Mufti Fuzail Razvi
Islamic Scholar Allama Fuzail Razvi . Official Page .
07/06/2026
🦚سفر ہے کراچی کا صحبت یاراں ' صحبت علما اور کثیر پرانی یادوں کے ساتھ
👈1 استاذ الاساتذہ ۔ شیخ الحدیث ۔ ماہر درسیات مفتی ندیم المدنی صاحب ۔( حال مدرس جامعة المدینہ سیالکوٹ)
👈2 . استاذ العلما ۔ شیخ الحدہث ۔ خطیب نکتہ داں ۔ پیکر اخلاص و وفا مفتی رضوان المدنی صاحب ۔ (حال مدرس و ناظم جامعة المدینہ سیالکوٹ )
👈3. استاذ الکل ۔ محبوب العلما ۔ استاذ العلما ۔ صدر المدرسین ۔ علامہ مولانا حاجی عبدالحفیظ المدنی صاحب ( حال مدرس فیضان مدینہ سیالکوٹ )
👈4. استاذ العلما ۔ ماہر علم الصرف ۔ خطیب نکتہ داں مفتی عبد اللطیف المدنی صاحب (حال مدرس فیضان مدینہ سیالکوٹ )
👈_5. پیکر اخلاص و وفا علامہ مولانا عمیر المدنی صاحب (حال مدرس و ناظم فیضان اہل بیت سیالکوٹ )
ان علما کے ساتھ سفر کثیر دینی و دنیاوی مشاورتوں اور یادوں کے ساتھ
👈امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں
لقاء الخلیل شفاء العلیل
یعنی دوست کی ملاقات بیمار کے لیے شفاء ہے
اس قول کی حقیقت آج بالکل ایسے ہی محسوس ہو رہی ہے جیسے کسی بیمار کو دوا ملنے پر صحت یابی کا احساس ہوتا ہے ۔ اور جب سفر در مرشد کا ہو تو شفاء کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے ۔
اللہ کریم ان سب احباب کے علم و فضل میں برکتیں عطا فرمائے
✍️فضیل مدنی بقلم خود 7 جون 2025
درد دل سے لکھا ہوا احساسات و جذبات کا مجموعہ نیا کلام
فضیل سگ ہے پرانا رہا اسی در کا
کسی بھی غیر سے اس کی نہیں ہے لو بھائ
کلام ۔ فضیل رضا المدنی
آواز ۔محمد منیب عطاری
🦚 کراچی کے سفر میں چل پڑا ہوں میں بھائ 🦚
👈غموں کی دھوپ میں خوشیوں کی لہر ہے آئی
کراچی کے سفر میں چل پڑا ہوں میں بھائی
👈گرمی کی لہر نے بھی خوب شدت ہے دکھلائ
مگر ہے شوقِ سفر نے ہمت بھی بڑھائی
کراچی کے سفر میں چل پڑا ہوں میں بھائی
👈پرانی یاد نے دل کو کہانی ہے سنائی
یہ سن کر آنکھ میں پھر اک نمی سی بھر آئی
کراچی کے سفر میں چل پڑا ہوں میں بھائی
👈علم و عمل کی جو لذت میں نے ہے پائی
یہ آستانۂ عطار کی ہے روشنائ
کراچی کے سفر میں چل پڑا ہوں میں بھائی
👈 زمانے والوں نے حالت ہے جو بھی دکھلائ
انہی کے در سے ملی صبر کی شناسائ
کراچی کے سفر میں چل پڑا ہوں میں بھائی
👈فضیل سگ ہے پرانا رہا اسی در کا
کسی بھی غیر سے اس کی نہیں ہے لو بھائ
کراچی کے سفر میں چل پڑا ہوں میں بھائی
✍️ فضیل مدنی بقلم خود
4جون 2026
🦚 عید الاضحیٰ مبارک 🦚
👈زندگی میں پھر عیدِ الاضحیٰ آئی
مایوسی کے دنوں میں خوشیوں کی نوید لائی
👈حاجیوں نے حج کی ادائیگی میں صدا لگائی
لبیک اللّٰھم لبیک، اے ربِ کبریائی
👈جانور تو کیے قربان تیری رضا کے لیے
خواہشِ نفس مگر نہ ہوئی ہے ابھی دبائی
👈امسال بھی میں حج کو نہ جا سکا مولا
آئندہ سال عطا کر توفیق، اے ربِ کبریائی
👈مانا کہ ہوں گنہگار، مگر محب ہوں تیرا
اسی لیے دل میں خواہشِ حج ہے ابھر آئی
👈میرے جملہ مسائل و مصائب ہیں تجھے معلوم
رضا بالقضا میں بھی کیا خوب لذت پائی
👈فضیل سائل ہے قلب و روح کی راحت کا
عطا ہو صدقۂ محبوب، اے ربِ کبریائی
✍️ فضیل مدنی بقلم خود 27 مئ 2026
صوفیانہ شرح حدیث
🦚علما اور حالت غضب 🦚
یہ بھی ایک عجیب موضوع ہے کہ علما کی زبان سے دینی اختلاف رکھنے والے شخص کے لیے حالت غضب میں نکلنے والے الفاظ کیا حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں یا جوش ایمانی اور تحفظ دین کے پیش نظر یہ جلال و ہیبت جلوہ فرما ہوتی ہے
👈بخاری شریف کتاب العلم میں حضرت خضر و موسی علیھما السلام کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو قرآن پاک کی سورة الکھف میں بھی موجود ہے ہم وہ واقعہ نہیں بتانا چاہتے بلکہ اس واقعہ کے ضمن میں چھپا ہوا ایک راز کھولنا چاہتے ہیں
👈 قبل اس سے کہ راز کو منکشف کیا جائے ایک شخص گزرے ہیں نوف بکالی ان کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے اس کے بعد جو ہم سمجھانا چاہتے ہیں وہ سمجھنا آسان ہو جائے گا
👈 نوف بکالی بڑے عالم و فاضل اور اہل دمشق کے امام تھے ابن التین کہتے ہیں کہ یہ حضرت علی المرتضی( رضی اللہ تعالی عنہ ) کے دربان اور ایک واعظ تھے یعنی ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے ان کا ایک فرعی مسئلے میں کچھ اختلاف تھا اور وہ مسئلہ درج ذیل ہے
👈 حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس کو کہا کہ نوف بکالی کا گمان یہ ہے کہ حضرت خضر سے جن کی ملاقات ہوئ تھی وہ بنی اسرائیل کے موسی بن عمران نہیں ہیں جو فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے بلکہ وہ موسی بن میشا تھے
بس اتنا سننا ہی تھا کہ حضرت ابن عباس کی غیرت ایمانی نے جوش دکھایا اور حالت غضب میں تحفظ دین کے پیش نظر فرما دیا
۔کذب عدواللہ ۔ یعنی اللہ کا دشمن نوف بکالی جھوٹا ہے حضرت خضر کی جن سے ملاقات ہوئ تھی وہ موسی بن عمران ہی ہیں جو فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے
👈 اللہ اکبر ۔ بس غور کیجیے اختلاف کوئ اصولی نہیں تھا بلکہ فروعی تھا لیکن حالت غضب میں کیا فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے وہ بھی کس کو جو ایک عالم فاضل دربان مولا علی اور عظیم تابعی ہیں
👈 تو حضرت ابن عباس کے یہ الفاظ جو حالت غضب میں ایک فروعی مسئلہ کے اختلاف پر ادا ہوئے وہ بھی ایک عالم فاضل اور عظیم تابعی کے لیے وہ تو اللہ کےدشمن ہرگز نہیں تھے تو پھر ان الفاظ کا کیا مطلب ؟؟ علامہ عینی لکھتے ہیں
👈 کہ حالت غضب میں عمومی طور پر جو الفاظ ادا ہوتے ہیں ان کی کوئ حقیقت نہیں ہوتی ۔ اور حضرت ابن عباس نے یہ الفاظ بطور زجر ادا کیے ہیں
👈 حضرت ابن عباس کے یہ الفاظ حالت غضب میں شدت انکار کی وجہ سے ادا ہوئے
👈اصل اصول یہ ہے کہ حالت غضب میں جو الفاظ ادا کیے جاتے ہیں اس سے ان الفاظ کی حقیقت کو مراد نہیں لیا جاتا
👈اہم ترین بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے ان الفاظ کو ادا کرنے سے نوف بکالی کو اللہ تعالی کی ولایت سے نکالنے کا ارادہ نہیں کیا
👈۔ لیکن علما کے دل متنفر ہو جاتے ہیں جب وہ کوئ غیر حق بات سنتے ہیں تو پھر وہ اس طرح کے الفاظ ادا کرتے ہیں زجر و توبیخ کرتے ہوئے حقیقی معنی مراد نہیں ہوتے
(عمدة القاری شرح بخاری جلد 1ص 442 مکتبہ الوحیدیہ پشاور پاکستان )
👈مذکورہ گفتگو کو بار بار پڑھیےاور حالت زمانہ کا جائزہ لیجیے کہ اگر کوئ عالم اہلسنت کسی دوسرے عالم اہلسنت پر کسی مسئلہ کے اختلاف پر جلوہ غضب دکھاتا ہے اور زبان مبارک سے کچھ الفاظ غیرت ایمانی اور جوش ایمانی کے پیش نظر برساتا ہے اور مد مقابل کو طرح طرح کے القابات عطا فرماتا ہے تو خبر دار اس کو فقط غضب ہی سمجھیں ان الفاظ کو حقیقی معنی پر محمول نہ کیجیے اورحضرت کی دین سے عقیدت و محبت کے پیش نظر ان الفاظ کو زجر و توبیخ پر محمول کیجیے جبکہ وہ مسئلہ فرعی ہو کیوں کہ حضرت خضر کے صاحب کون تھے موسی بن عمران یا موسی بن میشا یہ ایک فروعی مسئلہ تھا جس میں اختلاف کی وجہ سے حضرت ابن عباس نے نوف بکالی کو حالت غضب میں زجر و توبیخ کرتے ہوئے عدو اللہ کے لقب سے نوازا
👈 علامہ عینی کی یہ بات قابل غور ہے کہ غیرحق بات سننے سے علما کے دل متنفر ہوتے ہیں پھر وہ جوش ایمانی کے پیش نظر جلوہ غضب دکھاتے ہوئے القابات سے نوازتے ہیں جو اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہوتے جبکہ وہ مسئلہ فرعی ہو اعتقادی مسئلہ میں حقیقی معنی پر ہی محمول کرنا احوط ہے
👈 لھذا جانے دیجیے اگر کسی عالم اہلسنت سے آپ اس لیے دور ہو رہے ہیں کہ وہ مدمقابل کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ان کی مجبوری کو سمجھیں ان کے جوش ایمانی کو سلام پیش کیجیے ان کی دین سے محبت کو سراہتے ہوئے داد دیجیے زبان مبارک سے نکلنے والے الفاظ کو مجاز کا رنگ دیجیے ان کے سینے میں جو دل ہے وہ غیر حق بات کو سن کر کیسے غضب ناک ہوجاتا ہے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے ۔
👈 اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے الفاظ اگر اصاغر بھی اکابر کے لیے اختلاف مسئلہ کی صورت میں ادا کریں تو ان کو بھی حقیقت کی بجائے مجاز کا رنگ دینا چاہیے (جب کہ وہ مسئلہ فرعی ہو )
👈 بس خلاصہ یہ کہ حالت غضب میں علما سے ادا ہونے والے الفاظ کو حقیقی معنی پر ہرگز محمول نہ کیجیے بلکہ یہ ان کے منصب دینی اور غیرت ایمانی کا تقاضہ ہے کہ وہ غیر حق بات کو سن کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور یہی علما کا منصب ہے ۔ واللہ تعالی اعلم
✍️فضیل مدنی بقلم خود 15 مئ 2026
🦚علم غیب اور امام بخاری
👈امام بخاری ہوں یا دیگر آئمہ حدیث ان کا نظریہ وہی ہے جو فی زمانہ اہل سنت و جماعت کہلوانے والوں کا ہے جس کا کتب احادیث سے تھوڑا سا بھی واسطہ ہے وہ اس کا انکار ہرگز نہیں کر سکتا ہم بات کرتے ہیں امام بخاری کی
👈 گو کہ صحیح بخاری سے کثیر احادیث پیش کی جا سکتی ہیں جو علم غیب مصطفی پر صریح نص ہیں لیکن ہم صرف ایک حدیث کے ایک حصہ سے کچھ انکشافات پیش کرنا چاہتے ہیں جو اہل علم کے لیے مفید ثابت ہوں گے
👈 بخاری کتاب العلم کی ایک حدیث میں ہے کہ مصطفی جان رحمت (علیہ الصلوة والسلام ) سورج گرہن کی نماز پڑھا رہے تھے اختتام نماز پر حمد و ثناء کی
👈 اور فرمایا ما من شئ لم اکن اریتہ الا رایتہ فی مقامی حتی الجنة والنار ۔ ترجمہ ۔ جو چیز بھی مجھے اب تک نہیں دکھائ گئ تھی ان سب کو میں نے اپنی اس جگہ سے دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی
👈 یہ حدیث صریح ہے کہ مصطفی جان رحمت( علیہ الصلوة والسلام ) کو اللہ رب العزت نے ہر شے دکھا دی وہ عالم سفلی میں ہو یا عالم بالا میں
👈 ما من شئ میں نکرہ نفی کے تحت واقع ہے جو عموم کا فائدہ دے رہا ہے یعنی کوئ بھی شے ایسی نہیں جو نبی رحمت (علیہ الصلوة والسلام ) نے نہ دیکھی ہو
👈 عموم کو خاص کرنے کی دو ہی دلیلیں ہیں عقلی یا عرفی یعنی عموم عقل سے خاص ہوتا ہے یا عرف سے
👈 عقل نے دیکھنے کو ان چیزوں سے خاص کر دیا جن کا دیکھنا صحیح ہے یعنی جو چیزیں موجود ہیں وہی دیکھی جا سکتی ہیں جو موجود ہی نہیں وہ احاطہ بصر سے خارج ہیں
👈 اور عرف نے دیکھنے کو خاص کر دیا ان چیزوں کے ساتھ جو دیکھنے کے لائق ہیں خاص طور پر امور دین اور جزاء وسزا کا دیکھنا
👈 شے ہر موجود کو کہتے ہیں
تو یقینا ذات باری تعالی بھی موجود ہے تو نبی رحمت (علیہ الصلوة والسلام ) نے اس مقام پہ اللہ تعالی کو بھی دیکھ لیا اب یہ عام ہے کہ سر کی آنکھوں سے دیکھا ہو یا قلب سے
👈 شے کی تعریف میں یہ کہنا کہ جو موجود ہو وہ شے ہے یہ حقیقی تعریف کی وجہ سے ہے ورنہ اعتقادات کی درستی کے پیش نظر شےکی تعریف ما سوی اللہ سے کی گئ ہے یعنی شے اللہ تعالی کی ذات و صفات کے علاوہ ہر چیز کا نام ہے ۔
👈 اس مقام پہ ذات باری تعالی کو دیکھنے کی دلیل شئ کا عموم ہے کہ اس کو خاص کرنے والی دو ہی چیزیں تھیں
👈 وہ عقل اور عرف ہیں عقل اس عموم سے مانع نہیں اور عرف ذات باری تعالی کو نکالنے کا تقاضہ نہیں کرتا تو ذات باری تعالی کو دیکھنا اس عموم میں داخل ہوا
👈 .ہر عموم میں خاص ہونے کا احتمال موجود ہوتا ہے بلکہ وہ خاص ہوتا بھی ہے سوائے ایک عموم کے اور وہ ہے واللہ بکل شئ علیم کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے اس میں قطعا جزما کوئ چیز خاص نہیں ہو سکتی ۔
(ان میں سے اکثر باتیں علامہ عینی نے بیان کی ہیں جن کا خلاصہ ہم نے لکھا اس لیے عمدة القاری کا حوالہ نیچے لکھ رہا ہوں )
(عمدة القاری شرح بخاری بتغیر قلیل لغرض التفہیم جلد 2 ص 266 مکتبہ وحیدیہ پشاور پاکستان )
👈🦚 مذکورہ گفتگو کو سمجھنے کے بعد اب بھی اگر کوئ کہے کہ مصطفے جان رحمت( علیہ الصلوة والسلام ) کو ماکان و ما یکون (جو ہو چکا اور جو ہو گا ۔) کا علم نہیں تو وہ یقینی طور پر حدیث کے معنی سے بے خبر ہے
👈 اس نظریے کو شرک کہنے والا شرک کی تعریف سے جاھل ہے کہ ماکان وما یکون دو حدیں ہیں یعنی روز اول سے روز آخر تک کا علم ماکان و مایکون میں داخل ہے جبکہ اللہ رب العزت کا علم غیر متناھی اور حدود سے پاک ہے
👈 بلکہ اس نظریے کو شرک کہنے سے اللہ رب العزت کے علم کو محدود ماننا لازم آتا ہے
👈کہ شرکت دو چیزوں کی برابری کا نام ہے تو پھر لازم آئے گا کہ معاذاللہ۔ اللہ رب العزت کا علم بھی اتنا ہی ہو تبھی تو شرک ثابت ہو گا لھذا اس کو شرک کہنا صریح جہالت ہے
👈 مصطفے جان رحمت (علیہ الصلوة والسلام) کے علم کو اللہ رب العزت کے علم سے وہ نسبت بھی نہیں جو ایک قطرے کو سمندر سے ہے
👈 کیونکہ نسبت متناھی کو متناھی سے ہوتی ہے جبکہ اللہ رب العزت کا علم غیر منتاھی اور مصطفی جان رحمت (علیہ الصلوة والسلام ) کا علم متناھی ۔ پھر نسبت کیسی ۔ فافھم
👈امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں
اور کوئ غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
✍️۔ فضیل مدنی بقلم خود 9 مئ 2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Sialkot