Gilgit HD

Gilgit HD

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gilgit HD, Actor, Sakarkoi, Minawar.

23/05/2026

حلقہ GBLA-1 میں نون لیگ کا ٹکٹ یا سیاسی خودکشی؟؟؟

مرکزی قیادت کے فیصلے پر عوامی حلقوں میں تشویش اور سوالات۔۔
کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے انتخابی ٹکٹ کا فیصلہ اس کی جیت یا ہار کا تعین کرتا ہے۔لیکن حلقہ GBLA-1 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے ٹکٹ کی حالیہ تقسیم نے خود پارٹی کے وفاداروں اور حلقے کے غیر جانبدار سیاسی مبصرین کو شدید حیرت اور صدمے میں ڈال دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی الیکشن کمیٹی کو زمینی حقائق اور حلقے کی مخصوص سیاسی حرکیات سے بالکل بے خبر رکھ کر ایک ایسا فیصلہ کروایا گیا ہے جو نون لیگ کی یقینی سیٹ کو دریائے سندھ میں بہانے کے مترادف ہے۔۔۔۔
حلقہ ون کا بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ جس امیدوار کو زبردستی بیساکھیوں کے سہارے حلقے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خود پارٹی کے اندر اس کے خلاف شدید ترین تحفظات اور بغاوت کی لہر موجود ہے۔ ایک ایسا نام جسے حلقے کے ووٹرز تو دور۔خود نون لیگ کے مخلص کارکنان تک قبول کرنے کو تیار نہیں۔۔اسے ٹکٹ تھما دینا کسی فلم یا کرکٹ میچ کا پاس بانٹنے جیسا غیر سنجیدہ عمل دکھائی دیتا ہے۔ اس غیر مقبول فیصلے کے باعث نون لیگ کا روایتی ووٹ بینک اس وقت شدید مایوسی کا شکار ہے۔۔ اور اس کمزور پوزیشن کے ساتھ نون لیگ کا یہاں سے کامیابی حاصل کرنا ۔خیال است و محال است۔ والا معاملہ بن چکا ہے۔
نون لیگ کی مرکزی قیادت کو اب یہ کڑوی سچائی تسلیم کرنی ہوگی کہ حلقہ ون کے اندر نون لیگ کی اپنی صفوں میں اس وقت کوئی ایک بھی ایسی صلاحیت اور قد کاٹھ رکھنے والی سیاسی شخصیت موجود ہی نہیں ہے جو اپنے بلبوتے پر یہ سیٹ جیت کر پارٹی کی جھولی میں ڈال سکے۔۔۔ ایسے میں ایک کمزور اور غیر مقبول چہرے پر شرط لگانا سیاسی نادانی کی انتہا ہے۔۔۔
سیاسی حلقوں اور دور اندیش مبصرین کی رائے میں۔۔اس وقت نون لیگ کے پاس اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے اور اس حلقے میں سیاسی طور پر زندہ رہنے کا واحد باوقار راستہ یہ بچا ہے کہ وہ اپنی ضد چھوڑ کر۔۔حلقے کے زمینی حقائق کو تسلیم کرے اور حلقہ GBLA-1 میں موجود سب سے مقبول۔مضبوط اور مخلص عوامی قوت (جس کا اپنا ایک بہت بڑا اور قائم شدہ ووٹ بینک ہے) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی طرف جائے اس زبردست عوامی طاقت کے ساتھ الحاق ہی نون لیگ کو اس انتخابی معرکے میں ایک باوقار پوزیشن دلا سکتا ہے۔
ابھی سر سے پانی گزرا نہیں ہے۔ کاغذات نامزدگی اور ٹکٹوں کے حتمی مرحلے کے بعد بھی فیصلوں پر نظرثانی کی جا سکتی ہے اور ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت۔ بالخصوص الیکشن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ چند مقامی افراد کی من گھڑت اور گمراہ کن رپورٹس پر تکیہ کرنے کے بجائے فوری طور پر حلقہ ون کے اصل حقائق کا دوبارہ جائزہ لے۔اور کسی یکطرفہ شکست سے بچنے کے لیے حلقے کی حقیقی مقبول قوت سے سیاسی اتحاد کی راہ ہموار کرے۔ حلقے کے باشعور عوام اب کسی مسلط کردہ اور غیر مقبول فیصلے کو قبول کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہیں۔

تحریر۔۔ایک گمنام لیگی سپاہی

21/05/2026

سیاسی نمائندہ بلڈوزر۔نہیں ہوتا۔۔

تحریر محمد علی قاضی
حلقہ GBLA-1 کے عوام کب تک جھوٹے دلاسوں اور روایتی مداریوں کے ہاتھوں بیوقوف بنتے رہیں گے؟؟؟
سال 2026 آ چکا ہے.لیکن افسوس کہ ہماری سیاسی سوچ ابھی تک پتھر کے دور میں جی رہی ہے۔
جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں۔ لوگوں کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہوتا ہے کہ۔فلاں کینڈیڈیٹ ہمارے جنازے پر نہیں آیا۔فلاں ہمارے گلی محلے میں غم خواری کے لیے نہیں پہنچا سیلاب آیا تو وہ ہمارے پاس نہیں کھڑا تھا۔۔
اللہ کے بندو۔عقل کو ہاتھ مارو۔۔ اسمبلی کے نمائندے کا کام جنازے پڑھانا۔شادیاں بھگتانا یا سیلاب کے آگے بند باندھنا نہیں ہوتا۔
وہ کوئی بلڈوزر یا خیراتی ادارہ نہیں ہے۔ سیاسی نمائندے کا اصل کام ۔قانون سازی۔ قومی سطح پر آپ کے حقوق کی جنگ لڑنا اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے آپ کے لیے فنڈز اور ترقی لاناہوتا ہے۔۔۔
جب ہمارے کسی علاقے پر کوئی قدرتی آفت یا سیلاب آتا ہے۔تو وہاں ریاست کے ادارے کام کرتے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ (DDMA) ضلعی انتظامیہ۔ نگران حکومت اور متعلقہ محکموں کا کام ہے کہ وہ مشینری لے کر پہنچیں اور بحالی کا کام کریں۔۔۔
لیکن ہمارے ہاں تماشا کیا ہوتا ہے؟
ایک روایتی لیڈر کیمرہ مین اور مائیک اٹھا کر وہاں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں سگنل تک نہیں ہوتے۔وہاں کان سے موبائل لگا کر جھوٹی اداکاری کرتا ہے۔
ہاں۔۔ فلاں سیکرٹری کو بولو یہاں مشینری بھیجے۔۔ عوام اس جھوٹے فوٹو سیشن اور مگرمچھ کے آنسوؤں پر خوش ہو کر تالیاں بجانا شروع کر دیتی ہے کہ ۔دیکھو لیڈر ہمارے دکھ میں شریک ہے!
لیڈر ہو توایسا ہو۔
خدا کا خوف کرو۔ وہ تمہاری مصیبت پر ہمدردی نہیں چمکا رہا۔ بلکہ تمہارے دکھ کا سودا کر کے سوشل میڈیا کے لیے لائیکس اور الیکشن کے لیے ووٹ بٹور رہا ہے۔۔۔۔
ہم آج دنیا سے اسی لیے پیچھے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے سیاسی نمائندوں کو مردہ خور بنا دیا ہے جو صرف جنازوں اور حادثات پر سیاست چمکانے آتے ہیں۔ اگر کوئی نمائندہ جھوٹی تسلیاں دینے کے بجائے قانون اور وژن کی بات کرے۔تو ہم اسے غائب قرار دے دیتے ہیں۔
اگر گلی نالی اور جنازوں کی سیاست ہی کرنی ہے تو پھر قانون ساز اسمبلی کو تالا لگا دو۔۔
اگر اپنے بچوں کا مستقبل بدلنا ہے۔ تو فوٹو سیشن کرنے والے بہروپیوں کو مسترد کرو۔۔۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اس لولی پاپ اور سستی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کیا جائے۔ حلقہ ون کا ووٹ اب صرف اور صرف۔آئینی حقوق۔ جرات مندانہ قانون سازی اور حقیقی ترقی کے وژن۔پر پڑے گا کسی روایتی تماشے پر نہیں!
جاگو حلقہ ون کے عوام! سستی ہمدردیوں کے جال سے نکلو اور شعور کا ساتھ دو۔۔

Photos from Gilgit HD's post 14/05/2026

گلگت: بسین کھاری میں پی ٹی آئی ایم ڈبلیو اتحادی امیدوار برائے حلقہ 1 الیاس صدیقی کی پی ٹی آئی یوتھ کے سینئر رہنما و امیدوار برائے پارٹی ٹکٹ زین العابدین کے گھر آمد

اس موقع پر زین العابدین نے وسیع تر پارٹی مفاد، بانی چئرمین عمران خان کے نظریے اور جدوجہد کی خاطر پارٹی فیصلے کا احترام و خیر مقدم کرتے ہوئے اتحادی امیدوار برائے حلقہ ۱ گلگت الیاس صدیقی کے حق انتخاب سے دست برداری کا اعلان کیا

اور پی ٹی آئی ایم ڈبلیو اتحادی امیدوار الیاس صدیقی کی کامیابی کے لئے تن من دھن کیساتھ بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا

اس موقع پر نامزد اتحادی امیدوار حلقہ ۱ الیاس صدیقی نے زین العابدین کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انکی حمایت کا شکریہ ادا کیا

مزید برآں پی ٹی آئی گلگت ڈویژن کے صدر کریم شیر نے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی ٹکٹ امیوار زین العابدین کی پارٹی خدمات و قید و بند کی صعوبتوں کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور مشکل حالات میں پارٹی فیصلے کے ساتھ ڈٹے رہنے پر سلام عقیدت پیش کیا
اور پارٹی جانب سے نامزد امیدوار الیاس صدیقی کے لئے نیک
خواہشات کا اظہار کیا
اور باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ حلقہ ۱ میں بھرپور انتخابی مہم چلانے کے عزم کا اظہار کیا

اور بانی چئرمین عمران خان کیساتھ مشکل حالات میں غیر متزلزل حمایت پرقائد جناب راجہ ناصر عباس اور پوری ایم
ڈبلیو ایم کو سلام عقیدت پیش کیا

اس موقع پر پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی و تنظیمی عہدہداران اور کارکنان کی بڑی تعداد شامل تھے

13/05/2026

خدمات کا سفر
پوسٹ نمبر 1
یہ صرف ایک شخصیت کی کہانی نہیں۔۔۔
یہ گلگت بلتستان میں شعور۔ خدمت اور عوامی جدوجہد کی ایک مکمل تاریخ ہے۔۔۔۔۔
مولانا حافظ سلطان رئیس الحسینی صاحب
ایک بار پھر عوام کے درمیان۔۔۔
خدمت کے ثبوت کے ساتھ۔
قربانیوں کی تاریخ کے ساتھ۔
اور ایک روشن سوچ کے ساتھ۔

اگلی قسط میں
عوامی حقوق کی جدوجہد کا ایک اہم باب۔۔۔

جاری ہے ۔۔

10/05/2026

گلگت تیار ہو جاؤ۔۔عوامی طاقت کا سمندر نکلنے والا ہے!
گلگت کی فضاؤں میں تبدیلی کی نئی صدا گونجنے والی ہے۔
حلقہ-1 کے مرکزی کمپین آفس کنوداس سے ایک عظیم الشان ریلی
مولانا حافظ سلطان رئیس الحسینی صاحب ۔۔۔
نامز امیدوار استحکام پاکستان پارٹی حلقہ ون گلگت ۔کی قیادت میں شام 4:30 بجے جٹیال کی جانب روانہ ہوگی۔۔۔۔۔۔
یہ ریلی صرف گاڑیوں اور جھنڈوں کا قافلہ نہیں۔ بلکہ عوام کے جذبے۔ نوجوانوں کے عزم اور روشن مستقبل کی امید کا مظہر ہے۔
آئیں اور اس تاریخی لمحے کا حصہ بنیں۔۔۔۔۔
ہر کارکن۔ہر نوجوان۔ہر محب۔ اپنی شرکت یقینی بنائے اور ثابت کرے کہ گلگت بلتستان کے عوام اب بیدار ہو چکے ہیں۔
🕓 وقت۔۔۔شام 4:30 بجے
مقام: حلقہ-1 مرکزی کمپین آفس کنوداس گلگت۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی ایک شرکت۔ ایک نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے۔۔



#کنوداس
#جٹیال

03/05/2026

#ایڈمن
کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ مولانا سلطان رئیس الحسینی صاحب پانچ سال (غائب )رہے۔ دراصل یا تو سیاسی لاعلمی ہے یا دانستہ پروپیگنڈا۔۔۔۔۔
بھائی۔۔۔جس بندے کو آپ نے ووٹ دیا۔وہ جیتا ہی نہیں تھا۔ منتخب نمائندہ کوئی اور تھا۔اور آئینی و سرکاری اختیار بھی اسی کے پاس تھے۔ ترقیاتی فنڈز۔سرکاری منصوبے اور اختیارات ایک غیر منتخب امیدوار کے پاس نہیں ہوتے ہے ۔یہ کوئی جذباتی نہیں بلکہ آئینی و قانونی حقیقت ہے۔جسے نظرانداز کرنا محض ضد ہے۔ دلیل نہیں۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود مولانا نے اپنی بساط کے مطابق عوام کے مسائل میں رہنمائی۔ مشاورت اور ذاتی کوشش جاری رکھی۔ وہ کوئی سرکاری خزانہ لے کر نہیں بیٹھے تھے کہ گھر گھر جا کر فنڈز بانٹتے۔ نہ ہی کوئی جاگیردار یا صنعتکار ہیں کہ اپنی جیب سے پورے حلقے کے منصوبے اٹھا لیں۔ایک عام آدمی کی طرح انہیں بھی اپنی روزی روٹی کمانی ہوتی ہے۔اور محنت سے کمانا کوئی عیب نہیں۔بلکہ سنت اور عزت ہے۔۔۔۔
اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ گھر گھر کیوں نہیں گئے؟
تو ذرا عقل سے سوچیں...
کیا کوئی غیر منتخب امیدوار پانچ سال تک ہر دروازے پر حاضری لگاتا پھرے؟؟
یہ جذباتی نعرہ تو ہو سکتا ہے عملی حقیقت نہیں۔ خدمت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی استطاعت سے بڑھ کر دکھاوا کرے۔۔۔۔۔۔۔
اصل سوال تو یہ ہے۔ جو منتخب نمائندہ تھا۔اس سے کتنے لوگوں نے جواب مانگا؟
کتنے لوگوں نے اس کی کارکردگی کا احتساب کیا؟
اس منتخب نمائندے نےکتنے وعدے وعید پورے کئے ہے؟؟؟
کسی نے سوال کیاہے؟
جواب دہی ٹھہرایا ہے؟؟
یا ہمیشہ کی طرح آسان ہدف وہی بنا لیا جو اقتدار میں تھا ہی نہیں؟؟؟؟؟
یاد رکھیں۔ خدمت صرف فنڈز سے نہیں ہوتی۔نیت کردار اور اخلاص بھی وزن رکھتے ہیں۔ آج اگر آپ کے دسترخوان تک کوئی سہولت۔کوئی سبسڈی یا کوئی آسانی پہنچ رہی ہے۔تو اس کے پیچھے بھی کئی مخلص آوازوں کی جدوجہد شامل ہوتی ہے۔جن میں مولانا کا کردار بھی شامل ہے۔ چاہے کچھ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔۔۔۔۔۔۔
اور جہاں تک یہ بات کی جاتی ہے کہ پچھلی مرتبہ کون ۔مولانا کے حق میں دستبردار ہوا تھا ۔اور کس نیت سے بیٹھا تھا۔تو اس پر ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ کچھ فیصلے اعلانیہ ہوتے ہیں اور کچھ کہانیاں بند دروازوں کے پیچھے لکھی جاتی ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😀
پردہ اٹھا تو راز محفل سب پہ عیاں ہوگا۔۔
ہر ایک کا چہرہ پھر آئینے میں بیاں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لیے بہتر یہی ہے کہ بات کو یہیں تک رہنے دیا جائے۔کیونکہ اگر پردے ہٹانے شروع ہو گئے تو پھر کسی کے لیے بھی وضاحت دینا آسان نہیں رہے گا۔
لہٰذا تنقید کریں ۔مگر علم کے ساتھ۔ سوال اٹھائیں۔مگر انصاف کے ساتھ۔ اور اگر نہ علم ہے نہ انصاف۔تو محض شور مچانا بند کریں۔ کیونکہ شور دلیل نہیں بنتا۔۔۔۔۔۔
لہٰذا حقیقت کو جذبات کے شور میں دبانے کی کوشش نہ کریں۔ جس کے پاس اختیارات تھے ۔اس سے سوال کریں۔ جس کے پاس اختیار نہیں تھے اس پر الزام تراشی انصاف نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے آج بھی دروازے بند نہیں کیے اور کل بھی نہیں کریں گے۔مگر فرق یہ ہے کہ ہم خدمت کو نعروں سے نہیں۔کردار سے ثابت کرتے ہیں۔
اور یاد رکھیں۔
جب وقت گواہی دیتا ہے تو لفظوں کی ضرورت نہیں رہتی
اور جب سچ سامنے آتا ہے تو شور خود ہی دم توڑ دیتا ہے۔۔۔۔
اس لیے بہتر یہی ہے کہ بات دلیل تک رکھی جائے۔۔۔کیونکہ اگر حقائق کھولنے پڑ گئے۔تو پھر وضاحتیں کم اور شرمندگیاں زیادہ ہوں گی۔۔
#کردار

24/04/2026

گلگت بلتستان میں جب بھی ترقی کا ذکر ہو تو سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کا اس میں نمایا کردار رہا ہے۔
[گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کا ایک سنہری دور: سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے اہم اقدامات پر ایک نظر ۔]
گلگت بلتستان کو جدید اور پائیدار خطہ بنانے کے لیے گزشتہ دورِ حکومت (2020-2023) میں جو عملی اقدامات کیے گئے، ان کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں اُن اہم منصوبوں پر جنہوں نے خطے کی تقدیر بدلنے میں کردار ادا کیا:

✈️ عالمی معیار کا سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ:
سکردو کو عالمی نقشے پر لانے کے لیے ایئرپورٹ کو انٹرنیشنل درجہ دیا گیا۔ اس اقدام سے نہ صرف سیاحت میں زبردست اضافہ ہوا بلکہ خطے کی معیشت کے لیے نئے دروازے بھی کھلے۔

🏗️ بڑے ترقیاتی و مواصلاتی منصوبے (Mega Projects):
• شونتھر ٹنل: آزاد کشمیر اور جی بی کے درمیان سارا سال کھلے رہنے والے رابطے کا خواب۔
• شاہراہِ نگر، استور ویلی روڈ، گلگت-چترال روڈ اور دیامر تانگیر ایکسپریس وے،شاہراہ سکارکوئی : مواصلاتی نیٹ ورک کا جال بچھایا گیا۔
• عطا آباد پاور پروجیکٹ: توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لیے اہم قدم۔

🏥 شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات:
• میڈیکل سٹی: گلگت میں 1000 کنال پر محیط جدید طبی مرکز کا منصوبہ۔
• ٹیچنگ ہسپتال: تمام DHQ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور جدید ICU سہولیات۔
• صحت کارڈ: ہزاروں خاندانوں کو مفت علاج کی سہولت۔

🎓 تعلیمی میدان میں پیش رفت:
• نئے کالجز کا قیام: خطے کے مختلف علاقوں میں نئے ڈگری کالجز کا قیام اور طلباء کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافہ۔
• طبی تعلیم: نرسنگ کالجز کا جال بچھانا اور CPSP ریجنل آفس کا قیام تاکہ ڈاکٹرز کو مقامی سطح پر جدید تربیت مل سکے۔

🏢 انتظامی و معاشی اقدامات:
• IT اور آبپاشی (Irrigation): نئے محکموں کا قیام تاکہ شعبہ جات منظم ہو سکیں۔
• گلگت بلتستان انویسٹمنٹ پروگرام: سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے عالمی سطح پر موثر لابنگ۔
یہ وہ ٹھوس اقدامات تھے جن کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور خطے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا تھا۔
Muhammad Khalid Khurshid Khan
PTI Gilgit Baltistan

Photos from Gilgit HD's post 20/04/2026

الیکشن 2026 گلگت حلقہ ۱ سے زین العابدیں عرف بھائی جان نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دی۔
پاکستان تحریک انصاف کے مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ انہوں نے اپنا کاغذات نامزدگی آر او آفس گلگت میں جمع کرا دئیے۔۔۔
#حلقہ۱
#ایڈمن

Photos from Gulab Shah Asif's post 17/04/2026

#حلقہ2

Photos from Gilgit HD's post 17/04/2026

#ایڈمن
حلقہ ایک کے لیے زین العابدین نے آر او آفس گلگت سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے تلے الیکشن لڑیں گے زین العابدیں عرف بھائی جان ۔
#حلقہ۱

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Minawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Sakarkoi
Minawar
789

Opening Hours

09:00 - 17:00