Ibrahim Collection

Ibrahim Collection

Share

محمّد زبیر اسلم عطاری

08/03/2025

2200
ماشاءاللّٰه بہترین واشلوئیر
03045772642
شیخوپورہ

10/07/2023

*بدکاری*
ایک سبق آموز تحریر

لڑکی نے ایک دن اپنی ماں سے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ (بدکاری) ہم بستر ہونے کی اجازت مانگی۔۔۔
عقل مند ماں نے کچھ سوچ کر بیٹی سے اجازت دینے کیلئے ایک شرط پر ایک ہفتہ کی مہلت مانگ لی۔۔۔
شرط یہ کہ ۔۔۔۔
وہ بادشاہ کے محل کے سامنے رُکے، اور جب بادشاہ اپنے قافلہ سمیت محل سے نکلے تو ایک بے ہوش انسان کی طرح خود کو اسکے سامنے گرا دے۔۔۔ اور جو گزرے وہ ماں کو سنائے۔۔۔
لڑکی نے ایسا ہی کیا تو بادشاہ خود گھوڑے سے اترا اور خود ہی اسکی حالت درست کی اور پھر اسے اچھی حالت میں گھر پہنچانے کا حکم دیا۔۔۔
ماں نے دوسرے دن بھی ایسا کرنے کا کہا! چنانچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا۔ اس دفعہ بادشاہ نے اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھا۔۔ وزیر نے بھاگ کر لڑکی کو سنبھالا اسکی حالت درست کی اور آگے بڑھ گیا۔۔۔
تیسرے دن لڑکی نے خود کو وزیر کے سامنے گرایا، لیکن اس دفعہ وزیر نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ دستے کے کمانڈر نے آگے بڑھ کر اسے جاکر اسے سنھبالا دیا۔۔۔
چوتھے دن ایسا کرنے پر کسی ایک سپاہی نے سنبھلا کیوں کہ کمانڈر نے آج اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔۔۔
پانچویں دن عام راہگیر نے اسے اٹھایا۔۔۔
چھٹے دن لوگوں نے پاؤں مار مار کر اسے راستے سے ہٹایا۔۔ راہ چلتے بھکاری نے اسے سنبھالا ۔۔۔
ساتویں دن انسانوں کے بجائے ایک کتا اسکے چہرے کو چاٹنے لگا۔۔۔
ماں نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا، کہ بالکل اسی طرح معاشرے میں جب کوئی گرتا ہے، تو سب سے پہلے کوئی امیر شخص یا کوئی بگڑا امیر زادہ اس کی عزت نوچتا ہے۔۔۔
پھر وہ اسکو اپنے سے کمزوروں کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔۔اسی طرح ہوتے ہوتے ایک دن وہ گلی کے کتوں (لفنگوں) کیلئے ایک سستا مال بن جاتا ہے۔۔۔
عربی سے مترجم

26/06/2023

:شیخ ؒ کو بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اللہ ہر وقت اپنا احسان جتاتا رہتا ہے۔ کبھی کہتا ہے میں کھلاتا ہوں، میں پلاتا ہوں، اور کبھی کہتا ہے میں ہی رزق فراہم کرتا ہوں۔ اگر ہم کھانا نہ کھائیں تو کوئی طاقت ہمیں کھانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔

یہ سوچ کر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔ جب بیوی بچوں نے زیادہ پریشان کیا تو گھر چھوڑ کر ایک پرانے قبرستان میں وہ جا پہنچے۔

شام ہوئی تو ایک صاحب اپنی منت پوری کرنے کیلئے قبرستان میں مَوجود ایک مزار پر حاضر ہوئے۔

فاتحہ کے بعد انہوں نے شیخ کو بھی تبرّک دیا۔ شیخ کے انکار اور اس شخص کے اصرار نے عجیب صورتِ حال پیدا کر دی۔

وہ شخص یہ سمجھ کر کہ شیخ کوئی دیوانے ہیں، ایک پُڑیا میں کچھ لڈو لپٹیے اور ایک جھاڑی کے نیچے رکھ دئیے کہ جب اس شخص کے حواس درست ہوں گے تو کھا لے گا۔

آدھی سے زیادہ رات گزر گئی تو قبرستان میں چور داخل ہُوئے۔ انہوں نے چوری شدہ مال کی تقسیم شروع کی تو شیخ اٹھ بیٹھے۔

چوروں کے کان کھڑے ہوئے اور آپس میں یہ طے پایا کہ یہ شخص کوئی مُخبر ہے۔ انہوں نے جلدی جلدی اپنا مال سمیٹ کر پوٹلی میں باندھ لیا اور شیخ پر سوالات کی پوچھار کر دی۔ شیخ کوئی معقول جواب نہیں دے سکے۔

اس تکرار میں چوروں میں سے ایک چور کی نظر جھاڑی کے نیچے رکھی ہوئی پُڑیا پر پَڑی۔

پُڑیا کو کھول کر دیکھا تو اس میں سات لڈو تھے اور چور بھی اتفاق سے سات تھے۔

چوروں کا سردار بولا کہ یہ شخص بھی کوئی چور ہے اور بہت چالاک چور ہے۔ اس نے لڈوؤں میں زہر ملا دیا ہے تاکہ ہم سب کھا کر مر جائیں اور یہ ہمارے مال پر قبضہ کر لے۔

سردار نے کہا یہ سارے لڈو اِسے کھلا دیئے جائیں تاکہ اس کی سازش خود اس کو ہلاک کر دے۔

دو آدمیوں نے دونوں پیر پکڑے، دو آدمیوں نے دونوں ہاتھ پکڑے۔ ایک آدمی نے سر پکڑا، ایک آدمی سینے پر بیٹھ گیا اور ایک آدمی نے ان کا منہ کھول کر اس میں لڈو ڈال دیا۔

جب شیخ نے اس حال میں بھی لڈو کھانا نہ چاہا تو اس شخص نے زور زور سے تھپڑ رسید کیے اور انگلی کے ذریعے لڈو حلق میں اتار دیا۔

اس جبر و تشدّد کے دوران ساتوں لڈو شیخ کے پیٹ میں پہنچ گئے۔ یہ کارنامہ انجام دینے کے بعد ساتوں چور سر پر پَیر رکھ کر بھاگ گئے۔

شیخ اٹھے اور بہت حسرت و یاس کے ساتھ انہوں نے جب آسمان کی طرف نظر اُٹھائی تو آواز آئی:

‘‘اے مغرور بندے! گھر چلا جا، ورنہ روزانہ ہم اسی طرح کھلائیں گے۔ ‘‘

۔بحوالہ ۔ قلندر شعور

( کاپیڈ____)

Want your school to be the top-listed School/college in Sheikhupura?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Shah Colony Road
Sheikhupura