PkMap
Pashtunkhwa Milli Awami Party
Pashtunkhwa Map
مشر محمود خان اچکزئی کی پیشگوئی 24 گھنٹے کے اندر
میں محمود کی حیثیت سے پوچھتا ہوں کہ حکومت ہمیں واضح ترین الفاظ میں بتائے کہ Imran Khan سے ملاقات کب ہوگی؟ اور اُسے کب اُس کی مرضی کے ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟
ہم سیاسی کارکنان دیکھ رہے ہیں کہ یہ پنکی منکی جو ہورہی ہے، یہ آپ کی پارٹی کا ہاتھ مروڑنے کی سازشیں ہیں۔
ہم ان تین دنوں میں اکابرین کا اجلاس بلائیں گے۔ اگر حکومت کا یہی رویہ رہا، پھر سوموار کے دن یہ پارلیمنٹ نہ چلی یا کوئی ہنگامہ ہوا، تو اُس کے ذمہ دار آپ لوگ ہوں گے۔”
— اپوزیشن لیڈر، سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور چیئرمین Pashtunkhwa Milli Awami Party مشر محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں خطاب۔
03/05/2026
قائد حزب اختلاف سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان
چئیرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محترم مشر محمود خان اچکزئی۔
20/04/2026
#پښین کې باید دا خبره هر ملګری په یاد ولري چې ګوندونه د فېسبوک په شور او نعرو نه پیاوړي کېږي، بلکې د منظم تنظیم عملي مبارزې او قربانیو په زور ولاړ وي هغه کسان چې یوازې پر سوشل مېډیا ځانونه فعال ښيي د پښین د سیاسي تحریک لپاره هېڅ ګټه نه لري، بلکې کمزوري یې کوي اصلي ملګری هغه دی چې تنظیم وپېژني، د ګوند له اصولو پابندي وکړي او په میدان کې د خپل ولس لپاره ودریږي هغه کسان چې یوازې د موبایل تر شا انقلابيګر ځي خو په میدان کې نه لیدل کېږي، هغوی دې ځانونه غول نه کړي دا ډول منافقانه چلند نور د زغملو نه دی ګوند د قربانۍ نظم، او عملي مبارزې نوم دی نه د سوشل مېډیا د شهرت بازار.هر څوک چې د تنظیم له اصولو سرغړونه کوي یوازې پر فېسبوک سیاست کوي او د عمل له میدان څخه تښتي، هغه به د تحریک د کمزورۍ مسوول ګڼل کېږي او پر ضد به یې بېله کومې نرموۍ سخت تنظیمي ګامونه پورته شي
اصلي ملګری یوازې هغه دی چې
د تنظیم هر اصل ته بېچون و چرا غاړه کېږدي
د ګوند د فیصلو عملي تطبیق وکړي
په سختو حالاتو کې هم د خپل ولس لپاره په میدان کې ودرېږي دا حقیقت باید هر څوک ومني
سیاسي تحریک د قربانۍ نظم، اخلاص او عملي مبارزې نوم دی نه د مجازي نړۍ د شهرت دسیسه.
د خپل ولس لپاره په میدان کې د ستونزو پر وړاندې ودرېږي نه د پوسټونو تر شا پټ شي
دا تحریک د احساساتو او نمایشي سیاست ځای نه دی دا د عمل، قربانۍ او وفادارۍ سنګر دی.
11/04/2026
اسلام آباد (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن حالات میں ہمارا خطہ ہے ہمیں ایک دوسرے کی جانب انگشت نمائی بند کرنی چاہیے،
میں نے درخواست کی تھی کہ ہمارے اکابرین محترم زرداری صاحب، نواز شریف صاحب، شہباز بھائی، عمران خان صاحب 70کے عشرے میں ہیں کم سے کم جمہوری نکات پر متفق ہوکر اپنی پارلیمنٹ کی طرف آئیں۔
پاکستان کو جو موقع ملا ہے کوئی پاگل ہوگا کہ وہ اس پر خوش نہ ہو۔ اختلافات بہت زیادہ ہیں ہماری میٹنگ تھی میٹنگ میں سخت ترین مخالفین ہیں تحریک انصاف کے ساتھ واقعی بہت بُرا ہوا ہے اُن کا بھی ان حالات میں یہ بیان ہے کہ ہم بحیثیت اس ملک کے رہنے والوں کے آپ کے ساتھ خیر اور نیکی کے کام میں غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔قرآن کریم کا بھی حکم ہے خیر اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔
تو یہ خیر اور ضروری کام ہے اس کام میں ہم غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بین السطور ٹرمپ نے کہہ دیا ہے کہ میں اپنے مقاصد حاصل کرچکا ہوں اس کی انا کا مسئلہ ہے اُن کا خیال تھا بلکہ ہم سب کا خیال تھا اگر چہ میرا نہیں تھا کہ خدانخواستہ ایران ایک ہفتہ کے اندر شکست سے دوچار ہوکر تسلیم ہوجائے گا۔
ایران نے تمام اسلام کی لاج رکھی ہے۔
میر تقی میر کا شعر ’لے سانس ابھی آہستہ کے نازک ہے بہت کام‘۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے اس وجہ سے امریکن صدر کو دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ ایک مثبت نداز میں بات کرنی چاہیے یہ سٹریٹ فائٹرز کی طرح کہتا ہے کہ تہذیبوں کو ختم کرونگا،قیمات برپا کرونگا۔خدا کو مانو دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ پھر ہٹلر اور سولینی کو لوگ کیوں بُرا بھلا کہتے ہیں؟ ایک صدر بیٹھ کر یہ کہے کہ میں نے شہباز شریف،نواز شریف، زرداری کو مارنا ہے جب مار دیا کہتا ہے کہ میں نے آج مار دیا اس قسم کے لوگوں سے واسطہ ہے شہباز اینڈ کمپنی کا۔
اس کے ساتھ بہت احتیاط کرنا ہوگا میں نے کل بھی کہا تھا ہمارے دوست ہم سے پیسہ واپس لے رہے ہیں اُن کا حق ہے۔
جناب سپیکر ہم ایک ایٹمی ملک جو جہاز، ٹینک بناتے ہیں جس کے ساتھ بہترین فوج ہے،25کرورڑ عوام کی بہترین آبادی ہے ہم اتنے گئے گزرے کیوں ہیں کہ ہم لوگوں کو ہاتھ پھیلا کے کہیں۔
میرا ایمان ہے پاکستان کے عوام پر ہم بھروسہ کریں اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں پالیسیوں کے بننے کا مرکز پارلیمان ہو۔ یہ ملک دنیا جہاں کی نعمتوں سے بھرا پڑاہے پھر ہم کیوں بھیک مانگتے ہیں اس لیئے کہ ہم نے اپنی عوام پر بھروسہ نہیں کیا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خواجہ آصف بھائی مذاکرات جاری رکھیں شاید امریکہ نے ہم پہ اس لیئے بھروسہ کیا ہے کہ اُنہیں یقین ہے کہ گڑ بڑ نہیں ہوگی جو میں کہنا چاہتا ہوں وہاں تک پہنچ جائے گا۔
ایرانیوں نے بھی بھروسہ کیا ہے اور حالات نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ یہ آسمان سے ہمیں موقع تحفہ میں ملا ہے ہم نے بڑے طریقے سے اس کو نبھانا ہے۔ میں پھر درخواست کرتا ہوں پارلیمنٹ کی طرف آئیں عوام کی طرف آئیں جو کچھ پچھلے الیکشن میں ہوا آپ بھی جانتے ہیں ہم بھی جانتے ہیں۔
کوششیں کی گئیں کہ عمران خان کو تھوڑا جائے وہ بہادر آدمی نہیں ٹوٹا ڈٹا رہا ابھی اُس کو یہاں تک نہ پہنچائیں کہ اُ س کے لیے اور مشکلات پیدا کی جائیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان اس ملک کا رہنے والا ہے۔ سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ علامہ راجہ ناصر عباس ہم بھی اُس شریف آدمی سے جیل میں ملیں گے جن باتوں پر کوئی اور ان کو راضی نہ کرسکا ہمیں یقین ہے ہم ان کو راضی کردینگے اُس کو ناقابل قبول یا ناپسندیدہ شخص پرسنل ڈکلیئر کرنا اس ملک اور اس کے عوام سے دشمنی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں ایک پشتون آدمی ہوں پشتونخوا وطن میں پچھلے ایک ہزار سال سے یا اس سے بھی زیادہ جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں سیاسی، مذہبی یا آزادی کی تحریکیں اتنی پاپولر سپورٹ خیبر پشتونخوا میں کسی تحریک کو نہیں ملی جتنی عمران خان کو ملی ہے۔
اس سے فائدہ اُٹھائیں آپ ہمیں حکم دیں کہ پاکستان کو ایک موقع ملا ہے ہم آپ کی غیر مشروع حمایت کررہے ہیں لیکن مہربانی کریں پشتونخواوطن اور پاکستان کے سب سے مشہور لیڈر کو جیل میں ڈالنا اُس کو تکلیف دینا جرم ہے۔
آپ اس طرف توجہ دیں ایک آدمی ہے آپ کا ہم پلہ ہے آپ اپنا آدمی ہے میں پشتونخو ا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے بھی تحریک تحفظ آئین پاکستان کی طرف بھی درخواست کرتا ہوں کہ عمران خان کو رہا کریں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خواجہ آصف سے میری درخواست ہے الفاظ میں تھوڑی سے احتیاط کریں۔
آپ کا دوست چین آپ سے پرسوں کہہ چکا ہے کہ ہمارے فلاں شہر میں جو افغانستان کے متعلق میٹنگ ہوئی ہے اُس کے تناظر میں افغانستان سے تعلقات ٹھیک کرو جلد بازی میں آپ لوگ کچھ بھی کہہ جاتے ہو۔ یہ ہمارا خطہ ہے افغانستان، ایران، چین ہمارے ہمسائے ہیں انہیں ہم بدل نہیں سکتے اور نہ ہمسائے بدلے جاسکتے ہیں۔
شہباز شریف سے کہناچاہتا ہوں کہ افغانستان کے متعلق جو بھی آپ کے خدشات ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذریعے گول میز کانفرنس بلائیں آمنے سامنے بیٹھ کے ایک دوسرے کے خدشات کا ازالہ کریں اور اپنے خدشات دور کریں۔ یہ سارے مسئلے حل ہو جائینگے۔
آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں ہم سب آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں تھوڑی سے احتیاط کی ضرورت ہوگی اس معاہدے میں لبنان پر بمباریاں جاری ہیں اس معاہدے میں غزہ کے متعلق مشکلات ہیں ہمیں بیدار رہنا ہوگا ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں خدا آپ کو کامیاب کرے۔زندہ آباد
10/04/2026
#پښين
هر بچئ په سکول کښی
هر استاذ په کلاس کښی
په هر کلی کښی سکول غواړو
نېټه 12 اپريل
د اتوار په ورځ
پښین بازار (DC کچارئ مخ څخه به روانېږی)
وخت سهار 10:00 بجې
پښتونخوا سټوډنټس ارګنایزېشن ضلع پښین
10/04/2026
نن د پښتونخوا سټوډنټس آرګنائزیشن کلاسیف الله لخوا په شار علاقه کی یو ایجوکیشن ريلی ترسره سوه. چي په زيات شمېر ماشومانو ګډون درلود.
هر بچی په سکول کې
غواړو یې غواړو یې
هر استاد په کلاس کې
غواړو یې غواړو یې
په هر کلي کې سکول غواړو
غواړو یې غواړو یې
09/04/2026
نن ورځ د پښتونخوا سټوډنټس ارګنائزیشن (PSO) ضلع قلعه سیف الله له لوري د سکول داخلې مہم په لړ کې د بندات میرزي په علاقه اول کې یوه ډېره تاریخي او بریالۍ ریلي ترسره شوه.
دغه ریلي د تعلیم د اهمیت د عامولو، د زدهکوونکو د شعور د لوړولو او د ځوان نسل د روښانه راتلونکي لپاره یو مهم ګام وو.
🎙 صدارت:
پي ایس او ضلعي صدر حمدالله ګران
نيټه : ۹/۴/۲۰۲۶
🎤 سټیج چارې:
پي ایس او ضلعي مرستيال سېکټري نظر افغان
🎙 ويناوال:
پي ایس او ضلعي صدر حمدالله ګران،پي ایس او ضلعي مالیات سېکټري ابراهيم خان او تحصیل ډيپټي سېکټري اکرم الله ويناوي وکړې
📢 په دې موقع ويناوالو د تعليم پر اهميت، د سکول داخلې پر ضرورت او د ځوانانو پر ذمه واريو رڼا واچوله او ټولو ته يې د تعليم د پراختيا پيغام ورکړ.
پښتونخوا اسټوډنټس آرګنایزیشن
و هر چاته په خپل رنګ کې څرګندېږم
آئینــــــــې غوندې بې رویه بې ریا یم
سب کا خیال تھا کہ ایران ہفتے کے اندر گھٹنے ٹھک دئےگا۔ لیکن جناب سپیکر! ایران نے پورے اسلام کی لاج رکھی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران
اپوزیشن لیڈر
مشر محمود خان اچکزئی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کو خطے کے امن کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین اور افغانستان کے ساتھ مل کر سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں، لہٰذا تمام فریقین کو مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.