Muhammad Essa Roshan
Central Information Secretary of Pashtoonkhwa National Awami Party
16/05/2026
#پښین - ،د پښتونخوا نېشنل عوامي پارټۍ د پشېن ضلعې کمېټۍ غونډه په کلي ملک فيضو کې د ملک عزيز خان په کور ( پښنون مېنه) کې د پارټۍ صوبايي صدر نصرالله خان زېري په صدارت کښی ترسره سوه -
په غونډه کې د لویه اختر د څلرمې ورځې د” برشور بازار “” د عظیم الشان جلسه عام په حواله مهمې پرېکړې وسوې. چې په ياد جلسه کې به د پارټۍ مرکزي چيئرمين او د قامې اسمبلې غړې خوشال خان کاکړ ګډون کوي۔او د پښتون دشمن ماینز منرل ایکټ په خلاف به اولس ته ویناوې کېژی -
په غونډه کې د پارټۍ مرکزي سېکرټري اطلاعات محمد عیسئ خان روښان، صوبايي سیکرټرې اول خوشحال کاسی ، پروفېسر اسد ترين، سيد احسان آغا، محمود رياض، سينيئر معاون سېکرټري سردار فيصل خان ترين او د ضلعې کمېټۍ غړو هم ګډون درلود ۔
چیئرمین پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں -
#کوټه
11/05/2026
تاریخ : 2026-11-05
کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی جنوبی پشتونخوا کی صوبائی کمیٹی کا دو روزہ اہم اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت بیادِ مرحوم عبدالرحیم خان مندوخیل، کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان، مرکزی سیکریٹری محترمہ صاحبہ بڑیچ، مرکزی سیکریٹری ڈاکٹر بایزید روشان، صوبائی سیکریٹری برائے خواتین و انسانی حقوق محترمہ عارفہ صدیق سمیت صوبائی ایگزیکٹو کے دیگر اراکین صدارتی مجلس میں شامل تھے۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حافظ صادق شیرانی نے حاصل کی، جبکہ پارٹی کے مرحوم اراکین اور دیگر مرحومین کیلئے دعائے مغفرت پارٹی کے علماء ونگ کے آرگنائزر مولانا فضل کریم نے کرائی۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے انجام دیے۔ اجلاس میں جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع کے ضلعی سیکریٹریوں نے اپنی گزشتہ تنظیمی سرگرمیوں، سیاسی صورتحال، عوامی رابطہ مہم اور پارٹی کی تنظیمی کارکردگی سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ اسی طرح صوبائی ایگزیکٹو اور پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس او) کی کارکردگی رپورٹس بھی اجلاس میں پیش کی گئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے سیاسی، تنظیمی اور عوامی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں پارٹی تنظیم کو مزید فعال، منظم اور عوامی سطح پر مؤثر بنانے کیلئے مختلف تجاویز اور سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ اجلاس سے پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ ملکی، علاقائی اور پشتونخوا وطن کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ پشتونخوا وطن اس وقت سیاسی، معاشی، سماجی اور قومی حوالے سے انتہائی نازک اور تشویشناک دور سے گزر رہا ہے، جہاں عوام بدامنی، بے روزگاری، مہنگائی، وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی ، معاشی اور قومی محکومی کے باعث سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کامیاب، منظم اور مؤثر اجلاس کے انعقاد پر جنوبی پشتونخوا کے صوبائی ایگزیکٹو اور صوبائی کمیٹی کے اراکین کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی تحریک کو اپنے مقاصد میں کامیابی دلانے کا واحد راستہ پارٹی کو نظریاتی، سیاسی اور تنظیمی بنیادوں پر مزید مضبوط اور فعال بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط، منظم اور عوامی بنیادوں پر استوار سیاسی جماعت ہی پشتون ملت کے قومی ارمانوں، قومی حقوق اور قومی نجات کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پارٹی کو عوام کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط اور قریبی بنانے ہوں گے۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور افراد، نوجوانوں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں، خواتین، دانشوروں اور مختلف سماجی و عوامی تنظیموں کو منظم کرکے انہیں پشتون ملت کو درپیش موجودہ غلامی، بدحالی، محرومی، سیاسی بے اختیاری اور قومی مسائل سے آگاہ کرنا ہوگا تاکہ وہ قومی تحریک کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غیور پشتون ملت اپنی تاریخ کے بدترین حالات سے گزر رہی ہے۔ پشتونخوا وطن میں بدامنی، معاشی بدحالی، بے روزگاری، وسائل پر قبضے اور سیاسی محرومی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان تمام مسائل کا حل صرف ایک مضبوط، منظم، نظریاتی اور عوامی سیاسی تحریک کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے انتہائی کم عرصے میں عوام کے درمیان اپنی سیاسی اور تنظیمی بنیادیں مضبوط کی ہیں، جو پارٹی کارکنوں، رہنماؤں اور تنظیمی ساتھیوں کی مسلسل قربانیوں، جدوجہد اور محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں، ابتدائی یونٹوں کو فعال بنائیں، عوامی رابطہ مہم کو وسعت دیں اور ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر علاقے میں پارٹی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشتون ملت کے قومی حقوق، قومی وحدت، وسائل پر اختیار، جمہوریت، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
11/05/2026
کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں 12 مئی 2007ء کے کراچی کے خونی سانحے کو ریاستی سرپرستی میں ہونے والی بدترین دہشت گردی، آمریت کے وحشیانہ اقدام اور جمہوری آوازوں کو بندوق کے زور پر خاموش کرانے کی ایک شرمناک سازش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سیاہ دن کراچی کی سڑکیں معصوم شہریوں، سیاسی کارکنوں، وکلاء اور جمہوریت پسند عوام کے خون سے رنگ دی گئی تھیں۔ یہ سانحہ ملکی تاریخ کا ایک المناک اور سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اُس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی آمریت اپنے اقتدار کو طول دینے اور جمہوری تحریک کو دبانے کیلئے ہر حد پار کر چکی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی غیر آئینی معطلی کے خلاف ملک بھر میں اٹھنے والی عوامی، سیاسی اور وکلاء تحریک نے آمریت کی بنیادیں ہلا دی تھیں، جس کے ردعمل میں ریاستی طاقت، خوف، جبر اور مسلح جتھوں کے ذریعے عوامی آواز کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ 12 مئی کو چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر پورے شہر کو عملاً یرغمال بنا دیا گیا، شاہراہیں بند کی گئیں، مسلح عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی اور دن دہاڑے نہتے شہریوں پر فائرنگ کرکے قتلِ عام کیا گیا، جن میں اکثریت پشتون سیاسی کارکنوں کی تھی اور پشتونوں کے جائیدادوں کی لوٹ مار اور ٹرانسپورٹ کے درجنوں گاڑیوں کو جلایا گیا اور پشتونخوا نیپ کے کارکن مہتاب آفریدی شہید اور درجنوں کارکن زخمی ہوئے ۔ جبکہ ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ 12 مئی کا سانحہ محض ایک سیاسی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ جمہوریت، آئین، آزاد عدلیہ، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں پر کھلا حملہ تھا۔ کئی گھنٹوں تک کراچی خون میں نہاتا رہا، ٹی وی اسکرینوں پر لاشیں گرتی رہیں، زخمی سڑکوں پر تڑپتے رہے، گاڑیاں اور املاک جلتی رہیں، مگر اُس وقت کے حکمران اقتدار کے نشے میں مست رہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سانحہ 12 مئی نے ثابت کر دیا تھا کہ آمریت اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ جمہوری قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے طاقت اور دہشت کا استعمال کیا گیا تاکہ عوامی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر اور آمریت کبھی بھی عوامی شعور اور جمہوری جدوجہد کو شکست نہیں دے سکتے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ آج بھی 12 مئی کے شہداء کے خاندان انصاف کیلئے دربدر ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس قومی سانحے کے اصل کرداروں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو آج تک قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔ انصاف میں یہ تاخیر اور مجرمانہ خاموشی ملک کے عدالتی، سیاسی اور انتظامی نظام پر ایک بدنما داغ ہے، جو ریاستی اداروں کی سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سانحہ 12 مئی کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کر کے تمام ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو جمہوریت، انسانی حقوق اور آئین پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو۔ بیان میں کہا گیا کہ جب تک اس خونریز سانحے کے مجرموں کا مکمل احتساب نہیں ہوگا، ملک میں جمہوریت، آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے دعوے محض نعرے ہی رہیں گے۔ بیان کے آخر میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے 12 مئی کے شہداء کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی حقوق، جمہوریت، صوبائی خودمختاری، آزاد عدلیہ، آئین کی حکمرانی اور انسانی آزادیوں کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی نے واضح کیا کہ آمریت، جبر، سیاسی دہشت گردی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی اور شہداء کی قربانیوں کو مشعلِ راہ بنا کر جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے گا۔
11/05/2026
#کوټه - د پښتونخوا سټوډنټس ارګنائزیشن تر نظارت لاندې سیمینار، چې موضوع یې “بابائے افغان عبدالرحیم خان مندوخېل؛ د جدید پښتون نېشنلزم باني” وه، د زونل سیکرټري وارث افغان په صدارت کښې په کوټه پریس کلب کښې ترسره شو۔
یاد سیمینار ته د پښتونخوا نېشنل عوامي ګوند سینئر ډپټي چیئرمېن رضا محمد رضا لالا، مرکزي سینئر سیکرټري سید عبدالقادر آغا ایډوکیټ، او مرکزي اطلاعات سیکرټري محمد عیسی روښان سیاسي، تنظيمي، عملي او نظریاتي ویناوې وکړې۔
زونل سیکرټري وارث افغان صدارتي وینا وکړه، او د نظامت چارې سینئر معاون سیکرټري ایمل څاروان ترسره کړې۔
په یاد سیمینار کښې د ګوند مرکزي سیکرټري ډاکټر بایزید روښان، صوبایي صدر نصرالله خان زیري، نائب صدر قیوم وکیل صاحب، صوبایي سیکرټري خوشحال کاسي، صوبائی ډپټي سیکرټریز پروفیسر اسد ترین او سلیمان بازئي، محمود ریاض ، د بوري ضلع سیکرټري مصطفی کمال کاکړ، او د سازمان صوبایي، علاقایي او یونټ ایګزیګټیوزو ګډون درلود۔
کوئٹہ - پشتونخوا نیپ کے اہتمام پر پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنما اور پشتونخوا میپ کے سینئر ڈپٹی چیئرمین، ممتاز پارلیمنٹیرین اور نامور تاریخ دان عبدالرحیم خان مندوخیل کی نویں برسی کا جلسۂ عام سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ خان روشان خطاب کر رہے ہے -
10/05/2026
کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیپ کے اہتمام پر پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنما اور پشتونخوا میپ کے سینئر ڈپٹی چیئرمین، ممتاز پارلیمنٹیرین اور نامور تاریخ دان عبدالرحیم خان مندوخیل کی نویں برسی کا جلسۂ عام کوئٹہ کے لیاقت پارک میں پارٹی چیئرمین اور قومی اسمبلی کے رکن خوشحال خان کاکڑ کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ جلسے سے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان اور صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ندا سنگر نے انجام دیے اور تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت مولوی فضل کریم نے حاصل کی۔
چیئرمین خوشحال خان نے ارواشاد عبدالرحیم خان مندوخیل کو ان کی عظیم قومی، سیاسی، ادبی اور صحافتی خدمات پر پشتون افغان کے غیور ملت اور تمام جمہوری قوتوں کی نمائندگی سے زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالرحیم مندوخیل نابغۂ دوران شخصیت کے مالک اور بلند پایہ کے سیاسی اور قومی رہنما تھے۔ ان کی خدمات سیاست تک محدود نہیں تھیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی خدمات تاریخی مقام رکھتی ہیں۔ جناب عبدالرحیم مندوخیل نے پشتون قومی سیاسی تحریک کو جدید عصر کے علمی و سائنسی نظریات پر منظم کرکے پشتون افغان قومی سیاست کی درست سمت کا تعین کیا۔ انہوں نے پشتونخوا وطن کی جمہوری قومی سیاسی قوتوں کو قومی وطنی پارٹی میں متحد و منظم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پشتونخوا میپ اور پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کی وحدت پر مبنی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا قیام ان کا ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ مرحوم رہنما نے پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی محکوم قوموں کے اتحاد پونم کی تشکیل میں رہنما کردار ادا کیا اور ملکی سطح پر ایم آر ڈی اور دیگر جمہوری محاذوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ بلند پایہ کے پارلیمنٹیرین تھے۔ انہوں نے محکوم قوموں اور ملک کے تمام عوام کے حق میں اٹھارویں آئینی ترمیم میں پُرافتخار کردار ادا کیا۔ ان کی تاریخی تصانیف اور ان کے تخلیق کردہ سیاسی، علمی اور نظریاتی لٹریچر قومی سیاسی تحریک کا قیمتی اثاثہ ہے۔ پشتونخوا نیپ اور قومی تحریک ان کے افکار اور تعلیمات کو قومی نجات کی جدوجہد میں مشعلِ راہ بنا کر ان کے ارمانوں کی تکمیل کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں پشتون افغان ملت کو بدترین صورتِ حال کا سامنا ہے۔ استعماری ریاستی اداروں نے پشتونوں کو اس ملک میں تمام بنیادی انسانی حقوق و اختیارات سے یکسر محروم کیا ہے اور ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لا مسلط کرکے تمام محکوم اقوام بالخصوص پشتونوں کو جبر و استحصال کا نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران پشتونخوا وطن اور افغانستان پر بدترین دہشت گردی کی ایسی حالت مسلط کی گئی ہے کہ پشتونخوا وطن کا کوئی شہر، گاؤں، مسجد، حجرہ، سکول، ہسپتال اور کوئی طبقہ و پیشہ محفوظ نہیں رہا۔ ہمارے وطن میں روزگار کے تمام امکانات تباہ کیے گئے ہیں اور کروڑوں پشتونوں کو اپنے تاریخی علاقوں سے بے دخل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ افغانستان کی تباہی و بربادی کے بعد ڈیورنڈ لائن پر تمام تجارتی راستوں کو بند کرکے پشتونوں کی معاشی قتلِ عام کا سلسلہ بے رحمی سے جاری ہے، حالانکہ دیگر اقوام کو تجارت کے تمام حقوق حاصل ہیں۔ ستم بالاۓ ستم یہ ہے کہ پشتونوں کو ملک کے دیگر صوبوں میں محنت مزدوری و جائز کاروبار کرنے کا حق بھی حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان پر مقدس دینِ اسلام کے نام پر طالبان کا افغان دشمن رجیم مسلط کیا گیا ہے جس کو تمام افغان عوام نے مسترد کیا ہے۔ ہم نے افغانستان میں مداخلت و جارحیت کی ہر استعماری پالیسی کے خلاف ہر وقت آواز اٹھائی ہے۔ استعمار گروں نے کل جس کو مجاہد بنایا تھا، آج دہشت گردی کے نام پر افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ جاری رکھی ہے۔ ہمارے حکمران ریاست کے خلاف جنگ کو اسلام مخالف قرار دیتے ہیں جبکہ افغانستان کی ریاست کے خلاف جارحیت کی ہر جنگ کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے قومی جذبے کے تحت امریکہ کی سپر طاقت کو قومی طاقت سے ناکام بنایا۔ ایران کی ریاستی صلاحیت اور میزائلوں نے ایران کا دفاع کیا ہے جبکہ افغانستان میں قومی اداروں اور قومی افواج کو ختم کرکے افغان عوام کو ایک بے بس قوم بنا دیا گیا ہے۔ افغانستان کی ملی استقلال، ملی حاکمیت اور سلامتی کے دفاع کے لیے لازم ہے کہ طالب رجیم افغانستان میں لویہ جرگہ کے ذریعے تمام ریاستی اداروں کو بحال کرکے افغان عوام کی نمائندہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان کڈوال عوام کے خلاف ملکی اور عالمی قوانین کے برخلاف بدترین غیر انسانی برتاؤ جاری رکھا گیا ہے اور پشتونخوا وطن کے تمام عوام کو افغان کڈوال تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ہر پشتون پر روزگار کے دروازے بند کیے گئے ہیں۔ ملک میں پشتون ٹرانسپورٹروں کے خلاف جابرانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جن تجارتی اشیا کی اسمگلنگ کے نام پر کروڑوں کی مالیت کے ٹرکوں اور بسوں کو ضبط کیا گیا ہے، ان تمام اشیا کی تجارت کا حق سندھ و پنجاب کو حاصل ہے۔ پشتون ہر قسم کے تجارتی سامان کا ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اجازت نہیں رکھتے جبکہ دیگر اقوام کو ٹیکس ادا کیے بغیر تجارت کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے معدنیات سے مالامال پہاڑوں اور زرخیز زمینوں کے ہزاروں مربع میل علاقوں کو غیروں کے نام الاٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پشتون دشمن اقدام کا کوئی قانونی اور آئینی جواز نہیں۔ پشتونخوا نیپ اپنے محبوب وطن کے قدرتی ذخائر کی الاٹمنٹ پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ اس سلسلے میں عید کے چوتھے دن برشور میں عوام کا ایک نمائندہ جلسۂ عام منعقد ہوگا اور اس کے بعد صوبے کی تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ باہمی مشاورت سے آئندہ کے لائحۂ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا -
10/05/2026
#کوته - د پشتونخوا نیشنل عوامي پارټۍ د جنوبي پښتونخوا صوبایي کمېټې غونډه دویمه ورځ هم د صوبایي صدر نصراللہ خان زیرې په صدارت کښې روانه دہ - غونډې ته د پارټۍ چیرمین او د قومي اسمبلۍ غړي ګران خوشال خان کاکړ، مرکزی سیکټری اطلاعات او نشریات محمد عیسئ خان روشان او نورو مرکزي او صوبایي مشرانو تفصیلي ویناوې وکړې۔
09/05/2026
کوټه: د پښتونخوا نیښنل عوامي پارټۍ د جنوبي پښتونخوا صوبایي کمېټې غونډه د صوبایي صدر نصرالله خان زیرې په صدارت کښې راونه ده .
د غونډې دروند مېلمه د پښتونخوا نیپ چیرمین او د قامي اسمبلۍ غړي خوشال خان کاکړ دې ، د غونډې په صداراتې مجلس کښې د پارټۍ سینیر ډیپټی چیرمین او پخواني سینیټر رضا محمد رضا، د پارټۍ سینیر سیکریټرې سید قادر آغا ایډوکیټ ،مرکزې سیکریټرې اطلاعات محمد عېسئ خان روشان ، مرکزي سیکریټریز چیرمین الله نور خان ،محترمه صاحبه بړېڅې، ډاکټر بایزېد روشان ، صوبایي نائب صدر عبدالقیوم ایډوکیټ ،صوبای ډپټې سیکریټرې محترمه عارفه صدېق صاحبه او صوبای ایګزېکټیو نور غړې شتون لرې ، په غونډه کښې صوبایي کمېټې درانه غړې په ګڼ شمېر ګډون لرې -
06/05/2026
تاریخ : 2026-05-04
ہندو باغ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پارٹی نہ صرف اپنے ملی و قومی اہداف کے حصول کے لیے بھرپور اور مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی بلکہ پشتون قومی ثقافت، اعلیٰ روایات، اقدار اور پشتون وطن کے تاریخی میلوں اور روایتی کھیلوں کو بھی بھرپور انداز میں زندہ و تابندہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و جمہوری جدوجہد کو پشتون قومی ثقافت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ہر قسم کی انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ قوم کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے منزلِ مقصود حاصل کی جا سکے۔ یہ بات انہوں نے کان مہترزئی کے خوبصورت اور تاریخی مقام پر منعقدہ “ملی شہید سور گل کند میلہ” کی شاندار اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس عظیم الشان اور تاریخی میلے کا افتتاح پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر رہنما سید قادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات عزیزی روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے ،مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان ، صوبای سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی اور پارٹی کے دیگر رھنماوں نے مشترکہ طور پر کیا، جبکہ اس موقع پر پارٹی کے دیگر مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ ایک طویل عرصے سے پشتونخوا وطن پر مصنوعی انتہا پسندی اور دہشت گردی مسلط کی گئی ہے، جبکہ ملک کے حکمرانوں کی جانب سے پشتون افغان ملت کے لباس، زبان، ثقافت اور طرزِ زندگی کو دانستہ طور پر دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پشتون افغان ملت کے قومی وجود، شناخت اور اعلیٰ انسانی، اسلامی اور پشتنی ثقافتی اقدار کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا، جو کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پشتون افغان ملت اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی بھی انتہا پسندی، دہشت گردی یا فرقہ واریت سے وابستہ نہیں رہی، بلکہ یہ قوم ہمیشہ اعلیٰ انسانی روایات، باہمی احترام، برداشت اور جمہوری اقدار کی علمبردار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ عظیم الشان اور تاریخی میلہ اسی حقیقت کا واضح اور عملی ثبوت ہے، جس کی بنیاد ایک قومی ہیرو (ملی شہید) نے دو دہائیوں قبل رکھی تھی اور اس تاریخی مقام کا انتخاب بھی خود کیا تھا۔ انہوں نے میلے میں ہر علاقے، ہر طبقے اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام کی بھرپور اور والہانہ شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پشتون قوم اپنی ثقافت، روایات اور قومی شناخت سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں روایتی کھیلوں میں نوجوانوں کی شرکت اور جوش و خروش اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ نئی نسل اپنی ثقافتی جڑوں سے مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امر کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا کہ میلے کے تمام انتظامات عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کیے، جو کہ اجتماعی شعور، باہمی تعاون اور قومی یکجہتی کی ایک بہترین مثال ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پشتون افغان ملت شدید مشکلات، قومی محکومی، قومی وحدت کی کمزوری اور سیاسی، معاشی و ثقافتی اختیارات سے محرومی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل سے نجات کے لیے منظم، مسلسل اور قربانیوں سے بھرپور سیاسی جدوجہد ناگزیر ہے۔ وسائل سے مالا مال سرزمین کے باوجود عوام کا غربت، بے روزگاری، بھوک اور کسمپرسی کا شکار ہونا ایک المیہ ہے، جس کا خاتمہ صرف ایک مضبوط اور منظم سیاسی تحریک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک مضبوط، نظریاتی اور عوامی حمایت یافتہ جماعت کی اشد ضرورت ہے، اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس قومی ذمہ داری کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے پشتونخوا وطن کے تمام باشعور اور غیور عوام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کو مزید مضبوط، فعال اور منظم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔ انہوں نے خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے ہر شعبے میں خواتین کو ان کے جائز حقوق دینا اور ان کے کردار کو تسلیم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پشتون ماؤں اور بہنوں نے ہر دور میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور زرغونہ انا اور ملالی جیسی عظیم شخصیات آج بھی اسی سرزمین سے جنم لے سکتی ہیں۔ آخر میں پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے میلے کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، مختلف ٹیموں کے کھلاڑیوں، انعام حاصل کرنے والوں اور شریک تمام عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ضلعی و تحصیل انتظامیہ اور پولیس کے افسران و اہلکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے میلے کے پرامن انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Quetta
87300