AHM

AHM

Share

Awakening the Potential of Young Hearts and Minds: Join AHM on a Mission to Educate, Inspire, and Spark a Revolution in every Young Dreamer."

ALKHIDMAT is Largest NGO. From Raising Orphans to provide affordable Health-Care & Relief in crisis, we work in all domains of social welfare.

18/06/2026

آج پاکستان نے سرفراز کی قیادت میں چیمپینز ٹرافی کا فائنل جیتا تھا۔ انڈیا سے میچ تھا۔ منور صاحب ویسے تو افطار ہر آتے رہتے تھے۔
میرے گھر 2017 میں افطار پارٹی سے آخری خطاب تھا
بہت مشکل سے راضی ہوئے۔ کیونکہ اس دن طبیعت کافی خراب تھی۔ اتوار کا دن تھا
سب سے پہلے تو ظہر کے بعد فون آیا کہ ارے بھئی کل افطار پارٹی میں کتنے بجے آؤں
میں نے کہا کہ کل نہیں آج ہے۔ ان کو بھی پتا تھا کہ آج ہی ہے۔
ہھر عصر سے پہلے دوسرا فون آیا کہ آج چیمپئنز ٹرافی کا فائنل ہے۔ کوئی بھی افطار پارٹی میں نہیں آئے گا۔ فائنل وہ بھی انڈیا سے
میں نے کہا کہ آپ کا دل بھی فائنل میں اٹکا ہوا ہے لیکن میں محلے والوں کو کہ چکا ہوں۔ تین سو کرسیاں لگائی ہیں۔ انشاءاللہ 350 لوگ ہونگے
عصر کے بعد تیسری بعد فون آیا کہ ارے بھئی میری طبعیت کافی خراب ہے۔ پیٹ بھی صحیح نہیں یے
اپنی بیگم سے کہنا کہ میرے لیئے کھچڑی بنا دے
اور اگر میں بھول جاؤں تو یاد کرا دینا
مظفر ہاشمی مرحوم کا بھی میرے گھر یہ آخری افطار تھا۔ 2018 میں وہ اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔
درس کے دوران جب بھی گھروں سے شور کی آواز آتی تو منور صاحب تقریر روک کر پوچھتے کہ کون آؤٹ ہوا۔
اگلے دن اکیڈمی جاتے ہوئے کہنے لگے کہ بس یہ آخری افطار پارٹی تھی
اب افطار میں نہیں بلانا۔ دس منٹ کا پرگرام اور تقریر
پھر افطار کا وقت ہو جاتا ہے
افطار کے فورا" بعد تراویح کی فکر
اگلے سال زندگی رہی تو رمضان کے بجائے عید کے بعد آؤنگا۔ پھر عید بقر عید پر ضرور آتے رہے
اللہ تعالیٰ سید منور حسن صاحب اور مظفر ہاشمی صاحب کے درجات بلند فرمائے آمین
چیمپئنز ٹرافی کی فتح اور سید منور حسن😟

ری پوسٹ
Humayun Naqvi

17/06/2026

one of the most fearless political leaders in Pakistan. 😊

16/06/2026

پھول لیکر گیا آیا روتا ہوا

گزشتہ کچھ روز سے قیم جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم صاحب کی صحت کے حوالے سے تشویش بھی بڑھتی جا رہی تھی اور خبریں بھی کچھ ایسی ہی آ رہی تھیں ۔ جبکہ دو دنوں سے ان کی خرابی صحت اور ہسپتال میں داخل ہونے کی اطلاع بھی مل رہی تھی ۔ تو آج نماز عشاء سے پہلے سابق ناظم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر صدیق عابد صاحب کے ہمراہ منصورہ ہسپتال کے کمرہ نمبر 5 میں گیا ۔
خواہش تھی کہ امیر العظیم بھائی کی خیریت دریافت ہو جائے اور انہیں دیکھ کر دل کو اطمینان ہو جائے گا ۔ مگر کمرے کے باہر برادرم نورالعظیم سے ملاقات ہوئی کافی متفکر تھے ۔ اور اشارہ کیا کہ سامنے والے کمرے میں بیٹھیں ۔ کمرہ نمبر 5 کے باہر نوٹس آویزاں تھا کہ ملاقات کی اجازت نہیں ہے ۔ تو دل بجھ سا گیا کہ وہ فرد جسے ملنے کیلئے کبھی بھی کسی تردد کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ۔ اور جو فرد ہمیشہ سے سب کو آگے بڑھ کر گلے لگایا کرتا تھا ۔ جو سب کے دکھ درد کا سانجھی تھا ۔ جس کی مسکراہٹ بڑے بڑے غموں کو کافور کر دیتی تھی ۔ جس سے کسی کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی ۔ جو سب سب کیلئے عزم ہمت اور جرات کا استعارہ تھا ۔
جس سے جو بھی ملا اس کا گرویدہ ہو گیا ۔

مگر آج اسی سے ملاقات ممکن نہیں ۔ جو آج خود بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے ۔ محترم برادرم نورالعظیم اور امیر العظیم صاحب کے برخوردان بھی بڑے ملول سے تھے ۔ نہ ان کے پاس کسی سوال کا جواب تھا نہ ان کے چہروں پر وہ سدا بہار مسکراہٹ تھی ۔ عجیب صورتحال میں زیادہ دیر رکنا ممکن نہیں رہا تو بوجھل قدموں کے ساتھ واپس آ گیا سارا رستہ اقبال عظیم کے شعر کا یہ مصرع گونجتا رہا
پھول لیکر گیا آیا روتا ہوا

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے ۔ وہی دکھی دلوں کا مداوا ہے ۔ وہی انسان کو امتحان میں ڈالتا ہے اور وہی اس سے سرخرو ہونے کا راستہ بھی پیدا کرتا ہے ۔ تو اے مالک کائنات یہ تیرا بندہ جس بچپن سے جوانی اور جوانی سے ادھیڑ عمری اور پڑھاپا سب کچھ تیرے کلمے کی سربلندی کیلئے اور اس مملکت خدادا میں اسلامی نظام کے احیاء و نفاذ کیلئے وقف کی رکھی ۔ جو اپنے اردگرد موجود تمام احباب کے غموں کا مداوا بنا رہا ۔ آج تو اس کے غموں کا مداوا بن جا۔ تو زمین کی تہوں میں زندگی بخشنے والا مہربان ہے
تیرے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے
تو ہمارے پیارے بھائی اور مربی کو اس موذی مرض سے نجات دلا دے اور صحت کاملہ عطا فرما۔ آمین

محمد آصف چوہدری 26-6-16
منقول

15/06/2026

Visionary leader hafiz naeem 😍

14/06/2026

یہ حسین شہید سہروردی کی نماز جنازہ کی تصویر ہے
‏سہروردی جلاوطنی ختم کرکے واپس آنا چاہتے تھے،ایوب خان کے دست راست بھٹو نے انہیں پیغام بھیجا کہ واپس آنے کی کوشش کی تو تمہیں دیکھ لوں گا
‏اسکے کچھ ہی عرصہ بعد سہروردی کی بیروت کے ہوٹل میں پراسرار موت کی خبر آئی

بنگالی اس واقعہ کو ایوبی کُلٹ کا کام سمجھتے تھے۔
‏پاکستان ویسے ہی نہیں ٹوٹا۔ اسے توڑنے کیلئے ایوب، بھٹو نے اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کیا تھا
‏(اصلی مطالعہ پاکستان جو دانشور اور صحافی کسی کو نہیں بتاتے)

بشکریہ وسیم گلُ

13/06/2026

جماعتِ اسلامی کب کامیاب ہوگی؟ — ایک آخری سوال، ایک آخری جواب

پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے کبھی یہ سوال نہ سنا ہو:

"جماعتِ اسلامی آخر کب کامیاب ہوگی؟"

یہ سوال صرف جماعتِ اسلامی کے کارکن نہیں پوچھتے، اس کے مخالفین بھی پوچھتے ہیں، اور وہ لوگ بھی جو دور کھڑے ہو کر سیاست کا تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

مگر افسوس یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں اکثر یا تو مایوسی دی جاتی ہے یا پھر ایسی تسلی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

آئیے آج نہ مایوسی کی بات کرتے ہیں اور نہ خوش فہمی کی۔

صرف حقیقت کی۔

جماعتِ اسلامی ہار کیوں رہی ہے؟

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے پہلے پاکستان کی سیاست کو سمجھنا ہوگا۔

ہمارے ہاں سیاست نظریات کی منڈی نہیں، مفادات کا بازار ہے۔

اس بازار میں برادری بکتی ہے۔
لسانیت بکتی ہے۔
سرمایہ بکتا ہے۔
جذباتی نعرے بکتے ہیں۔
خوف اور نفرت بھی بکتی ہے۔

مگر جماعتِ اسلامی ان میں سے کوئی چیز فروخت نہیں کرتی۔

وہ ایک ہی چیز پیش کرتی ہے: نظریہ۔

اور سچ یہ ہے کہ جس بازار میں خریدار ہی نظریے کے نہ ہوں، وہاں بہترین نظریہ بھی مقبول نہیں ہوتا۔

اس میں سارا قصور بیچنے والے کا نہیں ہوتا، کبھی کبھی مسئلہ خریدار کی ترجیحات میں بھی ہوتا ہے۔

مگر ایک حقیقت ایسی بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے

اگر کامیابی کا معیار صرف اسمبلی کی نشستیں ہیں تو شاید جماعتِ اسلامی کامیاب نہیں۔

لیکن اگر کامیابی کا مطلب معاشرے میں خدمت، کردار سازی اور خیر کا پھیلاؤ ہے تو پھر تصویر مختلف نظر آتی ہے۔

جب سیلاب آتا ہے تو جماعت کا کارکن سب سے پہلے متاثرین کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔

جب زلزلہ آتا ہے تو وہ ملبے کے نیچے دبے انسانوں کو نکالنے میں مصروف ہوتا ہے۔

جب کہیں تعلیمی ادارہ بنتا ہے، فلاحی منصوبہ شروع ہوتا ہے یا ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے تو وہاں بھی اس کے کارکن موجود ہوتے ہیں۔

اکثر بغیر کیمروں کے۔
بغیر خبروں کی سرخیوں کے۔
بغیر ووٹ مانگے۔

ایسی کامیابیاں بیلٹ بکس سے نہیں ملتیں، تاریخ کے صفحات پر لکھی جاتی ہیں۔

اگر انتخابی کامیابی کی بات کریں تو تین بڑی شرطیں ہیں

پہلی شرط: عوامی شعور کا دردناک ارتقاء

پاکستانی معاشرہ ابھی بھی مختلف چہروں سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔

ہر چند سال بعد ایک نیا نعرہ، ایک نئی شخصیت اور ایک نیا خواب سامنے آ جاتا ہے۔

لیکن قومیں اس وقت بدلتی ہیں جب وہ چہروں سے مایوس ہو کر اصولوں کی طرف آتی ہیں۔

جب لوگ یہ سمجھنے لگیں گے کہ مسئلہ صرف حکمران کا نہیں بلکہ نظام کا ہے، تب ان کی ترجیحات بھی بدلنا شروع ہوں گی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بعض قومیں دلیل سے سیکھتی ہیں، اور بعض تجربات کی آگ میں جل کر۔

دوسری شرط: نوجوان نسل کی فکری بلوغت

آج کا نوجوان پہلے کی نسبت زیادہ باخبر ہے۔

وہ سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور روایتی سیاسی وفاداریوں کو چیلنج بھی کرتا ہے۔

اگر اس نسل کا ایک بڑا حصہ اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ شخصیات نہیں بلکہ اصول اہم ہیں، تو پاکستان کی سیاست کا نقشہ بدل سکتا ہے۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئے گی۔

مگر ہر سیاسی تجربہ اور ہر قومی مایوسی اس شعور میں اضافہ ضرور کرتی ہے۔

تیسری شرط: کردار یافتہ افراد کی کثرت

ہر بڑی تبدیلی کا آغاز چند لوگوں سے ہوتا ہے، لیکن کامیابی اس وقت آتی ہے جب وہ چند لوگ ایک بڑی سماجی قوت بن جائیں۔

جماعتِ اسلامی کی اصل طاقت جلسے نہیں، اس کی تربیت ہے۔

وہ تربیت جو انسان کو اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر سوچنا سکھاتی ہے۔

وہ تربیت جو قومیت، زبان اور برادری سے آگے بڑھ کر ایک بڑے مقصد سے جوڑتی ہے۔

جب ایسے افراد معاشرے میں مؤثر تعداد میں موجود ہوں گے تو ان کے اثرات سیاست سمیت ہر شعبے میں محسوس ہوں گے۔

تو آخر کامیابی کب آئے گی؟

اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے:

جماعتِ اسلامی اس دن کامیاب ہوگی جس دن پاکستانی ووٹر خود بدل جائے گا۔

جس دن ووٹ برادری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضمیر کی بنیاد پر پڑے گا۔

جس دن لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ "کون جیت رہا ہے؟" بلکہ یہ پوچھیں گے کہ "کون درست ہے؟"

جس دن جذبات کے بجائے شعور فیصلہ کرے گا۔

جس دن مفاد کے بجائے اصول اہم ہوں گے۔

اس دن سیاسی منظرنامہ بھی بدل جائے گا۔

آخری بات

شاید اصل سوال یہ نہیں کہ جماعتِ اسلامی کب کامیاب ہوگی۔

اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی عوام کب کامیاب ہوگی۔

کیونکہ اگر ایک قوم بار بار وہی غلطیاں دہراتی رہے تو مسئلہ صرف سیاسی جماعتوں میں نہیں ہوتا، کہیں نہ کہیں مسئلہ اجتماعی سوچ میں بھی ہوتا ہے۔

جس دن یہ قوم اپنے آپ سے سچائی کے ساتھ یہ سوال پوچھ لے گی:

"ہم نے ہر بار کیا چنا، اور کیوں چنا؟"

شاید اسی دن بہت سے جواب خود بخود سامنے آ جائیں گے۔

اور اگر وہ دن آیا، تو ممکن ہے کچھ ایسی تحریکیں، جنہوں نے مشکل وقت میں بھی اپنے نظریے، اپنی تنظیم اور اپنی تربیت کو زندہ رکھا، قوم کو پہلے سے تیار کھڑی ملیں۔

کیونکہ تاریخ میں وہی لوگ اور تحریکیں دیر تک زندہ رہتی ہیں جو حالات کے ساتھ بکتی نہیں، دباؤ کے ساتھ جھکتی نہیں، اور ناکامیوں کے باوجود اپنا سفر جاری رکھتی ہیں۔

اور ہمیشہ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

~Ahm

11/06/2026

جماعتِ اسلامی اور ہماری اجتماعی ضمیر کا بحران — حصہ دوم
پہلے حصے میں میں نے ایک بات لکھی تھی کہ شاید جماعتِ اسلامی کی سیاسی ناکامی صرف جماعت کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا عکس بھی ہے۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اتفاق کیا، بہت سوں نے اختلاف بھی کیا۔ لیکن چند سوال ایسے ہیں جو ابھی بھی میرے ذہن میں موجود ہیں۔
ہر الیکشن کے بعد ہم عموماً یہ پوچھتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی نے کیا غلطی کی؟ اس کی حکمتِ عملی میں کیا کمی تھی؟ وہ عوام تک اپنا پیغام کیوں نہ پہنچا سکی؟
یہ سوال یقیناً اہم ہیں، مگر ایک سوال ایسا بھی ہے جو شاید ہم خود سے کم ہی پوچھتے ہیں:
ہم نے کیا غلطی کی؟
ہماری عادت بن چکی ہے کہ ہر ناکامی کی ذمہ داری کسی نہ کسی بیرونی قوت پر ڈال دیں۔ کبھی میڈیا کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، کبھی اسٹیبلشمنٹ کو، کبھی عالمی طاقتوں کو۔ لیکن اگر ایک جماعت کو لوگ دیانت دار، منظم اور خدمت گزار مانتے ہوں اور پھر بھی اسے ووٹ نہ دیں، تو کم از کم یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف جماعت میں ہے یا کہیں ہمارے رویّوں میں بھی؟
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم نے نیکی کو ایک ایسی چیز بنا دیا ہے جسے ہم دور سے دیکھ کر داد دیتے ہیں، مگر اس کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہیں۔
جب سیلاب آتا ہے، زلزلہ آتا ہے یا کوئی انسانی بحران پیدا ہوتا ہے تو جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کی خدمات کی تعریف کی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ مخلص ہیں، محنت کرتے ہیں، دیانت دار ہیں۔ لیکن جب فیصلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
شاید اس لیے کہ اچھی باتوں کی تعریف کرنا آسان ہے، مگر ان کی قیمت ادا کرنا مشکل۔
ایک اور بات جو مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ نظریاتی سیاست کا معاملہ ہے۔
پاکستان میں اکثر لوگ نظریات کی بات تو کرتے ہیں، مگر عملی سیاست میں شخصیات زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں۔ شاید اس لیے کہ نظریہ صرف حکمران کو نہیں بدلتا، وہ شہری سے بھی تقاضا کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر تم اچھا نظام چاہتے ہو تو تمہیں بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔
اس کے برعکس شخصیت پر مبنی سیاست امید تو دیتی ہے، مگر ذمہ داری کم مانگتی ہے۔ وہاں اکثر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک مضبوط لیڈر آئے گا اور سارے مسائل حل کر دے گا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست بار بار افراد کے گرد گھومتی ہے اور ادارے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں اکثر ایک خاندان، ایک شخصیت یا ایک خاص چہرہ مرکزِ نگاہ ہوتا ہے۔ جماعتِ اسلامی اس لحاظ سے مختلف ہے۔ وہاں قیادت بدل جاتی ہے، لیکن جماعت کا بنیادی نظریہ وہی رہتا ہے۔
لیکن شاید ہماری سیاسی نفسیات ابھی تک شخصیات کے سحر سے پوری طرح آزاد نہیں ہو سکی۔
نوجوان نسل کے بارے میں بھی بہت امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نوجوان بھی اکثر اسی سیاسی ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں جو انہیں ورثے میں ملا ہوتا ہے۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں، لیکن بعض اوقات تبدیلی کو بھی کسی ایک شخصیت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔
یہ کوئی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری مجموعی سیاسی ثقافت کا مسئلہ ہے۔
آخر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا۔
یہ ضروری نہیں کہ جماعتِ اسلامی کے تمام دعوے درست ہوں یا اس کی تمام حکمتِ عملیاں کامیاب رہی ہوں۔ یقیناً اس سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ لیکن اگر ایک قوم مسلسل دیانت داری، خدمت اور کردار کی تعریف تو کرے مگر فیصلہ کرتے وقت دوسری ترجیحات اختیار کرے، تو کم از کم اسے اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ اور اس کے فیصلوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟
شاید قوموں کا اصل چہرہ ان کی تقریروں میں نہیں، ان کے انتخاب میں نظر آتا ہے۔
اور شاید ترقی کی شروعات بھی وہیں سے ہوتی ہیں جب ہم دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا سیکھ لیں۔
~AHM

10/06/2026

جماعتِ اسلامی ہار رہی ہے یا ہم؟

پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو جماعتِ اسلامی کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس کی دیانت داری، نظم و ضبط اور نظریے کی تعریف کرتے ہیں، مگر جب ووٹ ڈالنے کا وقت آتا ہے تو اکثر کسی اور کو منتخب کر لیتے ہیں۔

یہ صرف ایک سیاسی حقیقت نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک عجیب نفسیات بھی ہے۔

جماعتِ اسلامی ان چند جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جن پر بڑے مالی سکینڈلز کے الزامات نہیں لگتے۔ اس کے کارکن نظریاتی ہیں، تنظیم مضبوط ہے اور قیادت نسبتاً صاف دامن سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود انتخابی نتائج ہمیشہ اس کے حق میں نہیں آتے۔

سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟

شاید اس لیے کہ ہمارے ہاں ووٹ ہمیشہ نظریے کی بنیاد پر نہیں پڑتا۔ ہم اکثر اس امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں جو ہماری برادری سے ہو، جس کے پاس اثر و رسوخ ہو، یا جو یہ تاثر دے سکے کہ وہ جیتنے والا امیدوار ہے۔ ہم کردار سے زیادہ طاقت کو دیکھتے ہیں اور اصول سے زیادہ فائدے کو۔

یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر اچھے لوگوں کی تعریف تو کرتے ہیں، لیکن انہیں اقتدار تک پہنچانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بہت عام ہے: "اچھا آدمی سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔"

مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس جملے کو حقیقت مان لیا ہے۔ پھر ہم اپنا ووٹ بھی اسی حساب سے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی لوگ بار بار منتخب ہوتے ہیں جن کے خلاف ہم خود شکایت کرتے رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم واقعی بہتر نظام چاہتے ہیں تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم وقتی فائدے چاہتے ہیں یا اصولی سیاست۔

یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ہر جماعت کو یکساں مواقع نہیں ملے۔ بعض جماعتوں کو زیادہ کوریج ملی، بعض کو کم۔ بعض کے لیے راستے آسان بنائے گئے اور بعض کے لیے مشکلات پیدا کی گئیں۔ لیکن آخرکار کوئی بھی سیاسی قوت عوامی حمایت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔

اس لیے جماعتِ اسلامی کی انتخابی ناکامی پر گفتگو کرتے ہوئے شاید ہمیں صرف جماعت کو نہیں، خود کو بھی دیکھنا چاہیے۔

کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم کن لوگوں کو منتخب کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم کن لوگوں کو منتخب نہیں کرتے۔

کبھی کبھی قوموں کے مسائل ان کے حکمرانوں سے کم اور ان کی ترجیحات سے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔

اور شاید یہی وہ سوال ہے جس پر ہمیں سب سے زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
~AHM

10/06/2026

یہ بات 🩷

09/06/2026

مولانا مودودیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرحلے پر انہوں نے تقریباً ڈیڑھ سال اپنی زندگی کا بیشتر وقت مطالعہ، تحقیق اور غور و فکر کے لیے مخصوص کر دیا۔ اس دوران انہوں نے مختلف مذاہب، فلسفوں اور فکری مکاتبِ فکر کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ بدھ مت، عیسائیت، یہودیت اور دیگر مذاہب کی بنیادی کتابوں کا مطالعہ کیا، حتیٰ کہ ان مذاہب کے ماننے والوں کی مستند تشریحات اور تحریروں سے بھی استفادہ کیا تاکہ تحقیق میں یک طرفہ پن شامل نہ ہو۔

انہوں نے ملحدانہ، مادہ پرستانہ اور دہریہ افکار کا بھی مطالعہ کیا اور ان مفکرین کی سوانح عمریوں پر بھی نظر ڈالی جن کے نظریات نے جدید دنیا کو متاثر کیا۔ ان کا مقصد صرف نظریات کو جاننا نہیں تھا بلکہ یہ بھی سمجھنا تھا کہ ان نظریات کے حامل افراد کی فکری اور عملی زندگی کیسی تھی۔

اس وسیع مطالعے کے بعد انہوں نے قرآن مجید کا بار بار تدبر کے ساتھ مطالعہ کیا۔ عربی زبان سے واقفیت کی وجہ سے وہ قرآن کو براہِ راست سمجھ سکتے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ اور حدیث کے بنیادی ماخذ کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔

مولانا مودودیؒ کے مطابق اس طویل تحقیق اور غور و خوض کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قرآن مجید جس دین اور نظامِ فکر کو پیش کرتا ہے، وہ عقل، دلیل اور انسانی فطرت کے اعتبار سے نہایت مضبوط اور قابلِ اطمینان ہے۔

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Swabi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Mardan Road Swabi
Swabi
23430