My Views
Time is money, so earn money for yourself , Prove that honey
゚viralシ
02/02/2026
پاکستان نے کہا : ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ بھارت میں نہیں کھیلیں گے.
جواب آیا : سری لنکا میں کھیل لیجیے. بھارت آپ سے کھیلنے سری لنکا چلا جائے گا.
پاکستان نے کہا اچھا سوچتے ہیں.
کئی دن سوچ بچار میں گزر گئے. ورلڈ کپ کا مالیاتی پہلو بہت بڑی حد تک اس ہاں یا ناں سے جڑا تھا. کہ پاکستان اور بھارت کے میچ کی بات ہی اور ہوتی ہے.
سب کی نظریں ادھر تھیں کہ پاکستان کیا کرتا ہے
پھر پاکستان نے کہا : ٹھیک ہی کھیلیں گے، سب سے کھیلیں گے پر بھارت سے نہیں کھیلیں گے.
پورے ٹورنامنٹ کا مالیاتی پہلو پاکستان نے رافیل بنا کر بھیجوا دیا.
بنگلہ دیش نے بھارت جانے سے انکار کر دیا . پاکستان نے بھارت سے کھیلنے سے انکار کر دیا.
یاد رہے کہ کھیل کے اندر اس کھیل کی شروعات بھارت نے کی تھیں. پاکستان نے صرف رافیل کی راکھ سے اس کھیل کی مانگ میں سیندور بھرا ہے.
01/02/2026
ˢᵘⁿᵈᵃʸ ˢᵖᵉᶜⁱᵃˡ
*ایک صاحب لکھتے ہیں*
ایک دہی بھلے، فروٹ چاٹ کی دکان پر چاٹ کی اقسام بمعہ قیمت فہرست آویزاں تھی جس پر لکھا تھا۔
1. *سادہ چاٹ* .... 50 روپے
2. *اسپیشل چاٹ* .... 60 روپے
3. *ایکسٹرا اسپیشل چاٹ* .... 70 روپے
4. *ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ* .... 80 روپے
5. *سنڈے اسپیشل چاٹ* .... 100 روپے
میں نے سوچا روزانہ یہ مختلف قسم کی چاٹ کا ذائقہ چکھنا چاہیے۔
تین چار دن میں احساس ہوا کہ ذائقہ تو ایک ہی ہے کوئی فرق نہیں ہے۔
دکاندار سے پوچھا کہ بھائی یہ کیا ماجرا ہے۔
*تو وہ بولا*
*سادہ چاٹ* ، ایسے ہی پلیٹ میں دے دی جاتی ہے۔
*اسپیشل چاٹ* ، چمچہ دھو کے دی جاتی ہے۔
*ایکسٹرا اسپیشل چاٹ* ، چمچہ اور پلیٹ دھو کے دی جاتی ہے۔
*ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ* ، ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ میں اپنے ہاتھ بھی دھو کے دیتا ہوں۔
میں نے پوچھا بھائی یہ *سنڈے* *اسپیشل چاٹ* میں کیا ہوتا ہے؟
تو وہ بولا سنڈے یعنی اتوار کو
میں خود نہا کر آتا ہوں۔ 😅
اڈین مارکرم ساؤتھ افریقہ کو ورلڈ کپ فائنل میں پہنچانے والا پہلا کپتان 🫡🔥
اس ورلڈ کپ میں ابھی تک ساؤتھ افریقہ ایک میچ بھی نہیں ہارا، 8/8 میچ جیت لئے 💪🔥
اَلسَلامُ عَلَيْكُم
رَبّنَااغفِرلیِ وَلِوَالدَیَّ وَلِلمُومِنِینَ یَومَ یَقُومُ الحِسَابُ۔آمین
27/05/2024
3 piece unstitched suit for women | https://click.daraz.pk/e/_bep6EWf
یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ صحت‘‘۔
میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے
اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی، اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-
‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں
مگر
ہم جب تیز چلتے ہیں‘
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘
مثلاً
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘
مثلاً ،گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی۔ مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں
‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘
مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے
‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے
‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘
آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں
‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔
ہم روزانہ سوتے ہیں‘
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘
ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘
صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی۔
مگر
جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے۔
‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا
‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں
‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں
‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘
آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔
گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘
انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے
‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے
شوگر
کولیسٹرول
اور
بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور
آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی۔
منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔
ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے
ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے
ہم سیدھا چل سکتے ہیں
دوڑ لگا سکتے ہیں
جھک سکتے ہیں
اور
ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ
کانوں سے سن
ہاتھوں سے چھو
ناک سے سونگھ
اور منہ سے چکھ سکتے ہیں
تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل
اس کے کرم کے قرض دار ہیں
اور
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘
ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
*مہمان نوازی*
۔"" "" "" ""
عرب کے لوگ قافلوں اور مسافروں کو لوٹنے میں بہت مشہور تھے۔ اُن کا یہ وطیرہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے علاقے کے کسی جنگل یا باغ کی آڑ میں چھپ کر بیٹھ جاتے، اور راہ گزرتے لوگوں کو لوٹتے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے۔
پرانے وقتوں کی بات ہے ایک قافلہ عرب کے کسی ایسے ہی علاقے سے گزر رہا تھا، جہاں اہل علاقہ ڈاکوؤں کے روپ میں پہلے سے اُن کی گھات لگائے بیٹھے تھے۔ جیسے ہی عورتوں، مردوں، بزرگوں اور بچوں پر مشتمل یہ قافلہ اُن کے قریب پہنچا، اُنہوں نے اِن پر حملہ کر دیا، اور تمام سامان لوٹنے کے بعد جاتے جاتے قافلے والوں کی طرف سے مزاحمت کرنے کی پاداش میں اُن کے دو نہتے لوگوں کو قتل کر دیا اور تلواریں لہراتے فتح کا جشن مناتے فرار ہو گئے۔ غریب قافلے کے لوگ اپنے پیاروں کی موت کا دُکھ مناتے روتے پیٹتے اپنے قافلہ سالار کے نقشِ قدم پر آگے بڑھتے گئے۔ لیکن کسی نے اُن کی داد رسی نہ کی اور نہ ہی اُن کے حق میں کسی نے آواز اُٹھائی۔
کچھ دِنوں کی مسافت طے کرنے کے بعد یہ قافلہ رات گزارنے کے لئے ایک صحرا میں ٹھہرا۔ قافلے کی عورتیں کھانا پکانے کا انتظام کرنے لگیں، اور مرد حضرات آگ جلانے کیلئے اِردگرد سے لکڑیوں کا بندوبست کرنے لگے۔ رات کا وقت تھا، اِس لئے آگ کی روشنی دور سے بڑی آسانی سے دیکھی جا سکتی تھی۔ کچھ راہ بھٹکے ہوئے بھوکے گُھڑ سواروں نے آگ جلتی دیکھی تو اُس طرف آ نکلے۔ اب اِسے قسمت کہیئے یا قدرت کا کھیل کہ یہ گُھڑ سوار وہی ڈاکو تھے جنہوں نے اِس قافلے کو پہلے لُوٹا تھا اور پھر اُن کے دو افراد کو قتل کر دیا تھا۔ یہ سبھی نقاب پوش ڈاکو قافلہ سالار کے پاس گئے اور بولے کہ ”ہم راہ بھٹک گئے ہیں، اور بہت بھوکے بھی ہیں، اگر کچھ کھانے کو مل جائے اور کچھ دیر آرام کرنے کیلئے مناسب جگہ مل جائے تو بہت نوازش ہو گی۔۔۔!“
قافلہ سالار نے فوراً اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ ”جلدی جلدی مہمانوں کی خاطر تواضع کی جائے اور اِس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے کیونکہ مہمان اللہ کی رحمت سے آتے ہیں۔۔۔!“
جب یہ ڈاکو اچھی طرح سے کھانا کھا چکے اور اپنی تھکاوٹ بھی دور کر چکے تو جاتے ہوئے ایک ڈاکو، قافلہ سالار سے بولا، “یقیناً اگر ہمارے چہروں پر نقاب نہ ہوتے اور آپ ہمیں پہچان لیتے تو کبھی ہماری اتنی خاطر مدارت نہ کرتے، کیونکہ آپ جانتے نہیں ہو کہ ہم کون ہیں۔۔۔!” قافلہ سالار نے مسکراتے ہوئے کہا، “برخودار! بے شک تم لوگوں نے اپنے چہروں کو نقاب سے ڈھانپ رکھا ہے اور رات کا اندھیرا بھی ہے۔ لیکن میں تمہارے نقابوں کے اندر چھپے ہوئے چہروں کو بھلا کیسے بھول سکتا ہوں؟ تم سب وہی لوگ ہو جنہوں نے پہلے ہمیں لُوٹا تھا اور پھر ہمارے دو افراد کو قتل کیا تھا، جن میں سے ایک میرا اپنا سگا بھائی تھا۔۔!” قافلہ سالار کی بات سن کر وہ ڈاکو چونک گئے اور بولے؛ ”تو پھر سب کچھ جاننے کے بعد بھی آپ نے ہمارے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کیا۔۔؟“
قافلہ سالار بولا؛ “یہ تو اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔ اُس دِن ہم لوگ آپ کے مہمان تھے، جو آپ سے ہو سکا آپ نے ہمارے ساتھ کیا، لیکن آج آپ لوگ ہمارے مہمان ہو، جو ہم سے ہو سکا وہ ہم نے کیا، اللہ تو سب دیکھ رہا ہے وہی اِس کا اجر دے گا۔۔۔!“
تربیت ایسی کہ چپل بھی سیدھے کیے
ضد ایسی کہ اٹھا کر تاج بھی نہیں پہنا
30/05/2023
اوکاڑہ۔سدھو موسے آلا ( انڈین سنگر) کے سالانہ ختم سے پہلے ہی اوکاڑہ پولیس پہنچ گئی۔ ذرائع
سدھو موسے آلا کے فین نے سوشل میڈیا پر ختم میں شرکت کی دعوت دی اور ختم کے بعد ہوائی فائرنگ کا خاص پروگرام ترتیب دیا تھا۔ذرائع
بستی صمد پورہ کے رہائشی شرجیل نامی لڑکے نے تمام بدمعاشوں اور جٹ برادری کو ختم میں شرکت کی دعوت دی مگر پولیس بغیر دعوت کے پہنچ گئی۔ ذرائع,🤣🤣🤣
25/05/2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Telephone
Website
Address
Multan
60000