Dr. Ajaz Rahi
Renowned personality of Urdu Literature
Dr. Ajaz Rahi
MA, LLB, Ph.D. degrees from different universities.
Dr. Ajaz Rahi was a renowned personality of Urdu literature who excelled in various fields of writing and education. He was born in 5th April 1942 in Peshawar, Pakistan, and obtained his MA, LLB, and Ph.D. He started his literary career as a short story writer and published several collections of stories that reflected his keen observation and social awareness. He also wrote poetry, criticism, col
18/09/2025
یادوں کی دھوپ میں ظفر خان نیازی کا عکس
تحریر: عدیل اعجاز راہی
ظفر خان نیازی کا نام اردو ادب اور نشریاتی دنیا میں ایک معتبر حوالہ ہے۔ وہ نہ صرف ایک صاحبِ طرز شاعر تھے بلکہ ریڈیو پاکستان کے ایسے تخلیقی اور فکری رہنما بھی جنہوں نے اپنی زندگی کو آواز، لفظ اور خیال کی خدمت میں وقف کر دیا۔ ان کی شخصیت میں وہ نرمی، وقار اور فہم تھا جو صرف عمر کے ساتھ نہیں، تجربے اور اندرونی سچائی کے ساتھ آتا ہے۔
ظفر خان نیازی کا تعلق میانوالی کے قصبے دُود خیل سے تھا، جہاں کی مٹی میں روایت، سادگی اور خودداری کی خوشبو رچی بسی ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی اسی ماحول میں پروان چڑھی، اور یہی رنگ ان کی شاعری اور نثر میں جھلکتے رہے۔ وہ 25 اگست 1946 کو پیدا ہوئے، گویا پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ایک ایسا تخلیقی ذہن بھی جنم لے چکا تھا جو آنے والے برسوں میں قومی شعور کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
ریڈیو پاکستان میں ان کا سفر ایک عام ملازم سے شروع ہو کر اسٹیشن ڈائریکٹر کے منصب تک پہنچا۔ یہ سفر صرف عہدوں کا نہیں، اعتماد، تخلیق اور خدمت کا تھا۔ انہوں نے ریڈیو کو صرف ایک ادارہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک ثقافتی مشن کے طور پر اپنایا۔ ان کے پروگرامز میں عوامی مسائل، صوفیانہ فکر، بچوں کے حقوق اور سماجی شعور جیسے موضوعات کو نہایت سلیقے سے پیش کیا گیا۔ "جندری نال جہان" اور "مستقبل" جیسے سیریلز ان کی بصیرت اور فکری گہرائی کا ثبوت ہیں۔
ادب کی دنیا میں ان کی شناخت ایک منفرد شاعر اور نثر نگار کے طور پر قائم ہوئی۔ ان کی کتاب "چوکور پہیئے" مختصر کہانیوں اور حکایات کا ایسا مجموعہ ہے جو قاری کو لمحوں میں سوچ کے کئی دریچے کھولنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ "خواب کنارے"، "خواب شہر" اور "پیوند" جیسی شعری تصانیف میں خواب، وقت، ذات اور کائنات کے پیچیدہ رشتوں کو نہایت لطیف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری میں نہ تو سطحی جذباتیت ہے اور نہ ہی مصنوعی فلسفہ، بلکہ ایک ایسا سچ ہے جو دل سے نکل کر لفظ میں ڈھلتا ہے۔
ظفر خان نیازی نے ترجمے کے میدان میں بھی قابلِ قدر کام کیا۔ "پرائی نظمیں" کے ذریعے انہوں نے عالمی شاعری کو اردو زبان میں منتقل کر کے ایک نیا زاویہ دیا۔ یہ ترجمے صرف لغوی نہیں بلکہ جذباتی اور فکری سطح پر بھی اصل متن کے قریب ہیں۔
ان کی شخصیت میں میانوالی کی مٹی کی خوشبو، ریڈیو کی آواز کی گہرائی، اور اردو ادب کی لطافت یکجا تھی۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو لفظوں کی خدمت میں گزارا، اور جاتے جاتے ایک ایسا ورثہ چھوڑ گئے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ظفر خان نیازی کا ذکر صرف ایک فرد کا نہیں، ایک عہد، ایک جمالیاتی شعور اور ایک فکری تسلسل کا ذکر ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سچ بولنے کے لیے نہ تو بلند آواز کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی شور کی، بلکہ ایک خاموش، باوقار اور سلیقے سے کہی گئی بات ہی دلوں میں گھر کرتی ہے۔
ان کی زندگی کا پیغام یہی ہے کہ تخلیق صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ وہ ذمہ داری جو سماج، روایت اور انسانیت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ ظفر خان نیازی نے یہ ذمہ داری نبھائی، اور اپنے بعد ایک ایسا ادبی اور فکری نقش چھوڑا جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
"برف پوش چمنی" انکی شعری کلیات ہے اور آخری تصنیف بھی، جس میں انہوں نے اپنے شعری شعور کے ذریعے صوفی ازم کی کئی نئی جہتیں دریافت کرنے کی سعی کی ہے۔ ظفر خان نیازی زندگی میں ہمیشہ کچھ نیا اور منفرد کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے عہد میں رہتے ہوئے جدید افق کی تلاش میں سرکرداں رہتے تھے۔ اپنی اسی افتاد طبع کے تحت پھر وہ ایک دن کسی ان دیکھی منزل کی پرواز کو نکلے تو لوٹ کر نہیں آئے۔ اللہ پاک ظفر خان نیازی کے درجات بلند فرمائے آمین!
Click here to claim your Sponsored Listing.