کے منبع، انسان کی روحانی حیثیت اور مستقبلِ انسانیت کے بارے میں نہایت گہرا فکری اعلان ہیں۔ اقبال یہاں دنیا کو ایک نئے معرکۂ روح و بدن کے دہانے پر کھڑا دیکھتے ہیں۔ اس معرکے سے مراد صرف مذہب اور مادہ کا سادہ تصادم نہیں، بلکہ دو مختلف تصوراتِ انسان کا ٹکراؤ ہے۔ایک وہ انسان جو روح، اخلاق، ذمہ داری اور خدا آگاہی سے تشکیل پاتا ہے، اور دوسرا وہ انسان جو محض جسم، خواہش، طاقت، پیداوار اور تسلط کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے۔

علامہ نے عصرِ حاضر کے چہرے سے نقاب اٹھایا ہے۔ “دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش” میں اقبال ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ انسان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف روح، اخلاق، ایمان اور انسانی عظمت ہے، اور دوسری طرف مادہ، خواہش، مفاد اور بے رحم طاقت۔ یہ صرف خیالات کی جنگ نہیں، بلکہ انسان کے مستقبل، اس کی شناخت اور اس کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا معرکہ ہے۔ اسی لیے اقبال فرماتے ہیں: “تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو اُبھارا”۔ یعنی وہ تہذیب جو خود کو روشن، مہذب اور ترقی یافتہ کہتی ہے، اسی کے باطن سے ظلم، جنگ، استحصال، خونریزی اور انسان دشمن قوتیں جنم لے رہی ہیں۔ آج کے عالمی حالات اس شعر کی زندہ تفسیر ہیں، جہاں ترقی کے نام پر انسانیت کو کچلا جا رہا ہے اور طاقت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پھر اقبال حق کی اصل قوت کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں: “اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا”۔ یہاں مومن سے مراد وہ بیدار، غیرت مند، باکردار اور ثابت قدم انسان ہے جو حالات کے جبر کے سامنے جھکتا نہیں، جو باطل کی چکاچوند سے مرعوب نہیں ہوتا، اور جو اپنی روحانی طاقت سے تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں “اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا” ایک ایسی تہذیب کی تصویر ہے جو مشین، صنعت، طاقت اور مادی ترقی کے نشے میں انسان کے باطن کو کھو بیٹھی ہے۔ اقبال کا پیغام نہایت واضح اور لرزا دینے والا ہے: دنیا کی اصل نجات مشینوں، اسلحے اور مادی قوت میں نہیں، بلکہ زندہ ضمیر، بلند کردار، اخلاقی جرات اور ایمان کی حرارت میں ہے۔ جب تک تہذیب روح سے خالی رہے گی، اس کے ہاتھوں انسانیت زخمی ہوتی رہے گی اور جب تک مردِ مومن اپنی پامردی، خودی اور حق گوئی کو زندہ رکھے گا، باطل کی ہر مشین، ہر قوت اور ہر غرور آخرکار شکست سے دوچار ہوگا۔

بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو

20/02/2026

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تُو
آہ، کس کی جُستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تُو، رہرو بھی تُو، رہبر بھی تُو، منزل بھی تُو
کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا
ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تُو
دیکھ آ کر کوچۂ چاکِ گریباں میں کبھی
قیس تو، لیلیٰ بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تُو
وائے نادانی کہ تُو محتاجِ ساقی ہو گیا
مے بھی تو، مِینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تُو
شُعلہ بن کر پھُونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو
خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تُو
بے خبر! تُو جوہرِ آئینۂ ایّام ہے
تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

نظم :شمع اور شاعر
(فروری ۱۹۱۲ء)

17/01/2026

غصہ صرف ہمیں ہی نہیں آتا بلکہ سامنے والے انسان کو بھی اتنا ہی آ سکتا ہے جتنا ہمیں محسوس ہوتا ہے، اصل فرق غصہ آنے میں نہیں بلکہ اس غصے کو سمجھنے میں ہے۔

ایک سطح پر اینگر مینجمنٹ ہوتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اینگر انڈرسٹینڈنگ ہے، یعنی یہ جان لینا کہ مجھے غصہ کیوں آ رہا ہے اور میں اسے کس سمت میں لے جا رہا ہوں۔

اسلام ہمیں صرف غصے کو دبانے کا نہیں بلکہ اسے سمجھنے اور درست طریقے سے چینلائز کرنے کا درس دیتا ہے، اسی لیے حدیث میں ہمیں عملی رہنمائی دی گئی ہے کہ اگر غصہ آئے اور ہم کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو جگہ بدل لیں، اور اگر پھر بھی غصہ کم نہ ہو تو پانی پی لیں، کیونکہ یہ اعمال دراصل ذہن اور جذبات کو ری سیٹ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

جب بچے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں یہ حقیقت سمجھ آتی ہے کہ زندگی کی چیزیں سو فیصد ان کے مطابق نہیں ہوتیں، اور یہی احساس اکثر غصے کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ معاملات میری مرضی کے مطابق کیوں نہیں چل رہے۔ حالانکہ ہر انسان کا ذہن، مزاج اور جذبات الگ ہوتے ہیں، اور یہی اصول بڑوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ بڑے اکثر اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم صرف اپنے جذبات کے ساتھ نہیں بلکہ دوسرے انسانوں کے جذبات کے ساتھ بھی ڈیل کر رہے ہوتے ہیں، اور سامنے والا بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ معاملات اس کے مطابق ہوں۔

جو انسان اس مرحلے پر اپنے غصے اور جذبات پر قابو پا لیتا ہے، وہ نہ صرف ٹکراؤ سے بچ جاتا ہے بلکہ غصے کے نقصانات سے بھی محفوظ رہتا ہے، اور یہی اصل ذہنی بلوغت اور دانائی کی علامت ہے۔

TikTok · Bin suliman Travels 14/01/2026

TikTok · Bin suliman Travels Check out Bin suliman Travels’s video.

14/01/2026

2039 میں ایک ہی عیسوی سال میں دو حج ہوں گے: ایک نایاب فلکیاتی واقعہ
ریاض: اسلامی قمری کیلنڈر اور عیسوی شمسی کیلنڈر کے درمیان فرق کی وجہ سے 2039 میں ایک نایاب فلکیاتی واقعہ پیش آئے گا، جس میں ایک ہی عیسوی سال کے دوران دو بار حج ادا کیا جائے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق، پہلا حج جنوری کے آغاز (تقریباً 3 سے 6 جنوری) میں ہوگا اور دوسرا دسمبر کے آخر میں۔ یہ عمل تقریباً ہر 33 سال بعد دہرایا جاتا ہے کیونکہ قمری سال (354 یا 355 دن) چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسلامی مہینے عیسوی کیلنڈر میں پیچھے کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
مسلمان ایک ہی عیسوی سال میں تین عیدیں بھی منائیں گے: دو عید الاضحٰی اور ایک عید الفطر۔ ایک عید الاضحٰی جنوری میں، عید الفطر سال کے وسط میں، اور دوسری عید الاضحٰی دسمبر میں آئے گی۔ یہ واقعہ اسلامی دنیا میں امید اور حیرت کا باعث بن رہا ہے، جو قمری کیلنڈر کی خوبصورتی اور الٰہی حکمت کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی حکام نے ابھی تک سرکاری شیڈول جاری نہیں کیا ہے، لیکن فلکیاتی حسابات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔

Photos from SAYA's post 10/01/2026

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں امرتسر کے نواحی علاقے ”ترن تارن“ میں پیدا ہوئے۔ بنیادی اعتبار سے نظام کا تعلق ایک غریب لوہار خاندان سے تھا۔بوڑھی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بیٹے نظام کو تعلیم دلوا رہی تھی۔گھر میں نظام کی ایک جوان بہن بھی تھی،انگریز حکومت کے اہلکاروں کا مفلس کسانوں پر ظلم دیکھ کر نظام اکثر اسی سوچ میں گم رہتا کہ عام لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ چنانچہ وہ انگریز کا ایک خاموش مخالف بن گیا اور ابتدائی طور پر اپنی ہی بھٹی میں ہتھیار بنانا شروع کر دیے ۔تلواریں ، برچھیاںا ور چھرے بناتا اور جمع کرتا رہا ۔ ایک رات جب وہ کہیں سے واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی ماں مرچکی ہے اور جوان بہن کے کپڑے تارتار ہیں۔ استفسار پربہن نے بتایا کہ تمہارے بعد انگریز پولیس افسر سپاہیوں کے ساتھ آیا تھا،اس نے گھر کی تلاشی لی اور تمہارے ہتھیار ڈھونڈ لیے ،ماں کو اس قدر مارا کہ وہ مرگئی۔ میں نے مزاحمت کی کوشش کی، تو مجھے بھی بری طرح زودکوب کیا۔نظام کے لئے یہ واقعہ اس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔اسی رات اس نے اپنی بہن کو ساتھ لے جا کے اپنے دوست محمد شفیع سے شادی کردی اور خود گھر بار چھوڑ کر ایک ویران حویلی میں پناہ لے لی جو آج بھی ککراں والی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔دوسری رات نظام تھانے پہنچا اور انگریز پولیس افسر کو ق۔ت۔ل کردیا جس نے اس کی ماں کا خون کیا تھا اور اسکی بہن کی بے عزتی کی تھی ، پھر یہ فرار ہوگیا۔اگلی صبح جب انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل کی خبر علاقے میں پھیلی تو لوگ خوشی سے دیوانے ہو گئے،کیونکہ یہ انگریز پولیس افسر عورتوں کی بے حرمتی کرتا اور غریب کسانوں سے بیگار لیتا تھا۔انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل پر ابھی لوگ خوش ہورہے تھے کہ سینئر سپرٹنڈنٹ پولیس رونالڈ کے ق۔ت۔ل کی اطلاع آگئی ۔اس کے بعد انگریز حکومت کے لئے نظام لوہارایک چیلنج بن گیا۔پولیس اسکے پیچھے تھی ۔انہی دنوں ایک روز نظام لوہار کی ملاقات اپنے علاقے کے مشہور باغی سوجا سنگھ کی ماں سے ہوئی جو بین کرتی جا رہی تھی۔ نظام نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سوجھا سنگھ کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے۔نظام نے تسلی دی اور خود سوجھا سنگھ کو چھڑانے کے لئے ”ٹبہ کمال چشتی“کی طرف چل پڑا۔ پولیس سے مقابلے کے بعد نظام لوہار نے سوجھا سنگھ کو چھڑا لیا۔اس پر سوجھا سنگھ کی ماں نے نظام لوہار کو اپنا بیٹا بنا لیا ا ور وہ اسی کے پاس رہنے لگا۔اس کے بعد نظام لوہار اور سوجھا سنگھ نے مل کر اوپر تلے انگریزوں کے چار اعلیٰ افسروں کو ق۔ت۔ل کر ڈالا۔ دونوں نے انگریز حکومت کے خلاف منصوبہ بنایا اور علاقے کو بانٹ کر کسانوں کو ساتھ ملانے کے لئے راتوں کو گاؤں گاؤں پھرنے لگے۔آخر کار فیصلہ ہوا کہ میلوں اور عرسوں میں جاکر انگریز پولیس افسروں کو یہ کہہ کر ق۔ت۔ل کیا جائے گا کہ پنجاب سے نکل جاؤ۔اب نظام لوہار انگریز پولیس کے لئے ایک خوف کی علامت بن چکا تھا،مگر سوجاسنگھ کی ماں کی بیماری کا سن کر واپس حویلی آگیا۔وہاں پہنچ کر نظام کو معلوم ہوا کہ سوجھا سنگھ ساتھ والے گاؤں ”جٹاں دا کھوہ“ کی ایک لڑکی چھیما ماچھن سے پیار کرنے لگا ہے۔نظام کو یہ بات پسند نہ آئی اس نے چھیماماچھن کو بلا کر سمجھایا کہ توسوجھاسنگھ سے پیارکرنا چھوڑ دے، کہ پیار محبت انسان کو بزدل بنا دیتے ہیں اس پر چھیما نے سوجھا سنگھ کو نظام لوہار کے خلاف بھڑکایا تو وہ نظام کے خلاف ہوگیا۔اس نے دس ہزار روپے اور چار مربع زمین کے لالچ میں تھانہ بھیڑیالہ میں اطلاع کردی کہ نظام لوہار آج ہمارے گھر میں ہوگا اور کل واپس کالا کھوہ چلا جائے گا۔نظام لوہار جس کمرے میں سویا ہوا تھا پولیس نے چاروں طرف سے اسے گھیر لیا اور چند سپاہی چھت پر چڑھ کمرے کی چھت کو توڑنے لگے۔ نظام کو پتہ چل گیا،اس نے خوب مقابلہ کیا مگر اسکے پاس گو۔لیاں بہت کم تھیں چنانچہ جلد وہ انگریز پولیس کی گو۔لیوں کا نشانہ بن گیا ۔یہ 1877 کا سال تھا پنجاب کے بہادر اور دلیرہیرو کے آخری دیدار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔حکومت نے اعلان کر دیا،جو مسلمان نظام کے جنازے میں شریک ہو گااسے دو روپے ادا کرنے ہوں گے۔اس طرح 35ہزار روپے اکٹھے ہوگئے۔نظام کی قبر پر لوگوں نے اتنے پھول ڈالے کہ قبر پھولوں کاپہاڑ بن گئی۔نظام قصور شہر کے بڑے قبرستان میں دفن ہے۔جب سوجھا سنگھ کی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے بیٹے نے مخبری کرکے نظام لوہار کو مروایا ہے تو اس ماں نے سوجھا سنگھ کو خود اپنے ہاتھ سے برچھی مار کر ق۔ت۔ل کر ڈالا اور کہا میں تمہیں کبھی اپنا دودھ نہیں بخشوں گی،تم نے نظام کی مخبری کرکے پنجاب کے ساتھ غداری کی ہے۔

29/12/2025

ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔

"انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے —
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے،
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔

1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔
آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔
لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں —
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔

2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔

3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے —
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔

4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی —
تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر —
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔

5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے —
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔
یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔

ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ —
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔
اور یہی عدل ہے۔

📖
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)

Want your business to be the top-listed Autos & Automotive Service in Swabi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Hidayat Market Jehangira Road
Swabi

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 07:00 - 17:30
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00