Fana Fi Rab
� Spreading positivity every day �
� Good vibes only �
� Stay positive, stay happy �
07/02/2026
سبحان اللہ 💖
06/02/2026
لوگ حیران ہیں کہ بچے کون کیوں کھائے گا اور میں انکی حیرت پہ حیران ہوں۔۔۔
اپنے اردگرد ہی نظر دوڑائیے زیادہ دور نہیں خاندان میں ، پڑوس میں۔۔
کسی ایک شخص کو تباہ یا کنٹرول کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں ہوتا؟
کیا آپ نے لوگوں کو بکرے کے سر پہ کالا جادو کرتے نہیں دیکھا؟
کسی کو پاک جگہ پہ غلاظت پھیلاتے نہیں دیکھا؟
انسانی خون سے لتھڑے تعویذ نہیں دیکھے؟
بلی چوہے کے مردہ اجسام کو کسی کی زندگی برباد کرنے کے لئے قربان ہو کر سوئیوں کے ساتھ دھاگوں میں بندھا ہوا نہیں دیکھا؟
میں نے تو دودھ جیسی پاک چیز میں ناپاکی ملا کر اگلے کو محض اسلئے پلاتے دیکھا ہے کہ سامنے والا دو چار ہزار روپے کمانے سے بھی جائے۔۔
کسی کو بےہوش کرکے اسکے جسم میں تعویذ کی سلائیاں لگاتے سنا ہے اسکے بعد مسلسل بشہ آور ادویات کہ بندہ انکے بس میں رہے۔۔
کالا جادو جامنی جادو کرنے کے لئے لوگ اپنے لاکھوں اسلئے اڑا دیتے کہ اگلے کے ہزاروں انہیں چبھ رہے ہوتے ہیں،
اپنی زندگی جادو کے پیچھے اجیرن کر دیتے ہیں کہ اگلے کی چلتی سانس انکی سانس پہ بھاری ہوتی ہے،
اوروں کے بچوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی جانور کی زندگی ختم کر دینا عام سی بات ہے،
قبرستان میں چلے اسلئے کاٹے جاتے تاکہ زندہ لوگوں کا جینا دوبھر کیا جائے۔۔
کیا کچھ ابھی بھی نہیں دیکھا سنا ہوگا؟
یہاں میں انکے اثر یا توڑ کی بات ہرگز نہیں کر رہی نہ ہی کسی تفصیل میں جانا چاہتی ، صرف ان عملیات کا ذکر جو انسان کسی ایک انسان یا خاندان کو کنٹرول کرنے کے لئے کرتا ہے تو دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا کچھ نہ کر سکتا ہوگا؟؟
ہمارے محلوں میں یہ سفاکی عام ہے اور آپ کو لگتا کوئی اور یہ گندگی نہیں کر سکتا؟
جہاں آپ مذہب کو الزام دے کر کہتے ہیں کہ گندا ہے پر دھندہ ہے،
وہاں اپنی اس خام خیالی کو دور کرکے مذہب کی جگہ انسان لگا لیں کہ غلیظ انسان جہاں ہوگا وہاں دھندہ ہوگا اب وہ کتنا گندا ہوگا یہ بات اس انسان پہ ہی منحصر ہے اور آپکے پسندیدہ افراد کوئی فرشتے نہیں انسان ہی ہیں جو اندر سے جتنے گندے ہیں یہ اللہ کے بعد انہیں ہی پتہ ہو ۔۔۔
انعم علی
05/02/2026
جنوری 2002 کی بات ہے، پنسلوانیا کے شہر پٹسبرگ کی 13 سالہ ایلیشیا کوزاکیوچ ایک ایسے گھناونے جرم کا شکار ہوئیں جو ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا اور ڈیجیٹل دنیا میں چھپے خطرات کی ایک سنہری یاد دہانی بنا دیا۔
ایلیشیا ایک عام نوعمر لڑکی تھیں خواب دیکھنے والی، اسکول جانے والی، اور دوست بنانے والی۔ بہت سے دوسرے بچوں کی طرح، وہ بھی آن لائن چیٹ رومز میں لوگوں سے بات کرتی تھیں اور تعلقات بناتی تھیں۔ لیکن ایک بات چیت، ایک میسج، ایک ایسے خواب ناک حقیقت کا باعث بنی جس کا انہیں کبھی اندازہ نہ تھا۔
ایک آدمی، جس نے خود کو قابل اعتماد ظاہر کیا، نے ایلیشیا سے ایک انٹرنیٹ چیٹ روم کے ذریعے دوستی کی۔ کئی ہفتوں تک، اس نے دوستی اور ہمدردی کے جھانسے میں انہیں اپنے جال میں پھانسا۔ آخرکار، ایلیشیا اس سے ملنے پر راضی ہو گئیں۔ بے اعتباری اور خطرے سے بے خبر، انہوں نے وہ فیصلہ کیا جو سب کچھ بدل دینے والا تھا۔
2 جنوری 2002 کو، ایلیشیا کو یہی شخص اپنے گھر سے لے گیا، جس نے اغوا کی پہلے سے سوچی سمجھی سازش رچی تھی۔ وہ انہیں اپنے گھر لے گیا، وہ جگہ جسے ایلیشیا محفوظ سمجھ رہی تھیں، لیکن وہ تو اس سے کہیں زیادہ خوفناک تھی۔ وہ شخص، جس کی بعد میں شناخت 38 سالہ جیمز میک ڈیوٹ کے طور پر ہوئی، کے ایلیشیا کے لیے شیطانی منصوبے تھے۔ اس نے انہیں اپنے تہ خانے میں قید کر رکھا تھا، جہاں ان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔
ایلیشیا کے گھر والے، ابتدا میں ان کے غائب ہونے سے بے خبر، بے چین ہو گئے جب وہ واپس نہیں آئیں۔ دن گزرتے گئے اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایلیشیا کی والدہ اور حکام نے جلد ہی اندازہ لگا لیا کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہے، اور ان کی تلاش شروع ہوئی۔ چار طویل دن تک، ایلیشیا پھنس گئیں، لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں۔ المناک حالات کے باوجود، انہوں نے کبھی امند نہیں چھوڑی۔ قید کے دوران، ایلیشیا خفیہ طور پر ایک کمپیوٹر استعمال کر کے حکام سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور انہیں اپنے مقام کے بارے میں خبردار کیا۔
ان کی ہمت نے ایک ڈرامائی بچاؤ کا راستہ کھولا۔ 6 جنوری 2002 کو، حکام نے ان کے بھیجے گئے پیغام کا پتہ لگایا اور میک ڈیوٹ کے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے جائے واردات پر چھاپہ مارا اور ایلیشیا کو تہ خانے میں ڈرتی ہوئی لیکن زندہ پایا۔ میک ڈیوٹ کو گرفتار کر لیا گیا اور اغوا اور جنسی زیادتی سمیت متعدد جرائم کا الزام عائد کیا گیا۔ ایلیشیا کے لیے یہ کابوس آخر ختم ہو گیا، لیکن زخم ہمیشہ کے لیے رہنے والے تھے۔
ایلیشیا کی کہانی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور والدین، اساتذہ اور قانون سازوں کے لیے آن لائن شکاریوں کے خطرات کے بارے میں ایک وارننگ بنا دیا۔ اس نے بچوں کے غیر محفوظ ہونے اور انٹرنیٹ کے استعمال کی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ایلیشیا کی ناقابل تصور دہشت کے سامنے بہادری طاقت اور استقامت کی علامت بھی بن گئی۔ اگرچہ جو صدمہ انہوں نے جھیلا وہ کبھی مٹ نہیں سکتا، ایلیشیا نے اپنے تجربے کو بچوں کی حفاظت کے لیے آواز اٹھانے میں استعمال کیا، اور آن لائن شکاریوں کے خطرات کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے کام کیا۔
آج، ایلیشیا متاثرین کے حقوق کی ایک مضبوط وکیل ہیں، اور اپنی آواز کو دوسروں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کی کہانی ایک طاقتور یاد دہانی ہے کہ بڑے سے بڑے خطرے کے سامنے بھی امید، بہادری، اور مدد کے لیے ہاتھ بڑھانے کی خواہش فرق پیدا کر سکتی ہے۔
#استقامت
05/02/2026
❤️❤️❤️
05/02/2026
مرد ، مرد میں بہت فرق ہوتا ہے..."
آج شام کی چائے بناتے ہوئے میرا ہاتھ جل گیا....!!
آنکھوں میں آنسو تھے
والد صاحب نے دیکھا تو ایک دم ہاتھ تھام لیا اور تڑپ تڑپ گئے پھر دوسرے ہاتھ سے چائے کی پیالی پرے کھسکائی اور فوراً مرہم اٹھا لائے....!!
اب مرہم بھی لگا رہے ہیں اور والدہ صاحبہ کی کلاس بھی....!!
کیوں بھیجتی ہیں آخر اسے کچن میں ہزار بار کہا ہے کہ اس سے کوئی کام نہ کرایا کریں....!!
اماں خود سکتے میں بیٹھی تھیں ہاتھ میرا جلا تھا اور کرب ان کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی میں....!!
کہنے لگیں..!!
میں کہاں خوشی سے بھیجتی ہوں مگر کل کو اس کی شادی ہونی ہے لوگ کیا کہیں گے ماں نے کچھ بھی نہ سکھایا....!!
وہ بہت دُکھی لہجے میں وضاحت دے رہی تھیں....!!
ہاں تو کہتے رہیں لوگ جو ان کو کہنا ہے مگر اب یہ کچن میں نہیں جائے گی والد صاحب نے مجھے بے ساختہ گلے لگایا اور اماں کو وارن بھی کر دیا....!!
مجھے خوش ہونا چاہیے تھا مگر میں نہیں ہوئی....!!
میں بس اماں کے ہاتھ دیکھ رہی تھی جن کے انگوٹھے سبزیاں کاٹ کر نشان زدہ ہو گئے تھے کتنی ہی بار اُن کا ہاتھ جلا تھا سیاہ داغ نما نشان موجود تھے....!!
البتہ زخم مندمل ہو چکے تھے بلکہ ابھی ہفتہ پہلے چھری سے شہادت کی انگلی پر اتنا بڑا کٹ لگ گیا تھا بہت خون بہا مگر انہوں نے پٹی بھی نہ باندھی کہ بس ٹھیک ہے ٹھیک ہے....!!
مگر
کچھ بھی تو ٹھیک نہیں تھا....!!
میں والد صاحب کو بتانا چاہتی تھی....!!
کہ
وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہیں ان کے ابا نہیں رہے تو کیا ہوا ان کے شوہر تو ماشاءاللہ حیات ہیں....!!
آپ اپنی بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھے ہیں اور بیوی کا درد...؟؟
وہ کسے جا کر بتائے...؟؟
وہ کون محسوس کرے گا...؟؟
وہ کسی کی بیٹی نہیں ہیں کیا...؟؟
کاش....!!
دنیا کے تمام مرد جس طرح اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے لیے حساس ہوتے ہیں بالکل اسی طرح بیوی کے لیے بھی فکرمند ہو جائیں تو کتنی ہی عورتیں حقیقتاً جی اٹھیں گی..
05/02/2026
زندگی میں کام آنے والی باتیں.
1:-اگر کوئی آپ سے مشترکہ کاروبار کرنا چاہے تواس کےساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاو اورمشاہدہ کرو کہ وہ کھانے کی بہتر چیز خود زیادہ کھاتا ہے یا تمھیں زیادہ کھلانا پسند کرتا ہے ۔دوسری صورت ہو تو کاروبار کرو جبکہ پہلی صورت ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کاروبار میں تم سے زیادہ لینے کی کوشش کریگا ۔
2:-اگر کوئی آپ سے دوستی کرنا چاہے تو اسکے ساتھ ایک پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر اگر اس نے اپنے کو کرایہ سے بچایا کسی بھی طریقے سے تو اس کامطلب ہے کہ وہ آپ سے فائدہ لیناچاہتاہے دوستی کے قابل نہیں۔
3:-اگر کوئی تم سے رشتہ جوڑنا چاہے تو اسکی کسی چیز کو معمولی نقصان پہنچاو ۔مثلاً اسکے جوتے پر سالن گرانا یاموبائل فون کو میز کے انتہائی کنارے پر رکھنا یا اس کے عینک کو چھیڑنا اگر اس نےاپنی چیز کی قیمتی ہونے کاچرچا کیا تو رشتہ مت جوڑنا کیوں کہ اس کو رشتے سے زیادہ پیسہ پسند ہے ۔
4:-اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور کوئی آپ سے اُدھار مانگتا ہے تو اسکو قیمت بہت زیادہ بتانا اگر اسنے قیمت کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی تو ادھار نہ دینا کیونکہ اس کو ادائیگی نہیں کرنی ہے اسلیے قیمت سے دلچسپی نہیں ۔
5:-اگر کوئی اپنی ہر دوسری تیسری بات پر قسم اٹھاتا ہو ۔تو اسکی بات میں ضرور جھوٹ ہوگی وہ قسمیں اسلیے اٹھاتا ہے کہ اس کو اپنی جھوٹ سچ ثابت کر نا ہو تا ہے۔
6:-اگر تمھارا کوئی دوست تم سے اپنی کوئی برائی چھپاتا ہے تو اپ اس کو مت بولیں کہ تم کو سب کچھ معلوم ہے اگر تم نے ایسا کیا تو پھر وہ اس برائی کو تمھارے سامنے بھی کریگا ۔
7:-بچوں کو برے کام سے منع کرتے وقت جن، بلا، یاجانور سے نہ ڈرانا کیوں کہ جب وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ چیزیں فرضی تھے تو وہ برائی واپس شروع کریگی۔بلکہ اللہ سے یا جہنم سے ڈرانا کیونکہ اس کی تصور تمام عمر ہوتا ہے ۔
8:-بچوں کی ہر غلطی پر سزا نہ دینا کیونکہ اس سے اس کی ذہنیت ایسی بن جاتی ہے کہ بڑے ہوکر ہر غلطی کرنے والے سے لڑیگا ۔پھر ساری عمر جھگڑوں میں گزریگی ۔
9:-اپنے ماں باپ سے اپنے بچوں کے سامنے بہت محتاط رہنا کیونکہ جو انداز تم اپناتے ہو وہی کل تمھاری اولادِ اپنائیگی ۔
10:-معاشرے میں جس کا کوئی کام برا لگے وہ خود نہ کرنا ۔
04/02/2026
مغربی لبرلز بی لائیک :
جانوروں کو کھانا ظلم ہے بھاااااں 😭
جانور، پرندے، مچھلیاں سب کو کھانا غیر انسانی ہے۔
مرغیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔
سب انسانوں کو Vegan اور ویجی ٹیرین بن کر جینا چاہیے۔
تھینکس گیونگ اور بڑی عید جیسے تہوار انتہائی روح فرسا اور ظالمانہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی مغربی لبرلز جزیرہِ اپسٹین پر :
پہلا شخص : یار چیک کر اس آدمی کا بازو بہت مزیدار ہے۔
دوسرا شخص : اسے چھوڑ یہ خاتون کا پاؤں تو بہت لذیذ ہے۔
تیسرا شخص : یہ بار بی کیو بچہ بھی چیک کرو، سالسا چٹنی کے ساتھ کمال لگ رہا ہے۔
چوتھا : میں ڈائٹنگ پر ہوں میں صرف کان کھاؤں گا۔
پانچواں: میں اس ٹین ایجر کو نہیں کھاتا یہ حرام ہے اسے تیار کرتے وقت " بعل دیوتا کی جے " نہیں پڑھا گیا۔
چھٹا : یار یہ سکول ٹیچر کی ران، ہنی اینڈ مسٹرڈ ساس کے ساتھ بہت مزہ دے رہی ہے۔
اپسٹین : سب کو چھوڑو یہ میری بیگم چکھو میں نے خود پکائی ہے۔
ٹرمپ : مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا مجھے ایک ایرانی ایتھلیٹ کا مغز فرائی دیا جائے گا۔۔۔۔ کہاں ہے وہ؟
سٹیفن ہاکنگ : مجھے پانچ ذہین سائنس اسٹوڈنٹس کھانے ہیں۔ جلدی لاؤ۔
04/02/2026
پاکستانی لوگوں نے اسٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم المرتبت سائنس دان کو بھی نہیں
چھوڑا، حالانکہ وہ جنسی مجرم ایپسٹین جیفری کے بدنام زمانہ "پیڈوفائل آئی لینڈ" میں صرف اور صرف سائنس پڑھانے جاتا تھا۔!!😕
😝😂🤣🤣🤣😆😆😃
04/02/2026
جب بھی اسمِ رحيم پڑھتی ہوں
سوچتی ہوں عذاب دھوکہ ہے
🖤
04/02/2026
یہ بچے باز پرنس اینڈریو ہے
نہ کوئی جنگ تے نہ کوئی لڑائی
اوپر والے دس میڈل ملکہ کے ساتھ کھانا کھانے پر
نیچے والے دس میڈل ملکہ کے ساتھ ہاتھ ملانے پر
وہ بچپن میں سنی ضرب المثل یاد آ گئی
اندھا بانٹے ریوڑیاں
اپنوں کو مڑ مڑ کر دیوے
تالیاں
دنیا کا فضول ترین خاندان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Mandi Bahauddin
50400