Waseem Riaz
Journalist Reporter
HR & Digital Media Head
Social Worker and team Leader
PR Community
20/02/2026
رمضان المبارک کا پہلا جمعہ — روحانیت، رحمت اور ریفلیکشن کا دن۔ AI with Waseem Riaz کی جانب سے تمام اسٹوڈنٹس، کریئیٹرز اور ڈیجیٹل کمیونٹی کو مبارکباد۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جیسے روزہ نفس کو کنٹرول کرتا ہے، ویسے ہی علم اور ٹیکنالوجی کو بھی مقصد کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ آئیے اس رمضان ہم اپنی اسکلز کو نکھاریں، نیت کو پاک رکھیں اور ڈیجیٹل دنیا میں مثبت اثر چھوڑیں۔
18/02/2026
رمضان المبارک خود کو اپگریڈ کرنے کا مہینہ ہے — روحانی طور پر بھی اور فکری طور پر بھی۔
AI With Waseem Riaz
کی جانب سے تمام طلبہ، ڈیجیٹل کریئیٹرز اور لرنرز کو رمضان مبارک۔ یہ مہینہ ہمیں ڈسپلن، فوکس اور مسلسل بہتری کا درس دیتا ہے، جو ڈیجیٹل کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔ دعا ہے کہ یہ رمضان ہمارے علم، وژن اور ڈیجیٹل سفر میں نئی روشنی لے کر آئے۔
09/02/2026
کاروبار ہو یا ذاتی پروفائل — گروتھ سب کو چاہیے۔
ریسٹورنٹ 🍔 | فاسٹ فوڈ 🍟 | گروسری 🛒 | کپڑوں کی دکان 👕 | ٹرانسپورٹ 🚚 | لوکل بزنس 🏪
یا Personal Profile (Facebook / Instagram / TikTok)
ویب سائٹ سے لے کر
گوگل پر نظر آنا،
سوشل میڈیا مینجمنٹ (پیجز + پرسنل پروفائل گروتھ)،
ایڈز، ریلز اور سیلز تک —
ہم مکمل ڈیجیٹل سسٹم بناتے ہیں۔
یہ صرف مارکیٹنگ نہیں،
یہ ریئل گروتھ ہے۔
📞 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
UAN: 0335 6822276
Two Friend Digital Marketing Company
ہر بزنس اور ہر پروفائل کے لیے مکمل ڈیجیٹل حل
03/02/2026
Shab-e-Barat Mubarak
May this night inspire wisdom, ethical innovation, and meaningful learning.
Technology with purpose. Knowledge with responsibility.
23/01/2026
Jumma Mubarak!
May wisdom guide our ideas, and barakah multiply our digital impact.
Faith-driven minds. Future-ready creativity.
16/01/2026
Jummah is not just a day, it’s a reminder to slow down, reflect, and reconnect with the Qur’an.
May this blessed Friday bring clarity, peace, and barakah into your life. 🤍
08/01/2026
Jumma Mubarak
Faith fuels focus. Innovation grows with purpose.
Let today inspire smarter ideas, ethical AI, and digital excellence.
02/01/2026
Jumma Mubarak.
Growth is meaningful when built on strategy, honesty, and consistency.
We help brands grow with vision, value, and long-term impact.
02/01/2026
تحریر: وسیم ریاض
اب تصویر مکمل ہو چکی ہے، اور یہ تصویر خوبصورت نہیں، خوفناک حد تک واضح ہے۔ ڈسکوز آج جس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پورے سیاسی، انتظامی اور مفاداتی ڈھانچے کی پیداوار ہے۔ وہی غلطیاں، وہی چہرے، وہی طرزِ فیصلہ — جو کل جینکو کو لے ڈوبا، آج ڈسکوز کو اسی راستے پر دھکیل رہا ہے۔سب سے پہلے بات سیاسی بی او ڈیز کی۔ جن بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اداروں کا دماغ ہونا چاہیے تھا، وہ سیاسی وابستگیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہاں فیصلے ادارے کی تکنیکی ضرورت دیکھ کر نہیں ہوتے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون ناراض ہوگا اور کون خوش۔ جب سمت طے کرنے والے ہی غیر متعلقہ ہوں تو ادارہ منزل کی طرف نہیں، کھائی کی طرف بڑھتا ہے۔ بجلی جیسے حساس شعبے میں یہ رویہ صرف بدانتظامی نہیں، قومی غفلت ہے۔
اس کے ساتھ نان ٹیکنیکل افراد کی کلیدی تعیناتیاں وہ زہر ہیں جو آہستہ آہستہ پورے نظام میں سرایت کر چکا ہے۔ بجلی کا نظام فائلوں سے نہیں چلتا، یہ گرڈ، فیڈر، لوڈ، فالٹ اور رسک سے جڑا ہوا ایک نازک سسٹم ہے۔ جب اس نظام کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں دی جائے جنہیں اس کی بنیادی سمجھ بھی نہ ہو تو خرابی حادثہ نہیں رہتی، روٹین بن جاتی ہے۔ اور اس روٹین کا خمیازہ فیلڈ میں کام کرنے والا ٹیکنیکل اسٹاف بھگتتا ہے۔یہاں یونین کا کردار بھی مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ یونین جسے مزدور کی اجتماعی آواز ہونا چاہیے تھا، کئی مقامات پر انتقامی سیاست کا آلہ بن چکی ہے۔ اختلاف کرنے والا ملازم مسئلہ بن جاتا ہے، سوال اٹھانے والا نشانے پر آتا ہے، اور خاموشی اختیار کرنے والا محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ تبادلے، معطلیاں اور سائیڈ لائننگ اصلاح کے لیے نہیں بلکہ سبق سکھانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اس فضا میں نہ کارکردگی پنپتی ہے، نہ ادارہ مضبوط ہوتا ہے۔
اسی دوران ایک اور سنگین تضاد پورے نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے — آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ اختیار کیا جانے والا دوہرا معیار۔ ڈسکوز پر لائن لاسز، ریکوری اور کارکردگی کا دباؤ، جبکہ دوسری طرف مہنگے معاہدے، کیپسٹی پیمنٹس اور غیر شفاف شرائط کے تحت آئی پی پیز کو مکمل تحفظ۔ مالی بوجھ ڈسکوز اٹھائیں، عوام کا غصہ بھی وہی جھیلیں، مگر فیصلوں کی میز پر ان کی آواز نہ ہو۔ یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟
اس پورے کھیل میں سیاستدانوں کا کردار سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔ افتتاح کے دن یہ سب سے آگے ہوتے ہیں، مگر بندش، بحران اور زوال کے وقت سب سے پہلے غائب ہو جاتے ہیں۔ اسمبلیوں میں تقریریں بہت ہوتی ہیں، مگر اداروں کو بچانے کی سنجیدہ آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔ جینکو بند ہو رہا تھا تب بھی خاموشی تھی، اور آج ڈسکوز بربادی کے دہانے پر ہیں تو بھی وہی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ادارے کاغذوں سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں۔ جب فیصلے انسانوں کو روند کر کیے جائیں تو نتیجہ صرف مالی خسارہ نہیں ہوتا، بلکہ ذہنی اذیت، ٹوٹتے ہوئے گھر، اور وہ جنازے ہوتے ہیں جن میں سیاستدان نہیں آتے — صرف وہ ساتھی آتے ہیں جو کل تک ایک ہی شفٹ میں کام کرتے تھے۔
یہ تحریر کسی کے خلاف ذاتی الزام نہیں، یہ ایک تاریخی گواہی ہے۔ ایک انتباہ، آخری اور واضح۔ اگر آج بھی ڈسکوز کو سیاسی تجربہ گاہ بنایا گیا، اگر یونین کو انتقام کا ہتھیار بنائے رکھا گیا، اگر نان ٹیکنیکل فیصلے مسلط ہوتے رہے اور آئی پی پیز کے سامنے آنکھیں بند رکھی گئیں — تو کل ہم ایک اور جینکو کی کہانی نہیں لکھیں گے، بلکہ کہیں بڑے سانحے کا نوحہ لکھیں گے۔خدا کے بندو، رحم کرو۔
یہ بجلی کا مسئلہ نہیں، یہ ریاست کی ساکھ، عوام کے اعتماد اور انسانوں کے وقار کا مسئلہ ہے۔
ہمارے لیے سیکھنے، تجربے اور ترقی کا سال تھا، اور اب 2026 ایک نئے وژن کے ساتھ سامنے ہے۔ Two Friend Digital Marketing Company کے لیے یہ تبدیلی صرف وقت کی گردش نہیں بلکہ اسٹریٹیجی کو اسکیل کرنے، آئیڈیاز کو امپیکٹ میں بدلنے اور برانڈز کو ڈیجیٹل دنیا میں مضبوط مقام دلانے کے عزم کی تجدید ہے۔ نئے سال میں ہم جدت، ڈیٹا ڈرِون سوچ اور نتیجہ خیز ڈیجیٹل حل کے ساتھ آگے بڑھیں گے، تاکہ ہر کلائنٹ کی گروتھ ایک واضح کہانی بن سکے۔
Happy New Year 2026 — From strategy to scalable digital success.
01/01/2026
یہ کوئی عام عمارت نہیں تھی…
یہ جینکو تھری مظفرگڑھ تھا — ایک ایسا خواب جس کے ساتھ ہزاروں گھروں کی امیدیں جڑی تھیں۔
افتتاح کے دن صرف تختی نہیں لگی تھی،بلکہ روزگار، عزت اور مستقبل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔سیکڑوں نہیں، ہزاروں مقامی نوجوان یہاں ملازم ہوئے۔کسی نے پہلی تنخواہ سے گھر کا قرض اتارا کسی نے بہن کی شادی کی،کسی نے ماں کے علاج کا بندوبست کیا۔یہ کہانی اب صرف ایک ادارے کی نہیں رہی، یہ اس پورے نظام کی علامت بن چکی ہے جو وقت آنے پر اپنے ہی لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔ جینکو تھری مظفرگڑھ کا قیام ریاستی ضرورت کے تحت ہوا تھا، توانائی کے بحران کے حل کے لیے، اور مقامی آبادی کو روزگار دینے کے وعدے کے ساتھ۔ افتتاح کے دن بڑے بڑے دعوے تھے، کیمرے تھے، تقاریر تھیں، اور مستقبل کے سنہرے خواب دکھائے گئے تھے۔ اس دن کسی نے نہیں کہا تھا کہ یہ سب عارضی ہے، کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ ادارہ بھی ایک دن سیاسی مفادات کی نذر ہو جائے گا۔
شروع کے برسوں میں جینکو تھری واقعی ایک مثالی ادارہ محسوس ہوتا تھا۔ مقامی نوجوانوں کو روزگار ملا، ٹیکنیکل ہنر سیکھنے کے مواقع پیدا ہوئے، خاندانوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی، اور ایک پورا علاقہ ایک صنعتی شناخت حاصل کرنے لگا۔ ملازمین نے اپنی جوانی، صحت اور صلاحیتیں اس پلانٹ کو دیں۔ شفٹوں میں کام کیا، خطرناک ماحول میں ڈیوٹیاں نبھائیں، اور اس یقین کے ساتھ محنت کی کہ یہ ادارہ ان کا مستقبل محفوظ کرے گا۔
مگر آہستہ آہستہ سیاست نے اس ادارے کے اندر قدم رکھ لیا۔ یہ سیاست خدمت کے جذبے سے نہیں آئی تھی بلکہ ووٹ بینک بڑھانے کی نیت سے آئی تھی۔ نوکریاں ریاستی پالیسی یا ادارہ جاتی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر دی جانے لگیں۔ سفارش ایک راستہ بن گئی، میرٹ ایک رسمی لفظ، اور ادارہ ایک انتخابی ہتھیار۔ سیاستدانوں نے وقتی فائدہ تو حاصل کر لیا مگر ادارے کی جڑیں کھوکھلی ہوتی چلی گئیں۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں یونین کو مضبوط کردار ادا کرنا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے یونین بھی وقت کے ساتھ اصل مقصد سے ہٹتی چلی گئی۔ ملازم کی اجتماعی آواز بننے کے بجائے، یونین ذاتی مفادات، گروپ بندی اور سیاسی قربتوں کا شکار ہو گئی۔ جب ادارہ چل رہا تھا، مراعات مل رہی تھیں، تب یونین سرگرم تھی۔ مگر جیسے ہی بندش کی بات چلی، یونین کی زبان بھی بند ہو گئی۔ نہ کوئی ٹھوس احتجاج، نہ کوئی سنجیدہ قانونی جدوجہد، نہ کسی فورم پر موثر نمائندگی۔
اختتام سے پہلے سب کچھ واضح تھا۔ فائلوں میں فیصلے تیار ہو چکے تھے، مگر زمین پر کام کرنے والے انسانوں کو اعتماد میں لینا ضروری نہ سمجھا گیا۔ جب پلانٹ بند ہوا تو اس کے ساتھ صرف مشینیں نہیں رکیں، بلکہ سینکڑوں گھروں کے چولہے، بچوں کی تعلیم، اور بوڑھے والدین کا سہارا بھی خطرے میں پڑ گیا۔ ملازمین کو مختلف ڈسکوز کمپنیوں میں بھیج دیا گیا، جہاں ان کے تجربے اور خدمات کی قدر کے بجائے انہیں اضافی بوجھ سمجھا گیا۔
ان نئی جگہوں پر ان ملازمین کو نہ عزت ملی، نہ تحفظ، نہ وہ ماحول جس کے وہ عادی تھے۔ برسوں کے تجربے کے باوجود ان سے ایسے سلوک کیا گیا جیسے وہ کسی جرم کی سزا بھگت رہے ہوں۔ روز کی ذہنی اذیت، عدم تحفظ، اور مستقل دباؤ نے کئی لوگوں کو اندر سے توڑ دیا۔ کچھ نے خاموشی اختیار کر لی، کچھ بیماریوں میں مبتلا ہو گئے، اور کچھ ایسے بھی تھے جو صدمے کی تاب نہ لا سکے اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
یہ سب ہوتے وقت وہ سیاستدان کہیں نظر نہ آئے جو افتتاح کے دن تصویروں میں سب سے آگے تھے۔ نہ اسمبلی میں آواز اٹھی، نہ کسی پریس کانفرنس میں سوال ہوا، نہ کسی نے ذمہ داری قبول کی۔ یہ خاموشی سب سے بڑا جرم تھی، کیونکہ یہ خاموشی صرف ادارے کے خاتمے پر نہیں بلکہ انسانوں کے بکھرنے پر اختیار کی گئی تھی۔
جینکو تھری مظفرگڑھ کی کہانی دراصل ہمارے سیاسی اور انتظامی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ادارے صرف اینٹوں اور مشینوں سے نہیں بنتے، بلکہ انسانوں سے بنتے ہیں۔ جب سیاست انسان کو استعمال کر کے چھوڑ دیتی ہے تو نقصان صرف آج کا نہیں ہوتا، بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ یہ تحریر الزام سے زیادہ ایک یاد دہانی ہے، تاکہ کل کوئی اور ادارہ، کوئی اور شہر، اور کوئی اور خاندان اسی انجام کا شکار نہ ہو۔یہ تحریر کسی جماعت کے خلاف نہیں،یہ طرزِ سیاست کے خلاف ہے۔
اس سیاست کے خلاف جو ادارے کھاتی ہے اورانسان چھوڑ جاتی ہے۔اگر یہ سچ لکھنا تلخ لگے تو یاد رکھئے یہ تلخی الفاظ کی نہیں،
حقیقت کی ہے۔
31/12/2025
2025 آگے بڑھ گیا… 2026 آگیا
ایک ایسا سال جو اسٹریٹیجی کو اسکیل،
اور آئیڈیاز کو امپیکٹ میں بدل دے گا۔
نیا سال، نیا مائنڈ سیٹ،
ڈیجیٹل کامیابی کا نیا چیپٹر۔
Happy New Year 2026
From strategy to scalable digital success.
Click here to claim your Sponsored Listing.