Ilmips
A huge collection of education relavents
information amusment entertainment and
a lot of fun.
31/08/2022
11/02/2022
نفرتوں کی حبس میں احساس مر گیا
درد و دکھ جو سہتا تھا حساس مر گیا
وہ شخص جس کے چاھنے والے تھے صد ہزار
دل میں دبا کے حسرتیں بے آس مر گیا
احساس best potry,english poetry, urdu poetry, classic poetry,sad poetry,best ghazlin,classic ghazlin ,best poet, best poetry blog best articles,aqwal zarin,
مستحق best potry,english poetry, urdu poetry, classic poetry,sad poetry,best ghazlin,classic ghazlin ,best poet, best poetry blog best articles,aqwal zarin,
اخر موضوع من مدونة مستحق
مستحق
چک نور پور ایک
دوردراز دیہاتی علاقہ ہے۔یہاں کی آبادی
غریب کسانوں پر مشتمل ہے ۔ اور چک کے آس پاس کے چھوٹے چھوٹے گاوں ملا کر
ایک کثیر آبادی بن جاتے ہیں ،لیکن یہان آج بھی آس پاس پانچ کلو میٹر تک کوئی
سکول نہیں ہے۔ماسٹر نوردین ایک چھوٹاسا سکول بنا کر اپنے طور پر پچھلے دس سال سے اس
پسماندہ علاقے میں علم کی روشنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کچھ بچے ان کومعمولی
سی فیس دے دیتے ہیں جن میں ان کی دو وقت کی روٹی ہی پوری ہوتی ہےاور کچھ نہیں دیتے
۔ بہر حال وہ سب بچوںکوپوری توجہ سے پڑھاتے ہیں ۔
ان کو محکمہ تعلیم کی طرف سے ایک نوٹس ملا جس میں ان کو سی ای او آفس پیش ہونے کا حکم
دیا گیا ہے۔وہ
صبح صبح آفس جاتے ہیں ۔ تقریبا دو گھنٹے کے انتظار کے بعد صاحب
تشریف لاتے ہیں ۔ اور ماسٹر صاحب پیش
ہوتے ہیں
؟سی ای او
صاحب نے تفتیشی انداز میں پوچھا آپ کتنے عرصے سے سکول چلا رہے ؟
ماسٹر صا حب نے عا جزانہ لہجے میں جواب دیا ۔ تقریبا دس سال سے ،، ۔
سی ای او صاحب درشت لہجے میںگویا ہوئے ۔ ۔ پ آپ نے اسے رجسٹر کیوں نہیں کرایا۔؟
ماسٹر صاحب نےجواب دیا ؎میں
غریب آدمی ہوں ۔ اتنی فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا ،،۔
سی ای او صاحب تحکمانہلہجے میں کہا تم پر سالانہ تیس
ہزار کے حساب سے تین لاکھ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ،،۔
ماسٹر صاحب نےٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا میں اس سے زیادہ سزا کا مستحق ہوں۔ صاحب جی یہ سزا کم ہے ۔
سی ای او صا حب نے استفساریہ لہجے میں پوچ ؎ ۔ کیوں ۔؟
کیونکہ میں نے قتل عام کیا ہے۔ ماسٹر صاحب پر جوش انداز میں بولے
۔ کس کا ۔ سی ای او صاحب چونک پڑے
جہالت کا ۔ ماسٹر صاحب نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا ۔
سی ای او صاحب اور دوسرے تمام لوگ ماسٹر صا حب کو یوں دیکھ رہے تھے ۔ جیسے ان کے پاس ماسٹر صاحب کی بات کا کوئی جواب نہ ہو۔
مستحق
چک نور پور ایک
دوردراز دیہاتی علاقہ ہے۔یہاں کی آبادی
غریب کسانوں پر مشتمل ہے ۔ اور چک کے آس پاس کے چھوٹے چھوٹے گاوں ملا کر
ایک کثیر آبادی بن جاتے ہیں ،لیکن یہان آج بھی آس پاس پانچ کلو میٹر تک کوئی
سکول نہیں ہے۔ماسٹر نوردین ایک چھوٹاسا سکول بنا کر اپنے طور پر پچھلے دس سال سے اس
پسماندہ علاقے میں علم کی روشنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کچھ بچے ان کومعمولی
سی فیس دے دیتے ہیں جن میں ان کی دو وقت کی روٹی ہی پوری ہوتی ہےاور کچھ نہیں دیتے
۔ بہر حال وہ سب بچوںکوپوری توجہ سے پڑھاتے ہیں ۔
ان کو محکمہ تعلیم کی طرف سے ایک نوٹس ملا جس میں ان کو سی ای او آفس پیش ہونے کا حکم
دیا گیا ہے۔وہ
صبح صبح آفس جاتے ہیں ۔ تقریبا دو گھنٹے کے انتظار کے بعد صاحب
تشریف لاتے ہیں ۔ اور ماسٹر صاحب پیش
ہوتے ہیں
؟سی ای او
صاحب نے تفتیشی انداز میں پوچھا آپ کتنے عرصے سے سکول چلا رہے ؟
ماسٹر صا حب نے عا جزانہ لہجے میں جواب دیا ۔ تقریبا دس سال سے ،، ۔
سی ای او صاحب درشت لہجے میںگویا ہوئے ۔ ۔ پ آپ نے اسے رجسٹر کیوں نہیں کرایا۔؟
ماسٹر صاحب نےجواب دیا ؎میں
غریب آدمی ہوں ۔ اتنی فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا ،،۔
سی ای او صاحب تحکمانہلہجے میں کہا تم پر سالانہ تیس
ہزار کے حساب سے تین لاکھ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ،،۔
ماسٹر صاحب نےٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا میں اس سے زیادہ سزا کا مستحق ہوں۔ صاحب جی یہ سزا کم ہے ۔
سی ای او صا حب نے استفساریہ لہجے میں پوچ ؎ ۔ کیوں ۔؟
کیونکہ میں نے قتل عام کیا ہے۔ ماسٹر صاحب پر جوش انداز میں بولے
۔ کس کا ۔ سی ای او صاحب چونک پڑے
جہالت کا ۔ ماسٹر صاحب نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا ۔
سی ای او صاحب اور دوسرے تمام لوگ ماسٹر صا حب کو یوں دیکھ رہے تھے ۔ جیسے ان کے پاس ماسٹر صاحب کی بات کا کوئی جواب نہ ہو۔
مستحق best potry,english poetry, urdu poetry, classic poetry,sad poetry,best ghazlin,classic ghazlin ,best poet, best poetry blog best articles,aqwal zarin,
بابا best potry,english poetry, urdu poetry, classic poetry,sad poetry,best ghazlin,classic ghazlin ,best poet, best poetry blog best articles,aqwal zarin,
اخر موضوع من مدونة بابا
بابا
دکھ چاروں طرف
سے دندناتے در آ تے ہیں
جب بابا چلے
جاتے ہیں۔
ایسے ویسے بھی
دکھانے کو ہنر آتے ہیں
جب بابا چلے
جاتے ہیں ۔
بابا
دکھ چاروں طرف
سے دندناتے در آ تے ہیں
جب بابا چلے
جاتے ہیں۔
ایسے ویسے بھی
دکھانے کو ہنر آتے ہیں
جب بابا چلے
جاتے ہیں ۔
بابا best potry,english poetry, urdu poetry, classic poetry,sad poetry,best ghazlin,classic ghazlin ,best poet, best poetry blog best articles,aqwal zarin,
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Multan
60900