Kahuta Express
Kahuta Express is all about Kahuta and its community.
07/06/2026
کہوٹہ بگھار شریف جنگلات میں آتشزدگی کا واقعہ: بہادر فائر فائٹر اسجد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید، عوامی حلقوں کا شدید ردعمل
کہوٹہ (رپورٹ: کہوٹہ ایکسپریس) — حالیہ دنوں بگھار شریف کہوٹہ کے جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ کو بجھانے کے دوران شدید طور پر جھلس جانے والے کہوٹہ کے مایہ ناز اور بہادر فائر فائٹر اسجد، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
رب العالمین مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو اس ناقابلِ تلافی صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
شہید اسجد نے وسائل نہ ہونے کے باوجود اور نامساعد حالات میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جنگلات کے تحفظ کے لیے جو قربانی دی، اس پر پوری قوم انہیں سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ فرض کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ہی اصل ہیرو ہوتے ہیں۔
عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے حکومت اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شہید اسجد کی اس لازوال قربانی کے اعتراف میں انہیں سرکاری سطح پر "تمغۂ جرات"کے لیے نامزد کیا جائے۔
اس المناک واقعے نے محکمہ جنگلات کی کارکردگی اور فائر فائٹرز کے تحفظ پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے یہ مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ:
* اس پورے واقعے کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک **اعلیٰ سطح کا عدالتی کمیشن** تشکیل دیا جائے، جو یہ تعین کرے کہ فائر فائٹر اسجد کو بنیادی حفاظتی لباس (Safety Gear) کے بغیر اس ہولناک آگ میں کس کے حکم پر دھکیلا گیا؟
* غفلت اور لاپرواہی برتنے پر متعلقہ **ڈی ایف او (DFO) کو فوری طور پر معطل** کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
کہوٹہ ایکسپریس کا۔مطالبہ ہے کے شہید کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے *
"کہوٹہ ماڈل بازار" کو "اسجد شہید بازار"کے نام سے موسوم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شہید کے غمزدہ خاندان کو تنہا نہ چھوڑے اور ان کے اہلِ خانہ کی مکمل اور مستقل مالی کفالت کا فوری اعلان کیا جائے۔
شہید اسجد کی نمازِ جنازہ کے لیے درج ذیل شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے:
* **وقت:** آج دن 11:00 بجے
* **مقام:** موضع ہنیسر دوک لودھیانی موری
تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں، سماجی و سیاسی شخصیات اور اہل علاقہ سے اپیل ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت فرما کر شہیدِ وطن کو رخصت کریں اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں۔
31/05/2026
ملتے ہیں چند دن بعد
کوٹلی ستیاں تصادم کے حقائق جیسے جیسے سامنے آ رہے ہیں، ہم۔عوام کے سامنے لا رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ہوٹل مالک کے بیٹے نے مکمل واقعہ کی تفصیلات دی ہیں جن سے یہ اور بھی ضروری محسوس ہو رہا کے اس واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن لازمی بننا چاہیے
31/05/2026
:**بخدمت جناب (DPO) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صاحب ضلع مری**
**عنوان: درخواست برائے انکوائری و قانونی کاروائی برخلاف ریحان، افتخار ولد افتخار وغیرہ سکنائے درکالی معموری ملوتراں حدود تھانہ کوٹلی ستیاں ضلع مری۔**
**جناب عالی!**
گزارش ہے کہ سائل ایک غریب اور مزدور طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ڈھوک ملیاری موضع پرنڈلہ کوٹلی ستیاں کا رہائشی ہوں اور ڈھوک ملیاری رتہ گلہ میں ہوٹل کا کام کرتا ہوں۔
1. یہ کہ مورخہ 26-5-28 کی رات بوقت تقریباً 10:30 بجے مسمیان ریحان، افتخار معہم ہمراہ 9 کس اشخاص اسم نا معلوم نشے میں دھت سائل کے ہوٹل پر آئے ٹائم ختم ہونے کی وجہ کھانے کا آرڈر دیا سائل کے ہوٹل ملازم نے انکو کھانا نہ دیا تو مسمیان مذکوران نازیبا الفاظ استعمال کرنے لگے سائل نے منع کیا کہ محلہ ہے تو مسمیان مذکوران نے سائل اور میرے بیٹے اور ملازم پر حملہ کر دیا اور تشدد کرنے لگے شور کی آواز سن کر اہل محلہ موقع پر پہنچ گئے اور ملزمان مذکوران ہوٹل کی توڑ پھوڑ کر کے موقع سے فرار ہو گئے اور ایک شخص بھاگتے ہوئے جائے وقوعہ سے تقریباً 2 کلومیٹر دور گہری کھائی میں خود گر گیا اور شدید زخمی ہو گیا جسکو اہل علاقہ نے خود ریسکیو کیا اور THQ کہوٹہ بھیج دیا۔
2. یہ کہ وجہ عناد یہ ہے کہ مسمیان مذکوران آئے روز سیر و تفریح کے بہانے یہاں آ کر یہاں کے مکینوں نا بالغان کو منشیات فراہم کرتے ہیں اور پورا محلہ خراب کر رہے ہیں جنکو متعدد بار سائل اور اہل علاقہ نے منع کیا لیکن وہ اپنی حرکات سے باز نہیں آئے۔
3. یہ کہ مسمیان مذکوران نے سائل اور سائل کے بیٹے عاقب ظہیر اور 20 کس اسم نا معلوم اشخاص کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ اپنے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے تھانہ **کیوٹہ** کے SHO سے ملی بھگت کر کے مقدمہ نمبر 266/26 بجرم 324 ت پ درج کروایا ہے جبکہ جائے وقوعہ تھانہ **کیوٹہ** کی حدود میں نہیں ہے اور تھانہ کوٹلی ستیاں کی حدود میں ہے۔
4. یہ کہ اس بابت سائل کے بیٹے نے اپنے موبائل نمبر 0334-2514000 سے رات 23:11 پر 15 پر کال کی لیکن مقامی پولیس نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اور آج رات مورخہ 26-5-30 بوقت رات 10:30 بجے بغیر سرچ وارنٹ تھانہ **کہوٹہ** پولیس نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھروں میں زبردستی داخل ہوکر خواتین سے بدتمیزی کی اور نا بالغان کو زد و کوب کیا اور بے گناہ افراد کو زبردستی اٹھا کر تھانہ **کہوٹہ** لے گئے۔
**اندریں حالات استدعا ہے کہ تمام وقوعہ کی موقع پر انکوائری کی جائے اور ملزمان مذکوران کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے سائل اور اہل محلہ کو تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے۔**
**العارض:**
سائل: ظہیر احمد ولد شیر محمد سکنہ ملیاری داخلی پرنڈلہ تحصیل و تھانہ کوٹلی ستیاں ضلع مری
CNIC: 37403-3422634-3
موبائل نمبر: 0334-2514000
دستخط
31-05-26
31/05/2026
**تحریر: یاسر فاروق عثمان، تجزیاتی ڈیسک**
جب عزم جواں ہوں اور خون میں پوٹھوہار کی مٹی کی حرارت شامل ہو، تو دنیا کا کوئی بھی رِنگ، کوئی بھی حریف آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا۔ برطانوی رنگ میں دھاک بٹھانے والے مٹور (کہوٹہ) کے سپوت، موضع میرا ڈھوک آہیا کی شان، حمزہ شیراز نے ایک بار پھر عالمی باکسنگ کی تاریخ میں وہ سنہری باب لکھ دیا ہے جس پر نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے پاکستان اور بالخصوص خطۂ کہوٹہ کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔
باکسنگ کی دنیا میں تجربے کو ایک بہت بڑا ہتھیار مانا جاتا ہے، لیکن جب 26 سالہ نوجوان حمزہ شیراز رِنگ میں اترے، تو انہوں نے 39 سالہ تجربہ کار جرمن باکسر ایلم بیگک کے تمام تجربے کو سیکنڈوں میں دھول چٹا دی۔ مقابلے کا آغاز ہی حمزہ کے روایتی، جارحانہ اور بے خوف انداز سے ہوا۔ انہوں نے جرمن باکسر کو سنبھلنے کا ایک سیکنڈ بھی موقع نہ دیا۔ پہلے راؤنڈ میں حریف کو نفسیاتی اور تکنیکی طور پر زیر کرنے کے بعد، دوسرے ہی راؤنڈ میں حمزہ نے ایک ایسا کڑک دار "لیفٹ ہک" جڑا کہ تجربہ کار جرمن باکسر زمین بوس ہو گیا اور ریفری کی دس تک گنتی کے باوجود دوبارہ کھڑا نہ ہو سکا۔ یہ صرف ایک جیت نہیں تھی، یہ عالمی باکسنگ کی دنیا کو ایک پیغام تھا کہ مڈل ویٹ ڈویژن کا نیا بادشاہ آ چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سپر مڈل ویٹ کا یہ عالمی ٹائٹل اس سے قبل امریکہ کے مغلوب نہ ہونے والے اور دنیا کے بہترین پاؤنڈ فار پاؤنڈ باکسر ٹیرنس کرافورڈ جیسے بڑے نام کے پاس رہا ہے۔ اس معیار کے ٹائٹل پر قبضہ جما کر حمزہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب صرف ایک ابھرتے ہوئے اسٹار نہیں، بلکہ عالمی باکسنگ کے افق پر ایک مستقل ستارہ بن چکے ہیں۔
# # حمزہ شیراز کے کیریئر پر ایک نظر (مختصر تحقیق)
حمزہ شیراز کی یہ کامیابی کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ برسوں کی سخت محنت، نظم و ضبط اور خاندانی روایت کا نتیجہ ہے۔
* **خاندانی پس منظر:** حمزہ کے دادا کا تعلق مٹور، کہوٹہ سے تھا جو بعد میں برطانیہ منتقل ہو گئے۔ حمزہ کے والد اور چچا بھی باکسنگ اور مارشل آرٹس سے وابستہ رہے، جس کا مطلب ہے کہ باکسنگ ان کے خون میں شامل ہے۔
* **ناقابلِ شکست ریکارڈ:** حمزہ شیراز کا اب تک کا پیشہ ورانہ ریکارڈ ناقابلِ یقین حد تک شاندار ہے۔ وہ اپنے کیریئر میں اب تک ناقابلِ شکست (Undefeated) رہے ہیں، اور ان کی سب سے بڑی طاقت ان کا "ناٹ آؤٹ ریشو" (KO Ratio) ہے، جہاں وہ اپنے بیشتر حریفوں کو میچ پورا ہونے سے پہلے ہی سیکنڈوں میں ڈھیر کر دیتے ہیں۔
* **تکنیکی مہارت:** 6 فٹ 3 انچ کے طویل قد کے ساتھ، مڈل ویٹ کیٹیگری میں ان کا "ریچ" (Reach) یعنی دور سے پنچ مارنے کی صلاحیت بے مثال ہے۔ ان کا جاب (Jab) اور حالیہ میچ میں نظر آنے والا لیتھل لیفٹ ہک دنیا کے کسی بھی ٹاپ باکسر کے دفاع کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔
# # مستقبل کا تجزیہ: آگے کیا ہوگا؟
اس تاریخی فتح کے بعد حمزہ شیراز کا مستقبل انتہائی روشن اور چیلنجنگ نظر آتا ہے۔ ماہرینِ باکسنگ کے مطابق اگلا چند سال حمزہ شیراز کو دنیا کے عظیم ترین باکسرز کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے:
# # # 1. کرس یوبینک جونیئر (Chris Eubank Jr) سے ٹکر
برطانوی باکسنگ کے حلقوں میں طویل عرصے سے حمزہ شیراز اور کرس یوبینک جونیئر کے درمیان ایک ہائی پروفائل مقابلے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس حالیہ فتح کے بعد، حمزہ اب اس پوزیشن میں آ چکے ہیں کہ وہ برطانوی باکسنگ کی تاریخ کے اس سب سے بڑے میچ کو سائن کر سکیں، جو دنیا بھر میں کروڑوں ڈالرز کا مقابلہ ہوگا۔
# # # 2. مڈل ویٹ اور سپر مڈل ویٹ کی بادشاہت
اس ٹائٹل کی جیت نے ان کے لیے "یونیفیکیشن فائٹس" (Unification Fights) کے دروازے کھول دیے ہیں، جہاں وہ ڈبلیو بی اے (WBA)، ڈبلیو بی او (WBO) یا آئی بی ایف (IBF) کے دیگر عالمی چیمپئنز کو چیلنج کر کے تمام بیلٹس اپنے نام کر سکتے ہیں۔
# # # 3. ٹیرنس کرافورڈ یا کینیلو الواریز کا خواب
باکسنگ کے دیوقامت نام جیسے کینیلو الواریز یا ٹیرنس کرافورڈ مستقبل میں حمزہ کے ریڈار پر ہو سکتے ہیں۔ جس تیزی اور مہارت سے حمزہ آگے بڑھ رہے ہیں، وہ دن دور نہیں جب وہ لاس ویگاس کے سب سے بڑے اسٹیڈیمز میں مین ایونٹ کی قیادت کرتے نظر آئیں گے۔
# # مبارکباد اور فخر کا لمحہ
پوٹھوہار کی مٹی زرخیز ہے، اس نے ہمیشہ غازی، شہید اور ہیرو پیدا کیے ہیں۔ آج حمزہ شیراز نے ثابت کیا ہے کہ پوٹھوہار کا خون دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، اپنی مٹی کی خوشبو اور نام کو کبھی نہیں بھولتا۔
ہم حمزہ شیراز، ان کے والد، دادا اور مٹور (کہوٹہ) کے تمام غیور باسیوں کو اس عظیم الشان عالمی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ حمزہ! آپ پر پورے پاکستان اور آزاد کشمیر کو ناز ہے۔ رِنگ میں آپ کا ہر پنچ، اس مٹی کے ہر نوجوان کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ یوں ہی چمکتے رہیے، دنیا ابھی آپ کی مزید فتوحات کی منتظر ہے!
31/05/2026
# # کہوٹہ کے معمار: علم کی شمع یا استحصال کا اندھیرا؟
کہتے ہیں کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کے نظامِ تعلیم کو مفلوج کر دو، اور اگر کسی معاشرے کو عروج پر پہنچانا ہو تو اس کے اساتذہ کو وہ مقام اور عزت دے دو جس کے وہ حقدار ہیں۔ استاد صرف کتابی اسباق نہیں پڑھاتا، وہ نسلوں کی آبیاری کرتا ہے۔ وہ بچوں کے کچے ذہنوں میں انصاف، سچائی، اور دیانت داری کے بیج بوتا ہے۔ لیکن افسوس! اجالے بانٹنے والے یہ معمار خود کس تاریکی میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کا اندازہ کہوٹہ کے نجی اسکولوں کی صورتحال دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو ہاتھ بچوں کو 'انصاف' لکھنا سکھاتے ہیں، وہ خود مروجہ سماجی اور معاشی انصاف سے یکسر محروم ہیں۔ کہوٹہ کے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان والدین سے تو گراں قدر فیسیں وصول کرتے ہیں، لیکن جب باری ان اساتذہ کو ان کا جائز حق دینے کی آتی ہے، تو مالکان کی جیبیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ یہاں پڑھانے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی ماہانہ اجرت ایک عام دہاڑی دار مزدور سے بھی کم ہے۔ کیا یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک تازیانہ نہیں؟ یہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب علم کا سوداگر محل کھڑے کر رہا ہو اور علم کا امین دو وقت کی روٹی کو ترسے، تو وہاں تقدسِ علم صرف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے مزدوروں اور نجی ملازمین کے تحفظ کے لیے کم از کم تنخواہ کا ایک قانون وضع کر رکھا ہے۔ یہ قانون کسی خیرات کے طور پر نہیں، بلکہ ایک شہری کے بنیادی معاشی حق کے طور پر بنایا گیا ہے۔ لیکن کہوٹہ کے اکثر نجی اسکولوں میں اس قانون کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ ایم اے اور ایم ایس سی کی ڈگریاں رکھنے والے نوجوان چند ہزار روپوں پر صبح سے دوپہر تک خون پسینہ بہاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بااثر اسکول مالکان کو قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت کس نے دی؟
اب وقت آ گیا ہے کہ کہوٹہ کی مقامی انتظامیہ، بالخصوص اسسٹنٹ کمشنر صاحب اس معاملے پر اپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑیں۔ عوام اور متاثرہ اساتذہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا انتظامیہ ان اسکولوں کا گزشتہ ایک سال کا مالی ریکارڈ طلب کرے گی؟ کیا ان کے بینک اکاؤنٹس اور کیش رجسٹرز کی پڑتال ہوگی؟ یہ دیکھنا اسسٹنٹ کمشنر کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ کیا اساتذہ کو حکومتِ پنجاب کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ دی جا رہی ہے یا ان کا بدترین استحصال کیا جا رہا ہے۔
اگر اب بھی نوٹس نہ لیا گیا، تو "کہوٹہ ایکسپریس" کے ذریعے اٹھائی جانے والی یہ آواز صرف ایک چیخ بن کر رہ جائے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مجبور، مقہور اور معاشی طور پر پسا ہوا استاد کبھی ایک خوددار اور غیرت مند نسل تیار نہیں کر سکتا۔ اگر ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل عزیز ہے، تو ہمیں ان کے اساتذہ کے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے کہوٹہ کے مستقبل اور ضمیر کا سوال ہے!
30/05/2026
کہوٹہ کے ٹرانسپورٹر بھائیو! مسافروں پر رحم کریں اور ثابت کریں کہ آپ ہی اصل شیر ہیں** 🚌🤝
عید کی خوشیاں منانے کے بعد اب ہمارے پردیسی بھائی، جو روزگار اور تعلیم کے سلسلے میں دوسرے شہروں میں مقیم ہیں، واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس موقع پر کہوٹہ کے تمام ٹرانسپورٹرز سے ایک مخلصانہ اور دردمندانہ اپیل ہے:
* 🙏 **ہم آپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں:** مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کریں۔ اگر آپ کہیں تو ہم آپ کے پاؤں چھونے کو بھی تیار ہیں، بس ان پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں۔
* 🎒 **عید پر آئے مسافروں کی واپسی:** یہ وہ لوگ ہیں جو سال بھر اپنے گھروں سے دور سخت محنت کرتے ہیں اور عید کی خوشیاں اپنوں کے ساتھ بانٹنے کہوٹہ آتے ہیں۔ اب ان کی واپسی کا وقت ہے۔
* 📉 **کرایہ کم کر دو اور ثابت کر دو:** ان مسافروں کے لیے کرایوں میں کمی کر کے بڑا دل دکھائیں اور یہ ثابت کر دیں کہ آپ سب ہی کہوٹہ کے اصل شیر اور سچے خیر خواہ ہو۔
جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو کرایوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، لیکن اس عید پر واپسی کے سفر کو آسان بنا کر آپ عوام کے دل جیت سکتے ہیں۔ آئیں ایک مثال قائم کریں!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Rawalpindi
46000