MindSake Media
Life is all about fun...so is this page.
16/02/2026
عدالتی حکم کی تکمیل کرتے ہوٸے سخت قید کے دوران وظیفہِ زوجیت ادا کرکے بچے پیدا کرنے والا مردِ آھن
👍👍👊👊👍👍
14/02/2026
13 دسمبر 1971 کی سہہ پہر
۔
اچانک، مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی ، گورنر ہاؤس سے برآمد ہوئے ۔ ان کے ہمراہ اس وقت صرف ان کا ذاتی محافظ تھا۔ اس وقت وہ پوری فوجی وردی میں ملبوس تھے۔ سینے پر تمغوں کی چار قطاریں آویزاں تھیں اور بغل میں چھڑی دبی ہوئی تھی۔
۔
جنرل نیازی ، گورنر ہاؤس سے نکل کر سیدھے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کی جانب روانہ ہوگئے۔ جنرل نیازی ، ہوٹل پہنچے تو اخبار نویسوں نے انہیں گھیر لیا۔ ایک غیر ملکی نامہ نگار نے ان سے سوال کیا
۔
اگر بھارتی فوج اور مکتی باہنی نے چاروں طرف سے ڈھاکا پر یلغار کردی تو پاکستانی فوج کیا کرے گی؟
۔
انہوں نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا
۔
" وہ بات ٫ جو تم لوگ نہیں جانتے ، وہ ہے ہماری پوشیدہ قوت۔ میں تمھیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ بہت جلد ایک نہایت حیرت انگیز بات ہونے والی ہے ۔ کل تک تمام صورت حال یک سر بدل جائے گی۔
۔
میں تم لوگوں سے ایک بات کا قطعی وعدہ کرتا ہوں ۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ہم کس لئے موت قبول کررہے ہیں ۔ ہم دشمن پر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ایک مسلمان دس ہندوؤں کے برابر ہوتا ہے۔ ہم ان سے پورا پورا حساب بے باق کرکے رہیں گے۔
۔
ڈھاکا کی لڑائی ابھی شروع کہاں ہوئی ہے، ڈھاکا کی عظیم جنگ تو اب شروع ہونے والی ہے۔ ہم آخر وقت تک لڑتے رہیں گے۔ بھارتی فوجیں اگر ڈھاکہ میں داخل ہوئیں ، تو وہ صرف میری لاش پر سے گزر کر داخل ہوسکیں گی، لیکن مجھے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا ، کبھی نہیں ہوگا۔ کل کیا ہونے والا ہے تم لوگ اس کا انتظار کرو ۔
۔
اس کے بعد جنرل نیازی نے چند اور سوالات کے جوابات دئے اور گورنر ہاؤس کی جانب واپس روانہ ہوگئے ۔ انہیں دیکھ کر بعض راہ گیروں نے ہاتھ اٹھا کر اونچی آواز سے " پاکستان! زندہ باد !" اور " مجاہد اعظم! جنرل نیازی زندہ باد!" کے نعرے لگائے ۔ جنرل نیازی نے بھی جواب میں مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور آگے بڑھ گئے
۔
جہاں تک جنرل نیازی کے بڑے بڑے دعووں کا تعلق ہے وہ غیر ملکی صحافیوں کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی۔ ایسی باتیں وہ ان کی زبان سے اکثر سنتے رہتے تھے۔ انہیں اچھی طرح یاد تھا کہ مشرقی پاکستان پہنچنے کے چند ہی روز بعد جنرل نیازی نے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا اور ایک مقام پر، جہاں قریب ہی بھارتی فوجیں بھی پڑاؤ ڈالے ہوئے تھیں ، جنرل نیازی نے ایک برقی میگا فون پر انہیں مخاطب کرتے ہوئے چیخ چیخ کر کہا تھا:
۔
" تم لوگ کان کھول کر سن لو ! اس وقت تم سے جنرل ٹائیگر نیازی مخاطب ہے۔ اگر تم نے کسی قسم کی گڑ بڑ یا حماقت( نان سینس ) کی تو میرے جواں تمھیں ایسا سبق دیں گے، جس کے تم مستحق ہو۔ یاد رکھو اگر لڑائی چھڑ گئی تو وہ ہمارے علاقے میں نہیں ، بھارتی سرحدوں کے اندر ہوگی "
۔
غیر ملکی صحافیوں کو یہ بھی یاد تھا کہ وہ ان سے اکثر کہا کرتے تھے کہ :
۔
" یہ نشیبی اور چھوٹا علاقہ ہے ، لوگ بھی یہاں کے چھوٹے اور گھٹیا ہیں ۔ جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ میں انہیں سیدھا کرنے کا گر جانتا ہوں۔"
۔
ایسی باتیں کرتے وقت وہ زوردار قہقہہ لگاتے تھے اور گردن کرسی کی پشت سے ٹکا کر دیر تک ہنستے رہتے تھے۔ اس کے بعد جب وہ ہنسنے سے فارغ ہوتے تو نہایت اعتماد اور تکبر سے کہتے
۔
" بھارتی فوجیوں میں لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ان میں نہ خود اعتمادی ہے نہ حوصلہ ہے اور نہ ہی ہماری طرح دلیری ہے۔وہ آدھے مرد ہیں ۔ ان کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی جنگ نہیں جیتی۔ انہوں نے کبھی طاقت ور دشمن کا مقابلہ نہیں کیا ۔ وہ ہمیشہ میدان جنگ میں پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔"
۔
اس کے بعد وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کی شکست کے اسبابِ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے :
۔
" ایک مسلمان سپاہی ، بیس یا تیس ہندو سپاہیوں کے برابر ہوتا ہے۔ بلکہ بعض حالات میں تو سو ہندو سپاہیوں پر بھاری ہوتا ہے۔"
۔
پھر وہ اخبار نویسوں سے پوچھتے :
۔
" تم لوگ مجھے کوئی ایسی جنگ بتاؤ ! جس میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر فتح حاصل کی ہو؟ یہ ناممکن ہے ۔ یہ نامرد لڑ ہی نہیں سکتے۔"
۔
جنرل نیازی ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرنے کے بعد جب گورنر ہاؤس پہنچے تو انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ میز کی دراز سے بھارتی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے معاہدہ کا مسودہ نکالا اور نہایت توجہ سے اس کا مطالعہ کرنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت پہلے ہی ہتھیار ڈالنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اور اس کے لئے بھارتی حکومت سے خفیہ خط و کتابت بھی کررہے تھے۔
۔
16 دسمبر
۔
ساڑھے چار بجے سہہ پہر کا وقت تھا۔ ریس کورس میدان میں ہر طرف انسان ہی انسان نظر آتے تھے۔ ڈھاکا میں موجود آٹھ ہزار پاکستانی سپاہیوں اور افسروں سے ان کے ہتھیار رکھوائے جارہے تھے ۔ ان کے شانوں پر سے ان کے عہدوں کے نشانات نوچ نوچ کر ہٹائے جارہے تھے۔ بھارتی سپاہی اور مکتی باہنی کے چھاپہ مار ان کو ذلیل و خوار کرتے تھے۔ مارنے کے لئے جھپٹتے تھے ۔
۔
سامنے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کی بلند عمارت تھی ، جس پر دھندلائے ہوئے سرخ سورج کی میلی دھوپ میں پاکستانی پرچم سرنگوں ہوکر نیچے اتر رہا تھا اور بنگلہ دیش کا پرچم بلندی پر جارہا تھا۔
۔
تین ہی روز، صرف تین ہی روز قبل اسی ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کے کوریڈور میں جنرل نیازی نے غیر ملکی صحافیوں کے سامنے سر دھڑ کی بازی لگانے اور اپنی لاش پر سے گزر کر بھارتی فوجوں کے ڈھاکا میں داخل ہونے کے دعوے کئے تھے
۔
انہیں اس وقت کچھ بھی یاد نہ تھا۔ عینی شاہدوں کے مطابق چند ہی گھنٹوں کے بعد جنرل نیازی ، جنرل اروڑا اور دوسرے بھارتی افسران کے ساتھ کھانے کی میز پر مرغ پلاؤ اڑا رہے تھے، اور اپنے مخصوص انداز میں گھٹیا مذاق کررہے تھے۔ فحش لطیفے سنا رہے تھے ، قہقہے لگا رہے تھے۔
۔
ہفت روزہ الفتح 27 فروری تا 5 مارچ 1976 از شوکت صدیقی
وقت آگیا ہے 🤔 کہ ہمارے بچوں کو "معذوری سے بچاؤ" کے نام پر پلائے جانے والے نامعلوم محلول (پولیو) کو معلوم کیا جائے۔🏴☠️👁️🗨️🤱
جیفری ایپسٹین بل گیٹس ایلن مسک وہ کردار ہیں جنہیں چھوٹے بچے بچوں میں سیکچول فیلنگز کی شدید تمنا رہی ہے۔
آج تیسری چوتھی جماعت کی بچی گھر روتے ہوئے بولتی ہے۔
امی مجھے بلیڈنگ ہورہی ہے۔
اور ماں شدید ہراساں کیفیت میں اس کے باپ کو بتاتی ہے کہ اپنی چھوٹی معصومہ اب چھوٹی نہیں رہی۔
ہارمونل انزائٹی اس حد تک بڑھ چکی کہ بلکل چھوٹے نظر آنے والے بچے بڑوں سے زیادہ سیکس ٹاپک میں دلچسپی رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔
ایسے میں اگر پولیو👁️🗨️ کی فنڈنگ کرنے والے وہ ہوں جنہوں نے پورا ایک جزیرہ قائم کرکہ بچےبچیاں جنسی ظلم سے گزاریں۔ ایک اور دو سال کے بچوں کے پیٹ پھاڑ کر انکی آنتیں کھائ ہیں۔
جنکے شیطانی کرتوت لکھنے کے لئے ایک کروڑ صفحات بھی کم پڑ جائیں اگر ان کرداروں کے سیاہ اعمال لکھنے بیٹھیں۔
اور پھر وہی لوگ دنیا بھر میں 🌎
معصوم بچوں کے حقوق کے علمبردار بن کر سامنے آئیں واہ تو میری ھم وطنوں پھر سوال اٹھانا فرض بن جاتا ہے۔
کیا واقعی آنکھیں بند کر کے ہر ڈونیشن قبول کر لینا دانشمندی ہے؟
کیا بچوں کے جسم تجربہ گاہ ہیں؟
کیا ”خیرات“ کے نام پر آنے والی ہر چیز مقدس ہو جاتی ہے؟
نہیں یہاں سخت، آزاد اور شفاف تحقیق ہونی چاہیے۔
فنڈنگ کے ذرائع، نیت، اجزاء اور اثرات سب کچھ عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ جب تک ہر پہلو کی جانچ نہ ہو ایسی کسی بھی ڈونیشن کو قبول کرنا جرم کے برابر غفلت ہے۔
یہ ایک ماں کی الزام نہیں ہے احتساب کا مطالبہ ہے۔ یہ نفرت نہیں، تحقیق کی اپیل ہے اور یہ سازش نہیں، ایک ماں کا خوف ہے۔
پاکستانی عسکری اور سول حکمرانوں کے نام واضح پیغام:
بچوں کی صحت اور مستقبل پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔
غیر ملکی فنڈنگ، نامعلوم محلول اور مشکوک منصوبوں پر فوراً سخت نوٹس لیا جائے۔ ہر ڈونیشن، ہر معاہدہ اور ہر پروگرام کی آزاد، شفاف اور عوامی تحقیق کی جائے۔
یاد دہانی اگر ایک بھی بچے کو نقصان پہنچا، تو یہ غفلت نہیں جرم ہوگا۔
اور یہ جرم ہو بھی رہا ہے آج کی Gen-Z اس کا ثبوت ہے۔
آخری گزارش:🙏
میرے پاکستانیو! یا تو اس پوسٹ کو شیئر کریں یا اسے کاپی کر کے اپنی وال پر لگائیں، تاکہ یہ بات متعلقہ اداروں اور حکمرانوں تک پہنچے۔
براہِ کرم اسے خط، واٹس ایپ یا میسج کے ذریعے اپنے علاقے کے MNA، MPA، DC اور حتیٰ کہ امامِ مسجد تک ضرور پہنچائیں۔ یہ آواز اگر آج نہ اٹھی
تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی جزاک اللّٰه شکریہ ۔
14/01/2026
جناب حضرت علامہ محمد علی مرزا صاحب
مرشد ! آپ جیل کیا گئے ہمارے لیے تو وخت کا سامان بن گئے ہیں ۔ آپ کی ایک بات دوسری سے نہیں مل رہی ، دوسری تیسری سے نہیں مل رہی ، سونگھ سونگھ کے تجزیہ کر رہے ہیں ، الف لیلا کی کہانیاں سنا رہے ہیں، king's gallery میں کھیل رہے ہیں۔ ہر شاٹ کے بعد کسی کی طرف بلا لہرا کے داد طلب نظروں سے دیکھ رہے ہیں " کہ آقا ٹھیک کھیلا نا " ۔ انٹرویوز ایسے دے رہے ہیں جیسے آپ جیل سے نہیں آئے بلکہ فیفا ورلڈ کپ جیت کے آئے ہیں ۔ آپ کسی سیلبرٹی کے چکر میں سیلبرٹی بننا چاہ رہے ہیں
قبلہ ! آپ کی مذہبی تقاریر قدرے بہتر تھیں ۔ غیر جانبدار اور اپنے مسالک کے شاکی لوگ آپ کو سن لیتے تھے ۔ کبھی کبھی آپ اچھا موازنہ بھی فرما دیتے تھے ۔ انداز گفتگو بھی متاثر کن رہا ۔
حضرت مرزا صاحب پھر آپ کو طاہر اشرفی بننے کی سوجھی ، آپ کو لگا کہ اصل چس توں دربار میں ہے چٹائی میں کیا رکھا ہے ، بخاری اور مسلم سے پولیٹکل سائنس کی طرف دوڑ لگا دیتے ہیں ۔ "جیہڑی ہوئے گی ویکھی جائے گی "
فیر مرشد جیہڑی ہوئی او تسی ویکھ ای لئی ہونی اے ۔
اب آپ قلابازیاں مار رہے ہیں ۔ آنیاں جانیاں چل رہی ہیں ۔ مگر کہیں پہنچ نہیں پا رہے ۔
آقائی ! اب بھی وقت ہے لوٹ جائیے ۔ وہاں آپ کے لئیے بہت سکوپ ہے ۔ آپ اپنی فیلڈ اور کیرئیر نہ بدلیں ۔ یہاں نئے سرے سے محنت کریں گے ، رل جائیں گے ۔ یہاں آپ کسی نوجوان بچے کی ایک ریل کی مار ہیں ۔
وہاں آپ کے مقابلہ میں بزرگوار ہیں ۔ ان کی یادداشت بھی کمزور ہوچکی ہے اور مطالعہ بھی عینک کے بغیر نہیں کر پاتے۔
سو مرشد ! لوٹ جائیے ، اپنی کرسی پہ ، ایسا نہ ہو کہ آپ لوٹ نہ پائیں اور ہجوم کی ریلوں،پوسٹوں اور ٹویٹوں کے نیچے دب جائیں ۔
17/11/2025
آج آپ کو بتاتا ھوں کے کچھ لوگ بہت کھانے کے باوجود بھی موٹے کیوں نہی ھوتے۔۔
موروثی دُبلا پن
(Constitutional Thinness)
کچھ افراد کے لیے وزن بڑھانا نہایت مشکل ہوتا ہے، چاہے وہ اپنے ہم عمروں جتنا ہی کھائیں۔ اس کیفیت کو موروثی دُبلا پن کہا جاتا ہے، جو تقریباً 1.9٪ آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ صرف امریکہ میں اس کے شکار افراد کی تعداد تقریباً 65 لاکھ ہے۔ ایسے افراد کا جسمانی کمیت اشاریہ (BMI) عموماً 18.5 سے کم ہوتا ہے اور بعض اوقات 14 تک جا پہنچتا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا وزن آسانی سے نہیں بڑھتا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ موروثی دُبلے افراد بعض اوقات اپنی ضرورت سے زیادہ کیلوریز کھاتے ہیں، لیکن پھر بھی دبلا رہتے ہیں۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:
- زیادہ حرکت یا بے چینی (fidgeting)
- خوراک کے کچھ حصے کا جسم سے خارج ہو جانا
- میٹابولزم کی زیادہ سرگرمی، مثلاً بھورے چربی والے خلیوں (brown fat) کی حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت
ایسے افراد میں چربی کی مقدار عام ہوتی ہے، لیکن پٹھوں اور ہڈیوں کی کمیت نمایاں طور پر کم ہوتی ہے، جو مستقبل میں ہڈیوں کے بھربھرے پن (osteoporosis) جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
جینیاتی کردار
اس کیفیت میں جینیات کا بڑا عمل دخل ہے۔ مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً 74٪ موروثی دُبلے افراد کے خاندان میں بھی ایسے ہی دبلا پن کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ کچھ مخصوص جینز، جیسے ALK، توانائی کے اخراج کو خلیاتی سطح پر متاثر کر سکتے ہیں۔ ان جینیاتی اور میٹابولک عوامل کی نشاندہی مستقبل میں ایسے علاج کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو نہ صرف کم وزن بلکہ زیادہ وزن کے شکار افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔
📄 تحقیقی مقالہ
DOI: 10.1056/NEJM199005243222101
پاکستانی معیشت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بچے کو کھلونا دیا جائے اور وہ خوشی سے اچھلنے لگے، مگر کھلونا ٹوٹا ہوا ہو۔ عوام ہر بجٹ پر خوشی کے نعرے لگاتے ہیں، جیسے کوئی نئی صبح آنے والی ہو، مگر حقیقت میں وہی پرانی شام ہوتی ہے۔ روپے کی عزت دنیا کی ہر کرنسی کے سامنے ایسے ہے جیسے کلاس کا سب سے کمزور طالب علم، جسے سب استاد کے سامنے بھی چھیڑتے ہیں۔
27 ترمیم کے بعد کے مناظر
یہ بوٹ کوئی عام بوٹ نہیں، یہ تو تاریخ کا سب سے عظیم جوتا ہے۔ اس کی چاپ میں وہ تقدس ہے جو کسی مندر، مسجد یا دربار میں نہیں۔ دانشور اس کے تلوے کو فلسفہ سمجھتے ہیں، شاعر اس کے تسمے کو غزل کا مطلع بناتے ہیں، اور عوام اس کے نشان کو اپنی پیشانی پر سجانے کو سعادت جانتے ہیں۔ کاش عقل بھی اتنی آسانی سے پالش ہو جاتی جتنی آسانی سے یہ بوٹ چمکایا جاتا ہے۔
بوٹ کی تعریف میں قصیدے لکھنے والے کہتے ہیں کہ اس کے تسمے میں قوم کی تقدیر بندھی ہے۔ ہر قدم کے ساتھ ترقی کی راہیں کھلتی ہیں، چاہے وہ قدم آزادی پر پڑے یا جمہوریت کے سینے پر۔ کچھ عقیدت مند تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر بوٹ زمین پر نہ پڑے تو زمین اپنی گردش روک دے۔
چاپلوسی کا یہ عالم ہے کہ لوگ اپنی عزت کو تلوے کے نیچے رکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ دانشور دلیل کے بجائے بوٹ کی چاپ کو دلیل مانتے ہیں، اور سیاستدان اپنی کرسی بچانے کے لیے بوٹ کے سائے میں بیٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ بوٹ کی چاپ ہی امن کی ضمانت ہے، چاہے اس چاپ میں ان کی آواز دب جائے۔
آخر میں، یہ چاپلوسی دراصل ایک اجتماعی عادت بن چکی ہے۔ لوگ بوٹ کو اتنا مقدس بنا چکے ہیں کہ اپنی عقل، آزادی اور عزت اس کے تسمے میں باندھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اور یوں لگتا ہے جیسے قوم کا سب سے بڑا خواب یہی ہے کہ بوٹ ہمیشہ چمکتا رہے، چاہے اس کی روشنی میں ان کی آنکھیں چندھیا جائیں۔
---
28/10/2025
نواب آف کالا باغ بیمار پڑ گئے اُن کے ذاتی معالج نے پراسٹیٹ کینسر کا خدشہ ظاہر کیا اور کہا اُن کا علاج صرف لندن میں ہی ممکن ھے۔
نواب صاحب لندن جانے پر راضی ھو گئے تو اُن کے معالج نے لندن کے ایک مشہور ماہر سرطان (ڈاکٹر) جو اُن کے استاد بھی تھے سے اپوائنٹمینٹ لی اور نواب صاحب کو لے کر لندن چلے گئے ۔۔
مقررہ دن اور وقت پر گورا ڈاکٹر، نواب صاحب کو چیکنگ رُوم میں لے گیا , آدھے گھنٹے کی چیکنگ کے بعد باھر نکلا تو کافی پُرسکون اور مطمئن تھا ۔۔
اُس نے بتایا کہ پراسٹیٹ کینسر نہیں ھے میں نے دوا تجویز کر دی ھے , ہدایت کے مطابق ایک ماہ تک استعمال کرتے رہیں آرام آجائے گا، اور مزید مشورے کی ضرورت پڑے تو فون پہ بات کر لینا ۔۔
رخصت ہونے سے قبل گورے ڈاکٹر نے نواب صاحب کے ذاتی معالج یعنی اپنے شاگرد کو بازُو سے پکڑا اور ایک طرف لے جا کر اُس سے شکوہ کیا “ مجھے تو تم پر فخر تھا تم میرے بہت قابل شاگرد ہو مگر تم نے تو آج مجھے بہت مایوس کیا، جب صرف ایک اُنگلی مریض کی Re**um میں ڈال کر پتہ چل سکتا تھا کہ اُسے پراسٹیٹ کینسر ہے یا نہیں تو تم اُسے اتنے پیسے خرچ کر کے اتنی دُور میرے پاس لندن کیوں لے کر آئے ؟
نواب صاحب کے معالج نے جواب دیا
سر جس جگہ آپ نےاُنگلی دی میں اگر پاکستان میں نواب صاحب کو اُس جگہ اُنگلی دیتا اُنہوں نے میرا پورا خاندان مروا دینا تھا سو مجھے مجبوراً اُنہیں اُنگلی دلوانے آپ کے پاس لانا پڑا ۔۔
( جو پاکستانی سیاست دان لندن علاج کرانے جاتے ھیں ان سے اس تحریر کا کوئی تعلق نہیں )
27/10/2025
ایک خبر سائفر کے حوالے سے اسی صاحب کی وائرل کی جا رہی ھے کہ عمران خان نے سائفر لہرانے سے پہلے امریکی سفیرسے اجازت لی تھی مگر اسی انٹرویو میں ہی یہی اہلکار یہ دعویٰ بھی کر رہا ھے کہ مشرف نے ایٹمی اساسوں کا اختیار امریکا کو بیچ دیا تھا۔۔ اب ان پٹواریوں کو کون سمجھائے کہ سائفر سے زیادہ ایٹمی اختیار امریکا کو دینا زیادہ بڑی غداری ھے۔ یاد رھے اسی سال نور خان ائر بیس پہ بھارتی حملوں کے بعد امریکا کا اچانک فعل ھونااور جنگ رکوانااب سمجھ آتا ھے۔ر
My one year transformation journey in the gym which seemed impossible for me. Weighing just 63kgs at 36years for a height of 5.9 I was not sure what would I really achieve..but I got results.
Sudia Pak Defense deal exposed..
23/08/2025
“ہماری کھوپڑی سٹک گئی تو ایک کے بعد ایک براہمواس میزائل چلے گا”۔
فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی سمیت ہر قسم کی نیچرل حرکات سے عاری ، بالی وڈ کے اپر استاد اداکار متھن چکروتی کی دھمکی۔۔۔
زیر نظر تصویر میں آپ، جناب کا چکرورتی ڈیفنس ڈوم بھی دیکھ سکتے ہیں ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan