Molana RUMI

Molana RUMI

Share

This pages reflects the life of Molana Rumi and his contribution to humanity.Also we share His Quotes

21/12/2025
09/11/2025

سبحان اللّٰہ

09/11/2025

بے شک ♥️

04/11/2025

*عالم گیر ہدایت کی کتاب (قرآن)اور اس سے استفادہ کرنے کی شرائط*

تحریر:محمد حسن جمالی

قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی وہ لازوال کتاب ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔یہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں،بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے،جو ہر زمانے،ہر قوم اور ہر نسل کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔دنیا میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ متروک ہو گئیں اور کچھ محدود طبقوں یا خاص وقت تک ہی مفید ثابت ہوئیں،مگر قرآن پاک ایک ایسی معجزانہ کتاب ہے جو چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی اپنی تاثیر،اہمیت اور تازگی کے ساتھ موجود ہے۔یہ کتاب نہ صرف ماضی میں بشریت کی راہنمائی کا ذریعہ رہی ہے،بلکہ حال اور مستقبل کے لیے بھی روشنی کا مینار ہے۔

قرآن پاک کی ہدایت عالمی ہونے کی سب سے بڑی دلیل اس کا آفاقی پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کسی مخصوص قوم،علاقے یا نسل تک محدود نہیں رکھا،بلکہ اسے پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ بنایا۔جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا:"وما هو إلا ذكر للعالمين"یہ تو تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے۔یہ کتاب ہر زبان بولنے والے،ہر تہذیب اور ہر ثقافت کے لوگوں کے لیے برابر کی اہمیت رکھتی ہے۔یہ کسی خاص دور یا خطے تک محدود نہیں،بلکہ تمام زمانوں اور تمام اقوام کے لیے یکساں ہدایت ہے۔قرآن کی عالم گیر حیثیت کو سمجھنے کے لیے رسول اکرم (ص)کی رسالت پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ (ص) کو تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا ہے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:"وما أرسلناك إلا كافة للناس بشيراً ونذيراً" اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔آپ(ص) کی رسالت کی طرح قرآن بھی تمام قوموں اور نسلوں کے لیے ہے۔آپ آخری نبی ہیں اور قرآن آخری کتاب ہے، اس لیے یہ کتاب رہتی دنیا تک ہر انسان کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔

قرآن پاک ایک ایسی زبان میں نازل ہوا جو فطرت کی زبان ہے۔اگرچہ قرآن عربی میں نازل ہوا،لیکن اس کے پیغام کی سادگی اور اثر پذیری ایسی ہے کہ ہر انسان اسے بآسانی سمجھ سکتا ہے۔قرآن کی تعلیمات فطری اصولوں پر مبنی ہیں،اس لیے کسی بھی ثقافت،زبان یا تمدن سے وابستگی کے بغیر ہر انسان قرآن سے رہنمائی لے سکتا ہے۔قرآن کا پیغام ہر زمانے اور ہر جگہ کے لوگوں کے لیے یکساں سودمند ہے۔اس کی تعلیمات کسی مخصوص نسل،قوم یا علاقے تک محدود نہیں،بلکہ پوری انسانیت کے لیے مفید ہیں۔قرآن پاک کی ہدایات انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں اور تمام مسائل کا جامع حل پیش کرتی ہیں۔قرآن خود اس کی گواہی دیتا ہے:تبارك الذي نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذيراً" بابرکت ہے وہ ذات جس نے فرقان کو اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے تنبیہ کرنے والا ہو۔یہی وجہ ہے کہ قرآن ہر زمانے میں انسانیت کو راہِ راست دکھاتا رہا ہے۔اس میں موجود اصول،اخلاقی ہدایات، معاشرتی قوانین اور روحانی تعلیمات آج بھی اسی طرح قابلِ عمل ہیں جیسے نزولِ قرآن کے وقت تھے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں،اس پر عمل کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ قرآن کی روشنی میں چل کر ہی ہم کامیابی اور فلاح حاصل کر سکتے ہیں،کیونکہ یہی کتاب وہ آفاقی دستور ہے جس میں ہر انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔

یہاں اس سوال کا ذھن میں ابھرنا طبیعی ہے کہ قرآن سے فائدہ اٹھانے کی شرائط کیا ہیں؟جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی نوع انسان کے لیے ایک مکمل ہدایت ہے،جو ہر دور اور ہر زمانے کے انسان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے،لیکن اس الہامی کتاب سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ شرائط ہیں،جن پر عمل کیے بغیر قرآن کی حکمت اور نور سے محروم رہنے کا خدشہ رہتا ہے۔اس حوالے سے آیت اللہ مصباح یزدی رحمت اللہ علیہ نے اپنی ایک کتاب میں قرآن سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے دس شرائط بیان کئے ہیں،جن کا لب لباب یہ ہے کہ پہلی شرط علم اور یقین کی طلب ہے۔قرآن اُن لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو علم اور یقین رکھتے ہیں۔اگر انسان گمان، تقلید یا اندھی عقیدت پر انحصار کرے تو وہ کبھی قرآن کی سچائی کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔قرآن بار بار غور و فکر،تدبر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔لہٰذا قرآن سے استفادہ کے لیے ضروری ہے کہ ہم حقیقت کی تلاش میں سنجیدہ ہوں اور اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس سے رجوع کریں۔دوسری شرط قلب کی پاکیزگی اور صفائی ہے۔قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو براہِ راست دلوں پر اثر کرتی ہے،لیکن اگر دل نفسانی خواہشات،کینہ،بغض اور دنیاوی لالچ میں گرفتار ہو تو وہ اس نور کو قبول کرنے سے انکاری ہو جاتا ہے۔قرآن سے صحیح فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل کو ان آلائشوں سے پاک کرے۔تیسری شرط زندہ دلی اور معنوی بیداری ہے۔قرآن سے نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو معنوی طور پر زندہ دل رکھتے ہیں۔اگر دل گناہوں کی کثرت سے مردہ ہو چکا ہو تو قرآن کی ہدایت بھی اثر نہیں کرتی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو دل رکھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں،آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھتے نہیں۔اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی روح کو زندہ رکھیں اور قرآن کی روشنی کو اپنے دل میں جگہ دیں۔چوتھی شرط رضائے الٰہی کی طلب ہے۔قرآن ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو دنیاوی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔جو لوگ اپنی زندگی کا مقصد محض اللہ کی رضا بنا لیتے ہیں،قرآن اُن کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوتا ہے۔پانچویں شرط تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔تقویٰ، یعنی اللہ کا خوف اور اُس کی نافرمانی سے بچنے کا جذبہ،قرآن سے ہدایت پانے کی سب سے اہم شرط ہے۔قرآن خود اپنے متعلق فرماتا ہے: "یہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے"-اگر انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور نیک اعمال کا جذبہ نہ ہو تو وہ قرآن کی ہدایت سے محروم رہ سکتا ہے۔چھٹی شرط خشیت اور خوفِ خدا ہے۔اللہ کی عظمت کا صحیح ادراک اور آخرت کے عذاب کا خوف بھی قرآن سے فائدہ اٹھانے کی بنیادی شرط ہے۔جو لوگ دل میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں،اُن کے دل قرآن کی آیات سن کر لرز جاتے ہیں اور وہ سیدھے راستے پر آنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ساتویں شرط ایمان اور نیک اعمال ہیں۔قرآن اُن لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو ایمان لاتے ہیں اور عملِ صالح بجا لاتے ہیں۔ محض زبانی ایمان کافی نہیں،بلکہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا اور اپنے کردار کو قرآن کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔آٹھویں شرط ہدایت کی سچی طلب ہے۔جو لوگ سچے دل سے راہِ راست کی تلاش میں ہوتے ہیں،قرآن اُنہیں ضرور ہدایت دیتا ہے۔یہ شرط انتہائی اہم ہے،کیونکہ اگر انسان ہدایت کو پانے میں مخلص نہ ہو تو وہ کبھی قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔نویں شرط قرآن سے مضبوط تعلق ہے۔قرآن پر ایمان اور اس سے مضبوطی سے وابستگی بھی ضروری ہے۔ قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں،بلکہ غور و فکر اور عمل کے لیے نازل کیا گیا ہے۔جو لوگ قرآن سے جتنا قریب ہوتے ہیں،اُنہیں اتنی ہی زیادہ رہنمائی نصیب ہوتی ہے۔دسویں شرط عبودیت اور تسبیح ہے۔اللہ کی بندگی، عاجزی اور تسبیح قرآن کی ہدایت حاصل کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔جو لوگ اپنے رب کے سامنے جھکنے والے اور اُس کی تسبیح کرنے والے ہوتے ہیں، قرآن اُن کے دلوں کو نور سے بھر دیتا ہے۔یقینا قرآن کریم کی ہدایت جہانی ہے

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Skardu?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Skardu

Opening Hours

Monday 06:00 - 22:00
Tuesday 06:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00