Bushehra
..
رات کے وقت معمول کے مطابق بوشہرہ پر راکٹ حملے ایک بار پھر ضلع کُرم کو آگ کی لپیٹ میں لے گی
(إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)
خبر غم!بوشہرہ یوتھ آرگنائزیشن کے صدر عابد خان بنگش کی والدہ ماجدہ وفات پا چکی ہے مرحومہ کی نماز جنازہ کی مقررہ وقت بعد میں طے کیا جائے گا
بوشہرا نے انتظامیہ کے مطابق جنگ بندی کا اعلان کیا جب پولیس اور ایف سی کی نفری بشومول اےسی مورچوں میں ڈپلوائمنٹ جاری تھی تو زینوبیون کے دہشتگردوں نے sniper سے فائرنگ کر کے اےسی کو گولی لگ گئی AC تاحال بوشہرا کے ہسپتال میں ہے اور شدید زحمی حالت میں
آج ایک بار پھر تہران طوری جیت گیا اور امن ہار گیا
😢😢
AN ANALYSIS OF THE WAR ON BESIEGED BUSHEHRA
According to some sources, this time the war and militarization imposed on Bushehra were the worst in history, but the morale of the Sher-e-Dil Ghazis of Bushehra was the highest. Along with the terrorist groups of Zainabyun, Tehreek-e-Hussaini, Mehdi Militia, and Anjuman-e-Hussainia, this time a new front that has emerged was that of former federal minister Sajid Hussain Toori. Who regularly gathered the armies in Ahmadzai Imambara and tried to wage a decisive war on Bushehra, but in response only the bodies of his terrorists were found, some bodies were found in the hands of Mujahideen Bushehra, which were later returned by the state without any disrespect.
• Everyone has seen the lists of dead terrorists, most of whom had come from the surrounding areas to carry out the massacre and a large number of them are missing from the lists, some of which are also said to be from Gilgit... About 150 terrorists have been killed, most of whom have been buried in the darkness of the night.
• Considering Bushehra besieged, the attackers made a strategic
mistake in that they thought that the attack on Bushehra would be similar to the city of Parachinar in 2007 and that the Sunnis would continue to watch the spectacle on the sides, everything went contrary to their thinking. In the past, when something like this happened under the guise o* land disputes over Bushehra, there would have been a mixed response, this time a high example of centralism and solidarity was set. Even after the ceasefire, not only Karam but people from outside till Hangu Kohat stood with Bushehra and proved that Bushehr is indeed the red line of Sunnis and whenever dreams of invading Bushehr will be seen. Then they will remember the bodies that will remind these terrorist groups that some had brought these dreams before them, but they have returned unsuccessfully. And they will blame their failure on the officers of the Pakistan Army and Kurram Militia.
Now the state also has the best opportunity to take full action against dvpanis and armed terrorist organizations for peace in the region.
محصور بوشہر پر جنگ کا ایک تجزیہ
کچھ مشران کے بقول اس بار بوشہرہ پر مسلط جنگ اور لشکر کشی تاریخ میں سب سے بدترین تھے پر بوشہرہ کے شیر دل غازیوں کا مورال بلند ترین تھا۔ زینبیون، تحریک حسینی، مہدی ملیشاء، انجمنِ حسینیہ کے دھشت گرد گروہوں کے ساتھ ساتھ اس دفعہ جو ایک نیا فرنٹ سامنے آیا ہے وہ سابق وفاقی وزیر ساجد حسین طوری کا تھا جس نے باقاعدہ احمدزئ امام باڑے میں لشکروں کو جمع کیا اور بوشہرہ پر فیصلہ کن جنگ کرنے کی کوشش کی پر جواب میں صرف اپنے دھشت گردوں کی لاشیں ملی، کچھ لاشیں تو مجاہدینِ بوشہرہ کے ہاتھ لگی جنہیں بعد میں بغیر کسی بے حرمتی کے ریاست کے ذریعے واپس کردیا۔
مرے ہوئے دھشت گردوں کی لاشوں کی لسٹیں سب نے دیکھی ہیں جن میں اکثریت ادھر ادھر کے علاقوں سے وہاں لشکر کشی کرنے آئے تھے اور لسٹوں میں سے ایک کثیر تعداد غائب ہے جن میں کچھ کا تعلق گلگت سے بھی بتایا جاتا ہے اور قریباً 150 کے قریب دھشتگرد مارے گئے ہیں جن کی اکثریت کو رات کی تاریکی میں دفنایا گیا ہے۔
بوشہرہ کو محصور جان کر حملہ آوروں نے ایک سٹریٹیجک غلطی یہ کی کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ بوشہرہ پر چڑھائی 2007 کے پاڑہ چنار شہر جیسے ہوگی اور اہلسنت اطراف میں تماشہ دیکھتے رہیں گے، سب کچھ ان کی سوچوں کے برعکس ہوا، تری منگل، گیدو، سپینہ شگہ، مقبل کے علاؤہ خار کلی، میروکس اور اطراف سے بھرپور جنگ ہوئی کیونکہ ماضی میں جب جب بوشہرہ پر زمینی تنازعات کی آڑ میں ایسا کچھ ہوتا تو ملا جلا ریسپانس ہوتا، اس بار مرکزیت اور یگانگت کی اعلی مثال قائم ہوئی۔ جنگ فائر بندی کے بعد بھی نہ صرف کرم بلکہ باہر ٹل ہنگو کوہاٹ تک کے لوگ بوشہرہ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور یہ ثابت کردیا کہ واقعی بوشہر اہلسنت کی ریڈ لائن ہے اور جب جب بوشہر پر چڑھائی کے خواب دیکھے جائیں گے، تب تب انہیں وہ لاشیں یاد آئیں گی جو ان دھشتگرد ٹولے کو یہ یاد دلائے گی کہ کچھ تو یہ خواب ان سے پہلے بھی لیکر آئے تھے، مگر ناکام ہی لوٹے ہیں۔ اور یہ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان آرمی اور کرم ملیشاء کے افسران پر ڈالیں گے۔
اب ریاست کے پاس بھی بہترین موقع ہے علاقے میں امن کی خاطر یہاں ڈی ویپانئیزیشں اور مسلح دھشت گرد تنظیموں کے خلاف بھر پور ایکشن لیں لوگوں کا ریاست اور اس کے رٹ قائم کرنے پر یقین آٹھ جائے گا۔
الحمدللہ ہم بوشہرا والے مسلمان ہے
ہمارے پاس جتنے لاشیں پڑے ہے ہم جنگ کے اصول کے مطابق اونکو واپس کر رہے ہے
اور جو زندہ حالت میں لوگ ( بشومول قلعندر نامی دہشتگرد) ہے
اونکوں زندہ واپس کیا جائے گا
لاشوں کے ساتھ ہم کِسی قسم کی بداحلاقی نہیں کرنے والے
لیکن ہم بھی امید کرتے ہیں کے پھر ایسا کوئی قدم نا اٹھایا جائے
جو پھر سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے
الحمدللہ
ضلع کُرّم کو اس حال تکّ پہنچانے میں ۳ بندوں کا ہاتھ ہے
جنہوں نے ہمیشہ فیسبک کو مورچہ بنایا تھا اور فیسبک کے مورچوں سے لڑتے تھے
آج الحمدللہ تینوں میں سے ایک بھی مکمل نہیں رہا
بوشہرا نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے اور ہم عدم تشدد کے پیروکار ہیں ہم نے ہمیشہ امن کے خاطر قربانیاں دی ہے
لیکن ہم بھی انسان ہے ہمیں بھی درد ہوتا ہے
اللّٰہ کی قسم بوشہرا کے بچوں کو چھوڑوں ہمارے دشمن کے بچے جب روتے ہے تب بھی ہمیں درد ہونے لگتا ہے
لیکن ہمارے اپنے ہمسائیوں نے ہم کو اتنا تنگ کر کے رکھا ہے کے ہم نے جنگ کا راستہ احتیار کیا
ہم نے وعدہ کیا کے جو بھی ہو رہا ہے ہونے دو مارو یا مرو
چلو جب جنگ دو خاندانوں کے درمیاں شروع ہوگیا تو جنان کلے کا کیا قصور تھا
یاردہ کاکیا قصور تھا لشکر کشی کی کیا ضرورت تھی