Inside With Riyan

Inside With Riyan

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Inside With Riyan, Writer, Lahore.

14/08/2025

Freedom is our gift — building a stronger Pakistan is our promise

This Independence Day, let’s dream bigger, work harder, and rise together as one nation.

Photos from Inside With Riyan's post 20/07/2025

غیرت کے نام پر قتل یا بےغیرتی کی انتہا؟ بلوچستان میں بہن بیٹیوں کے ساتھ دہرا ظلم!

بلوچستان میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ، جہاں ایک نوجوان جوڑے کو صرف پسند کی شادی کے جرم میں سرعام گولیاں مار دی گئیں۔
ایک طرف غیرت کے نام پر قتل کرنے والے خود کو عزت کے رکھوالے سمجھتے ہیں، دوسری طرف وہی لوگ بہن بیٹیوں کا حق، وراثت، تعلیم، اور آزادی تک چھین لیتے ہیں۔
یہ کیسی غیرت ہے جو جان لے لیتی ہے، اور کیسی بےغیرتی ہے جو جینے کا حق بھی نہیں دیتی؟
یہ واقعہ نہ صرف انسانیت بلکہ اسلامی تعلیمات کی بھی تذلیل ہے، جہاں عورت کو عزت اور اختیار دیا گیا ہے، نہ کہ ظلم کا نشانہ۔

#بلوچستان

17/07/2025

پٹرول 167.51 سے 272.15 روپے فی لیٹر تک کیسے پہنچا؟ — عوام کی جیب پر حکومتی چاقو!

اصل قیمت کیا ہے؟

حکومت نے حالیہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 272.15 روپے کر دی ہے، جبکہ اصل درآمدی قیمت صرف 167.51 روپے فی لیٹر کے قریب ہے۔

فرق کہاں جا رہا ہے؟
یہ فرق حکومت کی جانب سے لگائے گئے مختلف ٹیکسز، لیویز، ڈیلر مارجن اور لاجسٹکس چارجز کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔

قیمت کی بریک ڈاؤن (تخمینہ):

جزو فی لیٹر قیمت (روپے میں)

بین الاقوامی درآمدی قیمت (C&F) 167.51
پیٹرولیم لیوی (PDL) 78.00-100
کسٹم ڈیوٹی 15.00
ڈیلر مارجن + OMC مارجن 17.00
ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن (IFEM) 5.00
کل قیمت (عوامی فروخت پر) ≈ 272.15

عالمی سطح پر کیا ہو رہا ہے؟

برینٹ خام تیل اس وقت 68–70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

جولائی کے آغاز سے اب تک قیمت میں صرف 8–10% اضافہ ہوا ہے۔

اٸی اے ای اے (انٹرنیشنل انرجی ایجنسی) اور OPEC+ کے مطابق تیل کی رسد میں کچھ نرمی آ رہی ہے لیکن گرمیوں کی طلب کی وجہ سے قیمتیں اب بھی برقرار ہیں۔

ایران-اسرائیل کشیدگی، یمن اور خلیجی کشتیوں پر حملے جیسی جیواپولیٹیکل صورتحال قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔

دنیا بھر میں قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن پاکستان کا اضافہ نسبتاً زیادہ ہے۔

پاکستانی عوام پر اثرات:

1. ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ
رکشہ، ٹیکسی اور بس مالکان نے کرایے بڑھا دیے ہیں۔

2. مہنگائی میں شدید لہر
اشیائے خورونوش، سبزی، آٹا، گوشت اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بھی پیٹرول کے ساتھ اوپر جا رہی ہیں۔

3. کاروباری لاگت میں اضافہ
صنعتیں اور فیکٹریاں جن کا انحصار ڈیزل یا پیٹرول پر ہے، وہ قیمتیں عوام تک منتقل کر رہی ہیں۔

4. غریب طبقے پر شدید دباؤ
یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید مزید متاثر ہو رہی ہے۔

حکومت کی وضاحت کیا ہے؟

حکومت کا کہنا ہے کہ:

عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے۔

ریونیو کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی بڑھائی گئی۔

آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت ٹیکس اہداف پورے کرنا ضروری ہیں۔

عوامی ردِعمل اور تجزیہ

سوشل میڈیا پر شدید تنقید ہو رہی ہے، لوگ اسے "غریب کش پالیسی" قرار دے رہے ہیں۔

معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ریونیو کے لیے عوام کو قربان کر رہی ہے۔

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کیے جائیں تاکہ قیمتیں متوازن رہیں۔

نتیجہ:

پیٹرول 167.51 روپے فی لیٹر پر آتا ہے، لیکن ٹیکسز اور حکومتی چارجز اسے 272 روپے تک لے جاتے ہیں۔

عالمی منڈی میں اضافہ ضرور ہوا، مگر پاکستان میں اس کا اثر کئی گنا بڑھا کر ڈال دیا گیا ہے۔

مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں اضافے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

05/07/2025

لینڈ کروزر سمیت لگژری گاڑیوں کی قیمتوں میں کروڑوں کی کمی، چھوٹی گاڑیاں 2 لاکھ روپے تک مہنگی — حکومت کی ترجیح ماحولیات یا ریونیو؟

حکومت پاکستان کی جانب سے حالیہ آٹو پالیسی اور امپورٹ ڈیوٹی اسٹرکچر میں تبدیلی کے بعد لگژری امپورٹڈ گاڑیوں، خصوصاً لینڈ کروزر، بی ایم ڈبلیو اور آڈی جیسی گاڑیوں کی قیمتوں میں کروڑوں روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی امپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکس میں نرمی کے نتیجے میں سامنے آئی ہے، جسے کچھ ماہرین سرمایہ دار طبقے کے لیے ریلیف قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب، مقامی طور پر تیار کی جانے والی چھوٹی اور درمیانے درجے کی گاڑیوں کی قیمتیں 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک بڑھا دی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام متوسط طبقے پر مزید بوجھ ڈالے گا، جو پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے نڈھال ہے۔

معاشی مبصرین نے اس پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف حکومت ماحولیاتی تحفظ اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کی بات کرتی ہے، دوسری طرف لگژری گاڑیوں کو سستا کرکے آلودگی اور ایندھن کے بوجھ کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ اس فیصلے نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا حکومت کی اصل ترجیح ماحولیاتی بہتری ہے یا محض ریونیو اکٹھا کرنا۔

23/06/2025

مالی سال 2025-26 بجٹ بم: حکومت کا مرچنٹ فنڈز، حکومتی بانڈز اور پولٹری پر کاری ٹیکس وار

وفاقی بجٹ میں حکومت نے سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں پر ٹیکس بڑھانے کی متعدد تجاویز پیش کی ہیں تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کی جا سکیں۔

1. مرچنٹ فنڈز (Mutual Funds)

وہ فنڈز جن کا 50 فیصد سے زائد منافع منافعِ قرض (Profit on Debt) پر مبنی ہو، ان کے ڈویڈنڈ پر ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

کارپوریٹ سرمایہ کاروں کے لیے ایسے فنڈز پر مجموعی ٹیکس ریٹ 29 فیصد تک چلا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد قرض پر مبنی سرمایہ کاری سے ہٹ کر اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

2. حکومتی سیکیورٹیز (Government Securities)

حکومت نے انسٹیٹیوشنل اور کارپوریٹ سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی بانڈز، ٹریژری بلز وغیرہ پر 20 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے اس پر ٹیکس کی شرح واضح نہیں تھی یا چھوٹ حاصل تھی۔

اس اقدام سے حکومتی قرض پر انحصار کرنے والے مالیاتی اداروں کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔

3. پولٹری سیکٹر

ڈے اولڈ چکس (Day-old chicks) پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔

یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے پولٹری شعبے سے محصولات حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سے مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

4. مجموعی ہدف

ایف بی آر کے لیے اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف 14.13 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔

بجٹ میں مجموعی طور پر 435 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں سے 312 ارب روپے صرف ایف بی آر کی سطح پر اکٹھے کیے جائیں گے۔

بانڈز اور منی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے ادارے اور سرمایہ کار متاثر ہو سکتے ہیں۔
پولٹری صارفین کو مہنگائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

#بجٹ2025 #مرچنٹفنڈز #حکومتیبانڈز

22/06/2025

سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: TRG پاکستان کی مینجمنٹ کو غیر قانونی قرار دے کر فوری بورڈ الیکشن کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے 52 صفحات پر مشتمل تاریخی فیصلے میں TRG پاکستان کی مینجمنٹ کو فراڈ اور اقلیتی شیئر ہولڈرز کے ساتھ ظلم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے فوری بورڈ انتخابات کرانے کا حکم دے دیا، جو 14 جنوری 2025 سے غیر قانونی طور پر مؤخر کیے جا رہے تھے۔

جج عدنان اقبال چوہدری نے قرار دیا کہ برمودا کی شیل کمپنی "گرین ٹری ہولڈنگز" نے TRG کے اپنے ہی 80 ملین ڈالرز سے کمپنی کے 30 فیصد حصص خریدے، جو کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 86(2) کی خلاف ورزی ہے۔ مزید 70 ملین ڈالرز سے 35 فیصد حصص خریدنے کی کوشش بھی غیر قانونی اور دھوکہ دہی پر مبنی قرار دی گئی۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ پورا منصوبہ TRG کی موجودہ مینجمنٹ اور ڈائریکٹرز (بشمول محمد خیشگی، حسنین اسلم، Pinebridge Investments کے جان لیون اور پیٹرک میگنس) کی غیر قانونی سازش تھی تاکہ وہ کمپنی پر غیر منصفانہ کنٹرول حاصل کر سکیں۔

یہ کیس TRG کے بانی اور سابق CEO ضیاء چشتی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہیں اب فیصلے کے بعد سب سے بڑے شیئر ہولڈر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ضیاء چشتی آئندہ بورڈ انتخابات میں واضح برتری حاصل کر سکتے ہیں۔

مارچ 2025 میں برطانیہ کے معروف اخبار The Telegraph نے ضیاء چشتی سے جنسی ہراسانی کے الزامات کے حوالے سے معافی مانگی، ہرجانہ اور قانونی اخراجات بھی ادا کیے۔ یہ الزامات امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے تھے، مگر چشتی کو جواب دینے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔

قانونی ماہرین اس فیصلے کو پاکستان کی کارپوریٹ تاریخ میں سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ TRG کی موجودہ انتظامیہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

#ضیاءچشتی #سندھہائی کورٹ #کارپوریٹفراڈ

22/06/2025

"دو بڑے سوال، ایک غیر یقینی صورتحال" تجزیہ: ریان

ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے نے بلاشبہ تہران کے نیوکلیئر پروگرام کو عارضی طور پر پیچھے دھکیل دیا ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ایران کا نیوکلیئر شیڈول کتنے ماہ یا سال پیچھے چلا گیا — بلکہ وہ بڑے اور خطرناک سوالات ہیں جو اس حملے کے بعد خطے اور دنیا کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔

❗ سوال اول: کیا یہ براہ راست جنگ کی ابتدا ہے؟

امریکہ کا براہِ راست حملہ ایک "ریڈ لائن" کی عبوریت کے مترادف ہے۔ ایران، جو پہلے پراکسیز اور غیر روایتی طریقوں سے ردعمل دیتا رہا، اب کھل کر جوابی کارروائی کر سکتا ہے — نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات اور مفادات کو بھی نشانہ بنانا ممکن ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب واشنگٹن نے ایران کی سرزمین پر براہِ راست حملہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایران روایتی جنگ کی طرف بڑھتا ہے یا پھر غیر متوازن، طویل اور تھکا دینے والی مزاحمتی حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔

❗ سوال دوم: عالمی معیشت اور سفارتی نظام پر اس کا کیا اثر ہوگا؟

تیل کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی دی جا چکی ہے۔ عالمی منڈیوں میں غیریقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ چین، روس، یورپی یونین — سب اس پیش رفت پر اپنی پوزیشن طے کر رہے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی ایک چنگاری اور بھڑکی، تو نیا سرد جنگی ماحول یا محدود ایٹمی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

🔍 نتیجہ:

یہ حملہ ایران کو پیچھے دھکیلنے کی امریکی حکمتِ عملی کا ایک قدم ہو سکتا ہے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ دور رس اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک حملہ نہیں — یہ ایک غیر یقینی دنیا کی طرف قدم ہو سکتا ہے، جہاں قانون، طاقت اور ردعمل کے درمیان سرحدیں مدھم ہو چکی ہیں۔

21/06/2025

پیوٹن کو تیسری عالمی جنگ کی شروعات کیوں نظر آ رہی ہے؟

ایک تجزیاتی رپورٹ
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ بیانات اور عالمی پالیسیوں کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر چکا ہے کہ آخر انہیں تیسری عالمی جنگ کی جھلک کیوں دکھائی دے رہی ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی دھمکی نہیں بلکہ ایک گہری اسٹریٹیجک اور جغرافیائی حقیقت پر مبنی تشویش ہے۔ ذیل میں اس معاملے کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:

1. نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع

پیوٹن کی نظر میں نیٹو کی مشرقی یورپ کی طرف بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، خصوصاً یوکرین اور جارجیا جیسے ممالک کی عسکری معاونت، روس کے سیکیورٹی مفادات کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہیں۔ ماسکو کا موقف ہے کہ یہ اقدامات روسی سرحدوں پر "جارحانہ فوجی دباؤ" کا باعث بن رہے ہیں، جو کسی بھی بڑی جنگ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

2. یوکرین تنازع اور مغربی مداخلت

یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے مغرب کی جانب سے بھاری فوجی امداد، جدید ہتھیاروں کی فراہمی اور براہ راست انٹیلیجنس شیئرنگ نے تنازع کو مقامی سے عالمی رنگ دے دیا ہے۔ پیوٹن بارہا کہہ چکے ہیں کہ مغرب، خاص طور پر امریکہ، روس کو ایک "طاقتور دشمن" کے طور پر ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

3. روس چین قربت اور مغرب کا ردعمل

روس اور چین کے درمیان اقتصادی، عسکری اور سیاسی تعلقات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مغرب اس اتحاد کو عالمی طاقتوں کا "نیا بلاک" تصور کرتا ہے۔ پیوٹن کو خدشہ ہے کہ مغربی دنیا اس اتحاد کو توڑنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی، جس سے عالمی محاذ آرائی کی فضا مزید بگڑ سکتی ہے۔

4. جوہری اسلحہ اور دفاعی ڈاکٹرائن میں تبدیلی

حالیہ مہینوں میں روس نے جوہری اسلحے کے استعمال سے متعلق اپنے اصولوں میں لچکدار تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے۔ پیوٹن کا کہنا ہے کہ اگر روس کے وجود کو خطرہ ہوا تو وہ "کسی بھی حد تک جا سکتا ہے"۔ ایسی بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ ماسکو خود کو عالمی سطح پر cornered محسوس کر رہا ہے۔

5. مشرق وسطیٰ، ایشیا اور بحرالکاہل میں بیک وقت تناؤ

ایران-اسرائیل کشیدگی، جنوبی بحیرہ چین میں چین-امریکہ مقابلہ، شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور دیگر علاقائی تناؤ بیک وقت شدت اختیار کر چکے ہیں۔ پیوٹن سمجھتے ہیں کہ دنیا ایک "متعدد محاذوں والی جنگ" کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں ایک غلط قدم پوری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

6. مغربی میڈیا اور بیانیے کی جنگ

پیوٹن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مغربی میڈیا روس کو مسلسل ایک خطرناک ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ عوامی رائے کو جنگ کی حمایت میں تیار کیا جا سکے۔ یہ نفسیاتی جنگ، ان کے نزدیک، تیسری عالمی جنگ کی "ذہنی بنیاد" رکھ رہی ہے۔

پیوٹن کی تیسری عالمی جنگ کی پیش گوئی محض سیاسی پروپیگنڈا نہیں بلکہ ایک ایسی عالمی حقیقت کی ترجمانی ہے جس میں بڑی طاقتوں کے درمیان مفادات، سرحدیں، نظریات اور اثر و رسوخ ٹکرا رہے ہیں۔ اگر سفارتی راستے بند ہوتے گئے اور نیٹو-روس تناؤ میں مزید اضافہ ہوا، تو یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ دنیا ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔

#پیوٹن #تیسریعالمیجنگ #تجزیہ

20/06/2025

Special Opinion Edition

جیسی کرنی ویسی بھرنی
تحریر: ریان
❝ نیتن یاہو آج جس خوف میں جی رہا ہے، وہی خوف کل غزہ کی ہر گلی میں بسایا گیا تھا اور اج بھی ھے۔ ❞

دنیا کی سیاست اکثر ظاہری طاقت کے مظاہروں اور کمزور اقوام کی بے بسی کے درمیان گھومتی ہے۔ لیکن کبھی کبھار تاریخ کچھ یوں موڑ لیتی ہے کہ طاقتور کو وہی حالات جھیلنے پڑتے ہیں جو اس نے دوسروں پر مسلط کیے ہوتے ہیں۔ آج اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی بے چینی اور خوف اسی قدرتی اصول کا عکس ہے: جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

📌 غزہ: جہاں آنکھیں صرف آنسو بہاتی ھیں

ماہ و سال گزرے، نیتن یاہو نے غزہ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ بچے، عورتیں، بوڑھے سبھی اسرائیلی میزائلوں کے نشانے پر تھے۔ اسپتالوں کو ملبے میں بدلا گیا، پناہ گزین کیمپ راکھ میں بدل گئے، اور دنیا صرف مذمتی بیانات تک محدود رہی۔ اسرائیل کو یہ زعم تھا کہ اس کی طاقت ہمیشہ اسے ناقابل تسخیر بنائے رکھے گی۔

🚀 ایران کا وار: جوابی عدالت کا آغاز

ایران نے حالیہ میزائل حملوں میں جو پیغام دیا وہ صرف عسکری نہیں، اخلاقی تھا۔ برسوں کے دباؤ اور خطرات کے باوجود، ایران نے جس قوت سے اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اس نے اسرائیلی قیادت کی نیندیں اڑا دیں۔ نیتن یاہو، جو کل ایران کو "خطرے کا سایہ" کہتے تھے، آج واشنگٹن کی طرف دیکھ رہے ہیں — مدد، مشورے، اور اسلحے کے لیے۔

🧭 تاریخ کا آئینہ: ظلم کا انجام

دنیا نے فرعون کو ڈوبتے دیکھا، ہٹلر کو گرتے دیکھا، اور آج نیتن یاہو کو تذبذب میں مبتلا دیکھ رہی ہے۔ وہی امریکہ، جو اسرائیل کو عسکری برتری دلاتا تھا، آج ایک تھکا ہوا اتحادی نظر آ رہا ہے۔ نیتن یاہو کو شاید اب سمجھ آئے کہ فوجی طاقت انسانیت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔

راۓ
عالمی سیاست میں اصولوں کی کمی نے دنیا کو خطرناک مقام تک پہنچا دیا ہے۔ لیکن تاریخ ہمیشہ ایک اصول پر ثابت قدم رہتی ہے:

> اگر آج تم کسی کے گھر آگ لگاؤ گے، تو کل وہ شعلے تمہاری دہلیز تک ضرور پہنچیں گے۔

آج نیتن یاہو کو وہی دکھ سہنا پڑ رہا ہے جو کل غزہ والوں کا نصیب تھا اور ابھی بھی ھے۔ اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ظالم اور مظلوم کے درمیان اصل فرق سمجھے، نہ کہ صرف مفادات کے ترازو میں انصاف تولے۔

✍️ تحریر: ریان | Inside With Riyan

📅 20 جون، 2025
📣

19/06/2025

پیوٹن: ایران کو فوجی ساز و سامان کی فراہمی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کو دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل بین الاقوامی قوانین یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پیوٹن کے مطابق روس ایران کو صرف دفاعی نوعیت کا سامان فراہم کر رہا ہے اور یہ تعاون مکمل طور پر قانونی دائرے میں ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دو خودمختار ریاستوں کے درمیان دفاعی معاہدے کسی تیسرے فریق کو مداخلت کا حق نہیں دیتے۔

#روسایران #پیوٹن #ایرانفوجیمعاہدہ

18/06/2025

Only 16% Americans Support Military Intervention, Poll Finds

A new survey reveals that just 16% of Americans believe the U.S. should engage in military intervention amid rising global tensions, with the majority favoring diplomacy and restraint. The findings reflect growing public fatigue with foreign wars and skepticism about deepening involvement in overseas conflicts.

18/06/2025

🔴 اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم دباؤ کا شکار — ایرانی میزائلوں کے طوفان نے آئرن ڈوم کی قلعی کھول دی!

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے 400 سے زائد بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم، خاص طور پر آئرن ڈوم، کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیل روزانہ 285 ملین ڈالر دفاعی اخراجات میں جھونک رہا ہے، مگر امریکی مدد کے بغیر چند روز میں دفاعی ذخائر ختم ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اب اسرائیل صرف "انتہائی اہم اہداف" کو نشانہ بنائے گا، جبکہ کئی میزائل پہلے ہی حساس فوجی تنصیبات تک جا پہنچے ہیں۔

🔻 یہ صورت حال نہ صرف دفاعی سطح پر بلکہ معاشی و نفسیاتی محاذ پر بھی اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

📉 "آئرن ڈوم" کی کارکردگی پر عالمی سطح پر سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Culinary Team

Attire

Address

Lahore