Pursan e Hal
writing stories about different things
22/06/2026
اگر وہ آپ سے کھیلنے کا کہیں،
تو کھیلیں۔
ڈائناسور بن جائیں۔
گھوڑا بن جائیں۔
جب وہ ڈاکٹر ڈاکٹر کھیلیں، تو مریض بن جائیں۔
انہیں اپنے کھلونے والے برتنوں سے فرضی کھانا کھلانے دیں۔
انہیں کھیل کے اصول بنانے دیں۔
انہیں اس مہم جوئی کی قیادت کرنے دیں۔
کپڑے دھونے کا کام انتظار کر سکتا ہے۔
برتن دھونے کا کام انتظار کر سکتا ہے۔
موبائل کا میسج انتظار کر سکتا ہے۔
کیونکہ ایک دن وہ (کھیلنے کا) کہنا چھوڑ دیں گے۔
اور آپ خواہش کریں گے کہ کاش بناوٹی کھیل کا ایک اور موقع مل جائے۔
کاش ایک بار پھر وہ ننھا سا ہاتھ آپ کے ہاتھ کو چھوئے اور کہے،
"میرے ساتھ کھیلیں نا۔"
تو جب تک وہ اب بھی کہہ رہے ہیں،
کھیلیں۔
19/06/2026
صحیح انسان کے سامنے خود کو ثابت نہیں کرنا پڑتا، وہ آپ کے بن کہے آپ کی اہمیت جانتا ہے۔🖤🥀
میں تم سے محبت کرتا ہوں... مگر میری محبت کو کبھی میری کمزوری مت سمجھنا۔
اگر میں تمہیں وقت دیتا ہوں، تمہاری باتیں سنتا ہوں، تمہاری ناراضی برداشت کرتا ہوں، تمہاری خوشی میں خوش اور تمہارے دکھ میں اداس ہو جاتا ہوں تو یہ اس لیے نہیں کہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں... بلکہ اس لیے کہ میرے دل نے تمہیں اپنی دنیا کا سب سے قیمتی حصہ مان لیا ہے۔
میں ان لوگوں میں سے نہیں جو ہر وقت ہر کسی سے بات کرتے پھریں... میں ہر چہرے پر مسکراہٹ نہیں بانٹتا... ہر آواز پر جواب نہیں دیتا... اور نہ ہی ہر تعلق کو اہمیت دیتا ہوں...
میری عادت ہے کہ میں اپنی دنیا میں رہتا ہوں، خاموش، مطمئن، اور اپنے اصولوں کے ساتھ...
مگر جب کوئی شخص میرے دل تک پہنچ جائے تو پھر میں اس کے لیے وہ سب کچھ کر گزرتا ہوں جو شاید لوگ صرف کہانیوں میں پڑھتے ہیں۔
تم سے محبت کرنا میری مجبوری نہیں، میرا فیصلہ ہے... اور میں اپنی زندگی کے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کرتا ہوں۔
میں وہ شخص نہیں جو لوگوں کی توجہ کا بھوکا ہو، نہ ہی ہر وقت تعریفیں سننے کا عادی ہوں، مجھے تو تنہائی بھی عزیز ہے اور خاموشی بھی...
مگر تمہاری ایک مسکراہٹ، میری کئی گھنٹوں کی خاموشی پر بھاری پڑ جاتی ہے۔
تمہارا ایک پیغام، دن بھر کی تھکن اتار دیتا ہے۔
تمہارا نام، میرے بے شمار خیالوں میں سب سے خوبصورت خیال بن کر ابھرتا ہے۔
مگر یاد رکھنا...
محبت کرنے والا ہر انسان بے وقار نہیں ہوتا، اور وفادار انسان ہرگز کمزور نہیں ہوتا۔
بعض لوگ محبت اس لیے نہیں کرتے کہ وہ اکیلے ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کا دل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔
میں اگر چاہوں تو بہت سے لوگوں سے بات کر سکتا ہوں، بہت سی محفلوں کا حصہ بن سکتا ہوں، بہت سے تعلق بنا سکتا ہوں...
مگر میری طبیعت نے ہمیشہ ہجوم سے زیادہ سکون کو پسند کیا ہے، اور لوگوں کی بھیڑ سے زیادہ ایک سچے انسان کی قربت کو۔
تم وہ واحد انسان ہو جسے میں نے اپنی خاموشیوں میں جگہ دی ہے... ورنہ میری زندگی کے دروازے ہر کسی کے لیے نہیں کھلتے۔
اس لیے کبھی یہ مت سمجھنا کہ میں تمہارے پیچھے اپنی ذات بھول گیا ہوں...
نہیں...
میں آج بھی اپنی عزتِ نفس کے ساتھ کھڑا ہوں، اپنی سوچ کے ساتھ زندہ ہوں، اپنے اصولوں پر قائم ہوں...
بس فرق صرف اتنا ہے کہ ان سب چیزوں کے درمیان تم بھی شامل ہو گئی ہو۔
میں تمہیں چاہتا ہوں، مگر خود کو کھو کر نہیں...
میں تمہاری قدر کرتا ہوں، مگر اپنی قدر بھلا کر نہیں...
میں تم سے محبت کرتا ہوں، مگر اس محبت کے ساتھ اپنی خودداری بھی رکھتا ہوں۔
کیونکہ سچی محبت انسان کو جھکنا سکھاتی ہے، مٹنا نہیں...
قدر کرنا سکھاتی ہے، خود کو کھونا نہیں...
اور وفا کرنا سکھاتی ہے، خود کو بے قیمت بنانا نہیں...
تم میری محبت ہو، میری کمزوری نہیں.
پہلے تو ہماری ماں ایسی بالکل نہ تھی مگر پچھلے ایک سال سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! 7 بیٹیوں اور ایک کمسن بیٹے کو چھوڑ کر نئے شوہر کے ساتھ روانہ ہونے والی ماں کی بیٹیوں نے ساری کہانی بتا دی ۔۔۔ لاہور ہائیکورٹ کی وائرل ویڈیو اور اصل حقائق ۔۔۔۔۔خاتون کی سات بیٹیاں اور سب سے چھوٹا ایک بیٹا ہے ۔ پچھلے 20 ،25 سال سے سب کچھ ٹھیک رہا لیکن ان لڑکیوں کے بقول ۔۔۔۔ لگ بھگ ایک سال قبل ہماری ماں شبنم کی ملاقات کہیں باہر اس شخص سے ہوئی جو اب ہماری ماں کو لے بھاگا ہے ۔ اس منحوس نے ہماری ماں کو نجانے کیا تعویذ پلایا کہ جو وہ کہتا یہ مان لیتی ۔۔۔ ہماری ماں والد سے جھگڑا کرتی تو شریف آدمی چپ ہو جاتا اور گھر سے باہر چلاجاتا ، یہی شرافت اسے لے ڈوبی اور اس بے غیرت شخص نے ہمارے والد کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل کروا دی ۔ یہی انکا منصوبہ تھا ۔ ہماری والدہ ہمیں تسلی دیتی کہ تمہارے والد کو رہا کروانے جارہی ہوں کچھ دن نہ آؤں تو پریشان نہ ہونا ایک دوسرے کا خیال رکھنا ۔ بھائی کو باہر نہ جانے دینا اور کوئی بات ہو تو فون پر بتانا ہمیں یہ نصیحتیں کرکے یہ اپنے عاشق کے ساتھ کئی کئی روز غائب رہتی ۔ ظلم تو یہ کہ ہماری ماں اور اسکے دوست نے ہم میں سے تین بہنوں کو بھٹے پر مزدوری کے لیے رکھوا دیا اور بڑی رقم ایڈوانس لے لی ۔ ہم نے اعتراض کیا تو کہا تم نے اپنے باپ کو رہا کروانا ہے یا وہ ساری زندگی جیل میں پڑا رہے ۔ یہ سن کر ہم چپ ہو گئیں ۔۔ مگر ہمیں دھوکے میں رکھ کر ماں نے چن چڑھا دیا ۔ ایک بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہماری ماں نے خود کو کنواری ظاہر کرکے دوسرا نکاح کیا ہے اور جس شخص سے اس نے شادی کہ ہے وہ بھی 5 بیٹیوں کے باوجود خود کو کنوارا ظاہر کررہا ہے ۔۔ ہماری حکومت اور عدالتوں سے درخواست ہے کہ ان دونوں جھوٹوں یعنی ہماری ماں اور اسکے نام نہاد شوہر کو دھوکہ دہی کے جرم میں سزا دی جائے ۔۔۔۔۔ اسکےعلاوہ ہمیں اور کیا انصاف مل سکتا ہے ماں تو وہ جو چلی گئی اب واپس آ بھی جائے تو ہمیں اس پر اعتبار نہیں ہوگا ۔۔ اس عورت نے دنیا کے سامنے ہمارا تماشا بنا دیا ۔ یہ تماشا ختم ہو جائے زندگی تو گزر ہی جائے گی ۔۔۔۔ # #
مرد تھا یا درندہ؟
فتح جنگ میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے نے ہر حساس انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے شوہر نے اسے مبینہ طور پر نشہ آور چیز دے کر بے ہوش کیا، جس کے بعد اپنے 8 دوستوں کو گھر بلایا اور ان افراد نے خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی۔ الزام یہ بھی ہے کہ شوہر نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔
متاثرہ خاتون کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شوہر سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک عورت کے خلاف نہیں بلکہ انسانیت، اعتماد اور ازدواجی رشتے کے تقدس کے خلاف بھی سنگین جرم ہے۔ ایک شوہر، جو اپنی بیوی کے تحفظ اور عزت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، اس پر ایسے الزامات پورے معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔
یاد رہے کہ مقدمہ درج ہو چکا ہے اور تحقیقات جاری ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ عدالت اور قانونی عمل کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
آپ کی نظر میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟
#انصاف
چناؤ اُس شخص کا کرو جو تمہارے بگڑے موسموں کو
برداشت کر سکے
-جو تمہارے اندر کے طوفان کو سمجھےـ
جو جانتا ہو کہ تمہاری تلخی تمہاری فطرت نہیں بلکہ وقتی تھکن ہے۔۔۔🖤
06/06/2026
بیٹی کا آخری خط
ایک غریب آدمی اپنی اکلوتی بیٹی آمنہ سے بے حد محبت کرتا تھا۔ آمنہ بھی اپنے والد کی جان تھی۔ جب وہ چھوٹی تھی تو ہر شام اپنے والد کے کندھوں پر بیٹھ کر بازار جاتی اور کہتی:
"ابو! جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو آپ کا بہت خیال رکھوں گی۔"
وقت گزرتا گیا، آمنہ بڑی ہوئی، تعلیم مکمل کی اور پھر اس کی شادی ایک دوسرے شہر میں ہوگئی۔
شادی کے دن باپ نے مسکراتے ہوئے بیٹی کو رخصت کیا، مگر جیسے ہی گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ گھر کی ہر چیز اسے اپنی بیٹی کی یاد دلاتی تھی۔
آمنہ بھی نئے گھر میں خوش تھی، لیکن اپنے والد کو کبھی نہیں بھولتی تھی۔ وہ روز فون کرتی اور پوچھتی:
"ابو، کھانا وقت پر کھایا؟ دوا لی؟"
ایک دن آمنہ نے اپنے والد کے لیے ایک خط لکھا:
"ابو! لوگ کہتے ہیں کہ شادی کے بعد بیٹیاں پرائی ہو جاتی ہیں، مگر میرا دل آج بھی آپ کے گھر میں رہتا ہے۔ میں جہاں بھی ہوں، آپ کی دعائیں اور محبت میرے ساتھ ہیں۔ آپ میری زندگی کے سب سے قیمتی انسان ہیں۔"
خط پڑھتے ہوئے باپ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ اس نے خط کو سینے سے لگایا اور کہا:
"بیٹیاں کبھی پرائی نہیں ہوتیں، وہ تو والدین کے دل کا وہ حصہ ہوتی ہیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا ہے۔"
اس دن اسے احساس ہوا کہ فاصلے صرف راستوں میں ہوتے ہیں، محبت میں نہیں۔
سبق:
بیٹیاں گھر چھوڑ سکتی ہیں، مگر والدین کے دلوں سے کبھی دور نہیں ہوتیں
06/06/2026
چاندنی رات کا وعدہ
ایک چھوٹے سے شہر میں احمد اور مریم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ احمد پڑھائی میں بہت اچھا تھا جبکہ مریم کو کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ دونوں اکثر لائبریری میں ملتے اور اپنے خوابوں کے بارے میں باتیں کرتے۔
ایک دن اسکول میں کہانی نویسی کا مقابلہ ہونے والا تھا۔ مریم نے بڑی محنت سے ایک کہانی لکھی، مگر مقابلے سے ایک دن پہلے اس کی کاپی گم ہوگئی۔ وہ بہت پریشان ہوگئی۔
احمد نے جب مریم کو اداس دیکھا تو وجہ پوچھی۔ مریم کی بات سن کر اس نے کہا،
"ہمت مت ہارو، تم اپنی کہانی دوبارہ لکھ سکتی ہو۔ میں تمہاری مدد کروں گا۔"
دونوں شام تک لائبریری میں بیٹھے رہے۔ مریم لکھتی رہی اور احمد اسے حوصلہ دیتا رہا۔ رات تک کہانی دوبارہ مکمل ہوگئی۔
مقابلے کے دن مریم نے اپنی کہانی پیش کی۔ ججوں کو وہ اتنی پسند آئی کہ اسے پہلا انعام ملا۔ انعام لیتے وقت مریم نے کہا،
"یہ کامیابی صرف میری نہیں، بلکہ اس دوست کی بھی ہے جس نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔"
احمد مسکرا دیا۔ اس دن دونوں نے سمجھ لیا کہ سچی دوستی وہ ہوتی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑی رہے۔
سبق:
دوستی کی اصل پہچان مشکل وقت میں مدد اور حوصلہ افزائی ہے۔ 🌙📖✨
zindagi ka aik asool hona chahea jo bhi apki Zindagi se jana chahy usy jany do roko mt roknay se usy lgta h k m bht eham hon or m mazeed takleef pohncha skta hon
06/06/2026
آخری بس
لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا 17 سالہ علی کالج کے بعد شام کو ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ ایک رات اسے معمول سے زیادہ دیر ہوگئی۔ جب وہ بس اسٹاپ پہنچا تو آخری بس روانہ ہونے والی تھی۔
علی دوڑ کر بس میں سوار ہوا۔ چند منٹ بعد اس نے دیکھا کہ ایک بزرگ شخص بار بار اپنی جیبیں ٹٹول رہا ہے اور پریشان نظر آ رہا ہے۔ علی نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ان کا بٹوہ کہیں گر گیا ہے، جس میں نقد رقم کے ساتھ اہم کاغذات بھی تھے۔
بس میں موجود اکثر لوگ خاموش رہے، مگر علی نے پورے راستے بزرگ کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے یاد آیا کہ بزرگ بس میں چڑھتے وقت ٹکٹ لیتے ہوئے بٹوہ نکال رہے تھے۔ علی اگلے اسٹاپ پر اترا اور پیدل واپس چل پڑا۔
تقریباً آدھے گھنٹے کی تلاش کے بعد اسے سڑک کنارے ایک بٹوہ نظر آیا۔ اندر رقم بھی موجود تھی اور تمام کاغذات بھی محفوظ تھے۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ بزرگ جا چکے تھے۔ خوش قسمتی سے ایک شناختی کارڈ موجود تھا۔ علی نے اگلے دن پتا تلاش کیا اور بٹوہ ان کے گھر پہنچا دیا۔
دروازہ کھلتے ہی بزرگ حیران رہ گئے۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کاغذات میں ان کی زندگی بھر کی بچت سے متعلق اہم دستاویزات تھیں۔
چند ماہ بعد علی کو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے مالی مشکلات کا سامنا ہوا۔ اسی دوران اسے معلوم ہوا کہ ایک فلاحی ادارے نے اس کی فیس ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ اسی بزرگ نے، بغیر اپنا نام ظاہر کیے، اس کی مدد کا انتظام کیا تھا۔
علی کو اس دن احساس ہوا کہ نیکی کا ہر کام فوراً نظر نہیں آتا، لیکن اس کا اثر زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں ضرور واپس آتا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Quetta
9119