Rooh e mann

Rooh e mann

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rooh e mann, Writer, Lahore.

میرے ناولز کی دنیا میں خوش آمدید! ❤️ یہاں آپ کو جذبات، مسائل اور خوشگوار انجام والی کہانیاں ملیں گی۔ 👻✨ یہ ناول حقیقت سے پریشان لوگوں کو ایک خوبصورت دنیا میں لے جاتے ہیں۔ 🌸🥰 مزید کے لیے یوٹیوب، ٹک ٹاک پر فالو کریں۔ 💖📱

30/10/2025

📚 ناول: میں اور دُنیا
از قلم: روحِ مَن
"کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں بتایا اور سمجھایا نہ جائے تو حقیقت خراب ہو جاتی ہے۔
لوگ تنہا ہو جاتے ہیں، اور کتنی ہی کہانیاں موت سے قبل ہی مر جاتی ہیں۔"

"باب اوّل: میرا ماضی"
"ہم کو یاروں نے بھی یاد نہ رکھا،
جون ہم تو یاروں کے بھی یار تھے

کون رکھے گا یاد اس دورِ خود غرضی میں اقبالؔ

حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خود اپنی یاد نہی

تم بھی غالبؔ کمال کرتے ہو

اُمیدیں اِنسانوں سے لگا کر شکوے خدا سے کرتے ہو"

حصہ اوّل: ڈائری کا حال (موجودہ دور)
اندھیرا تھا۔ یا شاید صرف 'میں' کی روح میں اندھیرا تھا۔ باہر کے لوگوں کی ہنسیاں، اُن کی بے فکری، اُن کی مصروفیت... یہ سب ایک شور لگتا تھا۔ 'میں' کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی، ہاتھ میں ایک پُرانی، پھٹی ہوئی ڈائری تھی۔
ہر نیا سال آتا، ہر نیا رشتہ بنتا، اور ہر مرتبہ 'میں' ایک ہی نتیجے پر پہنچتی تھی۔ لوگوں کو صرف لینا یاد رہتا ہے، دینا نہیں۔ اُس نے آہستہ سے اپنے ہونٹوں پر وہ تلخ مصرع دہرایا جو اس کے دل کی حالت بیان کرتا تھا:
"ہم کو یاروں نے بھی یاد نہ رکھا،
جو ہم تو یاروں کے بھی یار تھے"
لیکن سوال یہ تھا: کیا وہ لوگ واقعی اس کے یار تھے، یا وہ صرف وہی تھے جنہیں 'دُنیا' کہا جاتا ہے؟
'میں' نے کروٹ بدلی اور کھڑکی سے باہر پھیلی ہوئی خاموشی کو دیکھا۔ یہ خاموشی باہر نہیں، بلکہ اندر تھی، جہاں امیدوں کی تمام گونجیں دم توڑ چکی تھیں۔ ڈائری کا صفحہ پلٹتے ہی، ایک پُرانی خشک پتی (dried leaf) نکلی۔ ایک ایسا لمحہ جو تین سال پہلے اس نے ہنس کر کتاب میں رکھا تھا، جب اسے یقین تھا کہ وہ کبھی اکیلی نہیں ہوگی۔ سنہ 2019... یہ وہ دنیا تھی جہاں 'میں' اب بھی یقین رکھتی تھی کہ لوگ واقعی کسی کے یار ہو سکتے ہیں۔

حصہ دوم: سفرِ آغاز (فلیش بیک - 20 اگست 2019)
20 اگست 2019، دوپہر 1:30 بجے:
وہی گھڑی جب 'میں' (جو اب صرف دس سال کی تھی) نے اس جگہ کا دروازہ بند کیا جہاں اس کا بچپن، اس کی جوانی اور اس کے سارے معصوم یقین پرورش پائے تھے۔ سب سے مل چکی تھی۔ ہر چہرہ جو اس کی زندگی کی کہانی کا حصہ تھا، وہ اسے آخر بار دیکھ چکی تھی۔ اس کے دل میں ایک اُمنگ تھی، کیونکہ وہ "اپنوں" کی طرف جا رہی تھی، لیکن ایک دبی ہوئی گھبراہٹ بھی تھی—یہ احساس کہ وہ اپنے ماضی کو ہمیشہ کے لیے پیچھے چھوڑ رہی ہے۔
دروازہ بند ہوتے ہی، وقت جیسے تیز ہو گیا۔
بجے2:30: 'میں' اس وقت تک شہر کی سڑکوں پر تھی۔ کھڑکی سے گزرتے منظر تیزی سے بدل رہے تھے، بالکل اُس کی زندگی کی طرح۔ ہر ٹریفک جام پر اُسے الجھن ہو رہی تھی، ہر سیکنڈ اسے لاہور میں ہونے والے اہم فیصلے کی یاد دلا رہا تھا۔ دیر کا مطلب تھا، نقصان۔
بجے3:00: بالآخر، کراچی کینٹ اسٹیشن۔ 'میں' اپنے سامان کے بجائے، امی کے مضبوط ہاتھ کا سہارا لے کر اسٹیشن کے شور سے گزری۔ علامہ اقبال ایکسپریس کا بڑا انجن اسے کسی دیو جیسا لگ رہا تھا۔ ٹرین اپنی روانگی کے وقت 3:30 بجے سے صرف آدھا گھنٹہ دُور کھڑی تھی۔ اسٹیشن کا شور اور مسافروں کی بے چینی میں، 'میں' سیٹ پر اپنے بھائی بہنوں کے بیچ میں دبک کر بیٹھ گئی۔ چاروں طرف خاندان موجود تھا، لیکن اس کی آنکھیں صرف ایک چہرے کو تلاش کر رہی تھیں۔
آخری الوداعی لمحہ
"امی، ایرہ کیوں نہیں آئی؟" اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
امی نے کہا، "بچوں کے وعدے ایسے ہی ہوتے ہیں بیٹا، ٹریفک ہو گی یا کوئی اور کام۔"
بج گئے3:25، اور ٹرین نے ایک لمبی سیٹی ماری۔ یہ الوداع کی سیٹی تھی۔ 'میں' نے جلدی سے اپنا موبائل فون (جو اسے صرف گیم کھیلنے کے لیے ملتا تھا) نکالا اور ایرہ کو آخری بار پیغام بھیجا۔ دروازہ بند ہونے سے پہلے، اس نے آخری نظر پلیٹ فارم پر ڈالی—وہاں کوئی نہیں تھا۔ دس سالہ 'میں' کے لیے، یہ صرف ایک دوست کا نہ آنا نہیں تھا؛ یہ ایک گہرا زخم تھا۔ اُسے لگا جیسے وعدہ صرف ایک جھوٹا لفظ ہے۔
ٹرین نے جھٹکا لیا اور لاہور کی طرف چل پڑی، اور 'میں' کی آنکھوں میں ایک خاموش آنسو نکل کر بائیں گال پر بہہ گیا۔ 'میں' اب تک نہیں جانتی تھی کہ یہ ایک شخص کا دھوکہ نہیں تھا، بلکہ آنے والے سالوں میں دُنیا کا پہلا سبق تھا۔

حصہ سوم: زخموں کا سلسلہ (اندرونی کشمکش)
یہ دوسری بار تھا کہ بھروسہ ٹوٹا۔
پہلی بار کا غم دھندلا چکا تھا، لیکن اس کا زخم اب بھی تازہ تھا۔ جب بھی کوئی بھروسے کی بات کرتا تھا، تو 'میں' کے دل کا ایک کونہ کانپ اٹھتا تھا۔ اور اب، ایرہ کا خالی پلیٹ فارم اس پہلے زخم پر نمک چھڑکنے جیسا تھا۔ 'میں' نے جلدی سے آنسو پونچھ لیا۔ وہ جانتی تھی کہ رو کر کیا فائدہ؟ دُنیا ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہے۔ وہ اپنے جھوٹے وعدے اور ادھورے ساتھ پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔
اس کا ذہن چھپ کر اس پہلے زخم کی طرف بھاگا—وہ زخم جو اُسے 3 کلاس میں، صرف سات سال کی عمر میں لگا تھا۔
تب، ایرہ اور 'میں' صرف دوست نہیں تھے، وہ خاندانی دوست تھے، بالکل ایک ہی دنیا۔ سب کچھ کامل تھا۔ پھر فاطمہ آئی۔ فاطمہ، جو ایرہ کے گاؤں کی تھی۔ ایک نئی لڑکی کا آنا، اور ایرہ کا بدل جانا—سب کچھ فاطمہ کے بعد عجیب ہو گیا۔ اچانک وہ تینوں میں اکیلے رہ گئی تھی۔ ایرہ اور فاطمہ کی نئی باتیں، اندرونی راز، اور 'میں' کا باہر کھڑا ہو کر دیکھنا۔
اس سات سالہ بچی نے پہلی بار محسوس کیا کہ دنیا کا مطلب صرف آپ کی اپنی دنیا نہیں ہوتا؛ دنیا بہت بڑی اور خودغرض ہوتی ہے، جو آپ کے قریبی لوگوں کو آسانی سے چُرا لیتی ہے۔ بچپن کا وہ قریبی رشتہ—ایرہ—اور آج کا یہ خالی پلیٹ فارم... دونوں میں ایک ہی تلخ سچائی تھی: وقت اور لوگ آپ کے لیے نہیں رُکتے۔
'میں' نے گہری سانس لی اور اپنا چھوٹا سا سر کھڑکی سے باہر پھیلی کراچی کی سڑکوں کی طرف جھکا لیا۔ لاہور کی جانب بڑھتی یہ ٹرین اسے اس بڑے فیصلے کی طرف لے جا رہی تھی جو اب 'دنیا' کی طرف سے اس کی آخری آزمائش (final test) ہونے والا تھا۔

رین کی سیٹی بجی اور 'میں' جھٹکے سے ماضی سے حال میں آ گئی۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔ باہر کی کراچی کی سڑکیں اب ماضی کی دھول بن کر کہیں پیچھے رہ گئی تھیں۔ وہ اب بھی اسی کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی، جہاں 2023 کی ایک تنہا رات نے اسے گھیر رکھا تھا۔
وہ دس سال کی بچی، جو ایرہ کے لیے روئی تھی اور فاطمہ کی وجہ سے بدلی تھی، اب چودہ سال کی ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بچپن کی معصومیت کی جگہ، سوالوں کا ایک سمندر تھا۔ لاہور کا وہ بڑا فیصلہ، جو اس کے خاندان نے کیا تھا، اس کا وہ زخم تھا جو کبھی نہیں بھرا، اور اس نے 'میں' کو سکھایا کہ خاندان بھی کبھی کبھی دُنیا کی طرح خودغرض ہو سکتا ہے۔
'میں' نے ڈائری کا صفحہ کھولا اور اس پر اپنا تازہ لکھا ہوا مصرع (couplet) دیکھا۔ اب یہ صرف شاعری نہیں تھی، یہ اس کا بیان تھا—دس سالہ بچی کے ٹوٹے ہوئے یقین کا اعلان:
ہم کو یاروں نے بھی یاد نہ رکھا،
جو ہم تو یاروں کے بھی یار تھے
یہی وجہ تھی کہ وہ اب اکثر میرزا غالب کو یاد کیا کرتی تھی:
نرم بھی غالبؔ کمال کرتے ہو
اُمیدیں اِنسانوں سے لگا کر شکوے خدا سے کرتے ہو
وہ ہولے سے مسکرائی۔ وہ صرف لوگوں سے ہی شکایت نہیں کرتی تھی، اب وہ خدا سے بھی اس دُنیا کی ناانصافی پر سوال پوچھتی تھی، بالکل اسی طرح جیسے اقبال نے پوچھا تھا، اس دَورِ خود غرضی پر افسوس کرتے ہوئے:
کون رکھے گا یاد اس دورِ خود غرضی میں اقبالؔ
حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خود اپنی یاد نہیں
'میں' نے قلم اٹھایا اور اپنی ڈائری میں ایک نیا باب شروع کیا—جس کا عنوان تھا: "میں اور دنیا"۔ وہ اب اپنی کہانی، اپنے زخم، اور دُنیا کی بے وفائی کو صرف دل میں نہیں چھپائے گی، بلکہ کاغذ پر اتار دے گی۔
میں' کے کالج کا پہلا دن تھا۔
ان سالوں میں بہت کچھ بدلا تھا۔ ایرہ کے دھوکے نے 'میں' کے اندر کی معصومیت کو توڑ کر ایک محتاط اور شکی (skeptical) دیوار کھڑی کر دی تھی۔ اب اُسے کسی پر یقین نہیں تھا، اور شاید اسی لیے وہ نئے رشتے نہیں بنانا چاہتی تھی۔ لیکن کالج میں اکیلا رہنے کا خوف اُس کی فطرت سے زیادہ طاقتور نکلا۔
آج وہ اپنی چھ دوستوں کے ساتھ کالج آئی تھی۔ گاڑی ان کے قہقہوں اور میوزک سے بھری تھی، مگر 'میں' خاموش تھی۔ کیا وہ واقعی دوست تھے؟ 'میں' اس سوال کو ہمیشہ دل میں دبائے رکھتی تھی۔ یہ سب اس کے لیے ایک ضرورت تھے—اکیلا پن مٹانے کی، گروپ میں محفوظ رہنے کی ضرورت۔ وہ ہجوم میں تھی، لیکن تنہا۔
باہر سے دیکھنے میں وہ سب ایک طاقتور گروپ کا حصہ لگ رہی تھیں، لیکن جیسے ہی وہ کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوئیں، 'میں' نے محسوس کیا: وہ چھ لڑکیاں تھیں، لیکن 'میں' ان کے بیچ اکیلی تھی؛ وہ سب ایک جیسی تھیں، لیکن 'میں' اُن سب سے الگ تھی۔
'میں' نے فوراً سب سے آخری بینچ چُنا، جہاں زیادہ نظر نہ پڑے۔ اس کے دوست آگے بیٹھے ہنس رہے تھے، منصوبے بنا رہے تھے، مگر 'میں' جانتی تھی کہ یہ دوستیاں سات سال پرانے وعدوں کی طرح کھوکھلی (hollow) اور موسمی (seasonal) ہیں۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی ڈائری کو چھو لیا، جیسے کہ اس کا واحد بھروسہ اب اسی کاغذ اور قلم پر ہو۔
پورا دن کالج کے نئے لیکچرز اور ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں گزرتا جا رہا تھا۔ میتھ کا لیکچر ختم ہوا۔ 'میں' اپنی آخری بینچ پر بیٹھی تھی۔ اس کے برابر میں ایک نئی لڑکی بیٹھی تھی، کشف (Kashf)۔
کشف نے ایک معصوم مسکراہٹ کے ساتھ 'میں' کی طرف دیکھا اور آہستہ سے پوچھا: "دوست بنو گی میری؟"
'میں' خاموش تھی۔ یہ سوال، یہ سادگی... یہ الفاظ سنتے ہی اس کے سامنے ایک دم نیا، دھندلا (hazy) منظر اُبھرا:
منظرِ بچپن (7 سال کی عمر):
'میں' اور ایرہ دوستوں کے ایک گروپ میں بیٹھی تھی۔ فاطمہ بھی وہیں تھی۔ 'میں' کا دل خوشی سے بھرا ہوا تھا۔ "فاطمہ، میری بہن پیدا ہوئی ہے۔ اس کے لیے پیارے پیارے نام بتاؤ!"
سب الگ الگ نام بتا رہے تھے۔ ایرہ نے 'میں' کی طرف دیکھا، " تم بھی بتاؤ!"
'میں' نے بہت سے نام بتائے، لیکن پھر رُک کر کہا، "ایک نام ہے جو مجھے سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔ میری جب بہن ہو گی تو میں اس کا رکھوں گی۔ میں آپ کو یہ نام نہیں بتاؤں گی!"
ایرہ نے اصرار کیا، "مجھے بتا دو! میں کسی کو نہیں بتاتی، وعدہ!"
'میں' نے ہچکچاتے ہوئے کہا، "نہیں۔"
ایرہ نے اپنا چہرہ قریب لا کر کہا، "میں تمہاری دوست ہوں نا؟ مجھے بتاؤ!"
آخرکار، 'میں' نے جھک کر ایرہ کے کان میں سرگوشی کی۔
چند لمحے بعد، ایرہ اور فاطمہ کی نظریں ملتی ہیں، اور ایک انجان سی، شرارتی مسکراہٹ اُن کے چہروں پر آتی ہے... 'میں' کا معصوم چہرہ نیچے جھک جاتا ہے۔
پھر ایرہ نے ہنستے ہوئے کہا،، تم امِ کلثوم نام رکھ لو۔" ایرہ نے دوستی کا پاس نہیں رکھا تھا۔
یہ منظر دھندلا گیا۔ 'میں' نے اپنے آپ کو واپس کالج کے خاموش کلاس روم میں پایا۔ اس نے کشف کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں وہ سات سال پرانے زخم کی چمک تھی۔
'میں' نے صاف اور محتاط لہجے میں جواب دیا: "مجھے دوستی پر یقین نہیں!"
کشف: "کیوں؟"
کشف نے حیرت سے پوچھا۔ 'میں' جواب دینے کے بجائے فوراً خاموش ہو گئی۔ اس کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ تھا—ایرہ کا خالی پلیٹ فارم، فاطمہ کی اجنبی مسکراہٹ، اور لاہور کے فیصلے کا نہ بھرنے والا زخم۔ لیکن وہ یہ سب صرف اپنی ڈائری کو بتا سکتی تھی، کسی نئے چہرے کو نہیں۔
اور پھر، بالکل اسی لمحے، چھٹی کی گھنٹی بج اٹھی۔
'میں' نے اس گھنٹی کو ایک نجات (escape) سمجھا۔ اس نے بنا کچھ کہے، اپنا بیگ اٹھایا اور تیزی سے کلاس روم سے باہر نکل گئی۔ وہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی کہ کشف کے چہرے پر حیرت تھی، افسوس تھا، یا نفرت۔ 'میں' جانتی تھی کہ اس کی "دُنیا" میں، کسی کے جذبات کی پرواہ کرنا صرف اور زیادہ زخمی ہونے کا راستہ ہے۔ اسے اب صرف گھر جانا تھا، اور اپنے اگلے باب کا عنوان لکھنا تھا۔
جیسے ہی وہ باہر نکلی، اس کا گروپ اُسے لاؤنج (Lounge) میں مِل گیا۔ چھ لڑکیاں ہنستی ہوئی دروازے کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
"اوئے مریم! کہاں تھی؟" ایک نے شور مچایا۔ "چلو جلدی، ورنہ گاڑی نکل جائے گی۔"
'میں' نے سر ہلایا اور تیزی سے ان کے ساتھ قدم ملانے لگی۔ وہ ان کے درمیان تھی، لیکن اس کے قدم ان سے الگ تھے۔ وہ ان کے قہقہوں میں شامل نہیں ہوئی، بلکہ خاموشی سے ان کے بیچ چلتی رہی۔ جسمانی طور پر وہ ایک ساتھ تھے، لیکن 'میں' نے اپنے گرد ایک غیر مرئی، ٹھنڈی دیوار بنا لی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ یہ دوستیاں صرف ضرورت کی چھتری ہیں۔ جس دن اس چھتری کو ہٹایا گیا، وہی ہو گا جو ایرہ نے کیا، ۔ گاڑی میں بھی وہ کھڑکی کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئی، باہر لاہور کی گرم، خودغرض سڑکوں کو دیکھتی رہی، اور اس کا دل شعر کو دھرا رہا تھا:
کتنے سادہ تھے جو نبھانے چلے گئے
اور کتنے خودغرض تھے جو تنہا چھوڑ گئے
گاڑی نے گھر کے سامنے بریک لگائی۔ 'میں' جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکلی اور سیدھا اندر کی طرف چل پڑی۔ اس کے دوستوں کے گروپ نے شاید اسے آواز دی ہو، مگر اس نے سُنا نہیں۔ اس کا سارا دھیان اس ٹھنڈی دیوار کو برقرار رکھنے میں تھا جو اس نے اپنے اور دُنیا کے درمیان کھڑی کر رکھی تھی۔
گھر کا دروازہ کھولتے ہی ایک دبی ہوئی سی راحت (relief) محسوس ہوئی—یہ وہ جگہ تھی جہاں دوری بنائے رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
امی کمرے سے نکلیں، ان کے چہرے پر معمول کی فکر اور محبت تھی۔
امی: "آ گئیں 'میں'! کیسا تھا؟ تھک گئی ہو گی آج۔"
'میں' نے بیگ ایک طرف رکھا اور بظاہر غیر جذباتی (emotionally flat) انداز میں جواب دیا: "جی، امی۔"
امی: "کیسا تھا سب؟ ٹھیک رہا؟"
'میں' نے گردن جھکائے ہوئے بس اتنا کہا: "ٹھیک ہی تھا سب۔"
کاش اس وقت اس کی مَما پوچھ لیتیں... کاش وہ زور دے کر پوچھتیں کہ کالج کے پہلے دن میں کیا بُرا ہوا، کاش وہ! کاش وہ صرف پوچھتیں کہ اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے؟
'میں' خاموش رہی۔ ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں ایک اجنبی سا احساس آیا—شکایت، مایوسی، اور ایک دبی ہوئی خواہش—اور پھر وہ تیزی سے اپنا بیگ اٹھا کر بغیر کچھ کہے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ دروازہ بند کر کے، اس نے باہر کی 'دُنیا' اور اس کے اہم فیصلوں کو ایک بار پھر اپنے ذاتی غم کی چار دیواری سے باہر کر دیا

continue h

28/10/2025

جنونِ عشق
Rooh e mann
episode 1 to 5

゚viralシfypシ゚viralシalシ #

چلو لڑکیوں، نکاح کا وقت ہو گیا ہے۔زین کی ماما کمرے میں داخل ہوتی ہیں، جلدی تیار ہو جاؤ کہتے ہوئے دعا کو دیکھتی ہیں جو اُداس سی تھی۔دعا بیٹا، تم تیار نہیں ہوئیں؟ کیا ہوا ہے؟ بے چینی سے مسز اسلم پوچھتی ہیں۔ اُن کے سوال پر دعا بس جا ہی رہی تھی۔ مسز اسلم، "بیٹا جلدی جاؤ، سب انتظار کر رہے ہیں۔"
دعا تیار ہونے چلی جاتی ہے اور مسز اسلم باقی کام دیکھنے لگتی ہیں۔ آج اُن کے بڑے بیٹے حماد کا نکاح تھا۔ دعا تیار ہونے کے بعد دلہن سے ملنے جاتی ہے۔ گل بانو دلہن بنی بہت حسین لگ رہی تھی لیکن کچھ خفا تھی۔

دعا: ماشاءاللہ، بہت پیاری لگ رہی ہو۔ نظر نہ لگے۔ لیکن میری بہن کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں جان؟ کیا بات ہے؟

گل بانو خاموش سی تھی۔ اُس کے بابا کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اُن کو بہت زیادہ یاد کر رہی تھی۔ ایک لڑکی کے لیے نکاح کا دن بہت خاص ہوتا ہے۔ وہ دن ہوتا ہے جب باپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن گل بانو پر اُس کے باپ کا سایہ نہ تھا۔

دوسری طرف حماد غصے میں تھا۔ اُس کا نکاح زبردستی ہو رہا تھا۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ گل بانو اُس کی دوسری خالہ کی بیٹی تھی۔ اُس کی ناراضی کی وجہ دعا تھی، وہ دعا کو چاہتا تھا لیکن عمر کا فرق زیادہ ہونے کی وجہ سے اور گل بانو کی ضد پر اُسے اُس سے نکاح کرنا پڑ رہا تھا۔
دعا: جاناں، میں جانتی ہوں تمہاری اُداسی کی وجہ انکل کی وفات ہے۔ تم انہیں یاد کر رہی ہو نا۔ دیکھو، میں جانتی اور سمجھ سکتی ہوں لیکن جو اللہ کو منظور، ہم کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر تم ایسے کرو گی تو خالہ جان کو تکلیف ہو گی۔ ہمت سے کام لو جاناں اور میں بھی ہوں تمہارے ساتھ۔ اب مت رونا۔ مجھے تمہارے آنسو بہت عزیز ہیں۔

کیسا رشتہ تھا اُن کا! سگی بہنیں نہ تھیں لیکن پھر بھی محبت میں سگوں کو بھی مات دیتی تھیں، ایک دوسرے پر جان چھڑکتی تھیں۔ وہ دونوں خالہ کی بیٹیاں تھیں۔

گل بانو: میں ٹھیک ہوں۔ (شوخی انداز میں بولی) تم کیوں خفا ہو، زین کی وجہ سے؟دعا: کون زین؟ میں کسی زین وین کو نہیں جانتی۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے تمہیں!
گل بانو: مجھے تو کچھ نہیں ہوا لیکن تمہیں بہت کچھ ہونے والا ہے۔

دعا حیرت سے: کیا مطلب؟ اور تمہارا نکاح ہے نا، اُس کا سوچو۔ ویسے، مبارک ہو! بالآخر آپ کو آپ کی محبت مل ہی گئی۔گل بانو: صرف تمہاری وجہ سے!

دعا: (سوچ میں پڑ کر) وہ تو ہے۔لیکن تمہاری ہمت اور خالہ جان کی مہربانی سے۔دعا: میرے بھائی کا خیال رکھنا۔

گل بانو (مزاح کرتے ہوئے): اچھا! اور زین کا؟

دعا: تم پھر شروع ہو گئیں!

زین کی ماما آتی ہیں اور کہتی ہیں: اگر تم دونوں کی سرگوشیاں ختم ہوں تو چلیں؟ یہ کہہ کر تینوں مسکرائیں۔

دعا: جی خالہ جان، چلیں!

زین کی ماما: دعا، اتنی کم جیولری؟ کچھ تو پہن لیتی!

باہر سے گل بانو کی ماما اور اُس کا بھائی آتے ہیں۔ گل بانو کی ماما: باجی، لگ تو دعا پھر بھی بہت پیاری رہی ہے۔

گل بانو کا بھائی اُسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ دوسری طرف زین اپنے بھائی کو تیار کروا رہا تھا۔ زین کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ حماد دعا کو چاہتا ہے۔حماد جانتا تھا کہ دعا اور زین ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن صرف اپنی خوشی کے لیے وہ ان دونوں کے درمیان دیوار بن گیا۔ ان دونوں کی علیحدگی کی اور بھی وجوہات تھیں لیکن حماد کا کردار نمایاں تھا۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھوایا اور سب نے دعائے خیر کی۔ دعا گل بانو کی جانب کھڑی تھی جبکہ زین حماد کے پاس تھا۔ سارے وقت میں زین کی نظر دعا سے بالکل نہیں ہٹی تھی، وہ صرف اُسے دیکھ رہا تھا۔
دعا نے لال رنگ کی پیاری سی ساڑھی پہن رکھی تھی۔ اُس پر ہلکا سا میک اپ اور ہلکی سی جیولری، وہ سب سے الگ نظر آ رہی تھی۔ اتنی سادگی میں بھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ سب کی نگاہ بار بار اُس پر جا رہی تھی۔ زین نے جب دعا پر عاقب کی نظر کو محسوس کیا تو اُس کی آنکھوں میں غصہ ابھرنے لگا تھا۔ بمشکل خود پر قابو رکھتے ہوئے وہ عاقب کے پاس جاتا ہے اور نکاح کے لفافے بانٹنے کو کہتا ہے۔

دعا زین سے: بھائی، آپ...

اُس کی بات کو کاٹتے ہوئے زین: جاؤ، سب لڑکیوں میں جا کر بیٹھو۔

دعا خاموشی سے چلی جاتی ہے۔ زین اُسے محبت کرتا تھا۔ وہ دونوں جانتے تھے کہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں لیکن مانتے نہیں تھے۔
کچھ وقت بعد ڈی جے بجتا ہے اور سب ڈانس کر رہے ہوتے ہیں۔دعا کو اُس کی پھوپھو کی ماموں کی بیٹیاں کھینچ لیتی ہیں۔ "آپ بھی ڈانس کریں آپی!" دعا انکار کرتی ہے، پر سب کے اصرار پر وہ چلی جاتی ہے۔
ہر طرف "دعا، دعا" ہو رہی تھی۔ اُسے گانے تک کا علم نہیں تھا۔ زین دعا کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتا ہے۔ وہ سامنے تھی اور بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ وہ ڈانس نہیں کرتی تھی لیکن آج راہِ فرار بند تھی۔
وے جُتی لے دے گھنگرُو آں والی
سِلک دے سُوٹ سِوا دے ۴۰
وے جُتی لے دے گھنگرُو آں والی
سِلک دے سُوٹ سِوا دے ۴۰
میلے وِچوں اِک پراندی
میلدے پھراں میں آؤندی جاندی
چوڑھا رنگلا تُو باہاں چ پاوا دے ہانیاں
چوڑھا رنگلا تُو باہاں چ پاوا دے ہانیاں
وے مینوں گڈے تے پنجاب گھما دے ہانیاں
وے مینوں گڈے تے پنجاب گھما دے ہانیاں
عاقب کو آتے ہوئے دیکھ کر وہ جھٹ سے اسٹیج پر گئے اور دعا سے اگلی لائن پر ڈانس کرنے لگے۔
نی گل سُن حسن دیئے سرکارے
ہولی آپ تُوں نخرے بھارے
نی گل سُن حسن دیئے سرکارے
ہولی آپ تُوں نخرے بھارے
ساڈی کاہدی اے سرداری
جے تیری رہ گئی ریجھ کُواری
تینوں سونے وِچ ساری ہی مرھا دوں گوریے
اوئے تینوں سونے وِچ ساری ہی مرھا دوں گوریے
نی تیرا کلا کلا شونق میں پُگا دوں گوریے
نی تیرا کلا کلا شونق میں پُگا دوں گوریے
اُس کی اِس حرکت پر دعا حیران تھی۔
خیر، رخصتی ہو چکی تھی۔ صبح ولیمہ تھا۔ دعا زین کے گھر پر ہی تھی اور گل بانو کو کمپنی دے رہی تھی۔ حماد کے اندر آتے ہی وہ اللہ حافظ کہتے ہوئے جا چکی تھی۔
زین شدید غصے میں تھا اور دعا سے بات کرنا چاہتا تھا، پر دعا تھی کہ کبھی کوئی بلا رہا تھا تو کبھی کوئی۔
مسز اسلم: دعا، جاؤ زین کو کل کے کپڑے دے آؤ۔
جی خالہ! کہتی ہوئی زین کے کمرے میں جاتی ہے۔ اس وقت زین شاور لے کر باہر آیا تھا۔ دروازہ لاک نہیں تھا، بار بار بجانے پر جواب نہ ملنے کی صورت میں اُسے اندر آنا پڑا کیونکہ اُسے بہت سے لوگ یاد کر رہے تھے۔ دعا زین کو دیکھتے ہوئے استغفراللہ کہہ دیتی ہے۔

زین غصے سے: کیا کسی کے کمرے میں اس طرح آتے ہیں؟

دعا کوئی جواب نہ دیتے ہوئے کل کا ڈریس بیڈ پر رکھ کر کہتی ہے: "یہ آپ کا کل کا ڈریس ہے، خالہ نے بھیجا ہے۔" اور جانے لگتی ہے۔ زین کو اُس کی اس حرکت پر غصہ آتا ہے۔
اگلے دن ولیمے پر سب خوش نظر آتے ہیں، سوائے زین کے۔ اُسے دعا کی حرکت پر غصہ تھا اور ساتھ ہی اُسے شرما کر نظریں جھکانے پر اس کے دل کی تار ہل گئے تھے۔
اُس کی نظر صرف دعا کو ڈھونڈ رہی تھی، پر دعا نہ جانے کہاں غائب تھی۔
دعا کی غیر موجودگی میں گل بانو کی ماما اپنے بیٹے عاقب کے لیے دعا کے رشتے کی بات کر رہی تھیں، وہ دعا کی ماما سے کہہ رہی تھیں۔ جبکہ دوسری جانب زین اپنی ماما بابا سے کہہ کر اُس کے بابا سے بات کرنے کا کہہ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دعا کی ماما کزن میرج کے خلاف ہیں اور رہی بات اُس کے بابا کی تو ان کو زین پسند تھا۔ دعا کے بابا نے ہاں کر دی بنا دعا سے پوچھے۔ دعا کو اس کا علم ہوا تو اُس نے زین سے بات کی: "کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب؟" غصے سے۔دعا رونے والی تھی، جبکہ دوسری جانب ان کا رشتہ پکا ہو چکا تھا۔

زین: کیا مطلب کیا کر رہا ہوں؟آپ تو مجھ سے محبت نہیں کرتے نا، تو یہ سب کیوں کر رہے ہو؟

زین مسکراتے ہوئے: بالکل نہیں کرتا۔

دعا: پھر یہ نکاح کیوں؟زین: اور تم؟ تم نہیں کرتی نا مجھ سے محبت؟
دعا: نہیں کرتی۔

زین: جھوٹ مت بولو۔

دعا: آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟

زین: میں جانتا ہوں سب۔

دعا: (لہجہ طنزیہ تھا) دیر نہیں لگا دی آپ نے؟
زین: "دیکھو، میری بات کو سمجھو۔ یہ نکاح صرف ایک دکھاوا ہو گا۔ آپ کی اور میری خوابوں کی تعبیر اور کچھ نہیں۔"زین جانتا تھا کہ وہ ایک وکیل بننا چاہتی ہے لیکن اُس کے بابا اُسے پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اُس نے گھر بیٹھ کر آن لائن ایل ایل بی مکمل کیا تھا۔ زین نے اُس کی دکھتی رگ پر انگوٹھا رکھا تھا۔

دعا: اس میں آپ کا کیا فائدہ؟

زین: میں شادی سے بچ جاؤں گا۔
دعا نے کہا: "آپ کو شرم نہیں آ رہی؟ ایک مقدس تعلق کا مذاق بناتے ہوئے؟"

زین: "میں مذاق نہیں بنا رہا، میری بات سمجھو۔"

دعا: "ٹھیک ہے، میں تیار ہوں۔"
دعا ہر حال میں اپنے خواب کی تعبیر چاہتی تھی، وہ تو اس کے لیے کسی سے بھی شادی کرنے کو تیار تھی تو زین کیوں نہیں؟

زین: "یہ بات صرف آپ کے اور میرے درمیان رہے گی۔"

دعا: "ٹھیک ہے۔"

دوسری جانب دعا کے بابا اور باقی سب کی رضامندی سے ان کا نکاح دو دن بعد طے پایا تھا اور رخصتی کا فیصلہ بعد میں ہونا تھا۔
دعا ابھی بھی زین سے بات کر رہی تھی: "آپ نے جو ماضی میں کیا، میں بھول نہیں سکتی اور نہ ہی آپ کو اپنے دل میں دوبارہ جگہ دے سکتی ہوں۔"

ولیِمے کی رات، گل بانو حماد سے: "آپ کو کیا ہوا ہے؟ کیا آپ اس شادی سے خوش نہیں؟ کل آپ نے کوئی بات بھی نہیں کی!"
حماد: "نہیں، ایسا نہیں ہے۔ میں بس کچھ وقت چاہتا ہوں۔ میں اس سب کے لیے ابھی تیار نہیں تھا۔ اور ویسے بھی، کل تم بھی تھکی ہوئی تھی اور میں بھی دیر رات تک جاگنے کی وجہ سے تھک گیا تھا۔ اس لیے کوئی بات نہیں کی
باکس نکالتے ہوئے: "یہ آپ کے لیے کل دینا تھا لیکن میں سو گیا۔ گذشتہ رات کے لیے معذرت، مسز حماد اسلم شاہ! شادی کی بہت بہت مبارک ہو، دل کی گہرائیوں سے۔"
حماد کی مسکراہٹ کافی گہری تھی۔ حماد ایک سمجھ دار انسان تھا، رشتوں کو نبھانا جانتا تھا۔ گل بانو سے اس وقت محبت نہ تھی لیکن وہ اس کی بیوی تھی جو اس کے لیے بہت اہم تھی۔
گل بانو: کیا ہے اس میں مسٹر حماد؟

حماد: آپ دیکھیں!

(گل بانو باکس کھولتی ہے)

گل بانو: واؤ! اتنا پیارا ہے یہ۔

اس میں ایک بریسلیٹ تھا جو بہت سادہ اور پیارا تھا۔ حماد بریسلیٹ پہناتے ہوئے: "اب زیادہ خوبصورت ہے۔"

گل بانو شرماتے ہوئے آنکھیں جھکا چکی تھی۔ حماد آنکھ مارتے ہوئے شرارتی لہجے میں وضاحت کرتا ہے: "حماد، اب آپ ایسے کریں گی تو معاملہ جان لیوا بن جائے گا اور بندہ ناچیز کی جان جا سکتی ہے۔"
گل بانو: "مجھے نیند آ رہی ہے، میں تھک گئی ہوں۔"

حماد (مسکراتے ہوئے): "جی جی، جائیں، سو جائیں آپ۔"
تمام گھر والے اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ زین کچن میں آیا اور چائے بنا کر لے جا رہا تھا۔ اس وقت مسز اسلم نے اسے دیکھ کر پوچھا، "اس وقت چائے؟"

زین نے جواب دیا، "جی مما، بس کام کر رہا تھا تو سر میں درد ہو رہا تھا۔ اسی لیے چائے بنانے آ گیا ہوں۔"

مسز اسلم: "مجھے کہہ دیتے، میں بنا دیتی۔"

زین: "آپ کو تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ویسے، آپ اس وقت یہاں؟" اس نے مذاق کرتے ہوئے کہا، "پاپا نے نکال دیا ہے کیا؟"

مسز اسلم: "نہیں، میں پانی لینے آئی تھی۔ کمرے میں پانی ختم ہو گیا تھا۔"

زین نے "ہوں" کہا اور جانے لگا تو مسز اسلم اس کے مذاق پر مسکراتے ہوئے بولیں، "چلو، کچھ دن اور چائے بنا لو۔ چائے بنانے والی آ جائے گی۔"

زین مسکراتے ہوئے کمرے میں چلا گیا۔ کمرے میں، زین اپنی ماں کی بات سوچتے ہوئے خود سے کہنے لگا، "دعا، تمہیں چائے بنانے کے لیے تھوڑی لانا ہے۔ یہ تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ تم تو میرے دل کی ملکہ بنو گی، جس کی حکومت زین پر چلے گی۔ وہ زین جو سب کو اپنے قابو میں رکھتا ہے، جو کسی سے نہیں ڈرتا۔"
دعا جلال سے مسز زین شاہ بننے والی ہیں۔" یہ سوچتے ہوئے وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ وہ ایک کمپیوٹر سائنس انجینئر تھا۔عین شاہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین صلاحیتوں والا شخص تھا۔ اس نے بالکل صحیح کہا تھا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ سب کو اپنے قابو میں رکھنا اس کی فطرت میں شامل تھا۔
اگلی صبح، دعا اٹھ چکی تھی اور نماز پڑھنے کے بعد وہ باہر آتے ہوئے نائلہ کو آواز دے رہی تھی، "نائلہ! نائلہ! کہاں ہو؟ میرا فروٹ سیلاد تیار ہے؟"

نائلہ: "جی چھوٹی بی بی، میں ابھی لائی۔"

دعا: "نائلہ، پھلوں میں آم، سیب، انار اور انگور شامل کرنا اور خشک میوہ جات میں صرف بادام اور پستے۔ اور اورنج جوس بھی میرے کمرے میں بھجوا دینا۔"

نائلہ: "جی میں ابھی لائی" کہہ کر چلی جاتی ہے۔
کچھ دیر بعد، نائلہ دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے بولی، "بی بی جی۔"

دعا: "آ جاؤ نائلہ۔"

نائلہ میز پر سب کچھ رکھتے ہوئے جا رہی ہوتی ہے کہ دعا سوال کرتی ہے، "ماما اور بابا کہاں ہیں؟"
نائلہ نے جواب دیا کہ وہ صبح صبح ہی باہر چلے گئے تھے۔ "اچھا ٹھیک ہے، جاتے ہوئے دروازہ بند کر جانا،" دعا نے کہا اور نائلہ چلی گئی۔
دعا کا فون بجتا ہے جس پر منہال کا نمبر آتا ہے۔ دعا فون اٹھاتی ہے۔ منہال سلام کرتی ہے، دعا جواب دیتی ہے۔

منہال: کیسی ہو؟
دعا: الحمدللہ۔
منہال: رپورٹس آ گئی ہیں۔
دعا: کیا آیا ہے رپورٹس میں؟
منہال: کیا تم سننے کے لیے تیار ہو؟
دعا: بالکل، اور جھوٹ یا جھوٹی تسلی نہ دو تو بہتر ہے۔

(فاطمہ گروپ کال میں شامل ہوتی ہے اور سلام کر کے حال چال پوچھتی ہے۔)

دعا: (بات کو واپس اصل موضوع پر لاتے ہوئے) منہال، کیا آیا ہے رپورٹس میں؟
منہال: میری بات دھیان سے سننا۔ تمہیں برین ٹیومر ہے۔

فاطمہ: (منہال سے) تمہیں اندازہ ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو؟
منہال: ہاں، معلوم ہے۔
فاطمہ: "اس کا حل کیا ہے؟"
(دعا خاموش تھی)
منہال: "اس کا حل آپریشن ہے، لیکن..."
فاطمہ: "لیکن کیا؟"
منہال: "چانسز کم ہیں۔"
فاطمہ: "پاگل تو نہیں ہو گئی؟"
منہال: "میں ہوش میں ہوں۔ مس، میں نے اور سینئرز نے کئی بار رپورٹس دیکھی ہیں۔ میں جھوٹ کیوں بولوں گی؟"
فاطمہ اور منہال: "دعا، تم خاموش کیوں ہو یار؟"
دعا خاموشی توڑتی ہے، "تم دونوں اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی، کسی کو بھی نہیں۔" اس نے اپنے آخری الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔

فاطمہ: "تم کیا کرنے والی ہو؟"

دعا خاموش تھی، پھر اچانک بولی، "کچھ نہیں، بس کچھ نہیں۔"

فاطمہ: "ہم تمہاری طرف آ رہے ہیں۔"
فون بند ہو چکا تھا۔ وہ اپنے خیالوں میں گم تھی۔ اسے اپنی سانس کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔
"آپ کو کال کر رہا ہوں، کہاں مصروف تھیں مسز زین؟" زین نے پوچھا۔

"دوستوں کی کال آئی تھی، ان سے بات کر رہی تھی،" دعا نے جواب دیا۔

"ہم پر بھی دو پل کرم کر دیا کرو۔ آواز سننے کے لیے تڑپ ہی جاتے ہیں مسز زین،" زین نے کہا۔

دعا کی آواز گلے میں اٹک رہی تھی، وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا جواب دے۔

"مسز زین شاہ..." زین نے کہا۔

"یہ آپ نے کیا لگا رکھا ہے؟ میں نہیں ہوں آپ کی مسز،" دعا نے غصے سے کہا۔

"بننے تو والی ہیں نا،" زین نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"دکھاوے کی!" دعا نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

"پریکٹس تو کرنی پڑتی ہے نا۔ اور ویسے، باقی سب مذاق تھا، ڈونٹ ٹیک اٹ سیریئسلی۔"

دعا "اللہ حافظ" کہہ کر فون کاٹنے والی تھی کہ زین نے کہا، "نکاح کے لباس کے لیے ماما نے کہا ہے کہ آپ سے پوچھ کر لوں۔ آپ چلیں گی شاپنگ پر؟"

زین نے دل میں دعا کی، "دعا، یس کہہ دو۔" لیکن دعا تو دعا تھی۔ "جب نکاح زبردستی کا ہے تو ڈریس بھی آپ جو چاہیں لے آئیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔"

زین کا جواب توقع کے مطابق تھا۔ اس نے کہا، "میں ماما سے آپ کی بات کروا دیتا ہوں۔" یہ کہہ کر اس نے فون ماں کو دیا، جنہوں نے دعا کو قائل کیا اور شام کا وقت طے کر دیا۔
دعا نائلہ کو بلاتی ہے اور کہتی ہے، "میری دوستیں آ رہی ہیں۔ لنچ اور اسنیکس کا انتظام کر لینا۔" نائلہ "جی" کہتے ہوئے چلی جاتی ہے اور کچھ دیر بعد فاطمہ اور منہال آتے ہیں۔
فاطمہ اور منہال، دعا سے ملنے کے بعد بیٹھ جاتی ہیں۔ نائلہ سب کو کولڈ ڈرنک سرو کرتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ کچھ دیر بعد مسٹر اور مسز جلال گھر آتے ہیں۔ مسٹر جلال بچوں کو سلام کر کے چلے جاتے ہیں اور مسز جلال ان سے کچھ دیر باتیں کرتی ہیں اور دعا کے نکاح کا دعوت نامہ بھی دیتی ہیں۔ نکاح میں بس کل کا دن باقی تھا۔
مسز جلال چلی جاتی ہیں اور ساتھ ہی منہال، فاطمہ اور دعا، دعا کے کمرے میں آ جاتے ہیں۔
فاطمہ دروازہ بند کرتے ہوئے: "کیا تم سنجیدہ ہو دعا؟ تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا؟"

دعا: "میں بتانے والی تھی۔"

فاطمہ: "نکاح کس سے ہے؟ زین اسلم شاہ سے؟"

دعا: (جواب دیتی ہے) "ہاں۔"

فاطمہ: "کیا تم بھول گئی اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا تھا؟"

دعا: "نہیں، یاد ہے۔"

فاطمہ: "تو پھر؟"

منہال خاموشی توڑتی ہے اور دعا سے کہتی ہے: "کیا سوچ رہی ہو؟ اسے بتاؤ گی یا نہیں؟"

دعا: "معلوم نہیں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔"
کمرے میں کچھ دیر خاموشی چھا جاتی ہے۔ ایک دم سے منہال کہتی ہے، "تم اسے بتا دو!"

دعا: "نہیں، میں کسی کو کچھ نہیں بتا سکتی۔"

فاطمہ: "کیوں؟"

دعا: "بس، میں نہیں بتانا چاہتی۔"

فاطمہ: "مطلب تم زین سے نکاح کرو گی؟"

دعا: "نہیں، میں کسی کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔"

منہال: "مطلب نہیں کرو گی؟"

دعا: "مجھے نہیں معلوم۔"

(فاطمہ کے موبائل پر کال آتی ہے۔ وہ سننے کے بعد کہتی ہے، "مجھے جانا ہو گا، گھر پر سب انتظار کر رہے ہیں۔")

پھر منہال اور فاطمہ چلی جاتی ہیں اور اس وقت دعا کمرے میں اکیلی تھی۔
اچانک دعا کے سر میں درد ہوتا ہے اور ناک سے خون نکلنے لگتا ہے۔ وہ دوا لیتی ہے اور سو جاتی ہے۔
شام کے پانچ بج چکے تھے۔ زین ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا۔ سیاہ پینٹ کوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ وہ روایتی لباس پسند کرتا تھا لیکن پیشہ ورانہ طور پر اسے مغربی لباس پہننے پڑتے تھے۔ وہ ہر لباس میں بہت خوبصورت لگتا تھا۔ ہلکی ہلکی داڑھی کے ساتھ پیارا چہرہ، گہری کالی آنکھوں کے ساتھ کالے بال جو بہت حسین انداز میں سنورے ہوئے تھے۔ کلائی پر گھڑی جو دنیا کے وقت سے 10 منٹ آگے تھی، اسے وقت سے آگے رہنا پسند تھا اور وہ ہمیشہ وقت سے آگے کی سوچتا تھا۔ اس وقت وہ اپنا پسندیدہ پرفیوم لگا رہا تھا۔ لمبے قد کا مالک جب چلتا تھا تو دیکھنے والوں پر قہر ڈھاتا تھا۔

زین: "ماما، میں تیار ہوں۔ آپ ساتھ چلیں گی؟"

مسز اسلم: "نہیں بیٹا، تم دونوں جاؤ۔ دعا گل بانو کے کمرے میں ہے۔"

زین: "جی ماما، میں بلا لیتا ہوں۔" یہ کہہ کر وہ چلا جاتا ہے۔
دعا اور گل بانو باتیں کر رہی تھیں اور گل بانو اپنا تحفہ دکھا رہی تھی۔ زین نے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھا تو وہ اندر آ رہا تھا کہ دعا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ بریسلیٹ کی تعریف کر رہی تھی، "بہت پیارا ہے گل بانو۔"

گل بانو نے کہا، "ہاں واقعی!" گل بانو مذاق کرتے ہوئے بولی، "کوئی بات نہیں، تمہیں بھی مل جائے گا۔"

دعا: "شٹ اپ یار!"

زین اندر آتا ہے اور دعا کو بلاتا ہے، "مسز زین شاہ، چلیں؟"

دعا: "خالہ نہیں آئیں گی؟"

زین: "نہیں، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔"

دعا: "کیا ہوا انہیں؟ میں دیکھ کر آتی ہوں۔"

زین: "وہ سوئی ہوئی ہیں۔"

دعا: "اچھا۔"

زین، گل بانو کو حماد کی کال پر مصروف ہوتا دیکھ کر کہتا ہے، "ویسے طبیعت میری بھی خراب ہے۔"

دعا: "دوا لے لو۔"

زین کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ کہتی ہے، "چلیں اب؟" زین نے ہاں میں سر ہلایا۔

دعا نے زین کے پرفیوم کی خوشبو محسوس کی، انداز اور خوشبو پرانی ہی تھی جو دل کی دھڑکن کو چھیڑ جاتی تھی۔ آج بھی زین کا انداز قاتل تھا، کوئی بھی اس کا دیوانہ بن سکتا تھا۔ دعا کو وہ خوشبو بہت پسند تھی، وہ خوشبو اس کے دل کی دھڑکن تیز کر دیتی تھی۔
ذرا لب وہ مسکرائی اور پھر ٹیومر والی بات کو سوچتی ہوئی چلی۔ زین اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ دعا نے پیچ رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا اور دوپٹہ گلے میں تھا۔

مین دروازے پر پہنچتے ہوئے زین: "دوپٹہ سر پر لے لو، دعا۔"

دعا: "کیوں؟"

زین: "دعا صرف میری دعا ہے۔ کسی اور کو دیکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے، اور ان پیارے کھلے بالوں کو تو بالکل بھی نہیں۔"
"یہ کھلے بال، یہ حسن، یہ سب صرف میری امانت ہیں۔ کسی اور کی نظر کا اس پر حق نہیں ہے۔"
زین کہتا ہے:
دیکھو، اچھا نہیں ہے تمہارا چلن۔
یہ جوانی کے دن اور یہ شوخیاں،
یوں نہ آیا کرو بال کھولے ہوئے
ورنہ دنیا میں بدنام ہو جاؤ گی۔
آج جاؤ نہ بے چین کر کے مجھے
جانِ جان، دل دکھانا بُری بات ہے
دعا خاموشی سے دوپٹہ سر پر لے لیتی ہے اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاتی ہے۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد زین کہتا ہے: "آگے آؤ، میں ڈرائیور نہیں ہوں۔" دعا خاموشی سے آگے آ جاتی ہے اور دونوں لباس کے لیے شاپنگ مال چلے جاتے ہیں۔

مال میں لباس دیکھتے ہوئے دعا کو سفید رنگ کا سنہرے کام والا لباس پسند آتا ہے۔

زین: "آپ کو پسند ہے؟"
دعا: "ٹھیک ہے، آپ بتائیں۔"
زین: "مجھے سرخ پسند ہے۔"
دعا: "سرخ نکاح کے لیے گہرا رنگ ہے، نکاح پر ہلکے رنگ پہنتے ہیں۔"
زین: "سفید کے علاوہ کوئی اور دیکھ لو۔"
دعا: "کیوں؟"
زین: "سفید نہیں، بس کوئی اور دیکھو۔"
دعا: "سفید میں کیا برائی ہے؟ اتنا خالص اور پیارا رنگ ہے۔"
زین: "سوچ لو، جانِ جان، پھنس نہ جانا۔"
(دعا کے سر کے اوپر سے ساری بات گزر گئی)
دعا: "آپ بتا دیں کیا لینا ہے۔"
زین: "سرخ۔"
دعا: "نہیں، نہیں۔"
زین: "ٹھیک ہے پھر، سفید اور آڑو (پیچ) لے لو۔"
دعا: "ایک لباس لینا ہے۔"
زین: "اگر میں اپنی بیوی کو دو لے کر دوں تو؟"
دعا: "پر..."
زین: "پر ور کچھ نہیں۔ دو لے کر دوں یا پورا مال، میری مرضی۔"
دعا: "آڑو رنگ کی ساڑھی کا میں کیا کروں گی؟"
زین: "پہن لینا۔"
دعا: "اگر کسی نے کچھ کہا تو؟"
زین: "کوئی کچھ نہیں کہے گا۔"
(زین آڑو رنگ کی ساڑھی دیتے ہوئے کہتا ہے)
زین: "جاؤ، پہن کر آؤ۔"

کچھ دیر بعد دعا ساڑھی میں آتی ہے۔
زین: "خوبصورت!"
"اب جاؤ اور سفید والا پہن کر دیکھو۔"

دعا: "آپ نہیں بتائیں گے کہ سفید مجھ پر کیسا لگ رہا ہے؟"

زین: "نکاح پر بتاؤں گا۔ ابھی نہیں۔" (کچھ دیر بعد) "ٹھیک ہے سب؟"

زین: "ٹھیک ہے۔ چلو اب جیولری دیکھ لو۔"
دعا اور زین زیورات دیکھتے ہیں۔ زین آہستہ سے کہتا ہے کہ سفید اور سنہری کے ساتھ آف وائٹ موتیوں کی سادہ جیولری، صرف بالیاں، اچھی لگیں گی۔
زین: "لیکن دلہن تو بھاری زیورات پہنتی ہے۔"

دعا: "رخصتی پر، نکاح پر سادہ اچھا لگتا ہے۔"

زین: "اگر میں رخصتی بھی کروا لوں تو؟"

دعا: "نہیں، نہیں!"

زین: "ہاں، ہاں۔"

دعا: "پر میرا پھر رخصتی کا لباس..."

زین: "ماشاءاللہ، ایک دن میں کتنے لباس پہنے ہیں؟"

دعا: "تبھی تو رخصتی بعد میں۔"

زین: "میرے بس میں ہو تو ابھی اٹھا کر لے جاؤں، پر کیا کروں۔"

(دعا مسکراتی ہے)

دعا: "زیورات دیکھیں زین۔"

زین: "اوکے۔"
زین: "ایک سادہ موتیوں کا سیٹ اور ایک سرخ لہنگے کے لیے دلہن کا زیور۔"

دعا: "پر میرا تو لہنگا نہیں ہے۔"

زین: "لے لیتے ہیں۔"

(دعا کی نظر ایک سادہ سیٹ اور انگوٹھی پر پڑتی ہے جو بہت خوبصورت تھے، وہ انہیں دیکھ رہی تھی کہ زین نے خاموشی سے وہ سیٹ اور انگوٹھی بھی آرڈر کر دیے۔)

زین: "اچھا، اب لہنگا دیکھو، کون سا لینا ہے؟"

دعا: "یہ سب بہت بھاری ہیں۔"

زین: "کوئی بات نہیں، تھوڑی دیر کے لیے ہی پہننا ہے۔"
دعا: "مجھے ان کا نہیں پتا، آپ لے لیں جو بھی آپ کو اچھا لگے۔"

زین: "سوچ لو۔"

دعا: "سوچ لیا۔"

(زین اس کے لیے لہنگے کا آرڈر دے چکا تھا۔ لہنگا انڈین طرز کا تھا لیکن اس میں روایتی وضع کا بھی خیال رکھا گیا تھا۔)

دعا: "اس کی بیک ٹھیک نہیں ہے۔"

زین: "دوپٹہ سب کچھ چھپا لے گا، پریشان نہ ہوں۔"

دعا: "رخصتی کی بات آپ نے گھر پر نہیں بتائی؟"

زین: "بتا دوں گا۔"

دعا: "ٹھیک ہے۔"

زین: "آپ کو رخصتی کی جلدی کیوں ہے مسز زین؟"

دعا: "جلدی مجھے صرف ایک وکیل بننے اور پیشہ ورانہ طور پر آگے بڑھنے کی ہے۔" وہ یہ کہہ چکی تھی۔

زین بات بدلتے ہوئے: "آپ کی ہیلز؟"

دعا: "اس کی ضرورت نہیں۔"

زین: "ضرورت ہے، بہت زیادہ۔" (وہ اسے ہیلز لے کر دے چکا تھا۔)

دعا: "مجھے ہیلز پر چلنا نہیں آتا۔"

زین: "کوئی بات نہیں۔ خادم خدمت میں حاضر ہے۔"

دعا: "مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔"

زین: "بولو، میں سن رہا ہوں۔"

دعا: "مجھے برین ٹیومر ہے۔ کب تک زندہ رہوں گی، کچھ نہیں کہہ سکتی۔"

(زین خاموش تھا۔)

دعا: "اس کا حل آپریشن ہے اور چانسز کم ہیں۔ میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتی، آپ اس نکاح سے انکار کر دیں۔"

زین: "ایسا نہیں ہو سکتا، دعا۔"

دعا: "لیکن..."

زین: "سب ٹھیک ہو جائے گا، یقین کرو۔"

(زین کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ اپنا منہ موڑ چکا تھا۔ اسے خود پر شرمندگی ہو رہی تھی، دعا اور اپنے ماضی کو لے کر اس نے دعا کو بہت دکھ پہنچایا تھا۔)..................................
نکاح کا دن آ چکا تھا۔ تمام رسمیں ہو چکی تھیں۔ زین کے کہنے پر آج رات ہی رخصتی تھی۔ نکاح آج صبح 9 بجے تھا اور 9 بجنے میں 20 منٹ باقی تھے۔ تمام مہمان پہنچ چکے تھے۔

زین اپنے کمرے میں تھا، سفید کرتے میں کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ جبکہ دعا تیار ہو چکی تھی، سفید لباس میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ وقت بہت کم بچا تھا۔ زین اپنے دوستوں کے ساتھ دعا کا انتظار کر رہا تھا۔

فہیم (زین کا دوست): "زین شاہ، بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔"
زین: "شکریہ، لیکن ابھی نکاح نہیں ہوا۔"
فہیم: "کوئی نہیں، ہو جاتا ہے! اتنی بے صبری اچھی نہیں۔"

دعا اپنی ماما اور خالہ کے ساتھ آتی ہے۔ زین کی نظر جیسے ہی دعا پر پڑتی ہے، وہ اسے دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ سفید لباس پر سنہری کام، سادہ زیورات اور ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ زین نے ہاتھ آگے کرنے کی بجائے سٹیج سے نیچے آ کر ایک ساتھ دونوں نے سٹیج پر قدم رکھا۔

زین نے سرگوشی میں کہا، "اب یہاں سے آگے کا سفر ساتھ ہو گا، مل کر چلیں گے۔"
نکاح شروع ہوتا ہے۔ قاضی صاحب پوچھتے ہیں، "دعا ایمان بنتِ جلال احمد، آپ کا نکاح زین العابدین شاہ بن اسلم شاہ سے حق مہر دو کروڑ سکہ رائج الوقت طے پایا ہے۔ کیا آپ کو قبول ہے؟"

دعا نے تین بار جواب دیا، "قبول ہے۔"

اس کے بعد مولوی صاحب زین سے پوچھتے ہیں۔ زین بھی تین بار کہتا ہے، "قبول ہے۔"

مولوی صاحب دعا کرتے ہیں اور دستخط لیتے ہیں۔ باقی سب نکاح کی مبارک باد دیتے ہیں۔ گل بانو دعا کو کمرے میں چھوڑ آتی ہے اور زین موقع دیکھ کر دعا کے کمرے میں چلا جاتا ہے۔

زین: "اسلام و علیکم!
❤❤❤❤ میری زوجہ!"

دعا زین کو دیکھتی ہے اور غصے سے پوچھتی ہے، "آپ کیا لینے آئے ہیں یہاں؟"

زین شرارتی لہجے میں جواب دیتا ہے،
'' "اپنی زوجہ
💖💖💖❤❤❤💕
دعا: "رکیں! میں ابھی سب کو بلاتی ہوں۔"

follow for more

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Lahore
54950