Sadiq Library

Sadiq Library

Share

Sadiq LIBRARY, Founded by PERVEZ SADIQ. Named after his father Rana Muhammad Sadiq's name. Its main purpose is to produce good books for his Children.

If Husaini Library didn't exist in Ahmed Pur East he would have given the name Hussaini Library. SADIQ LIBRARY, Founded by PERVEZ SADIQ is associated with Institute of Research And Annals Of Pakistan. The books are categorized into following main topics:
1:Holly Quran Translation in Different Languages.
2:Books on History, Archaeology, Anthropology and Culture of
Ex-Bahawalpur state and Balou

28/05/2026

انڈیا آفس فائلز اور اسماعیلستان __ ایک ممنکہ خطرہ ؟؟

(آغاخانیت کے تنقیدی جائزے کا آخری حصہ)

( از #عبیدشاہ )


دنیا میں گنتی کے ھی لوگ ھیں جنہیں کسی آزاد ملک کا بانی ھونے کی حیثیت حاصل ھوئی، ایسا شخص جو دنیا کا نقشہ بدلنے کا سبب بن جائے معمولی نہیں ھوتا اور ایسی شخصیت پر ھر زاوئیے سے تحقیق ھونا لامحالہ ایک معمول کی بات ھے لیکن قائد اعظم کو کسی خاص فرقے کو ماننے والا ثابت کر کے خوش ھونا یا ان کے عقائد کو اپنی مرضی کے آئینے میں اتار لانے کی خواھش رکھنا کم از کم ایمانداری بالکل نہیں، اتبا بڑا انسان کوئی بھی ذاتی عقیدہ رکھتا تھا اس نے اس خطے کے کڑوڑوں لوگوں کو ایک علحیدہ جغرافیہ دلوایا، شناخت دلوائی، آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع دلوایا ۔۔۔ ھمیں اسی پر ان کے شکر گزار ھیں اور ان کے حق میں اللہ کی بارگاہ میں اپنے عقیدے کے مطابق دعائے خیر کرتے ھیں، قائد اعظم نے پاکستان بنانے کے "جنون" میں کون کون سی قربانیاں دیں یہ فی الحال موضوع نہیں ورنہ شائد سینکڑوں کالمز لکھنے پڑ جائیں گے، کچھ لوگ قائد اعظم کو شراب نوش اور سور خور ثابت کرنے کی بھی کوشش کرتے ھیں حالانکہ یہ سراسر صرف "ازخود تفہیم شدہ" مطلب سیلف ازیومڈ (Self assumed) بات ھے اس کا تاریخ میں کہیں کوئی ثبوت موجود نہیں، نہ ھی کبھی کسی نے ایسی گواھی کہیں دی نہ کسی نے کسی جگہ تحریر کی بس ایک خیال، لندن میں پڑھے، وھاں پریکٹس کرتے رھے، سگار پیتے تھے سوٹ پہنتے تھے تو شراب تو پیتے ھی ھوں گے۔۔۔ شراب نوشی کرتے ھوں گے تو سور بھی کھا لیتے ھوں گے__ یہ جو "ھوں گے" ھے اس کا اس طرح اطلاق کیا جانے لگے تو پتہ نہیں کہاں کہاں ھو جائے گا پھر اس کی پہل کرنے والے خود کانوں کو ھاتھ لگاتے نظر آئیں گے_

کم لوگ جانتے ھیں کہ تحریک پاکستان کے دوران غالبا 1941 میں وائسرائے ھند نے قائد اعظم کو ملنے کے لئے بلوایا اور باتوں باتوں میں انہیں سیش جج لگانے کی پیشکش کی، قائد اعظم نے بلا تاخیر سیدھی معذرت کر لی اور خود کو تحریک پاکستان کے لئے وقف قرار دیا، لارڈ آگے بڑھا اور قائد کو بمبئی (اب ممبئی) ھائیکورٹ کا جج لگانے تک کی ھی پیشکش کر ڈالی جبکہ کوئی ھندستانی اس وقت تک انڈیا کے کسی ھائیکورٹ کا جج نہیں لگا تھا، قائد اعظم نے اس پر بھی صاف انکار کر دیا تو لارڈ نے ہتھیار ڈالتے ھوئے پنڈت جواھر لعل نہرو والی خفیہ پیشکش بھی سامنے رکھ دی کہ آپ ھندستان کی تقسیم کے مطالبے سے دستبردار ھو جائیں نہرو آپ کو متحدہ ھندستان کا پہلا وزیر اعظم بنانے کو تیار ھیں_ قائد اعظم نے تحمل سے سوچے سمجھے بغیر جواب دیا کہ ھندو مسلمان دو علحیدہ علحیدہ اقوام ھیں اور یہاں تک پہنچ کر میں مسلمانوں کی اگلی نسلوں کو ھندووں کی بالادستی میں محرومیوں سے جینے کے لئے نہیں چھوڑ سکتا_ بالآآخر جنوری 1947 میں برطانیہ کی ہارلیمنٹ نے "انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ" منطور کر لیا۔۔۔ پاکستان قائد اعظم کا "احسان" اور اللہ کا تحفہ ھے ورنہ آج ھم بھی "بی کیٹیگری سیٹیزن" ھو کر جی رھے ھوتے کہیں بھی کبھی بھی ھم سے کسی کو بھی 25، 50 لونڈے لپاڑے گھیر کر کہتے "بولو جے رام جی کی" اور ھماری بے بسی دیکھنے کے قابل ھوتی __ قائد اعظم کی ذات پر تنقید وھی کرتے ھیں جنہیں "جے رام جی کی" کہنے سے فرق پڑتا ھے نہ شراب نوشی و سور خوری سے __ انہیں تو بہن بیٹیاں پیش کرتے بھی لجاجت تک نہیں ھوتی_

قائد اعظم 11 ستمبر 1948 کو فوت ھوئے، ان کے انتقال کے بعد ان کی صاحبزادی دینا واڈیا نے بمبئی ھائی کورٹ میں اپنے والد کی وراثت کی رقسیم کے لئے مقدمہ دائر کیا اسے تاریخ میں "جناح وراثت کیس 1949" کہا جاتا ھے_ قائد اعظم کے ذاتی مذھبی عقائد اس مقدمے کی کارروائی کے ذریعے پایہ ثبوت کو پہنچے_

قائد اعظم نے کوئی وصیت نہیں چھوڑی تھی۔ دینا واڈیا نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد سنی مسلمان تھے اور اس لیے ان کی جائیداد سنی شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم ھو، عدالت میں قائد اعظم کے قریبی رشتے داروں اور دوستوں نے ان کے عقیدے کے بارے میں گواھی دی_ ان کی سگی بہن اور آخری دنوں کی سب سے قریبی ساتھی محترمی فاطمہ جناح نے کہا کہ "بھائی زندگی کے آخری ایام میں پکے سنی مسلمان تھے، نماز روزہ کے پابند تھے، انہوں نے اسماعیلی تو عقائد بہت پہلے ھی چھوڑ دیے تھے اور آخری تقربا تین دھائیوں میں وہ اثناء عشری بھی نہ رھے تھے_" قائد اعظم کی چھوٹی بہن شیریں جناح نے بھی یہی کہا کہ "بھائی نے بچپن میں ھی اسماعیلی رسوم چھوڑ دی تھیں"_ خان بہادر احمد اللہ چاگلا، جو قائد کے قریبی دوست اور وکیل تھے، نے گواھی دی کہ قائد نے ان سے خود کہا تھا کہ وہ سنی ھیں_ نوابزادہ لیاقت علی خان، پاکستان کے پہلے وزیراعظم، انہوں نے بھی عدالت میں گواھی دی کہ قائد اعظم سنی تھے۔

بمبئی ہائی کورٹ کے انگریز جج جسٹس چیگل نے فیصلے میں لکھا "محمد علی جناح سنی مسلمان تھے اسماعیلی نہیں نہ ھی اثناء عشری_" عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ان کی جائیداد مسلم پرسنل لا کے تحت تقسیم ھوگی۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ عدالت کی تحقیق کے مطابق مسٹر جناح نے 1918 کے بعد سے خود کو کھل کر سنی کہا اور اسماعیلی جماعت خانے سے تعلق مکمل ھی ختم کر لیا تھا"_ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ قائد اعظم نے 1918 میں لیڈی رتی کو شادی سے پہلے ھی واضح طور لر کہا تھا کہ وہ سنی ھیں، انہوں نے زندگی کے آخری سالوں میں رمضان کے تمام روزے رکھے، نماز پڑھی اور قرآن کی تلاوت سنی، انہوں نے کبھی آغا خان کو "امام" نہیں کہا اور نہ ہی آغا خان کو چندہ دیا۔ 1940 کی دھائی میں انہوں نے خود کو سرکاری کاغذات میں "مسلمان" لکھوایا، "اسماعیلی" یا اثناء عشری یا شیعہ نہیں_ عدالتی کارروائی کے دوران قائد اعظم کے خونی رشتے داروں، خاندان کے دیگر افراد اور قریبی دوستوں نے عدالت میں قسم کھا کر گواھی دی کہ وہ زندگی کے آخری 25، 30 سال سنی العقیدہ مسلمان رھے۔ عدالت نے ان گواھیوں کو تسلیم کیا، عدالتی فیصلے کے بعد سے قانوناً انہیں سنی مانا جاتا ھے۔

قائد اعظم کی شخصیت یا ذاتی عقیدہ موضوع نہیں تھا لیکن قائد اعظم کا خاندانی پس منظر اسماعیلی شیعہ خوجہ ھونے کا تھا لہذا یہ خود بخود تحریر کی لپیٹ میں آ گیا، اب آتے ھیں واپس اصل مدعے کی طرف_

آغا خان کو پاکستان آمد پر سربراہ مملکت کا پروٹوکول دیا جاتا ھے، دنیا میں انہیں سفارت قوانین کے تحت کسی متعین اور عملی جغرافیائی ریاست کے وجود کے بغیر عیسائیوں کے "پوپ" کی طرح "ھیڈ آف دی اسٹیٹ" مانا جاتا ھے (عالمی قوانین کے تحٹ ویٹیکن سٹی ایک ریاست ھے) اس مرتبہ بھی پرنس رحیم_ آغا خان پنجم، جب ہاکستان پہنچے تو ان کا استقبال خود صدر مملکت آصف زرداری نے کیا، جب وہ شمالی علاقہ جات اپنی "امتیوں" (آغا خانیوں) کو دیدار کروانے گئے تو وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی اور گورنر فیصل کریم کنڈی دونوں "امام" کی بارگاہ میں ادب سے ھاتھ باندھے کھڑے رھے _ اس سلسلے کے پہلے کالم میں عرض کیا تھا کہ حکومت ہاکستان اسماعیلی امامت کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کرتی ھے اس سلسلے میں ایک باقاعدہ سفارتی معاھدہ موجود ھے جس کے تحت "اسماعیلی امامت" کا ایک سفیر اسلام آباد میں متعین ھوتا ھے جسے مکمل سفارتی استثناء حاصل بوتا بالکل ایسے ھی جیسے امریکی یا برطانوی سفیر کو حاصل ھے_ یہ تو سیاسی بات تھی آگے سنئیے ۔۔۔۔ پاکستان اسماعیلی شیعہ برادری (یعنی آغا خانیوں) کو باقاعدہ مسلم امہ کا حصہ تسلیم کرتا ھے ۔۔ جی ھاں "باقاعدہ مسلمان" _ بڑی دلچسپ بات ھے کہ 1974ء میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو اس وقت مفتی محمود اور دیگر جید علما کی موجودگی میں آغا خانی برادری کے عقائد کا بھی جائزہ لیا گیا تھا لیکن ان کے تاریخی کردار (جیسے سر آغا خان سوم کی تحریکِ پاکستان میں خدمات) کی بنیاد پر انہیں غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا لہذا اسی موقع پر پر "قادیانی" قانونی و آئینی طور پر غیر مسلم قرار پائے جبکہ آغا خانی (اسماعیلی شیعہ) قانونی طور پر مسلمان ھونے کی سند حاصل کرنے میں کامیاب ھو گئے، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس سند کا اجراء کہیں نہ کہیں کسی "جادوگری" کا نتیجہ ضرور تھا ورنہ مرزا طاھر کی طرح "مولا حاضر امام پرنس کریم الحسینی، آغا خان چہارم" کو بھی قومی اسمبلی میں طلب کر کے ان سے بھی وضاحتیں طلب کی جا سکتی تھیں __ جیسے اٹارنی جنرل یحیی بختیار نے مرزا طاھر سے جرح کی ویسے "حاضر امام" کو بھی طلب کیا جاتا اور اپنے عقائد واضح کرنے کو کہا جاتا پھر جرح کی جاتی تو لگ پتہ جاتا_ ​ان سے ہوچھا جاتا کہ آپ کے ھاں مسجد ھوتی ھے؟ نماز کی تعلیم ھوتی ھے؟ کیا خود آپ کو نماز سکھائی گئی؟ کیا آپ نے کبھی نماز پڑھی، اور پڑھائی؟ مطلب باجماعت نماز کی امامت کی؟آپ کو عربی آتی ھے یا آپ کا والا اسلام گجراتی ایڈیشن تک ھے؟ آپ جمعہ کا خطبہ کون سی جامعہ میں دیتے ھیں؟ کیا آپ نے کبھی قرآن پڑھا؟ کیا آپ کے جماعت خانے میں کبھی اذان دی گئی؟ آپ امام حسین کی اولاد ھونے کے دعویدار ھیں، امت کے امام ھیں سورہ فاتحہ سنائیں، یہی پوچھ لیا جاتا کہ آنحضور صلی اللہ علیہہ وآلہ وسلم تو صحابہ کو اور صحابہ کرام آپ کو "السلام علیکم" اور جواب میں "وعلیکم السلام" کہتے تھے آپ تو امتیوں کو "یا علی مدد" اور "مولا علی مدد" سکھاتے ھیں یہ کون سا سلام ھے؟ لگ پتہ جاتا _

اگر آپ روایتی، فقہی اور شرعی معیار سے دیکھیں تو آغا خانوں کا طرزِ زندگی اور ان کی مذھبی تشریحات اکثریتی اسلام کے اصولوں سے متصادم نظر آتی ھیں اور اسی بنیاد پر 99 فیصد مسلمان علماء انہیں مسلمانوں کا امام تسلیم نہیں کرتے لیکن اگر آپ اسماعیلی تاریخ اور ان کے اپنے باطنی عقیدے کے چشمے سے دیکھیں تو ان کے نزدیک ان کا امام زمانے کا رھبر ھے جس کا طرزِ زندگی اور فیصلے تنقید سے بالاتر ھیں۔ آغا خانیوں کے نزدیک پرنس رحیم آغا خان اپنے والد کے بعد اس لڑی کے 50 ویں برحق اور "معصوم" امام ھیں اور انہیں مریدوں پر مکمل الہامی حق حاصل ھے اب یہ الگ بات ھے کہ وہ نماز روزے سے بھی مبرا ھیں اور کوئی مرید یا "امتی" سوال بھی نہیں کرتا_ خیر سوال نہ کرنا تو اتنی غیر معمولی بات بھی نہیں، ھم اس خطے میں جگہ جگہ ایسی "شخصیت پرستی" دیکھتے ھی ھیں، آغا خان کا ایک "لوکل ماڈل" یہاں "پیارے باپا جان" کی شکل میں موجود ھے_ آپ کبھی "امیر اھلسنت، ابوالبلال حضرت مولانا الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم مدظلہ عالیہ تعالی" کو مدنی چینل پر دیکھ لیجے، چودہ طبق روشن ھو جائیں گے_ ایک کلپ دیکھنے کو ملا اس میں پیارے باپا جان کے سب سے بڑے "کڑچھے" کسی کوئز پروگرام میں ایک "مدنی منے" کو انعام میں کوئی چیز دے رھے تھے جو پلاسٹک کی تھیلی میں بڑے سلیقے اور احتیاط سے پیک تھی، انہوں نے اسے "تبرک" قرار دیتے ھوئے بتایا کہ یہ اس چٹائی کا تنکا ھے جس پر دوران حج پیارے باپا جان آرام فرمایا کرتے تھے__ الامان الحفیظ __ یہاں کون ھے جو شخصیت پرستی میں پیچھے رہ جانے کو تیار ھے؟ آغا خانیوں کو کیا کہیں؟

آغا خان پر یہ الزام عام ھے کہ وہ اپنے ماننے والوں سے "دسوندا" (آمدنی کا 10 فیصد) لے کر اسے غریبوں پر خرچ کرنے کے بجائے دنیا بھر میں مہنگے ترین ھوٹل (سرینا ھوٹلز)، ایئر لائنز (سرین ائر) اور ریس کے گھوڑوں وغیرہ جیسے شوق پر لگاتے ھیں اور یہ ایک مذہبی کاروبار ھے۔ اس میں بھی آغا خان یکتا نہیں، پیارے بابا جان خود "مدنی تکیے" سے لے کر "قفل مدینہ" اور مسواک تک بیچتے ھیں، زکواہ و صدقات الگ "پکڑ" لیتے ھیں، سب ھی کرتے ھیں مذھب کا کاروبار سب سے بہترین ھے اس پر اس خطے میں کبھی "مندی" نہیں آتی_ آپ "مولا حاضر امام" کے "معجزوں" کی تفصیل آغا خانیوں سے ہوچھیں یا پھر "پیارے باپا جان" کی "کرامات" کے لئے "مدنی چینل" دیکھیں ایک ھی بات ھے_

50 کی دھائی میں گورنینس میں شفافیت کی غرض سے برطانیہ میں ایک قانون بنایا گیا، پبلک ریکارڈز ایکٹ 1958ء (Public Records Act 1958)_ اس قانون کے تحت برطانیہ کی حکومت تمام سرکاری وزارتوں، بشمول سابقہ انڈیا آفس اور فارن آفس کو پابند کرتی ھے کہ وہ اپنے ریکارڈز کو ایک خاص وقت کے بعد "دی نیشنل آرکائیوز" کے حوالے کردیں تاکہ وہ عام لوگوں کی دسترس میں آ جائے_ ابتدائی طور پر اس قانون کے تحت سرکاری فائز کو 50 سال تک خفیہ رکھنے کے بعد پبلک کرنے کی اجازت تھی۔ 1967ء میں اس قانون میں ترمیم کی گئی جس کے تحت خفیہ رکھنے کی مدت 50 سال سے کم کر کے 30 سال کر دی گئی یعنی 1947ء میں تقسیمِ ھند اور انڈیا آفس کے خاتمے کی زیادہ تر عام فائلیں 1977ء سے لے کر 1980ء کی دہائی کے اوائل تک مرحلہ وار پبلک کر دی گئیں مگر یہ نہ صرف دلچسپ بلکہ حیرت انگیز ھونے کے ساتھ ساتھ تشویشناک بات بھی ھے کہ "انڈین آفس فائلز" کے ریکارڈ میں سے آج بھی کچھ 150 سے 200 سال پرانی خفیہ رپورٹس، دستاویزات اور اس وقت کے خفیہ معاھدے پبلک نہیں کئے گئے ھیں_ اس حوالے سے بتایا جاتا ھے کہ برطانیہ کے "ذاتی سیکیورٹی اور بقا" کے قانون کی دفعہ کے تحت ​انگریز حکومت کا ایک بڑا اصول یہ ھے کہ وہ ان تمام دستاویزات کو اگلے 50 سے 80 سال کے لیے دوبارہ کلاسیفائیڈ کر دیتی ھے جن میں ان کے مخبروں (Informers) خفیہ ایجنٹوں یا ان بااثر خاندانوں کے نام موجود ھوں جنہوں نے پسِ پردہ رہ کر انگریزوں کی مدد کی تھی_ ​نوآبادیاتی دور میں کئی ایسے اھم مذہبی، سیاسی اور قبائلی رہنما تھے جنہوں نے انگریزوں سے خفیہ وظائف یا زمینیں لیں لیکن عوام کے سامنے وہ خود کو حریت پسند یا غیر جانبدار ظاہر کرتے تھے۔ انگریز حکومت ان معاھدوں اور خطوط کی کلاسیفیکیشن میں توسیع کر دیتی ھے_ ​برطانیہ کے انٹیلیجنس اداروں (MI5 اور MI6) کے اپنے قوانین بھی انتہائی سخت ھیں۔ اگر کسی مراسلے یا رپورٹ میں انگریزوں کے جاسوسی کے ایسے طریقے یا نیٹ ورکس کا ذکر ھو جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں استعمال ھو رھے ھیں تو ان فائز کو بھی "مستقبلِ بعید" تک کے لئے بند کر دیا جاتا ھے_

برطانوی حکومت کے "انڈین آفس فائلز" کے تحت ڈی کلاسیفائیڈ کاغذات میں برطانوی سی آئی ڈی (CID) اور انٹیلیجنس بیورو کی وہ خفیہ ھفتہ وار رپورٹس (Weekly Intelligence Reports) بھی شامل ھیں جو وہ برصغیر کی تمام مذہبی اور سیاسی تحریکوں پر مرتب کرتے تھے، یہ تمام خطوط، ملٹری ڈیسپیچز (Military Dispatches)، اور برطانوی پارلیمنٹ کے اس دور کے ریکارڈز (Parliamentary Papers) اب پبلک کی دسترس میں ھیں انڈین آفس فائلز کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت یہ حکمتِ عملی واضح طور پر موجود تھی کہ آغا خان اول کو ان کے مریدوں (خوجوں) پر مکمل مذہبی اور مالیاتی بالادستی دی جائے۔ برطانوی فارن آفس (Foreign Office) کی دستاویزات سے معلوم ھوتا ھے کہ جب آغا خان اول کے جانشینوں (جیسے آغا خان دوم اور آغا خان سوم) نے وسطی ایشیا، ایران، اور مشرقی افریقہ کے دورے کئے تو برطانوی حکومت نے انہیں باقاعدہ برطانوی پاسپورٹس فراہم کئے اور سفارتی تحفظ دلوایا، ان مراسلوں میں برطانوی سفیروں کو ھدایات دی گئی تھیں کہ وہ ان کے دوروں کے دوران ان کا ہر طرح سے خیال رکھیں اور مقامی حکومتوں سے انہیں سہولیات دلوائیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ برصغیر سے باہر (جیسے روس کی سرحدوں کے قریب تاجکستان یا افغان سرحد پر) رہنے والے اسماعیلی بھی آغا خان کے ذریعے برطانوی سلطنت کے زیرِ اثر رہیں۔ ان دستاویز میں ایسے درجنوں مراسلے بھی موجود ھیں جن میں کہا گیا کہ "آغا خان کو اتنی قانونی، سفارتی، مالیاتی اور پروٹوکول کی طاقت دی جائے کہ ان کی امامت مضبوط ھو اور وہ برطانوی سلطنت کے سیاسی مفادات کے لیے ایک پائیدار مہرہ بنے رہیں"۔دستاویزات کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی نے آغا خان اول کی خدمات کے صلے میں انہیں 3,000 روپے ماھوار (جو اس دور میں ایک خطیر رقم تھی) کی پنشن اور بمبئی میں مستقل رھائش کے لیے زمین اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔کاغذات سے معلوم ہوتا ھے کہ تاج برطانوی (British Crown) نے انہیں باقاعدہ طور پر "ھز ہائینس" کا شاھی خطاب دینے کی منظوری اس لئے دی تاکہ انہیں برصغیر کی دیگر نوابی ریاستوں کے برابر سفارتی پروٹوکول دیا جا سکے۔ ڈی کلاسیفائیڈ فائلز سے پتہ چلتا ھے کہ ایران کی قاچار حکومت نے برطانیہ پر شدید سفارتی دباؤ ڈالا تھا کہ وہ حسن علی شاہ (آغا خان اول) کو ان کے حوالے کرے یا انہیں ایران کی سرحدوں (افغانستان یا بلوچستان) سے دور بھیج دے کیونکہ ایران انہیں سلطنت کے لئے ایک مستقل خطرہ سمجھتا تھا، دستاویزات سے ظاھر ھوتا ھے کہ انگریزوں نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات خراب ھونے کے خطرے کے باوجود آغا خان اول کو ایران کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا اور انہیں تحفظ دینے کے لیے ممبئی (جو ایران سے بہت دور تھا) منتقل کر دیا تھا_

انڈیا آفس ریکارڈز کی اب بھی ایسی بہت دستاویزات ھیں جنہیں برطانوی حکومت نے "حساس" قرار دے کر پبلک کرنے سے روک رکھا ھے اور ان کے لاک کی مدت میں توسیع کر دی گئی ھے جبکہ وہ پہلے ھی 150 سے 200 سال پرانی ھیں، یہی وہ فائلز ھیں جو دنیا بھر کے محققین کے لئے تجسس کا باعث ھیں کیونکہ ان کے بند رھنے کی وجہ سے آغا خان اول، دوئم اور دوئم سمیت کئی دیگر کرداروں اور تقسیمِ ھند کے اصل پسِ پردہ حقائق آج بھی تاریخ دانوں کی نظروں سے اوجھل ھیں_

یہ تو طے ھے کہ آغا خانیت کی شکل میں اسماعیلی شیعت کی ایک نئی امامت کا اجراء برطانوی حکومت کی چھتر چھایہ میں ھوا اور ایسا طویل المدتی مقاصد کے تحت کیا گیا، اسی منصوبے کے تحت آغا خان کو عالمی معاھدوں کے ذریعے دنیا بھر میں "ریاست_بغیر_سربراہ ریاست" کا درجہ دلوایا گیا_

دستیاب مواد کو مدنظر رکھتے ھوئے آغا خانیت سے متعلق اگر یہ کہا جائے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ھوگی کہ آغا خانی امامت بھی خفیہ سوسائٹیز (جیسے فری میسن اور الومیناٹی) کے نیٹ ورک کا حصہ ھے اور "نیو ورلڈ آرڈر" (New World Order) میں شریک ھے، اس تھیوری کے مطابق آغا خان خاندان دنیا کے ان چند چیدہ چیدہ خاندانوں میں شامل ھے جو پسِ پردہ رہ کر دنیا کی معیشت اور سیاست کو کنٹرول کرتے ہیں اور ایک "عالمی حکومت" قائم کرنا چاھتے ہیں۔ آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ (AKFED) کے تحت دنیا بھر کے بڑے بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور میڈیا میں سرمایے کو اس کا ثبوت مانا جاتا ھے لیکن اس سے بھی سنگین بات یہ ھے کہ کچھ سالوں سے یہ دبے لفظوں میں یہ سرگرشیاں سنائی دے رھی ھیں کہ آغا خان نیٹ ورک گلگت بلتستان، چترال اور تاجکستان کے بدخشان کو ملا کر ایک الگ خود مختار ملک "اسماعیلستان" بنانا چاھتا ھے۔ نقاد کہتے ھیں کہ ان علاقوں میں AKDN کا اثر و رسوخ حکومتِ پاکستان سے بھی زیادہ ھے جو کہ ایک "ریاست کے اندر ریاست" جیسی صورتحال ھے_

امید تو نہیں کہ پاکستان کے بہترین دماغ اس خطرے سے بے خبر ھوں گے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ عالمی سازشوں میں بعض اوقات ریاستی اداروں کو کچھ غیر ضروری موضوعات زیادہ حساس دکھا کر اور انہیں ان میں الجھا کر حقیقی حساس معاملات سے بے خبر کر دیا جاتا ھے اور توجہ بھٹکا کر اپنا ممصوبہ پورا کر لیا جاتا ھے، جب حقیقت کا پتہ چلتا ھے تب تک ناقابل تلافی نقصان ھو چکا ھوتا ھے_ کہتے ھیں ناں "ساودھانی ھٹی، درگھٹنا گھٹی_"

پاکستان اللہ کرے قائم و دائم رھے لیکن لیکن ایسا صرف دعاوں سے نہیں ھو گا، "آغا خان امامت" سے ظاھری طور پر تو کوئی خطرہ نہیں، باقی دلوں کے بھید تو اللہ ھی بہتر جانتا ھے

23/05/2026

ڈاکٹر رمضان طاہر محقق اقبالیات کی
تحریر
علامہ اقبال نےاپنی عمر کے آخری حصے میں بہت سے پرانے دوستوں سے تعلقات ختم کر لیے تھے کیونکہ ان کے اصلی چہرے ان کے سامنے بے نقاب ہوگے تھے۔ان میں،یونینسٹ پارٹی کے بانی سر فضل حسین،سے مسلمانوں کی بجائے احمدیوں کو ترجیح اور جانبدارانہ طرفداری کے باعث خراب ہوئے۔اسی طرح سر عبدالقادر کی سرکارپرستی کے سبب اقبال ان سےدور ہو گئے تھے۔عبدالقادر اقبال سے دوستی کا بظاہر دم تو بھرتے رہے مگر خاص حلقہ احباب یا ہندؤوں کے ساتھ گفتگو میں ان کا رویہ قدرے مختلف تھا،جسے گوپال متل کی تصنیف "لاہور کا جو ذکر کیا"طبع اول1971ء ص 151میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔نواب ذوالفقار علی خان سے بھی ان کے تعلقات باقی نہیں رہے تھے ۔نواب ذوالفقارعلی کے اصرار پر اقبال نے مصلحتاً چند قصائد بھی لکھے تھے اقبال کی خودار طبعیت کو امراء کی مداح سرائی اور قصیدہ خوانی سے کوئی غرض نہیں تھی لیکن انھوں نے بعض اوقات ملی مفادات اور انجمن حمایت اسلام کی بہبود کی خاطرجیسے سرسید کو علیگڑھ تحریک کی خاطر بہت سے ناگوار کام بھی کرنے پڑے تھےاسی طرح اقبال کو بھی یہ قصائد لکھنے پڑے تھے مگر ان کو اپنے کسی بھی مجموعہ کلام میں شامل نہیں کیا اگر وہ ان کی طبعیت کے موافق ہوتے تو کبھی ان کو متروک قرار نہ دیتےسر سکندر حیات کی شاطرانہ سیاست کے باعث ان پر بھی کسی قسم کا اعتماد نہیں کرتے تھے اور ان سےتعلقات نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے ،حیدرآباد دکن سے سر اکبر حیدری سے بھی گول میز کانفرنس میں سیاسی اختلافات کی بنا پر تعلقات محض رسمی نوعیت کے رہ گئے تھے ۔
اسی طرح یوسف سلیم چشتی سے بھی مراسم نہ ہونے کے برابر تھے۔اس کے علاوہ کئی اور پردہ نشین بھی شامل ہیں جن کی اصلیت سے واقفیت کے بعد اقبال نے ان سے ملنا جلنا ترک کر دیا تھا۔
ان حالات میں علامہ کی وفات کے بعد بہت سے لوگوں نے اقبال کے افکار و نظریات کی روح سے دور رکھنے کے لیے ان کے نظریات بارے بہت سی رنگ آمیزی کی ہے۔جن کا ان کی شعری،نثری، تخلیقات(بشمول؛مضامین خطبات اورخطوط) میں کہیں بھی ذکر موجود نہیں ہے۔ایک صاحب نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اقبال نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ یہ راز میری وفات کے بعد ظاہر کرنا نہ جانے علامہ کو17سال پہلے کیسے خبر ہوگئی تھی کہ میں اس شخص سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو جاوں گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلخصوص اقبال کے افکار اور نظریات کی وضاحت کرتے ہوئے اندھی تقلید کی بجائے ضروری تحقیق کر لی جائے۔تاکہ کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے کی بجائے عام قاری آپ کے حقیقی تصورات سے استفاده کر سکے اقبال کا مخاطب کوئی ایک گرو،ایک طبقہ یا ایک علاقہ نہیں ہے بلکہ اقبال انسان کا آفاقی شاعر ہے ان پر علاقائی حد بندیوں کے لیبل لگانے کی بجائے تقریباً ساڑھے آٹھ ارب کے لگ بھگ انسانوں تک ان کا پیغام پہچانے کی کوشش کرنا از حد ضروری ہے آپ اگر خود اقبال شناسوں اور مولویوں سے بچ کر اقبال کو ایک آفاقی تناظر میں دیکھیں گے تو وہ آپ کو نظم، غزل کے بہت بڑے شاعر دکھائی دیں گے. ۔
رمضان طاہر

21/05/2026

ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا' کبھی بھرا نہیں جا سکے گا' مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو پیدا ہی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
👇🏻
⭐️ میری وفات
✍🏻 محمد اِظہار الحق

سرما کی ایک یخ زدہ ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔

اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔ مجھ سے کوئی بات کی نہ میری بیوی سے۔ بس خالی خالی آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔

دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا' وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو بھی میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔ رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں' انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی! یوں صرف میں اور بیوی ہی گھر پر تھے اور ایک ملازم! جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔

عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی' بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔ بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا۔ "یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے۔ ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں" مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔ پھر سورج غروب ہو گیا۔ تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی۔ اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور غروب ہو گیا۔

مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے میں ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔ بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔

لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی۔ کراچی سے بھی چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔ بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔شاعر 'ادیب' صحافی' سول سرونٹ سب کی نمائندگی اچھی خاصی تھی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی آ گئے تھے۔ ننھیال والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی تینوں موجود تھے۔

لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر آ گئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا 'مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔ پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال جواب کا سیشن ہوا۔ یہ کیفیت ختم ہوئی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں۔ پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی۔ "ہم تمھیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں 'دنیا میں' کسی کو نظر نہیں آؤ گے' گھوم پھر کر' اپنے پیاروں کو دیکھ لو' پھر اگر تم نے کہا تو تمھیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے۔ ورنہ واپس آ جانا۔"

میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور فوراً ہاں کر دی۔ یہ الگ بات کہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں تھا۔

آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ راستے میں کرنل صاحب کو دیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔ اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ترین ماڈل کی خریدی تھی۔اس کا سن روف بھی تھا اور چمڑے کی اوریجنل سیٹیں تھیں دھچکا سا لگا۔ گاڑی کہاں ہو سکتی ہے؟ بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں موجود تھیں۔ تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی' کیا گاڑی کے بغیر تھی؟

دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟ کتابیں تھیں نہ الماریاں! رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی' صوفہ' اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم' کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔ مجھے فارسی کی قیمتی' ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں' دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے 'گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا' دادا جان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا' گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی' جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔ فاؤنٹین پینوں کا بڑا ذخیرہ تھا میرے پاس 'پارکر' شیفر' کراس وہ بھی دراز میں نہیں تھا۔

میں پژمردہ ہو کر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟ اچانک مجھے یاد آیا' میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے' سُوت سے بُنے ہوئے' چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے۔ وہ غائب تھے۔

نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا' بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی تھی! میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟ ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔دوائیں باقائدگی سے میسر آ رہی تھیں یا نہیں؟ میں اس کے لیے باقائدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں۔مگر میں تو بول نہ سکتا تھا۔ نہ ہی وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔

اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو کچھ اس طویل گفتگو سے میں سمجھا' یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے مصر تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی! بیوی کو میری نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔ گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جا چکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہو گی۔

اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا۔ یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔ میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے لیا تھا! اچھا' تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے!

میں ایک سال' لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر' سب کو دیکھتا رہا۔ ایک ایک بیٹے' بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا۔ وہ بھی سرسری سا۔ ہاں! زینب'میری نواسی' اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی۔ "اماں یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھے جب میں چھوٹی سی تھی۔ اسے پھینکنا نہیں "ماں نے جواب میں کہا' "جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ'پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کرو۔"

میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے' جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔ اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں ڈسپلے سے ہٹا دی تھیں۔ ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔ میری قبر کا برا حال تھا گھاس اگی تھی۔کتبہ پرندوں کی بیٹ سے اٹا تھا۔ ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔

ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ رمق بھر بھی نہیں! بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے' پوتے نواسے پوتیاں سب بھول چکی تھیں۔ ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ تک ہٹ چکے تھے اور نئے بورڈ بھی مسلسل بھرتے جارہے تھے۔ دنیا رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر!

پھر تہذیبی' معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں اور آئے جا رہی تھیں' ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آ چکا تھا۔میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔

فرض کیجئے' میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں خوش آمدید نہ کہا جاتا!بچے پریشان ہو جاتے' ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں اب میری گنجائش کہیں نہ تھی! ہو سکتا ہے بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آ کر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ مکان بِک چکا' میں ایک تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی' دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے! دوست تھوڑے یہ اب باقی بچے تھے۔ وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل کا سامنا کر رہے تھے! میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔ جدید بستی میں پرانے مقبرے کی مانند!

میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری چوائس بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں! فرشتہ مسکرایا۔ اس کا کمنٹ بہت مختصر تھا۔

”ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا' کبھی بھرا نہیں جا سکے گا' مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو پیدا ہی نہیں ہوتا!“
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

18/05/2026

منشی نول کشور کون تھے اور ان کو جلانے کی بجائے دفن کیوں کیا گیا؟
منشی نول کشورتین جنوری 1836کومتھرامیں پیداہوئے ۔آپ کے والد کانام پنڈت جمونا پرساد بھگاوکا تھااوروہ علی گڑھ کے زمیندارتھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم کاآغاز مکتب میں فارسی اوراردوپڑھ کرکیاآپ کتب کے پبلشرتھے اورآپ کوبھارت کاcaxtonکہاجاتاہے۔
تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے، پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے، دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قران پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے، نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہو سکا.
نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلی ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی.
دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا.
وقت گزرتا رہا طباعت و اشاعت کا کام جاری رہا، پھر برصغیر کی تقسیم ہوئی، مسلمان ہندو اور سکھ نقل مکانی کرنے لگے، نول کشور جی بھی لاھور سے ترک سکونت کر کے نئی دلی انڈیا چلے گئے، ان کے ادارے نے دلی میں بھی حسب سابق قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کا کام شروع کر دیا، یہاں بھی قرآن پاک کے احترام کا وہی عالم تھا۔ ادارہ ترقی کا سفر طے کرنے لگا اور کامیابی کی بلندی پر پہنچ گیا، نول کشور جی بوڑھے ہو گئے اور اب گھر پر آرام کرنے لگے جبکہ ان کے بچوں نے ادارے کا انتظام سنبھال لیا اور ادارے کی روایت کے مطابق قران حکیم کے ادب و احترام کا سلسہ اسی طرح قائم رکھا۔
آخر کار نول کشور جی کا وقت آخر آ گیا اور وہ انتقال کر کے خالق حقیقی سے جا ملے، ان کی وفات پر ملک کے طول و عرض سے ان کے احباب ان کے ہاں پہنچے، ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ ان کے کریا کرم میں شریک ہونے کے لئے شمشان گھاٹ پہنچے، ان کی ارتھی کو چتا پر رکھا گیا ۔ چتا پر گھی ڈال کر آگ لگائی جانے لگی تو ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہوا، اس کی چتا پر کئی ٹین گھی کے ڈالے گئے تھے لیکن چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی، وہ کوئی عام ہندو نہیں تھا انڈیا کا بہت بڑا نام تھا، اس لئے اس کی چتا کو آگ نہ لگنے والے واقعے کی خبر منٹوں میں پورے انڈیا میں پھیل گئی . . . نول کشور جی کی چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی، چتا پر اور گھی ڈالا گیا پھر آگ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن بسیار کوشش کے باوجود بے سود، یہ ایک نا ممکن اور ناقابل یقین واقعہ تھا، پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، لمحوں میں خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ نول کشور جی کی ارتھی کو آگ نہیں لگ رہی ۔ ۔ .
مخلوق خدا یہ سن کر شمشان گھاٹ کی طرف امڈ پڑی۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور حیران و پریشان تھے، یہ خبر جب جامع مسجد دلی کے امام بخاری تک پہنچی تو وہ بھی شماشان گھاٹ پہنچے، نول کشور جی ان کے بہت قریبی دوست تھے۔
اور وہ ان کے احترام قران کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے، امام صاحب نے پنڈت جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی چتا جلانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو پائے گی، اس شخص نے اللہ کی سچی کتاب کی عمر بھر جس طرح خدمت کی ہے جیسے احترام کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی چتا کو آگ لگ ہی نہیں سکے گی، چاہے آپ پورے ہندوستان کا تیل گھی چتا پر ڈال دیں۔
اس لئے بہتر ہے کہ ان کو عزت و احترام کے ساتھ دفنا دیجئیے، چنانچہ امام صاحب کی بات پر عمل کرتے ہوئے نول کشور جی کو شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا، یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا

لہذا پہلی بار ایک ہندو کو جلائے بغیر شمشان گھاٹ کے اندر ہی دفن کرنا پڑا، اس کی ارتھی کو آگ کیوں نہیں لگ رہی تھی ؟اس کو آگ کیسے جلا سکتی ہے جس نے قرآن کا احترام مسلمانوں سے بھی بڑھ کر کیا ہو کیسے؟
مطبع منشی نول کشور کی مطبوعہ کتابیں
ترميم
نول کشور پریس کی طبع شدہ کتابوں کے چند نام:

فتاویٰ عالمگیری
سنن ابی داؤد
سنن ابن ماجہ
مثنوی مولانا روم
قصائدِ عرفی
تاریخِ طبری
تاریخِ فرشتہ
دیوانِ امیر خسرو
میر انیس
فسانۂ آزاد
داستانِ امیر حمزہ
دیوانِ غالب
کلیاتِ غالب فارسی
الف لیلہ
آثار الصنادید (سر سید احمد خان)
قاطعِ ب رہان (غالب)،
آرائشِ محفل
دیوانِ بیدل
گیتا کا اردو ترجمہ
رامائن کا اردو ترجمہ
بوستان
اور دیگر کئی صد کتابیں ہیں
یہ تحریر لکھتے وقت میرا ذہن بہت کچھ سوچ رہا ہے، میں سوچ رہی ہوں کہ جن کے لئے یہ عظیم کتاب اتاری گئی ہے وہ اس کو پریس کانفرنسوں میں سر پر رکھ کر اس سے اپنے مخالفین پر الزامات لگانے کا کام لیتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر اور توہین کیا ہو گی ۔ ۔ ؟؟
میں یہ بھی سوچ رہی ہوں دوسرے ممالک کے کچھ غیر مسلم اسلام دشمنی میں اس عظیم کتاب کو نذر آتش کر کے سمجھتے ہیں کہ بہت بڑا کام کر دیا، حالانکہ ایسی حرکات سے سوائے نفرت کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا ہوتا، میں نہیں جانتی اس ہندو کا آخرت میں کیا انجام ہوا ہو گا، لیکن اتنا جان گئی ہوں کہ دنیا میں اس کو آگ لگانا نا ممکن ہو گیا تھا کیا آخرت میں آگ اس کے سامنے بے بس ہو جائے گی؟۔
میں یہ بھی سوچ رہی ہوں ایک ہندو احترام قران میں اس دنیا کی آگ سے محفوظ رہا، ہم اس کتاب پر ایمان لانے والے اگر اس کی صحیح قدر کریں گے تو یہ آگ ہمیں جہنم کی آگ سے کیوں نہیں بچائے
خدا کے لئے قرآن کو اس کا مقام دیں، اس پر ایمان لائیں، اس کی تلاوت کریں، اس کو سمجھ کر پڑھیں، اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور اس کی تعلیمات کو عام کریں . . !!
اللہ پاک مجھ گہنگار سمیت ہم سب کو عمل کرنے کی کامل توفیق عطا فرمائے . . .
آمین ثم آمین یا رب العالمین

Want your organization to be the top-listed Government Service in Rahimyar Khan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Sarparah House 106-D Block Z, Gulshan E Iqbal(2) Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64200