Azmat Akbar
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Azmat Akbar, Public Figure, UG 350 Deans Trade Canter Peshawar, Peshawar.
Azmat Akbar, a youth activist, a professional businessman,a brave traveler, a warm hearted social worker, a trainer, an explorer and a passionate tourist being a travel guide himself.
24/06/2026
چین اور #پاکستان کو ملانے والی قراقرم ہائی وے کے ری لوکیشن منصوبے کا سب سے طویل ٹنل ’’لاگرو بی‘‘ کو مکمل طور پر کھود لیا گیا، 1,403 میٹر طویل یہ ٹنل چینی معیار کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہے، جبکہ یہ منصوبہ چائنا سول انجینئرنگ کنسٹرکشن کی زیر نگرانی مکمل کیا جارہا ہے.
کوہستان:
قراقرم ہائی وے ون پر 1.4 کلومیٹر طویل ٹنل کی تعمیر مکمل، ٹنل سے قراقرم ہائی وے کو داسو پروجیکٹ سے الگ کر دیا گیا، گلگت بلتستان سفر مزید آسان ہو
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰 شالا وسدا روے میرا سوھنا پاکستان 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
شبقدر چوک میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ الرحمن نعیم الرحمن صاحب کے لائیو خطاب کے مناظر ❤️🙌
12/06/2026
بیرقدار نظریہ
دنیا اس وقت عسکری تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ یورپ اپنی دفاعی حکمت عملی بدل رہا ہے، امریکہ اپنے عالمی فوجی کردار کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے، جبکہ متعدد ممالک نئے دفاعی شراکت دار تلاش کر رہے ہیں۔ اس بدلتے منظرنامے میں ترکی کی دفاعی صنعت ایک بڑی قوت کے طور پر ابھری ہے۔
2000ء میں ترکی کی دفاعی برآمدات صرف 25 کروڑ ڈالر تھیں، لیکن 2025ء تک یہ بڑھ کر 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یعنی صرف 25 برس میں تقریباً 40 گنا اضافہ۔ 2026ء میں استنبول میں منعقد ہونے والی "ساہا" دفاعی نمائش میں 26.5 ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے جن میں 8 ارب ڈالر براہ راست برآمدات پر مشتمل تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ترکی اب صرف ہتھیار نہیں بلکہ مکمل دفاعی نظام برآمد کر رہا ہے۔
ترکی کے عسکری عروج کی اصل بنیاد وہ تبدیلی ہے جسے مغربی ماہرین نے "بیرقدار نظریہ" کا نام دیا ہے۔ 2020ء میں شام کے صوبہ ادلب میں ترک ڈرونز نے ٹینکوں، توپ خانے اور فضائی دفاعی نظاموں کو مؤثر انداز میں تباہ کر کے ثابت کیا کہ جدید جنگ میں ڈرون محض معاون ہتھیار نہیں بلکہ فیصلہ کن قوت بن سکتے ہیں۔ پھر انہی ترک ڈرونز کی مدد سے بشار کا بوریا بستر گول ہوگیا۔
اس نظریے کی سب سے بڑی کامیابی ناگورنو کاراباخ کی جنگ میں سامنے آئی، جہاں تقریباً 30 سال پرانا تنازع صرف 44 دن میں آذربائیجان کے حق میں تبدیل ہو گیا۔ ترک ساختہ بیرقدار TB2 ڈرونز نے اس جنگ میں مرکزی کردار ادا کیا اور دنیا بھر کی فوجوں کو جنگ کے نئے اصولوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔
بعد ازاں یوکرین میں بھی بیرقدار ڈرونز نے شہرت حاصل کی، جبکہ حال ہی میں سوڈان میں ترک ساختہ آقنجی ڈرون نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے ایک دشمن ڈرون کو تباہ کر کے "ڈرون بمقابلہ ڈرون" فضائی جنگ کا نیا باب کھول دیا۔
ترکی کی دفاعی صنعت اب صرف ڈرونز تک محدود نہیں رہی۔ پانچویں نسل کے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے "کآن"، سپر سونک تربیتی جیٹ "حرجیت"، "قزل ایلما"، "آقنجی"، "ٹی بی 3" اور "انکا 3" جیسے جدید پلیٹ فارم اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بحری میدان میں "ٹی سی جی اناطولو" دنیا کا پہلا خصوصی ڈرون بردار بحری جہاز قرار دیا جاتا ہے جبکہ "التائی" ٹینک، "حصار" اور "سیپار" فضائی دفاعی نظام اور "گوک دوغان" و "بوز دوغان" میزائل پروگرام بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
حال ہی میں ترکی نے اپنے بین البراعظمی ہائپرسونک بیلسٹک میزائل "یلدرم خان" (رینج تقریباً 6000 کلومیٹر) کی نمائش بھی کی، جو اس کے طویل فاصلے کے دفاعی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
آج ترکی صرف اپنی سرحدوں کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ عالمی عسکری سوچ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ "بیرقدار نظریہ" دراصل اس حقیقت کا نام ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت، ڈرونز، جدید سینسرز اور نیٹ ورک پر مبنی جنگی صلاحیتیں روایتی ٹینکوں اور جنگی طیاروں جتنی بلکہ بعض اوقات ان سے بھی زیادہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔(الجزیرہ)
11/06/2026
جماعتِ اسلامی ہار رہی ہے یا ہم؟
پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو جماعتِ اسلامی کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس کی دیانت داری، نظم و ضبط اور نظریے کی تعریف کرتے ہیں، مگر جب ووٹ ڈالنے کا وقت آتا ہے تو اکثر کسی اور کو منتخب کر لیتے ہیں۔
یہ صرف ایک سیاسی حقیقت نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک عجیب نفسیات بھی ہے۔
جماعتِ اسلامی ان چند جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جن پر بڑے مالی سکینڈلز کے الزامات نہیں لگتے۔ اس کے کارکن نظریاتی ہیں، تنظیم مضبوط ہے اور قیادت نسبتاً صاف دامن سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود انتخابی نتائج ہمیشہ اس کے حق میں نہیں آتے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
شاید اس لیے کہ ہمارے ہاں ووٹ ہمیشہ نظریے کی بنیاد پر نہیں پڑتا۔ ہم اکثر اس امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں جو ہماری برادری سے ہو، جس کے پاس اثر و رسوخ ہو، یا جو یہ تاثر دے سکے کہ وہ جیتنے والا امیدوار ہے۔ ہم کردار سے زیادہ طاقت کو دیکھتے ہیں اور اصول سے زیادہ فائدے کو۔
یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر اچھے لوگوں کی تعریف تو کرتے ہیں، لیکن انہیں اقتدار تک پہنچانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بہت عام ہے: "اچھا آدمی سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔"
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس جملے کو حقیقت مان لیا ہے۔ پھر ہم اپنا ووٹ بھی اسی حساب سے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی لوگ بار بار منتخب ہوتے ہیں جن کے خلاف ہم خود شکایت کرتے رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم واقعی بہتر نظام چاہتے ہیں تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم وقتی فائدے چاہتے ہیں یا اصولی سیاست۔
یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ہر جماعت کو یکساں مواقع نہیں ملے۔ بعض جماعتوں کو زیادہ کوریج ملی، بعض کو کم۔ بعض کے لیے راستے آسان بنائے گئے اور بعض کے لیے مشکلات پیدا کی گئیں۔ لیکن آخرکار کوئی بھی سیاسی قوت عوامی حمایت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔
اس لیے جماعتِ اسلامی کی انتخابی ناکامی پر گفتگو کرتے ہوئے شاید ہمیں صرف جماعت کو نہیں، خود کو بھی دیکھنا چاہیے۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم کن لوگوں کو منتخب کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم کن لوگوں کو منتخب نہیں کرتے۔
کبھی کبھی قوموں کے مسائل ان کے حکمرانوں سے کم اور ان کی ترجیحات سے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔
اور شاید یہی وہ سوال ہے جس پر ہمیں سب سے زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
20/05/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر گوگل کے سی ای او ٹم کک اور ایکس کے سی ای او ایلون مسک کے درمیان بیٹھی یہ خاتون کون ہیں؟ تفصیلات جان کر آپ حیران رہ جائیں گے
آج کی دنیا میں طاقت کی کئی شکلیں ہیں۔ کسی کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، کسی کے پاس ڈالر کی طاقت، کسی کے پاس میڈیا کا شور، اور کسی کے پاس سیاسی اثرورسوخ لیکن ایک طاقت ایسی بھی ہے جو خاموشی سے قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ یہ طاقت صنعت، محنت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور اجتماعی قومی وژن کی ہے۔ آج اگر چین دنیا کے سامنے ایک معاشی دیو بن کر کھڑا ہے تو اس کے پیچھے صرف حکومت نہیں، بلکہ کروڑوں عام چینی شہریوں کی دہائیوں پر محیط محنت، نظم و ضبط اور قومی ترجیحات کی کہانی ہے۔
دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملتی ہو جہاں ایک ملک نے تقریباً 77 سے 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر متوسط طبقے کا حصہ بنا دیا ہو۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ کروڑوں گھروں میں جلنے والے نئے چراغوں، بھوک سے نکلنے والے بچوں، تعلیم حاصل کرنے والی نسلوں اور فیکٹریوں سے نکل کر عالمی بورڈ رومز تک پہنچنے والی کہانیوں کا سفر ہے۔غالباً 2008 میں راقم نے جس سائینو ماڈل پر تحاریر لکھیں آج اسکے عملی اثرات ہم سب کے سامنے ہیں لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئ بلکہ شروع ہوئ ہے۔
ژو قونفی انہی کہانیوں میں سے ایک ہیں۔
وہ خاتون جو امریکی ٹیکنالوجی دنیا کے دو بڑے ناموں، ٹم کُک اور ایلون مسک، کے درمیان بیٹھی دکھائی دیں، کبھی چین کے ہونان صوبہ کے ژینگ ژن کے ایک غریب گاؤں کی لڑکی تھیں۔ انہوں نے غربت کے سبب پندرہ برس کی عمر میں تعلیم چھوڑ دی۔ فیکٹریوں میں شفٹیں کیں، دھول، گرمی اور مشقت دیکھی۔ مگر چین کے بدلتے معاشی ماڈل نے ان جیسی لاکھوں خواتین کو صرف مزدور رہنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ انہیں آگے بڑھنے، کاروبار کرنے اور عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کا موقع دیا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں غریب آدمی کی پوری زندگی صرف زندہ رہنے کی جنگ میں گزر جاتی ہے۔ اس کے پاس خواب دیکھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ لیکن چین نے اپنے لوگوں کو صرف سبسڈی نہیں دی، بلکہ انہیں صنعتوں، انفراسٹرکچر، برآمدات، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ سے جوڑا۔ ایکو سسٹم فراہم کیا جس نے برابری کی بنیاد پر پوری قوم کو مواقع فراہم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹے اپارٹمنٹ میں شیشے پر پرنٹنگ کا کام کرنے والی لڑکی بعد میں”لینز ٹیکنالوجی “ جیسی ملٹی بلین ڈالر کمپنی کی مالکن بنیں، اور پھر وہ وقت آیا جب ایپل جیسی کمپنی بھی اسکی محتاج ہوگئ۔پاکستان نے پانڈا بانڈ کی مدد سے 8 ارب یوآن اکٹھا کیا جبکہ لینز ٹیکنالوجی کم از کم 75 ارب یوآن کا سالانہ کاروبار کرتی ہے۔
یہ تصویر صرف ایک عشائیے کی تصویر نہیں ہے۔ یہ دراصل عالمی طاقت کے توازن کی بدلتی ہوئی علامت بھی ہے۔
ایک طرف امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندے ہیں، جبکہ دوسری طرف چین کا وہ ماڈل کھڑاہے جس نے کروڑوں غریب لوگوں کو عالمی معیشت کا فعال حصہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ اگر سمت درست ہو تو خوشحالی و ترقی چند سالوں سے زیادہ کی مسافت پر نہیں کھڑی۔ مغرب نے طویل عرصے تک چین کو صرف”سستی لیبر “ کے طور پر دیکھا، لیکن آج وہی چین مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، چِپس، خلائی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں دنیا کو چیلنج کر رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین نے اپنی ترقی کو صرف چند شہروں تک محدود نہیں رکھا۔ ہزاروں دیہات، سینکڑوں غریب اضلاع اور کروڑوں دیہی باشندے اس تبدیلی کا حصہ بنے۔ یہ وہ پہلو ہے جسے اکثر ہمارے خطے میں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ ہم ترقی کو صرف بڑے شاپنگ مالز، سڑکوں یا ہاؤسنگ سوسائٹیز سے ناپتے ہیں، جبکہ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جو غریب آدمی کی زندگی بدل دے۔
چین کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں مسائل ختم ہوگئے ہیں۔ وہاں بھی معاشی دباؤ ہے، کم آمدنی والے طبقات موجود ہیں، اور سخت ریاستی کنٹرول پر تنقید بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ چین نے غربت کے خلاف جنگ کو قومی مشن بنایا، اور پھر پوری ریاستی مشینری کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
آج دنیا کے کئی ممالک”نیٹ ورکنگ “،”برانڈنگ “ اور”موٹیویشنل تقریروں “ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جبکہ چین نے خاموشی سے فیکٹریاں لگائیں، بندرگاہیں بنائیں، مزدوروں کو تربیت دی، انفراسٹرکچر کھڑا کیا اور اپنے لوگوں کو عالمی معیشت میں جگہ دلائی۔
ژو قونفی کی کہانی دراصل ایک فرد کی نہیں، ایک نظام کی کہانی ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ایک ریاست اپنے عوام کو مواقع دیتی ہے تو فیکٹری فلور پر کام کرنے والی لڑکیاں بھی ایک دن عالمی طاقتوں کے درمیان بیٹھتی ہیں، اور دنیا کے امیر ترین لوگ ان کی کمپنیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
قومیں نعروں سے نہیں، سمت سے بنتی ہیں.
( سعید اقبال کی وال سے کاپی)
20/05/2026
اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔
دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے، جب سلیم 10 سال کا تھا۔
لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے "جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔" کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔
رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، "سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔"
سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، "جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟"
سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔
18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، "بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔"
سلیم نے کہا، "امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔"
یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔
گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی — صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔
لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، "سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔"
5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔
آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔
سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، "بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔"
لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔
سلیم کہتا ہے، "نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے
15/05/2026
ٹرمپ گیلیم اور لیتھم کی خریداری کے لیے بے چین
صدر ٹرمپ شاپنگ لسٹ بھی لائے ہیں اور سرمایہ کاری کمپنیوں کے سربراہ بھی ساتھ ہیں
آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہونی چاہیئے چینی صدر
تائیوان پر محتاط رہیں ٹرمپ کو چین کا مشورہ
مذاکرات کا پہلا دور ہوگیا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے تائیوان کا مسئلہ نہیں اٹھایا ۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں تائیوان کا نام تک نہیں آیا دیگر ذرائع کے مطابق چینی صدر نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ وہ تائیوان کے بارے میں بہت احتیاط کریں۔
دنیا کے دو بڑوں کے درمیان ملاقات میں عالمی کشیدگی کے مقامات پر بات ہوگی جس میں ایران امریکا جنگ شامل ہے ۔ ایران کے ایٹمی پروگرام پر چین کا موقف زیادہ مختلف نہی چین کا ا واضح موقف ہے کہ جنگ ختم ہونی چاہئے اور آبنائے ہرمز سب کے لئے کھلی ہونی چاہیئے تجارت سرمایہ کاری سب زیر غور آئیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی شاپنگ لسٹ پر ایسا کیا ہے جو صرف چین ہی فراہم کرسکتا ہے
یاد ہوگا کی مئی کی جنگ میں پاکستانی ہوابازوں نے بھارتی طیاروں کو اندھا بہرا گونگا کرکے بقول صدر ٹرمپ 11 جہاز مار گرائے تھے ۔۔۔۔یہ کھیل صدر ٹرمپ نے دیکھا۔۔ ان کے پاس بھی اسٹیلتھ طیارے ہیں وہ کچھ دھاتیں بیجنگ سے خریدنے گئے ہیں جو طیاروں کو ایک طرف تو نظروں سے اوجھل بھی کردیتی ہے بلکہ فائٹر کو مضبوط بھی کرتی ہے اس کی مدد سے تیار میزائل دو سو میل دور طیارے کو بھی مار گراتا ہے ۔ یہ کام جے 10 سی نے کیا لیکن کہتے ہیں جے ایف 17 بلاک 3 بہت خطرناک ہوگا ۔
۔اس دھات کا نام ہے جس پر چین کی اجارہ داری ہے gallium
نوے فیصد گیلیم چین کی معدنیات کا حصّہ ہے کاک پٹ اور ائر ٹو ائر میزائل ہی نہیں اواکس اور ریڈار میں بھی یہ استعمال ہوتی ہے اب فرض کریں کہ ہم نے اس کا استعمال کیا تو گیلییم کے استعمال کے بعد شکل یہ بنی
سیٹلایئٹ > اواکس > ریڈار > فائٹر
بھارت میں اس میں دو فیکٹر موجود نہیں تھے
چینی جے ایف 35 اسی میٹل کے ذریعے سو فیصد سے زیادہ اسٹیلتھ اور ناقابل تسخیر بنایا گیا ہے کہتے ہے چین چھٹی نسل کا طیارہ بھی تیار کررہا ہے ۔
صدر ٹرمپ گیلیم کے ساتھ ساتھ لیتھم اور دوسری دھاتوں میں بھی بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں
( گیلیم کے بارے میں معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کی گئیں )
ناصر چغتائی
08/05/2026
جمعہ مبار ک
درود پاکﷺ ، سورة کہف
اور مسنون سنتوں کا اہتمام کریں
23/04/2026
حجاز ریلوے عثمانی خلافت کا ایک زبردست پلان تھا،
حجاز ریلوے کا یہ پلان ترکی اور عرب دنیا کو جوڑنے والا پلان تھا!
لیکن 1917-1918 میں عربوں کی ناعاقبت اندیشی اور انگریزوں کی سازشوں کے نتیجے میں یہ پورا پروجیکٹ تباہ کردیا گیا تھا!
اب، سو سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے بعد،
ایک بار پھر ترکی اور سعودی عرب اس متفقہ نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حجاز ریلوے دونوں کی، بلکہ پورے خطے کی ضرورت ہے!
ابھی ایک خبر دیکھی اور ساتھ ہی تصویر میں موجود نقشہ بھی دیکھا، کہ؛
اس سال یعنی 2026 کے آخر تک حجاز ریلوے کی پلاننگ مکمل ہوجائے گی!
یعنی جو کام 100 سال سے بھی پہلے ہوجانا چاہیے تھا، وہ کام اب شروع کیا جارہا ہے!
حقیقت یہ ہے کہ عربوں نے مغربی دنیا کی غلامی کے نتیجے میں صرف اور صرف اپنا اور اسلامی امت کا نقصان کیا ہے!
غلامی کا یہ سلسلہ جس قدر تیزی سے ختم ہوگا، اسی قدر تیزی کے ساتھ امت کے حالات میں تبدیلی آئے گی، ان شاء اللہ
تحریر: ابوالاعلی سید سبحانی
23/04/2026
*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔
کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔
اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔
تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔
اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ سارہ قریشی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔
سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔ اب بات کرتے ہیں تمہاری۔ ہاں تمہاری۔ جو یہ پوسٹ پڑھ رہی ہو۔ اسکول میں ہو، کالج میں ہو، یا یونیورسٹی میں۔ تمہارے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا: سارہ کی طرح لیب کا راستہ۔ رات دس بجے گارڈ کے طعنے سننا، مگر انجن بنا کر نکلنا۔ دوسرا: انسٹاگرام کا راستہ۔ ریل بنانا، لائک گننا، اور دس سال بعد پچھتانا کہ “کاش میں نے بھی کچھ کر لیا ہوتا”۔ سارہ تمہیں بتا رہی ہے کہ مکینیکل انجینئرنگ لڑکوں کا فیلڈ نہیں ہے۔ R&D پاکستان میں نہیں ہو سکتی یہ جھوٹ ہے۔ جیٹ انجن ہم نہیں بنا سکتے یہ بہانہ ہے۔ اس نے کر کے دکھا دیا۔ اب بال تمہارے کورٹ میں ہے۔ تمہارا باپ سائنسدان نہیں ہے؟ سارہ کا تھا۔ تم فائدہ اٹھاؤ۔ اپنے بھائی کو، والد کو، استاد کو اپنا پارٹنر بناؤ۔ ٹیم بناؤ۔ سارہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے والد مسعود لطیف قریشی اس کے کو-فاؤنڈر ہیں۔ باپ بیٹی نے مل کر دنیا ہلا دی۔ تم بھی کسی کا ہاتھ پکڑو۔ اور سب سے ضروری بات: مسئلہ ڈھونڈو۔ رونا بند کرو۔ دنیا گلوبل وارمنگ سے رو رہی تھی۔ سارہ نے انجن بیچ کر اربوں بھی کمائے اور دنیا بھی بچا لی۔ تمہارے گاؤں میں پانی کا مسئلہ ہے؟ سولر پمپ بناؤ۔ لوڈ شیڈنگ ہے؟ بیٹری بناؤ۔ بے روزگاری ہے؟ ایپ بناؤ۔ بہانہ مت بناؤ۔ سارہ کے پاس ہزار بہانے تھے۔ “میں لڑکی ہوں” سب سے آسان تھا۔ اس نے استعمال نہیں کیا۔ تم بھی مت کرو۔
2026 ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے دس لاکھ لوگوں کو AI سکھائیں گے۔ مگر AI سے پہلے ایرو اسپیس ہے۔ جیٹ انجن ہے۔ ہارڈ ویئر ہے۔ اگر ہم نے سارہ جیسی دس لڑکیاں اور پیدا نہ کیں، تو کل ہم AI بھی باہر سے خریدیں گے، انجن بھی، اور جہاز بھی۔ اور ہماری بیٹیاں ایئر ہوسٹس بن کر ان جہازوں میں چائے سرو کریں گی جو ہماری ہی کسی بہن نے ایجاد کیے ہو سکتے تھے۔ فیصلہ ابھی کرو۔ یہ پوسٹ اس لڑکی کو بھیجو جو کہتی ہے “مجھ سے نہیں ہو گا”۔ اس کے ماتھے پر مارو یہ پوسٹ۔ اسے بتاؤ کہ NUST کی اس کلاس میں ساٹھ لڑکوں کے سامنے ایک سارہ کھڑی ہوئی تھی۔ آج پوری دنیا اس کے سامنے کھڑی ہے۔ تم بھی کھڑی ہو سکتی ہو۔ شرط صرف ایک ہے: کلاس کا راستہ مت پوچھو، کلاس کا راستہ بناؤ۔ اور جب انجن بن جائے تو دنیا کو بتانا مت بھولو کہ “ہاں، میں پاکستان کی بیٹی ہوں۔ اور میں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا”۔ کمنٹ میں “انجن” لکھ کر اعلان کرو کہ اگلی سارہ قریشی تم ہو۔ میں گن رہا ہوں۔ پاکستان گن رہا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000