Knowledge lower
Ľěāđěŕ øf phč
Ai Reorter
15/06/2024
15/06/2024
سامان سے لدا ہوا ایک بحری جہاز محو سفر تھا کہ تیز ہواوں کی وجہ سے وہ الٹنے لگا۔ قریب تھا کہ جہاز ڈوب جاتا، اس میں موجود تاجروں نے کہا کہ بوجھ ہلکا کرنے کیلئے کچھ سامان سمندر برد کرتے ہیں ۔ تاجروں نے مشورہ کرکے طے کیا کہ سب سے زیادہ سامان جس کا ہو، وہی پھینک دینگے۔ جہاز کا زیادہ تر لوڈ ایک ہی تاجر کا تھا۔ اس نے اعتراض کیا کہ صرف میرا سامان کیوں؟ سب کے مال میں سے تھوڑا تھوڑ پھینک دیتے ہیں۔
انہوں نے زبردستی اس نئے تاجر کو سامان سمیت سمندر میں پھینک دیا۔ قدرت کی شان کہ سمندر کی موجیں اس کے ساتھ کھیلنے لگیں۔ اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا،جب ہوش آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا ہے۔ یہ ایک غیر آباد جزیرہ تھا۔ جان بچنے پر اس نے رب کا شکر ادا کیا۔ اپنی سانسیں بحال کیں. وہاں پڑی لکڑیوں کو جمع کرکے سر چھپانے کیلئے ایک جھونپڑی سی بنائی. اگلے روز اسے کچھ خرگوش بھی نظر آئے۔ ان کا شکار کرکے گزر بسر کرتا رہا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ کھانا پکا رہا تھا کہ اس کی جھونپڑی کو آگ لگ گئی۔ اس نے بہت کوشش کی، مگر آگ پر قابو نہ پا سکا۔اس نے زور سے پکارنا شروع کیا، تو نے مجھے سمندر میں پھینک دیا۔ میرا سارا سامان غرق ہوگیا۔ اب یہی جھونپڑی تھی میری کل کائنات، اسے بھی جلا کر راکھ کر دیا۔ اب میں کیا کروں؟
یہ شکوا کرکے وہ خالی پیٹ سو گیا۔ صبح جاگا تو عجیب منظر تھا۔ دیکھا کہ ایک کشتی ساحل پر لگی ہے اور ملاح اسے لینے آئے ہیں۔ اس نے ملاحوں سے پوچھا کہ تمہیں میرے بارے میں کیسے پتہ چلا؟ انہوں نے جو جواب دیا، اس سے تاجر حیران رہ گیا۔ ملاحوں نے کہا کہ ہمیں پتہ تھاکہ یہ جزیرہ غیر آباد ہے، لیکن دور سے دھواں اٹھتا ہوا نظر آیا تو سمجھے شاید کوئی یہاں پھنسا ہوا ہے، جسے بچانا چاہئے۔ اس لئے ہم تمہارے پاس آئے۔ پھر تاجر نے اپنے پورا قصہ سنایا تو ملاحوں نے یہ کہہ کر اسے مزید حیران کر دیا کہ جس جہاز سے تمہیں سمندر میں پھینکا گیا، وہ آگے جا کر غرق ہوگیا۔ یہ سن کر تاجر سجدے میں گر گیا، رب کا شکر ادا کرنے لگا اور کہا کہ پاک ہے وہ ذات جس نے مجھے بچانے کیلئے تاجروں کے ہاتھوں سمندر میں پھینکوایا۔ اپنے بندوں کے بارے میں وہی زیادہ جاننے والا ہے۔
حالات جتنے بھی سخت ہو جائیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ رکھیئے ۔۔
07/05/2024
سروسز ہسپتال میں ہاوس جاب کے دوران میری گائنی کی روٹیشن چل رہی تھی۔ اس رات میری لیبر روم میں ڈیوٹی تھی۔ جن لوگوں کو ٹرشری کیئر گورنمنٹ ہسپتالوں کے لیبر روم قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو ان کو علم ہو گا کتنی افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ مریض بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان کو مینج کرنے کے لیے ڈاکٹرز محدود تعداد میں ہوتے ہیں۔
کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، ذرا بھی نہیں۔
صبح مارننگ میٹنگ ہونا ہوتی ہے جس میں ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کے سامنے بیچ سینئر نے ایک ایک مریض کی تفصیلا کیس ہسٹری اور اپنی مینجمنٹ بیان کرنی ہے۔
کسی ذرا سی بھی غلطی کی صورت میں معافی کی گنجائش نشتہ ۔ ۔ ۔
یہ بھی ایسی ہی ایک رات تھی۔ ہمارے یونٹ کا ایمرجنسی ڈے تھا۔ ایک پر ایک مریض آئے جا رہے ہیں، کسی ڈاکٹر کو پانی بھی پینے کا ہوش نہیں تھا۔ معمول سے زیادہ رش تھا۔ اتنے میں اچانک لیبر روم کے داخلی دروازے پر شور سا اٹھا۔ اور اگلے ہی لمحے ایک سٹریچر نمودار ہوا جس کو ہسپتال کا عملہ لے کر آ رہا تھا۔
سٹریچر پر خون کا تالاب تھا، اس خون کے تالاب میں ایک عورت پڑی تھی۔ ساتھ ایک اور بدحواس خاتون تھیں۔ مریض کو فٹا فٹ بیڈ پر شفٹ کیا گیا۔
ہسٹری لینے کے لیے میں ساتھ آنے والی خاتون کی طرف متوجہ ہوئی کہ بتلاو تو سہی ، کیا بیتی مریض کے ساتھ، ہوا کیا۔۔۔ !!!
لیکن یہ کیا، وہ تو پٹھان خاتون تھی۔ اردو سے نا بلد۔ ۔
وہ پشتو زبان بولیں ہم اردو۔
ان کو اردو نہیں آتی، ہم میں سے کسی کو بھی پشتو نہیں آتی۔ پندرہ منٹ اس مغز ماری میں بیت گئے۔
جان بچانے کے لیے قیمتی وقت ہاتھ سے سرکتا جا رہا تھا۔ مریضہ بے ہوش تھی۔ مریضہ کو خون روکنے کے لیے ایمرجنسی میں ٹیکے تو لگا دئیے گئے، اب اس کے بعد کیا کریں؟
جب تک پتہ ہی نہیں مریضہ کے ساتھ بیتی کیا، علاج کا اگلا لائحہ عمل کیسے طے ہو۔
مریضہ کے ساتھ والی خاتون کو بمشکل اشاروں سے سمجھایا گیا کہ مریضہ کے شوہر کو یا کسی اور کو بلا دیں جس کو اردو آتی ہو۔ وہ اشاروں میں کچھ بتانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن بالکل اندازہ نہیں ہو پارہا تھا کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔ بچے کی پیدائش ہوئی ہے یا حمل ضائع ہوا ہے ؟ یا کیا بیتی ہے اس غریب بے چاری عورت پر۔ جس کا خون ندی کی طرح بہہ رہا تھا۔ رکنے میں نہیں آ رہا تھا۔
ڈاکٹروں کی پوری ٹیم موجود، لیکن کریں تو کیا کریں، مریضہ کے بلڈ گروپ تک کا نہیں پتہ، خون لگائیں بھی تو کیسے۔
ایمرجنسی میں بلڈ بینک سے او نیگٹو بلڈ کا ایک بیگ ملا جو اسے لگ دیا گیا۔ گرتے ہوئے بلڈ پریشر کو سنبھالا دینے کے لیے ڈرپیں چڑھا دی گئیں۔ ساتھ والی خاتون باہر سے مریضہ کے شوہر صاحب کو بلانے گئی ہوئی تھیں جو ساتھ آئے تو تھے لیکن اب گدھے کے سر سے سینگھ کی طرح غائب۔
ڈاکٹرز کی ٹیم مریضہ کی جان بچانے کے لیے ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہے، بلڈ بینک والوں کو فون پر فون کیے جا رہے ہیں، ایک کال پر SR صاحبہ بھی پانچ منٹ کے اندر پہنچ آئیں ، نہیں ہیں تو مریضہ کے گھر والے نہیں ہیں۔
بمشکل خدا خدا کر کے آدھے گھنٹے بعد شوہر صاحب تشریف لائے۔ وہ بھی پٹھان تھے ، لیکن یہ شکر ہے ان کو اردو آتی تھی۔ ان سے ہسٹری لینے سے علم ہوا کہ گھر میں دائی کے ہاتھوں بچے کی پیدائش ہوئی تھی، جس کے بعد سے بلیڈنگ ہے کہ رکنے میں نہیں آ رہی۔ اپنی طرف سے بیوی کو ہسپتال میں لا کر اپنا فرض ادا کر دیا تھا، اس ساری مصیبت میں وہ تھک گئے تھے، لہذا چائے پینے تشریف لے گئے۔
ایس آر صاحبہ نے کال پر کیس اسسٹنٹ پروفیسر صاحبہ سے ڈسکس کیا اور ایمرجنسی میں مریضہ کا یوٹرس (بچہ دانی) نکالنے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ جس طرح سے خون بہہ رہا تھا، مریضہ کی جان بچانے کے لیے یہ ضروری تھا۔
فٹا فٹ ایمرجنسی میں مریضہ کے ضروری ٹیسٹ کروائے گئے، اتنی دیر میں اسسٹنٹ پروفیسر صاحبہ خود بھی آ گئیں۔ اس وقت رات کے تقریبا دو بجے کا ٹائم تھا اور سخت سردی تھی۔ وہ اپنے گھر سے اتنی دور سے آدھی رات کو صرف ایک قیمتی انسانی جان بچانے کے لیے آئیں۔
آپریشن شروع ہوا، مریضہ کا پیٹ چاک کیا گیا۔ اندر کا منظر بہت بھیانک تھا۔ بچہ دانی بری طرح سے کٹی پھٹی تھی۔ خون بری طرح سے بہہ رہا تھا۔ مریضہ کو دونوں طرف خون کی بوتلیں لگی ہوئی تھیں۔ بمشکل بچہ دانی کو نکالا گیا، لیکن یہ کیا؟
خون پھر بھی نہیں رک رہا تھا۔ مریضہ DIC میں جا رہی تھی۔
آخر کار فیصلہ کیا گیا کہ اندر سے پیکنگ کر کے پیٹ بندکر دیا جائے اور تین دن بعد دوبارہ پیٹ کھول کر پیکنگ ریموو کی جائے۔ پیکنگ کی گئی، پیٹ بند کر دیا گیا، جتنا خون مریضہ کا ضائع ہو چکا تھا اس کو ری پلیس کرنے کے لیے خون کی بوتلیں لگائی جاتی رہیں، مریضہ کو آئی سی یو شفٹ کرا دیا گیا۔ ساتھ ساتھ FFPs ( جو خون جمانے والے خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے) بھی دئیے گئے اور اگلے دن شام کو مریضہ ہوش میں آ گئی۔ یہ ایک معجزہ تھا۔
جس حالت میں مریضہ کو لایا گیا تھا، اس کے بچنے کے کوئی چانسز نہیں تھے۔ لیکن قابل ترین اور مخلص ڈاکٹرز کی کاوش نے یہ معجزہ کر دکھایاتھا۔ اگرچہ مریضہ نڈھال تھی بہت، لیکن زندہ بچ گئی تھی، زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی۔
تین دن بعد دوبارہ پیٹ کھول کر پیکنگ ریموو کی گئی، تب تک اندر سے بلیڈنگ رک گئی تھی۔
چند دن بعد مریضہ جب مکمل صحت یاب ہو گئی تو اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔
مریضہ چھ بچوں کی ماں تھی۔ تمام بچوں کی پیدائش گھر میں ہوئی۔
آخری بچے کی پیدائش کے دوران یہ کامپلیکیشنز ہوئیں کہ بچہ بریچ تھا۔ (جس کو عام زبان میں الٹا بچہ کہتےہیں) ۔ دائی صاحبہ نے گھر پر ہی ڈلیوری کرنے کے چکر میں پتہ نہیں کیا کیا تیکنیس استعمال کیں کہ مریضہ موت کے دہانے پر پہنچ گئی۔
اللہ کی مہربانی اور قابل ترین گائناکالوجسٹس کی ٹیم نے ایک ماں کو مرنے سے بچا لیا۔
مائیں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔ ماوں کو مرنا نہیں چاہیے۔
اس رات لیبر روم میں موجود ڈاکٹرز کی ٹیم نے جو مسلسل بھاگ دوڑ کی، ایک جان بچانے کے لیے، اس کا مریضہ کے گھر والوں کو نہیں علم۔
وہ باہر بیٹھے تھے۔ ان کا کام تھا تو بس اتنا کہ ان کو بلڈ گروپ بتایا گیا اور انہوں نے اس بلڈ گروپ کے دو ڈونرز بلوا دئیے۔ باقی کے بلڈ بیگز بھی ہسپتال کے اندر سے ارینج کیے گئے۔
جب آپ اپنے کسی پیارے کو ایمرجنسی میں ہسپتال میں لے کر جاتے ہیں تو آپ کو علم نہیں ہوتا، اس کی جان بچانے کے لیے کون سے گمنام لوگ اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں، جن کو آپ جانتے نہیں ہوتے لیکن ان کی بس یہی ایک کوشش ہوتی ہے کہ وہ آپ کے پیارے کی جان بچانے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، کر گزریں۔
سب سے بڑی بات، بچے کی پیدائش گھر میں کروانے سے ہمیشہ گریز کریں۔
ڈاکٹر فرخ فاطمہ اشرف۔
موسیقی ترک کر دو
اس وجہ سے نہیں کہ
حرام ہے
اس لئے کہ جس ذات نے آپ کو سماعت بخشی ہے اسے ناپسند ہے
.
مجھے لگتا ہے....
انسان کو اپنی بھاگتی دوڑتی زندگی میں ایک دو ایسے لوگوں کا ساتھ ضرور رکھنا چاہیئے...
جو اچانک اسے سرسری سا ہلا کر پوچھ سکیں...
دوست...
ایمان کے کیا حالات ہیں؟
نمازوں میں کوتاہی تو نہیں ہو رہی؟
اور انسان انہیں کھل کر بتا سکے.
ہاں... ہورہی ہے.
اور وہ
جواباً تھوڑی سی موٹیویشن دے دیں.
ہمت کر.... جنت میں ساتھ نہیں جانا کیا.
اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے ایسے نیک لوگوں کا ساتھ دے. آمین
فیسبک پہ آنے والا ہر مرد اور ہر عورت کسی نا کسی ہمدرد کی تلاش میں ہوتے ہیں، تلاش نہ بھی ہوں تو فیسبک کے اس پلیٹ فارم پہ ہمدرد پارٹنر کہیں نا کہیں مل ہی جاتا ہے جسکو ہم اپنے دکھ درد سناتے ہیں.
پہلے ہم صرف فیسبک فرینڈز ہوتے ہیں جو کہ پوسٹ لائک کمینٹ تک محدود رہتے ہیں پھر کسی بہانے انبکس تک دونوں فریقین کو رسائی مل جاتی ہے پوسٹ پہ اچھی گفتگو کرنے والے پہ یقین کرکے کہ اچھا انسان ہے بات چیت شروع ہو جاتی ہے۔
پہلے پہل کبھی کبھار پھر آہستہ آہستہ ڈیلی اور پھر ہر وقت Connected رہنا شروع ہو جاتے ہیں، دوستی ہو جاتی ہے جو جلد ہی ایک دوسرے کی عادات کو پسند کرتے ہوئے پیار محبت میں بدل دیتے ہیں۔
پھر لڑکی اپنی سہیلیوں کے اپنے آشنا کی خصوصیات سناتی اور لڑکا اپنے یاروں کو تیری بھابی بہت مست ہے پیاری ہے کیوٹ ہے سنا سنا کر جلاتا ہے اور دوستوں کے یقین نہ کرنے پہ In a relationship with فلاں کی فیوچر وائف اور حال میں اسکی منہ بولی گرل فرینڈ کی پوسٹ لگا کر ایک دوسرے سے پیار محبت کا اظہار کرکے لوگوں کو دکھاتے۔
انہیں لگتا ہے لوگ جل رہے ہیں جبکہ لوگوں کی نظروں میں وہ اپنا مقام اپنی اہمیت اپنی حیثیت اپنی عزت اور اپنا وقار کھو دیتے ہیں۔
یہ فیسبکی ریلیشن تادیر نہیں چلتے جلد ہی کٹ جاتا ہے، لڑکا تو پھر کہیں نا کہیں منہ مار لیتا ہے جبکہ لڑکی فیسبک واسیوں کی نظر میں ایسے ہو جاتی ہے جیسے ہمارے معاشرے میں مطلقہ عورت جسکا جلد رشتہ بھی نہیں ہوتا اور خود بھی منہ چھپائے گھر کے دروازے تک ہی محدود رہتی ہے۔
پھر وہ لڑکی اپنی پہچان،اپنا نام چینج کرکے فیسبک پہ اپنی گزری محبت پہ لعن طعن اور دکھی پوسٹ رنڈی رونا لگا رکھتی۔
اس لئیے کہتا ہوں یہ چیزیں چھپا کر رکھنے کی ہوتی ہیں لوگوں کو دکھانے کی نہیں، رئیل میں ہماری کسی پڑوسی،محلے دار، سکول فیلو ،یونی فیلو یا رانگ نمبر پہ کسی سے دوستی ہو جائے تو ہم کتنا خود کو چھپاتے ہیں لوگوں سے ،محلے والوں سے رشتے داروں سے کہ کسی کو پتہ چل گیا تو بدنامی ہو گی فیسبک پہ اس چیز کو کیوں بدنامی نہیں سمجھتے آپ لوگ ؟۔
آجکا سوال____
آپکی آراء کا منتظر
Click here to claim your Sponsored Listing.
15/06/2024