Muhammad Ahmad
Quran and Hadees
Bayanaat
Personal writes
and Tableegh
16/04/2026
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*⚠تحقیق الروایات المشھورة علی الألسنة*
ناقل و ناشر:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)*
━━❰・ *روایت نمبر 158* ・❱━━━
*حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے کو طلاق کا حکم دینا*
ایک صاحب نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پسند کی عورت سے شادی کی اور شبِ زفاف کی رات کو فجر کی نماز میں جماعت میں شرکت نہ کی، حضرت نے دریافت فرمایا کہ آپ جماعت میں شریک نہیں ہوئے، کیا وجہ بنی؟ بیٹے نے عرض کیا: گھر میں نماز پڑھ لی ھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ۔بیٹا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا کہ کیا کروں؟ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلاق دے دو۔ اور انہوں نے طلاق دے دیا۔
🛇⚠️ تبصرہ🛇⚠️
احادیث کی کتابوں میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے صاحب زادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ سے متعلق طلاق دینے کا حکم موجود ہے، اور محدثین نے لکھا ہے کہ اس حکم کے پس منظر میں کوئی دینی مصلحت یا اس عورت کی موجودگی کی بنا پر کسی دینی مضرت کا اندیشہ موجود تھا، اس لیے انہیں طلاق کا حکم دیاگیا ہے. تاہم جو وجہ صاحب نے بیان کی ہے وہ کتبِ احادیث یا کسی مستند حوالے میں تلاش کے باوجود نہ مل سکی۔ روایت اصل میں یوں ہے:
سنن ابی داؤد میں ہے :
’’ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے نکاح میں تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ اسے طلاق دے دو. میں نے انکار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو‘‘۔
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪رواه أبو داود والترمذي وقال: حديث حسن صحيح.(2/485)
▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون 144004200886
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
16/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 18* ・❱━━━
🌻 *ہر اچھے کام میں سنت نبوی ﷺ اپنانے کی کوشش کریں*
سر یا ڈاڑھی کے بالوں میں کنگھی کرتے وقت ، اسی طرح بال کاٹتے، کٹواتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا سنت ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جوتا پہننے، کنگھی کرنے، پاکی حاصل کرنے حتیٰ کہ ہر (شرف اور زینت والے) کام میں دائیں جانب پسندیدہ تھا۔
📚 صحیح البخاری، رقم الحدیث : 168
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
15/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 17* ・❱━━━
🌻 *سیاہ خضاب استعمال کرنے کی چند صورتیں مع احکام*
سیاہ خضاب کے بارے میں حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ نے جو تفصیل ذکر فرمائی ہے ، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1. اگر کوئی مجاہد دشمن پر رعب و ہیبت قائم رکھنے کے لیے سیاہ خضاب استعمال کرے تو یہ بالاتفاق جائز ہے۔
2. اگر سیاہ خضاب دھوکہ دینے کی نیت سے استعمال کیا جائے ، مثلاً خود کو جوان ظاہر کرنے کے لیے ، تو یہ بھی بالاتفاق ناجائز ہے۔
3. اگر دھوکہ مقصود نہ ہو بلکہ صرف اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے سیاہ خضاب استعمال کرے، تو اس صورت میں اختلاف ہے۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ اس کو جائز فرماتے ہیں، جبکہ جمہور فقہاء کرام رحمہم اللہ اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
4. جوانی میں بال سفید ہونے کی صورت میں سیاہ خضاب کے استعمال کے متعلق فقہاء کی عبارات میں کوئی صریح حکم منقول نہیں، البتہ بڑھاپے میں سیاہ خضاب کی ممانعت کی جو علت فقہاء کرام نے ذکر فرمائی ہے وہ خداع اور دھوکہ ہے۔ چونکہ جوانی میں سیاہ خضاب لگانے سے نہ تو دھوکہ پایا جاتا ہے اور نہ ہی کتمانِ حقیقت ، بلکہ یہ ایک طرح سے اظہارِ حقیقت ہے ، کیونکہ سیاہ بال اس عمر کا طبعی تقاضا ہوتے ہیں، اس لیے جوانی میں سیاہ خضاب کا استعمال جائز معلوم ہوتا ہے۔ مزید کہ جوانی میں بالوں کا سفید ہونا ایک عیب ہے ، اور ازالہ عیب شرعاً جائز ہے۔ اسی بنا پر فقہاء کے قیاس سے بھی جوانی میں سیاہ خضاب کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
📚 فتوی جامعہ دار العلوم کراچی، مورخہ 18/02/1422
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
15/04/2026
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*⚠تحقیق الروایات المشھورة علی الألسنة*
ناقل و ناشر:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)*
━━❰・ *روایت نمبر 156* ・❱━━━
*گڑ کھانے کا واقعہ حدیث کی طرف منسوب کرنا*
ہمارے عوام میں ایک حدیث زبان زد عام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی کہ یہ میٹھا کھانے سے باز نہیں آرہا ، آپ ﷺ اسے منع فرمائیں ، چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخود اس دن میٹھا کھایا ہوا تھا ، اس لیے اسے اگلے روز لانے کوکہا۔ اور اگلے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ میٹھا نہ کھایا کرو۔
اس روایت کو بنیاد بناکر یہ مسئلہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پہلے خود عمل کرنا چاہیے پھر دوسروں کو دعوت دینی چاہیے۔
🛇⚠️ تبصرہ🛇⚠️
مذکورہ بالا واقعہ مختلف الفاظ اور تعبیرات کے ساتھ عوام میں مشہور ہے لیکن محققین کے نزدیک ایسی کوئی روایت کتبِ حدیث میں مذکور نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ کسی بزرگ کا واقعہ ہو، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کردیا جاتا ہے۔ لہذا کسی معتمد سند کے بغیر اس واقعہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے حدیث کے طور پر بیان کرنا جائز نہیں۔ نیز اس واقعہ سے اخذ کیا جانے والا نتیجہ بھی قابلِ غور ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بات پر خود عمل نہ کر پا رہا ہو ، تب بھی اس کے کرنے یا اس سے بچنے کی دعوت دی جاسکتی ہے، البتہ زیادہ بہتریہی ہے کہ خود عمل کرتے ہوئے دعوت دی جائے۔
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی 144012201501
▪فتاوی عثمانیہ 1/223
▪دارالافتاء دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر 170027
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
14/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 15* ・❱━━━
🌻 *سفید بال چننا / اکھاڑنا*
خوبصورتی کی غرض سے سفید بال چننا ممنوع ہے، البتہ مجاہد کے لیے دشمن پر رعب و ہیبت بٹھانے کے لیے سفید بال اکھاڑنا جائز ہے ، اسی طرح اگر جوانی میں چند بال سفید ہوجائے تو ازالہ عیب کی نیت سے ان بالوں کو اکھاڑنا جائز ہے۔
📚 فتاوی رحیمیہ 8/183 طبع قدیم،
📚 فتاوی دار العلوم زکریا 7/331
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
14/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 14* ・❱━━━
🌻 *عورت کا چہرے کے بال صاف کرنا*
عورت کے لیے چہرے کے بال صاف کرنا جائز ہے، اگر اس کے ڈاڑھی یا مونچھ نکل آئے تو ان کو صاف کرنا بہتر ہے۔ ابرو کے کناروں سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانا جائز نہیں، حدیث میں اس پر لعنت آئی ہے، البتہ اگر ابرو بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہوں تو ان کو درست کرکے عام حالات کے مطابق کرنا جائز ہے۔
📚 فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی 69/1408
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
14/04/2026
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*⚠تحقیق الروایات المشھورة علی الألسنة*
ناقل و ناشر:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)*
━━❰・ *روایت نمبر 155* ・❱━━━
*زمین کا بیل کی سینگوں پر ہونے کی روایت*
بچپن میں ہم نے اپنے بزرگوں سے ایک روایت سنی تھی کہ زمین کو ایک بیل نے دونوں سینگوں پر اٹھایا ہوا ہے ، جب بیل تھک جاتا ہے اور حرکت کرتا ہے تو زمین بھی حرکت کرتی ہے اور یوں زلزلہ آتا ہے۔ اس روایت کی تحقیق میں محدثین کرام رحھم اللہ تعالیٰ کے اقوال ملاحظہ ہو۔
🛇⚠️ تبصرہ🛇⚠️
💫 (1) مشہور محدث علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالی رقم طراز ہے:
"ومنها: أن يكون الحديث مما تقوم الشواهد الصحيحة على بطلانه ... ومن هنا حديث: إن الأرض على صخرة، والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة فتحركت الأرض و هي الزلزلة".
💫 (2) علامہ ابوالمحاسن محمد بن خلیل قاوقجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حديث "إن الأرض على صخرة، والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة" موضوع، لكن أخرج نحوه ابن أبي الدنيا وأبو الشيخ، من قول ابن عباس".
💫 (3) علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ومن هذا حديث "إن الأرض على صخرة والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة فتحركت الأرض، وهي الزلزلة" والعجب من مسود كتبه بهذه الهذيانات"
لہذا یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة 1 / 447
▪اللؤلؤ المرصوع 1 / 52
▪المنار المنيف 1 / 78
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144012201425
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
14/04/2026
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*⚠تحقیق الروایات المشھورة علی الألسنة*
ناقل و ناشر:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)*
━━❰・ *روایت نمبر 154* ・❱━━━
*اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔*
لا رھبانیة في الاسلام
⚠️ تبصرہ🛇⚠️
"لا رهبانية في الإسلام"
کے الفاظ حدیث کی کسی بھی معتمد کتاب سے ثابت نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعینہ ان الفاظ کے ساتھ میں نے کوئی روایت نہیں دیکھی۔ اس لیے بعینہ ان الفاظ کو حدیث کہہ کر بیان کرنا جائز نہیں۔
البتہ دیگر ثابت شدہ روایات کی روشنی میں معنوی اعتبار سے یہ بات درست ہے کہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے، یعنی اس کا مضمون ثابت ہے، یہ الفاظ بطورِ حدیث ثابت نہیں ہیں، اس لیے اگر کسی نے رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کیے بغیر یہ بات کہی یا روایت بالمعنیٰ کہہ کر بیان کیا تو یہ ممانعت میں داخل نہیں ہوگا۔
"وَأَمَّا حَدِيثُ لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ فَلَمْ أَرَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، لَكِنْ فِي حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ: إِنَّ اللَّهَ أَبْدَلَنَا بِالرَّهْبَانِيَّةِ الْحَنِيفِيَّةَ السمحة. وَعَن ابن عَبَّاسٍ رَفَعَهُ: لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ. أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ . وَفِي الْبَابِ حَدِيثُ النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ، وَسَيَأْتِي فِي بَابٍ مُفْرَدٍ"
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪فتح الباري : 9/111
▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون 143907200141
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
12/04/2026
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*⚠تحقیق الروایات المشھورة علی الألسنة*
ناقل و ناشر:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)*
━━❰・ *روایت نمبر 153* ・❱━━━
*والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا*
بعض لوگ ایک روایت بیان کرتے ہیں جس کا مفہوم یوں ہے کہ والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنے سے ایک حج اور عمرے کا ثواب ملتا ہے۔ کیا اس طرح کی کوئی روایت موجود ہے؟
🛇⚠️ تبصرہ🛇⚠️
جی ہاں ! احادیث مبارکہ کی کتب میں ایک روایت موجود ہے ، جس میں مقبول حج کا تذکرہ ملتا ہے، روایت کے کلمات مع ترجمہ اور حکم سمیت درجہ ذیل ہے:
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني ... عن ابن عباس، أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: ما من ولد بار ینظر إلی والدیه نظرة رحمة إلا کتب الله بکل نظرة حجة مبرورة، قالوا: وإن نظر کل یوم مائة مرة؟ قال: نعم، الله أکبر وأطیب"
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو صالح اولاد محبت کی نظر سے اپنے والدین کو دیکھے تو اسے ہر نگاہ پر اللہ تعالیٰ ایک مقبول حج کا ثواب بخشتا ہے، لوگوں نے پوچھا: اگر دن میں سو مرتبہ دیکھے تو ؟ فرمایا: تب بھی ، اللہ بہت بڑا ہے اور بڑا پاکیزہ ہے (یعنی ہر مرتبہ دیکھنے کا ثواب حج مقبول کی صورت میں دے گا۔)
"الجامع لشعب الایمان‘‘ نے جس سند سے یہ حدیث ذکر کی ہے اس کے رواۃ اگرچہ ضعیف ہیں،لیکن ان میں کوئی وضاع، یا متہم بالکذب راوی موجود نہیں ہے ، اور ’’الجامع الصغیر للسیوطی‘‘ میں اس حدیث کے ساتھ ضعیف کا اشارہ موجود ہے، لیکن چوں کہ اس حدیث کا تعلق فضائل سے ہے اور فضائل کے ابواب میں ضعیف حدیث بھی کچھ شرائط کے ساتھ مقبول ہے ، لہذا اس حدیث کو فضائل میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪الجامع لشعب الإیمان للبیهقي:10/245
▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون 144007200344
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
12/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 13* ・❱━━━
🌻 *ذوالحجۃ کے پہلے عشرہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا*
ام المومنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کہ جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو، اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے" (رواہ مسلم رقم 1977)
ان جیسی احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن نہ کاٹے اور سر، بغل اور ناف کے نیچے، بلکہ بدن کے کسی حصہ کے بال نہ کاٹے، لیکن یاد رہے کہ ایسا کرنا مستحب ہے ضروری نہیں، لہذا اگر کوئی ایسا نہ کرے تو قربانی میں کوئی خلل نہیں آتا۔ البتہ اگر قربانی سے پہلے چالیس دن گزر گئے ہوں تو پھر ناخن کاٹنا اور ناف کے نیچے اور بغل کے بالوں کی صفائی ضروری ہے۔
📚 الدر المختار مع رد المحتار 2/181
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
10/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 12* ・❱━━━
🌻 *انگریزی بال رکھنے کا حکم*
عرف میں انگریزی بال اس کو کہتے ہیں کہ سر کے اگلے حصے کے بال بڑے رکھے جائیں اور اطراف میں کم کیے جائیں۔ یہ صورت چونکہ قزع (کچھ بال رکھنے اور کچھ مونڈنے) کے مشابہ ہے اور قزع سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے ، اس لیے انگریزی بال سے احتراز ضروری ہے۔ نیز انگریزی بال رکھنے میں انگریزوں اور فساق و فجار کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جب کہ شریعت کی روسے غیر مسلم اقوام کے ساتھ مشابہت کو ناجائز قرار دیا گیا ہے اس لیے بھی اس سے احتراز ضروری ہے۔
📚 فتاوی عثمانیہ ، جلد 10 ، صفحہ 130
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Multan
66000