Balochistan Rang

Balochistan Rang

Share

بلوچستان رنگ

ہمارے رنگ،سب کے رنگ

09/07/2026

*دعاؤں کی اپیل*

بزرگ سیاسی و قبائلی رہنما حاجی میرجمعہ خان بادینی کی طبیعت ناساز ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں کامل صحتِ عاجلہ، طویل عمر اور مکمل شفائے کاملہ عطا فرمائے، اور انہیں جلد از جلد صحت یاب کرکے اپنے اہلِ خانہ اور چاہنے والوں کے درمیان تندرست و توانا رکھے۔تمام دوستوں، ساتھیوں اور اہلِ علاقہ سے گزارش ہے کہ اپنے قیمتی لمحات میں ان کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔

25/05/2026

*وہ شخص جو کتابوں میں سانس لیتا تھا!*

*تحریر: ظہور زیب*

غمخوار پر لکھنے کے لیے جب بھی قلم اٹھاتا ہوں تو انگلیاں کانپنے لگتی ہیں، روح چھلنی ہوجاتی ہے، الفاظ دھندلے نظرآنے لگتے ہیں اور اوراق خون آلود محسوس ہوتے ہیں۔شہادت بڑا رتبہ ہے؛ یہ مقام خدا اپنے چنیدہ لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر غمخوار کو “شہید” لکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین بھی لرز اُٹھتی ہو۔ اگلے ہی لمحے زمین جیسے آواز دیتی ہے کہ میرے محبوب بچے جب میری آغوش میں آتے ہیں تو میں سکون محسوس کرتی ہوں۔گویا زمین چیخ چیخ کر کہہ رہی ہو کہ میرے وہ سپوت،جن کا اوڑھنا بچھونا میری آسودگی کے لیے تھا، جب مجھ سے بغل گیر ہوتے ہیں تو میری خون آلود مٹی خوشی سے رقص کرنے لگتی ہے۔شہادت خود بھی فخر محسوس کرتی ہوگی کہ اُسےیہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ غمخوار جیسے زمین زادےکے نام کے ساتھ جڑی۔
غمخوار میرا بھائی، میرا دوست، میرا استاد، اور سب سے بڑھ کر میرےفکر کا وارث تھا۔
نہیں، غمخوار "تھا" نہیں، غمخوار "ہیں"۔ غمخوار ماضی نہیں، مستقبل ہے۔غمخوار ہست ہے، اور غمخوار کے قاتل نیست ہیں۔
یہ احساس دل کے کسی خاموش گوشے میں مسلسل دستک دیتا رہتا ہے کہ میں اپنے اُس محسن کے لیے وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جو اُس کے شایانِ شان ہوں۔ مگر میں تقریباً ناکام رہا اور بس اپنے یارِ غار کو یاد کرنے پر اکتفا کرتا رہا۔
کتنا بدنصیب دوست ہوں کہ جس انسان نے زندگی بھر محبت، خلوص، علم دوستی، قوم دوستی اور وطن دوستی کا درس دیا، اُس کے جسمانی طور پر بچھڑ جانے کے بعد بھی میں اپنے جذبات کو مکمل طور پر لفظوں میں نہ ڈھال سکا۔
شاید کچھ زمین زادے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ اُن پر لکھنے کے لیے صرف قلم اور کاغذ کافی نہیں ہوتے؛ انسان کو اپنا پورا وجود روشن کرنا پڑتا ہے۔ غمخوار بھی اُنہی زمین زادوں میں شامل تھا۔
کبھی کبھی زندگی میں ایسے لوگ مل جاتے ہیں جنہیں صرف “انسان” کہنا اُن کے کردار کے ساتھ ناانصافی محسوس ہوتی ہے۔اُن کا درجہ "عام" انسانوں سے کہیں بلند ہوتا ہے، اور غمخوار اسی قبیل کے سرخیلوں میں شمار ہوتا تھا۔
غمخوار خاص تھا، غمخوار خاص ہے، اور غمخوار ہمیشہ خاص رہے گا۔
غمخوار کو یاد کرنا محض ایک عظیم انسان کو یاد کرنا نہیں بلکہ زبان دوستی، قوم دوستی، وطن دوستی اور انسان دوستی کے ایک پورے عہد کو یاد کرنا ہے۔
آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرا قلم الفاظ نہیں، یادیں لکھ رہا ہو۔ ہر جملے کے ساتھ کوئی محفل جاگ اُٹھتی ہے، کوئی چہرہ مسکراتا ہے، کوئی آواز کانوں میں گونجتی ہے۔ اور اُن تمام آوازوں کے درمیان ایک مانوس آواز بار بار سنائی دیتی ہے:
“یار، کوئی نئی کتاب پڑھو… انسان کتاب کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔”

میری غمخوار سے پہلی ملاقات 2003ء میں “راسکوہ ادبی دیوان” کے پلیٹ فارم پر ہوئی۔ اُس وقت شاید میں یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک طویل ادبی، فکری اور روحانی رفاقت کی ابتدا ہے۔ راسکوہ ادبی دیوان اُس زمانے میں صرف ایک تنظیم نہیں تھی بلکہ وطن دوست و زبان دوست نوجوانوں کا ایک قافلہ تھا، اور غمخوار حیات اُس قافلے کے اُن چراغوں میں سے ایک تھے جن کی روشنی دور تک دکھائی دیتی تھی، بلکہ میں یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس کارواں کا "واحد" روشن چراغ غمخوار ہی تھا جو قوم کے نوجوانوں کو بغیر کسی "اگر مگر" کے روشنی عطا کرتا تھا۔
2003ء سے لے کر اُن کی زندگی کے آخری ایام تک ہمارا ساتھ یوں قائم رہا جیسے البرز کا راسکوہ کے ساتھ، سیاہ جی کا بولان کے ساتھ، اور چلتن کا ہزار گٹ کے ساتھ تعلق ہو؛ ایسا ساتھ جو تمام مادی رشتوں سے بالاتر تھا۔
ہم نے ایک ساتھ ادبی سفر کیے، محفلیں سجائیں، خواب دیکھے، وطن کے گیت و گیسو سنوارے، اور اپنی بے بسی پر ایک ساتھ نادم بھی ہوئے۔
وقت کے ساتھ یہ تعلق صرف دوستی تک محدود نہ رہا بلکہ ایک ایسی رفاقت میں بدل گیا جس میں ادب بھی شامل تھا، محبت بھی، احترام بھی اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہنے کا جذبہ بھی۔
کئی مرتبہ ہم ایک ہی کابینہ کا حصہ رہے۔ ادبی نشستیں، مشاعرے، علمی مباحث، رات گئے تک جاری رہنے والی محفلیں، دوستوں کے درمیان ہنسی مذاق اور نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی یہ سب ہماری مشترکہ زندگی کا حصہ بن گیا۔ انہی برسوں میں، میں نے غمخوار کو قریب سے دیکھا، سمجھا اور محسوس کیا۔
میں نے اُنہیں ایک سنگت، ایک استاد، ایک قوم دوست، ایک وطن پرست اور ایک شاعر کی حیثیت سے بہت قریب سے دیکھا۔ ہر روپ میں وہ ایک جیسے تھے:
مخلص، کھرا ، سادہ دل، علم دوست، قوم دوست اور یاروں پر جان نچھاور کرنے والے۔
وہ دوستوں کے لیے ایک سایہ دار درخت اور شاگردوں کے لیے ایک استاد سے بڑھ کر تھے۔ بلوچی/براہوئی زبان و ادب کے لیے وہ ایک روشن چراغ کی مانند تھے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا رہا۔
وہ صرف شاعر، ادیب اور استاد نہیں تھے بلکہ ایک مکمل انسان اور مکمل زمین زادہ تھے۔ اُن کی شخصیت میں عجیب سی کشش تھی۔ وہ جہاں بیٹھتے، محفل وہیں سے روشن ہوجاتی۔ مگر اس روشنی میں کبھی غرور شامل نہیں تھا۔ اُن کے لہجے میں انکساری، محبت اور طبیعت میں بے حد سادگی تھی۔
وہ نئے لکھنے والوں کو اس توجہ سے سنتے جیسے اُن کی تخلیقات ادب کی تاریخ کا حصہ ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ بلوچستان بھر کے نوجوان قلم کار اُنہیں صرف استاد نہیں بلکہ اپنا محسن سمجھتے تھے۔
غمخوار بلوچ ادب کے فکری نمائندہ تھے۔ بلوچستان کے کونے کونے میں اُن کے دوست، شاگرد اور چاہنے والے موجود ہیں؛ گوادر سے لے کر شال تک، راسکوہ کے جھلسے ہوئے چہروں سے لے کر لیاری تک غمخوار سب کے غمخوار تھے۔
براہوئی موسیقی کی دنیا میں غمخوار ایک مکمل عہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شاید ہی براہوئی زبان کا کوئی ایسا گلوکار ہو جس نے غمخوار کی شاعری نہ گائی ہو۔ اُن کی شاعری میں مٹی کی خوشبو، محبت کی نرمی، دکھ کی گہرائی اور انسان دوستی کی روشنی اس انداز سے موجود تھی کہ گلوکار خود کو اُن کے لفظوں سے الگ نہیں رکھ پاتے تھے۔بلوچستان کے ادبی میلوں، ثقافتی تقریبات، فکری نشستوں اور رات گئے تک سجی موسیقی کی محفلوں میں جب کسی گلوکار کی آواز میں غمخوار حیات کے اشعار گونجتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے لفظ ساز کے دوش پر سفر کرتے ہوئے روح کے اندر اُتر رہے ہوں۔ اُنہوں نے براہوئی شاعری کو موسیقی کے ذریعے عوام کے دلوں تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری آج بھی بلوچستان کے پہاڑوں، وادیوں اور محفلوں میں زندہ محسوس ہوتی ہے اور قوم کو حیات بخشتی ہے۔
اُنہیں کتابوں سے عشق تھا۔ نہیں، عشق بھی شاید چھوٹا لفظ ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کتابوں میں سانس لیتے ہوں۔ اُن کے ہاتھ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی؛ کبھی شاعری، کبھی فلسفہ، کبھی تاریخ اور کبھی تنقید۔ اُن کے کمرے میں داخل ہوں تو محسوس ہوتا تھا جیسے کتابیں دیواروں پر نہیں بلکہ اُن کے وجود کے اندر رکھی ہوئی ہوں۔
ہم جب بھی غمخوار سے پوچھتے:
“کہاں غائب ہو؟”
تو وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے:
“فلاں شاعر یا نثر نگار کی کتاب ترتیب دے رہا ہوں۔”
غمخوار نے دوسروں کے الفاظ سنوارتے سنوارتے اپنی زندگی گزار دی۔ کتنے ہی نوجوان شاعر اور لکھاری ایسے ہیں جن کی کتابوں کے پیچھے غمخوار حیات کی خاموش محنت شامل ہے۔ وہ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھتے دیکھ کر عجیب سکون محسوس کرتے تھے۔ آج اسی لیے اُن کے جسمانی طور پر بچھڑ جانے کے بعد پوری قوم یوں محسوس کررہی ہے جیسے اُس کے سر سے ایک سایہ اُٹھ گیا ہو۔

غمخوار دوستوں کے درمیان فاصلے ختم کرنے والے انسان تھے۔ اگر کہیں ناراضی ہوتی تو وہ خاموش نہیں بیٹھتے۔ وہ رابطہ کرتے، مناتے، سمجھاتے اور دلوں کو دوبارہ قریب لے آتے۔ اُن کے نزدیک رشتے سب سے قیمتی چیز تھے، اور سب سے بڑھ کر “فکری رشتے”۔

آج کے شور، نفرت، ضد اور انا کے دور میں ایسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں جو دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انا کا ذکر آیا تو یاد آیا کہ تئیس سالہ رفاقت میں، میں نے اس عظیم انسان کو کبھی ایک لمحے کے لیے بھی انا کے سامنے جھکتے نہیں دیکھا بلکہ اُن کی انا خود اُن کے سامنے سرنگوں رہتی تھی۔
غمخوار ہمیشہ کہتے تھے:
“جب تک ہم اپنی انا کو ساہ دار (جانور) کی طرح ذبح نہیں کریں گے، تب تک ہمیں قومی تشکیل میں بے شمار مشکلات کا سامنا رہے گا۔ لہٰذا سب سے پہلے ہمیں اپنی انا قربان کرنا ہوگی، تب جاکر ہم قومی تشکیل کی پہلی سیڑھی عبور کرسکیں گے۔
مجھے آج بھی اُن کی ایک بات شدت سے یاد آتی ہے۔ وہ اکثر حیرت سے کہتے تھے:
“میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کیسے قتل کرسکتا ہے،؟”
پھر خاموش ہوجاتے اور دھیمی آواز میں کہتے:
“جب بھی کوئی انسان قتل ہوتا ہے، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانیت کے جسم سے ایک حصہ کاٹ دیا گیا ہو۔”
غمخوار کی یہ باتیں اُن کی عظمت کی گواہ ہیں۔ وہ نفرت کے مقابلے میں محبت، تشدد کے مقابلے میں مکالمہ اور تاریکی کے مقابلے میں روشنی پر یقین رکھتے تھے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ انسان دوستی کا درس دینے والا شخص خود نفرت کی گولی کا نشانہ بن گیا۔
غمخوار ہی کیوں ہم سے چھین لیا گیا؟
شاید اس لیے کہ وہ بلوچ اقدار، بلوچ مہر و وفا، خیر اور انسانیت کا سفیر تھا۔ شاید اس لیے کہ نوآبادیاتی جبر کا سب سے بڑا نشانہ ہمیشہ وہ لوگ بنتے ہیں جو محکوم قوموں کا روشن چہرہ ہوتے ہیں؛ وہ چہرہ جس پر دنیاوی مفاد کا کوئی داغ نہیں ہوتا، جو اپنی قوم کی خوبصورتی، معصومیت اور انسان دوستی کی نمائندگی کرتا ہے۔
شاید اسی لیے وہ ہم سے جدا ہوا، کیونکہ وہ ہمارے اُس رنگ، اُس سادگی اور اُس تہذیبی حسن کو دنیا کے سامنے اُجاگر کررہا تھا جس پر دوسری اقوام بھی فدا ہوجاتی ہیں۔
ایک دن میں نے غمخوار سے کہا کہ میں ادبی مضامین لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ خوش ہوئے اور کہنے لگے:
“لکھو، ضرور لکھو۔ ادب انسان کو زندہ رکھتا ہے۔”
میں نے مضمون نگاری کا آغاز ہی غمخوار پر لکھ کر کیا۔ وہ مسکرائے اور محبت بھرے لہجے میں بولے:
“یہ کیا؟ تم نے آغاز ہی مجھ سے کیا!”
میں نے جواب دیا:
“میرا آغاز تم ہو، کیونکہ میری فکری پختگی کے وارث تم ہو۔”
آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی میری ادبی اور فکری سوچ کے کئی دروازے اُنہی کی رفاقت نے کھولے تھے۔ اُنہوں نے صرف کتابیں نہیں پڑھیں بلکہ انسان بھی پڑھے۔ اُنہوں نے صرف لفظ نہیں لکھے بلکہ رشتے بھی تعمیر کیے۔غمخوار اُن لوگوں میں سے تھے جو محفل ختم ہونے کے بعد بھی یاد رہتے ہیں۔ اُن کی ادبی خدمات صرف چند کتابوں یا چند محفلوں تک محدود نہیں تھیں۔غمخوار کی بائیس کتابیں شائع ہوچکی ہیں، جن میں سے دو ای بُک کی صورت میں موجود ہیں۔ اس وقت اُن کی مزید نو کتابیں اشاعت کے مراحل میں ہیں جبکہ چار کتابوں پر تحقیقی کام جاری تھا۔ یہ صرف ایک ادیب کا ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک پوری فکری زندگی کا حاصل ہے۔وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں تک قلم، کتاب اور تحقیق کے ساتھ جڑے رہے۔ شاید اسی لیے اُنہیں دیکھ کر ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ زندگی نہیں بلکہ ادب جی رہے ہیں۔غمخوار اب جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کی زبان، دوستوں کی یاد، کتابوں کی خوشبو اور اُن لفظوں میں زندہ رہتے ہیں جو آنے والی نسلوں تک روشنی پہنچاتے رہیں گے۔
آج بھی کبھی کسی کتاب کے صفحات سے پرانی خوشبو اُٹھتی ہے، کبھی کسی ادبی محفل میں خامشی اترتی ہے، کبھی کسی دوست کی باتوں میں محبت جھلکتی ہے تو بے اختیار دل کہتا ہے:

"غمخوار ابھی موجود ہے، اور جب تک ایک بھی بلوچ زندہ ہے، غمخوار زندہ ہے، بلوچ تا ابد زندہ رہے گا، غمخوار تا ابد زندہ رہے گا"

چاکر جان کے بقول:

نی شاعری گل خان ئنا
نی فکر نادر جان ئنا
نی فلسفہ رحمن ئنا
نی ہمسفر نادان ئنا
گواڑخ ننا قیقان ئنا
نی حکمت اُس لقمان ئنا
نی خواجہ اُس بولان ئنا
دُرّ اُس بلوچستان ئنا!

23/04/2026

24 اپریل 2026 (بروز جمعہ)
🏥 زند میڈیکل سینٹر نوشکی
✔ ماہر و تجربہ کار ڈاکٹر
✔ جدید طبی سہولیات
✔ معیاری علاج و معائنہ
کنسلٹنٹ ڈاکٹر
*سرجن سلیم جاوید محمد شہی*
MBBS, FCPS
کنسلٹنٹ جنرل سرجن
سابق اسسٹنٹ پروفیسر، بولان میڈیکل کالج کوئٹہ
سربراہ شعبہ سرجری، میر گل خان نصیر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی
🗓 اوقاتِ کار
روزانہ: شام 4:00 بجے تا رات 7:00 بجے
اتوار: صبح 9:00 بجے تا 12:00 بجے
📍 پتہ
زند میڈیکل سینٹر
بالمقابل نادرا آفس، نزد پولیس تھانہ نوشکی
📞 رابطہ: *03003889202*

26/03/2026

فرینڈز ٹریڈرز
جناح روڈ، ایرانی بازار، نوشکی
یونی لیور کے معیاری اوریجنل پراڈکٹس کے مستند سپلائر
صابن، ڈٹرجنٹ، شیمپو، کریمز، ہینڈ واش، فوڈ آئٹمز، چائے، ڈائپر اور دیگر اشیاء مناسب قیمت پر دستیاب
معیاری پراڈکٹس، مناسب قیمت
فوری اور قابلِ اعتماد سپلائی

20/03/2026

عیدالفطر کی دلی خوشیوں بھری مبارکباد۔
یہ مبارک دن ہمارے علاقے میں امن، بھائی چارے اور باہمی محبت کو مزید مضبوط کرے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی زندگیوں کو خوشحالی، سکون اور برکتوں سے بھر دے اور ہمارے خطے کو ہمیشہ امن کا گہوارہ بنائے۔
منجانب: حاجی میر غلام دستگیر بادینی
رکن صوبائی اسمبلی

20/03/2026

*عیدالفطر* دلی مبارک ہو!اللہ تعالیٰ یہ بابرکت دن ہم سب کے لیے خوشیوں، امن و سلامتی اور قربانی کے حقیقی جذبے کا پیغام بنائے۔
*حاجی میرجمعہ خان بادینی*

20/03/2026

عید الفطر کی دلی خوشیوں بھری مبارکباد!
اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو سکون، محبت اور برکتوں سے بھر دے اور آپ کے گھر میں ہر دن خوشیوں کا پیام لے کر آئے۔
*منجانب: حاجی میر عباس جان بادینی*

20/03/2026

میرے طرف سے آپ اور آپ کے اہل خانہ کو عید الفطر کی دلی مبارکباد۔ ظہور زیب،

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Killi Geo Jehlum Karez Zmendar Road Quetta
Quetta