Knowledge is POWER
Just knowledge
19/07/2022
https://chat.whatsapp.com/GEqyKAOJyfy6O5BybhCRLR
🌹 Share🌹
قرآن کا ترجمہ و تفسیر کے پڑھنے کے لیے گروپ کو جوائن کریں
ترجمہ وتفسیر القرآن WhatsApp Group Invite
مجموعۂ کلام (اردو) - ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
بانگَ درا
عنوان: ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ستم ہو کہ ہو وعده بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں
یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں
ذرا سا تو دل ہوں ، مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں ، بجھا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں ، سزا چاہتا ہوں
20/05/2022
مجموعۂ کلام (اردو) - ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
بانگَ درا
عنوان: جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں
حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانہ دل کے مکینوں میں
اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہہ سائی سے
تو سنگ آستاں کعبہ جا ملتا جبینوں میں
کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے تو نے اے مجنوں
کہ لیلی کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں
مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں
چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی
الہی! کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
ترستی ہے نگاہ نا رسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں
کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمن دل کو
کہ خورشید قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں
محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں
سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق
بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں
پھڑک اٹھا کوئی تیری ادائے 'ما عرفنا' پر
ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں
نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
خموش اے دل!، بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
برا سمجھوں انھیں مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبال اپنے نکتہ چینوں میں
مجموعۂ کلام (اردو) - ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
بانگَ درا
عنوان: نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعده کرتے ہوئے عار کیا تھی
تمھارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی!
تامل تو تھا ان کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی
کھنچے خود بخود جانب طور موسی
کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی!
کہیں ذکر رہتا ہے اقبال تیرا
فسوں تھا کوئی، تیری گفتار کیا تھی
مجموعۂ کلام (اردو) - ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
بانگَ درا
عنوان: گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر ره گزر میں نقش کف پائے یار دیکھ
11/05/2022
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟"
لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی تھی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ"
اور نبوت اس وقت واجب ہوئی جب آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے۔
(جامع ترمذی،کتاب المناقب ،باب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ح 3609 دلائل النبوہ للبیہقی 2/130 وابونعیم فی الدلائل ص 8ح8 المستدرک للحاکم 2/609 اخبار الصبہان لابی نعیم 2/226 کتاب القدر للفریابی ح14تاریخ بغداد للخطیب 1/146امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا:ھذا حدیث حسن صحیح غریب من حدیث ابی ہریرۃ لانعرفہ الا من ھذا الوجہ)
یہ روایت صحیح ہے۔ولید بن مسلم نے دلائل النبوۃ میں سماع کی تصریح کردی ہے اور اس روایت کے کئی شواہد ہیں۔
سیدنامیسرۃ الفجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا:
"قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَتَى كُتِبَتْ نَبِيًّا؟"
"اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کب نبی لکھے گئے؟"
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ"
"اور آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے"
(مسند احمد 5/59 ح20872،کتاب السنۃ لعبداللہ بن احمد 2/398 ح 864 واللفظ لہ،التاریخ الکبیر للبخاری 7/374 کتاب السنۃ لابن ابی عاصم ح410،کتاب القدر لجعفر بن محمد الفریابی ص 29 ح 17طبقات ابن سعد 7/60 المعجم الکبیر للطبرانی 20/353 ح 822،834 ،ابو یعلیٰ الموصلی اتحاف الخیرۃ المھرۃ للبوصیری 9/8 ح 488 حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبھانی 9/53 الحاکم فی المستدرک 2/608،609 وصححہ ووافقہ الذہبی معجم الصحابہ لعبد الباقی بن قانع ج14 ص 5043 ح 1992ء 1993)“)
*امام ابن ابی یعلیؒ صاحب طبقات حنابلہ*
اپنے شیخ ابو جعفر کے تعارف میں لکھتے ہیں :
انکا مکمل نسب :
أَبُو جَعْفَر عبد الخالق بْن عيسى بْن أَحْمَد بن محمد بْنِ عِيسَى بْن أَحْمَد بْن موسى بْن مُحَمَّد بن إبراهيم بْن عَبْدِ اللَّهِ بْن معبد بْن العباس بْن عبد المطلب
پھر تفصیل ذکر کرنے کے بعد مام ابن ابی یعلی فرماتے ہیں :
وتقدم للصلاة عَلَيْهِ أخوه أَبُو الفضل بجامع المدينة وحفر لَهُ بجنب قبر إمامنا أَحْمَد فدفن فِيهِ وأخذ الناس من تراب قبره الكثير تبركا به.
ان پر انکے بھائی ابو الفضل نے نماز جنازہ پڑھا مدینہ کی مسجد میں اور ان کے لیے امام احمد بن حنبل کی قبر مبارک کے نزدیک زمین کھودی گئی قبر کے لیے اور انکی قبر سے بہت سے لوگ مٹی تبرک کے لیے لے جاتے
اسکے بعد آگے امام ابن ابی یعلی فرماتے ہیں :
ولزم الناس قبره ليلا ونهارا مدة طويلة ويقرأون ختمات ويكثرون الدعاء.
اور لوگوں نے اس کی قبر پر دن رات طویل عرصے تک قرآن کے بہت زیادہ ختم کیے اور بہت زیادہ دعا کی (انکی مزار پر)
ولقد بلغني أنه ختم عَلَى قبره فِي مدة شهور ألوف ختمات.
امام ابن ابی یعلی کہتے ہیں اور مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ انکی قبر مبارک پر ایک مہینے میں قرآن کے ہزاروں ختم ہوئے تھے
(طبقات حنابلہ، جلد 2 ص 241 ، امام ابن ابی یعلی )
اس سے معلوم ہوا اھل مزار کی تعظیم کرنا اور اس سے تبرک حاصل کرنا سلف کا طریقہ رہا ہے
دعاگو: اسد الطحاوی
*روزہ افطاری کی دو دعائیں جو حسن احادیث سے ثابت ہیں*
1:-🌹🌹 *اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ، أَنْ تَغْفِرَ لِي.*🌹🌹
2:-🌹🌹 *ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.*🌹🌹
1 📖 :حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: إِذَا أَفْطَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ، أَنْ تَغْفِرَ لِي.
سنن ابن ماجہ حدیث:- 1753
ھذا حدیث حسن
ترجمہ:
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی ۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: *اللهم إني أسألک برحمتک التي وسعت کل شيء أن تغفر لي* اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے.
2 📖: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى أَبُو مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْمُقَفَّعَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَى الْكَفِّ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ، قَالَ: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
سنن ابوداؤد حدیث 2357
حسن
ترجمہ:
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا، وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے، اور کہتے کہ رسول
Click here to claim your Sponsored Listing.