Aala Poetry.
Collection of Precious wording called poetry..
بعد آنکھوں کے میرا دل بھی نکالا اس نے
اس کو شک تھا کہ مجھے اب بھی نظر آتا ہے
تمہارے شہر میں رسمیں ہیں گھر بنانے کی
میرے شہر میں سب آستیں میں رہتے ہیں
, ﺗﺮﺳﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ , ﺍﺩﺍﺱ ﭼﮩﺮﮦ
ﻧﺤﯿﻒ ﻟﮩﺠﮧ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
, ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺯﻟﻔﯿﮟ , ﻟﺒﺎﺱ ﺍﺟﮍﺍ
ﻭﺟﻮﺩ ﺧﺴﺘﮧ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
ﻋﻤﯿﻖ ﺟﻨﮕﻞ, ﮔﮭﭗ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ, ﮈﻭﺑﯽ
ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ,ﺿﻌﯿﻒ ﺩﮬﮍﮐﻦ
, ﺑﺮﮨﻨﮧ ﭘﺎﺅﮞ , ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﻨﺰﻝ
ﻧﺸﺎﮞ ﻧﮧ ﺭﺳﺘﮧ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﻠﺒﻞ , ﺳﺮﺩ ﭘﺖ ﺟﮭﮍ, ﺑﮯ
ﺭﻧﮓ ﻣﻮﺳﻢ,ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮔﻠﺸﻦ
ﻧﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﺧﻮﺷﺒﻮ , ﮨﻮﺍ ﻧﮧ ﺑﺎﺩﻝ ﻧﮧ
ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻐﻤﮧ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
ﺍﻣﯿﺪ ﻣﺪﮬﻢ ,ﻣﺰﺍﺝ ﺑﺮﮬﻢ, ﻣﺎﯾﻮﺱ
ﺟﯿﻮﻥ , ﺑﮯ ﺁﺱ ﮨﺮ ﺩﻡ
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ
ﺣﺴﺮﺕ, ﻧﮧ ﮨﮯ ﺗﻤﻨﺎ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
ﮐﺎﻟﯽ ﺻﺒﺤﯿﮟ , ﺳﺮﺥ ﺭﺍﺗﯿﮟ , ﻭﻗﺖ
ﺳﺎﮐﻦ , ﺍﺩﺍﺱ ﺷﺎﻣﯿﮟ
ﮨﺰﺍﺭ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ , ﮨﺮ
ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮧ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
, ﺗﻌﻮﯾﺰ ﺍﻟﭩﮯ , ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﻣﻨﺖ
ﻭﻇﯿﻔﮯ , ﺟﺎﺩﻭ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺳﺎﺭﮮ
ﻧﮧ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮨﯽ ﮐﺎﻡ ﺁﯾﺎ , ﻧﮧ
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﺎﮔﮧ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
, ﻋﺠﯿﺐ ﻗﺴﻤﺖ , ﻧﺼﯿﺐ ﺍﻟﺠﮭﺎ
ﻏﻠﻂ ﻟﮑﯿﺮﯾﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻘﺪﺭ
ﮨﺎﮞ ﮔﺮﺩﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺘﺎﺭﮦ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
, ﮨﺠﺮ ﮐﺎﻣﻞ , ﻓﺮﺍﻕ ﺣﺎﻭﯼ
ﺟﺪﺍﺋﯽ ﯾﮑﺴﺮ , ﻃﻮﯾﻞ ﺩﻭﺭﯼ
, ﺧﻮﺍﺏ ﻗﺮﺑﺖ , ﻭﺻﺎﻝ ﺣﺴﺮﺕ
ﺭﺿﺎ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎ , ﺑﻐﯿﺮ ﺗﯿﺮﮮ
وصی شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے کیا گھٹیا سی شے ہے یہ تمنا کا فریب
آپ جیسوں کو بھی ہم جیسے ترس جاتے ہیں
امیر حسن
ہم نے وہاں سے اٹھایا ہے خود کو
جہاں لوگ پنکھے سے لٹک جاتے ہیں
اندھے نکالتے ہیں چہرے سے میرے نقص
بہروں کو شکایت ہے غلط بولتا ہوں میں
Pakrra Hai Koi Haath Na Dharti Main Garre Hain,,,
Ye Teri Inaayat Hai K Pairon Pe Kharre Hain...
Yoon Thook Na Mujh Pr Mere Haare Hue Dushman,,,
Ye Meri Kamaa'n Hai Ye Mere Teer Parre Hain...
Andesha Darya Main Ghulle Jaate Hain Pal Pal,,,
Ye Khaak Nahaade Hain K Mat'ti Ke Gharre Hain...
Pehle To Kabhi Honton Ka Sakta Nahi Toota,,,
Ab Tu ne Bulaaya Hai To Hum Bol Parre Hain...
Pasti Mein Gira Main To Khayal Aaya Ye Mujh Ko,,,
Shaakhon Se Nahe Phool Bulandi Se Jharre Hain...
Tu Hai K Abhi Ghar Se Bhi Baahir Nahe Nikla,,,
Hum Hain K Shajar Ban K Teri Raah Main Kharre Hain....!
جو شخص پیڑ کاٹنے والے کا ساتھ دے
سمجھو کہ اس کو سائے کا مطلب نہیں پتہ
یعنی یہ دنیا تم نے دیکھی ہی نہیں دوست
یعنی تمہیں سرائے کا مطلب نہیں پتہ
یہ بھی نہیں کہ آپ کو میں جانتا نہیں
یہ بھی نہیں پرائے کا مطلب نہیں پتہ
تم نے ہماری چائے کی دعوت کو رد کیا
تم کو ہماری چائے کا مطلب نہیں پتہ
یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اٹھا لو
اٹھانے والوں سے کچھ جدا ہے اسے اٹھا لو
وہ ںے ادب اس سے پہلے جن کو اٹھا لیا تھا
یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے اسے اٹھا لو
اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں
مگر یہ مرضی سے بولتا ہے اسے اٹھا لو
جنہیں اٹھانے پہ ہم نے بخشے مقام و خلعت
یہ ان سیانوں پہ ہنس رہا ہے اسے اٹھا لو
یہ پوچھتا ہے کہ امن و عامہ کا مسئلہ کیوں
یہ امن و عامہ کا مسئلہ ہے اسے اٹھا لو
اسے کہا تھا جو ہم دکھائیں بس اتنا دیکھو
مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے اسے اٹھا لو
سوال کرتا ہے یہ دیوانہ ہماری حد پر
یہ اپنی حد سے گزر گیا ہے اسے اٹھا لو
ہوں
24/05/2022
میں جانتا ہوں آج ہے اور کل نہیں ہے
سو یہ محبت میری اداسی کا حل نہیں ہے
تو زندگی میرے حوصلے کی داد دے ناں
تجھے گزارا ہے اور میرے ماتھے پہ بل نہیں ہے
24/05/2022
نکلنا مشکل تھا اس بلا سے
علی کے صدقے نکل گئی ہے
تمہارے غم میں نڈھال لڑکی
مری نہیں ہے سنبھل گئی ہے
تمہیں لگا ہے نئے سرے سے
تم اس کو وعدوں میں پھانس لو گے
تمہیں خبر بھی نہیں ہے پیارے
ادھر کہانی بدل گئی ہے
24/05/2022
ہم کو ہماری نیند بھی واپس نہیں ملی،
لوگوں کو انکے خواب جگا کر دیے گئے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Multan
60000