Inam Rana
Inam Rana is a London based Lawyer, writer & thinker. He believes in dialogue & freedom of expression
28/02/2026
جنگ کا انجام تو جو ہو گا۔ ایران میں موجود ایک فرد نے بائیں بازو کے دانشور سر طارق علی کو خبر دی کہ تاک تاک کر ان لیفٹ کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو شاہ کے پوتے کی ممکنہ نئی حکومت کیلیئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس سے آپ ایران میں اژرائیلی انٹیلجنس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
جب آپ دشمن رکھتے ہوں تو دشمن سے پہلے اپنے گھر کی خبر رکھنا لازم ہے۔ جو سیندھ قلعہ کے اندر سے لگتی ہے وہ بیرونی حملہ آوروں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ یہی اصول ہم پہ بھی لگتا ہے۔ اگر ہمیں بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے (جو اب تین طرف سے ہمیں گھیریں گے) تو پہلے ملک کے اندر موجود سیندھ لگانے والو کا علاج ضروری ہو گا۔
باقی خمینی اگر شہید ہو گئے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ انھوں نے بھرپور گزاری اور بنا سر جھکائے گردن کٹوا دی۔ اس معاملے کو مسلک کی تقسیم سے اوپر اٹھ کر دیکھئیے۔ یہ آخری قلعہ تھا۔ (اب پاکستان واحد رکاوٹ ہے، اللہ حفاظت کرے۔ آمین)۔ ایرانی حکومت کی غلطیاں کوتاہیاں تاریخ کے طلبا کا موضوع رہیں گی، مگر استقامت اور حسینی سنت، استعارہ بن جائے گی۔
21/12/2025
جاوید اختر معروف فلمی شاعر ہیں۔ ایتھسٹ ہی نہیں بلکہ اینٹی تھئیسٹ ہیں اور اسکا پرچار بھی کرتے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے جیسے کسی بھی مذہب کے مبلغ کا ہے۔ البتہ ڈرامہ یہ ہوا کہ یاروں نے ان میں ایک دانشور تلاش کیا اور المیہ یہ کہ خود جاوید نے بھی مان لیا۔ اب جب اپنے کھوکھلے پن کے ساتھ دانشوری کی جائے، موضوع پہ علمی گرفت کے بجائے بس کچھ جملوں کی جگالی ہو تو، پھر جو ہوا، وہ تو ہو گا۔
سوشل میڈیا نے بھی “دانشوروں” کی ایک فوج تیار کی۔ دو ہزار تیرہ چودہ میں “اردو سوشل میڈیا” نے فروغ پایا تو یہاں ہر “مختلف “ بات کرنے والا ایک دانشور قرار پایا۔ مذہبی لوگوں نے اپنے دھونڈے اور “غیر مذہبی” نے اپنے۔ چلئیے دونوں جانب کچھ صاحب علم تو اپنی جگہ مگر یہاں ریٹائرڈ بابے جو گھر بیٹھے بور ہو رہے تھے، پنشن پا کر بیوی اور اولاد سے ذلیل ہو رہے تھے یا پھر ساری عمر ویلے شراب پی کے ناکام زندگی گزارنے کے بعد اب سینیئر ہو گیے تھے، انکے ہاتھ بٹیرا لگ گیا۔ ملک، مذہب اور سماج پہ تنقید کے “آسان نسخے” سے وہ کنفیوزڈ نوجوانوں کے دانشور قرار پائے اور المیہ یہ کہ انھوں نے اس پہ یقین بھی کر لیا۔ رہا سہا ظلم “مونیٹائزیشن” نے ڈھا دیا۔ چنانچہ اب لچر سے لچر بات کی جانے لگی تاکہ آڈینس بڑھے بھلے دلیل اور سچ کی لاش مسخ کرنی پڑے، وال وال جا کر لوگوں کو “میرے چینل پہ آئیں” کہ ترلے کرنا پڑ گئے۔ چنانچہ جیسے ہی ان کو اپنی قسمت کا مفتی شمائل یا معاذ بن محمود ملتا ہے، انکی ساری پھوک نکل جاتی ہے، جیسے جاوید کی نکلی۔ 🥸😎
14/12/2025
عمران خان مرتا کیوں نہیں؟ انعام رانا
ہزاروں برس سے شمال کی جانب سے حملہ آور آتے تھے اور حکمران بن جاتے تھے۔ اس خطے، کہ جس میں اب پاکستان کا بیشتر اور انڈیا کا کافی حصہ شامل ہے، نے کوئی بہت بڑی عوامی مزاحمت کم ہی کی۔ انفرادی مزاحمتی کردار البتہ موجود ہیں۔ اس کے اسباب پہ خیر ایک الگ مضمون باندھا جا سکتا ہے۔ البتہ اس خطے نے ایک عجب نفسیاتی مزاحمت کو اپنایا، “خاموش نفرت”۔ یہ حکمران سے فائدے بھی اٹھاتے، مار بھی کھاتے، خوشامد بھی کرتے مگر اس سے شدید نفرت بھی رکھتے۔ چنانچہ جیسے ہی کوئی نیا حملہ آور آتا، یہ پہلے سے نفرت میں اسکا عملی ساتھ یا کسی طرح سے مدد بھی دے دیتے اور اپنی نفرت کا اظہار کرتے۔ البتہ نئے کے ساتھ نفرت کا دور بھی شروع ہو جاتا جو اس سے نئے والے کی آمد تک جاری رہتا۔
اسی نفرت کا ایک مظہر تھا کہ گو اس خطے کے عوام خود لڑنا نہیں چاہتے تھے، لیکن انہیں ہمیشہ ایک ایسا بپھرا ہوا شیر یا ایک ایسا اتھرا کردار پسند آیا ہے جو نتائج سے بے پرواہ ہو کر طاقتور کے سامنے جا کھڑا ہو۔ یہ دراصل ہماری وہ مشترکہ جبری کمزوری تھی، وہ ادھورے پن کا خلا تھا جسے بھرنے کے لیے ہم مزاحمت کاروں کو لوک ادب کا حصہ بنا لیتے تھے۔ ایسا ہیرو جس نے ہماری نفرت کی نمائندگی کی۔ دلا بھٹی سے بھگت سنگھ تک تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے ہمیشہ اُس کردار کو سینے سے لگایا ہے جس نے اقتدار کی چمکتی چین آف کمانڈ کو للکارا، بھلے وہ للکار ذاتی محرکات پر مبنی ہی کیوں نہ ہو۔
ہماری اسی نفسیاتی گرہ کو بھٹو نے بھانپ لیا تھا۔ جب اس نے روٹی، کپڑا، اور مکان کا نعرہ لگایا تو یہ صرف ایک سیاسی منشور نہیں تھا، بلکہ ایک طاقتور اشارہ تھا کہ وہ “اسٹبلشمنٹ” کے خلاف مزاحمتی کردار سنبھال رہا ہے— ایک ایسا طاقتور اشارہ جو اس وقت کی مقتدر قوتوں کے لیے ایک جھٹکا تھا۔ بھٹو صاحب کو ہیرو پنجاب اور سندھ کے کچھ حصوں نے بنایا، جو اس “روایت “ پہ کاربند تھے اور طاقتور کو للکارنے والا بھٹو ان کو پسند آیا۔ بھٹو صاحب نے دوران اقتدار کئی ایسے اقدامات کئیے جن سے انکی مقبولیت کم ہو چکی تھی۔ لیکن جب اُن کو تخت سے اتارا گیا اور وہ موت کے قریب پہنچے تو وہ ایک بڑے قومی ہیرو بن چکے تھے، کیوں کہ انھوں نے جبر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھٹو کی شاید کسی ’نظریاتی عظمت‘ کا نتیجہ نہیں تھا، یہ محض اس قوم کی دبی ہوئی خواہش تھی کہ کوئی تو ان کے لیے اُس طاقت سے ٹکرائے جس کے سامنے یہ قوم صدیوں سے سجدہ ریز ہے۔ بھٹو کی بیٹی اسی مزاحمتی استعارے کے طور پہ اقتدار میں آئی اور پھر اسکی شہادت نے اسکی مزاحمت کو لوک داستان بنا دیا۔ نواز شریف کو بھی جب ’ظلِ سبحانی‘ کی گود سے نکال کر پرے دھکیلا گیا، اور اس نے اپنے خلاف ہونے والے ’ناپاک اتحاد‘ کی کہانی سنائی، تو اسے بھی اسی بغاوتی رگ نے ہیرو بنا دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قوم نے اپنے غم و غصے کو ان کرداروں کے ذریعے باہر پھینکا۔ مگر جیسے ہی نواز شریف “تعاون” کے راستے پہ چلے، اپنے ہی ورکرز میں بھی ناپسند کیے گئے۔
اور آج، جب چاروں طرف فوجی، سیاسی و عدالتی استحصال کا شور اٹھا ہے، تو اسی تسلسل میں عمران خان ایک ’اسیر‘ کی صورت میں سامنے ہے۔ عمران کی بت سازی کی گئی، اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھایا گیا، اسکے اقدامات یا “نااقدامات” کی وجہ سے وہ اقتدار کے اخیر میں شدید نامقبول ہو چکا تھا، یہ سب اب معنی نہیں رکھتا۔ اس کی مقبولیت کی وجہ اس کا کوئی خاص سیاسی منشور یا “پرفارمنس” نہیں ہے بلکہ یہ دراصل اداروں اور ملک کے طبقاتی نظام سے سماجی بیزاری کا وہ شدید کرشمہ ہے جو اس شخص کے پیچھے کھڑا ہو گیا ہے۔ جتنی سختی اس پر بڑھائی جاتی ہے، جتنا اس کا راستہ روکا جاتا ہے، اتنی ہی عوامی نفرت اسے ایک ’مردِ حر‘ اور ’حریت کا استعارہ‘ بنا کر امر کر دیتی ہے۔ یہ دراصل عوامی غصے کی وہ شدت ہے جو اب عمران خان کے چہرے پر نظر آتی ہے، اور قوم اس غصے میں اپنا عکس دیکھتی ہے۔ آپ جس ہتھکڑی کو اس کے ہاتھ میں ڈالتے ہیں، وہ کروڑوں لوگوں کے بازوؤں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس لیے، جب تک یہ قوم خود کو اس جبر اور خوف سے باہر نہیں نکالتی، جب تک یہ ’خوفزدہ نسلیں‘ اپنے فیصلے خود کرنا نہیں سیکھتیں، یہ کردار مرنے والا نہیں ہے، یہ صرف ’امر‘ ہوتا رہے گا۔
اگر “آپ” اس گہری کھائی سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ حقیقت سمجھنی ہو گی۔ عمران خان کو مارنا یا “مرنے میں مدد دینا” کسی ایک فرد کو مارنا نہیں ہے؛ یہ قومی اجتماعی غصے کی روح کو چیلنج کرنا ہے۔ عمران اپنی طبعی موت بھی مرا تو اب وہ لوک کہانی کا کردار بن چکا ہے۔ آپ کا جبر نا عمران کو “موت” دے گا اور نا ہی عوامی نفرت کو کم کرے گا۔ جب تک آپ اس قوم کو عزت، انصاف، اور بنیادی آئینی حقوق اور حق حکمرانی نہیں دیں گے، ان کے دماغ سے اپنے اعمال کے ذریعے یہ تاثر ختم نہیں کریں گے کہ “آپ “حملہ آور حکمرانوں کا ایک تاریخی تسلسل ہیں، یہ اپنی نفرت اور بغاوت کا اظہار کسی نہ کسی ’ہیرو‘ کی شکل میں کرتی رہے گی۔ لہٰذا، انفرادی کرداروں کو ختم کرنے اور سزا دینے کے بجائے، اس نظام کو ختم کیجیے جو اس قوم کو ہمیشہ ایک ’باغی‘ کا متلاشی رکھتا ہے۔
13/12/2025
بات ساری قسمت کی ہے اور الحمداللہ پاکستان کی گڈی چڑھی ہوئی ہے۔ سنا ہے را والوں نے دھریندر فلم کے ڈائریکٹر کو الٹا لٹکایا ہوا ہے کہ بول سالے ایک پاکستانی رحمن بلوچ کو انڈیا میں ہیرو بنانے کا کیا لیا تو نے۔ بجائے پاکستان بدنام ہونے کے انڈیا والے بلوچی رقص کر کر کے لیاری والے ہوے جا رہے۔ اپنے انڈین جسوس کا انکو یاد ہی نہیں۔
دوسری جانب چاچو بھی گڈی سے بندھا ہوا۔ سوچیئے روس و ترکی جیسے ممالک کے طاقتور صدور کمرے میں ہیں اور چاچو کچھ دیر انتظار کر کے کمرے میں وڑ گیا۔ مین صوفے پہ بھی بیٹھ گیا اور پھر انگلی نچا نچا کر روس کے صدر کو سمجھا رہا تھا کہ انڈیا کا دورہ کیا ہے تو ہن اپنا سر صدقہ دے لے، انکا راہو اچھا نہیں چل رہا۔
باقی بات قسمت کی ہی ہے ورنہ اتنے فلٹر لگا لگا کر بھی ڈائریکٹر کی نظر نہی پڑی ورنہ نبیل گبول والا کردار میرے دوست سید مہدی بخاری کا ہی بنتا تھا۔
12/12/2025
کس قدر مشکل ہے کہ اب قلم
حرمت قلم بھی رکھے، آزاد رہے
جو لکھے تو فقط بے تعصب لکھے
اور ہر ایک نظر میں بے داد رہے
اب تو لکھنے کو فقط فرمائش ہے
قلم کا فقط ایک ہنر، ستائش ہے
تنقید کا خنجر بھی ہوا کند محض
یہ میرا قلم کوٹ کی اک آرائش ہے
جو بھی لکھوں باعث دشنام ہے اب
حرف تمنا بھی فقط آلام ہے اب
میں کہ لکھوں جو اگر آزاد طبع
میری تحریر، باعث الزام ہے اب
لکھنا تو مگر میں چھوڑ نہیں سکتا
تلخ سچائی سے منہ موڑ نہیں سکتا
یہ قلم کہ امانت ہے مری نسلوں کی
خوف کی شدت سے قلم توڑ نہیں سکتا
میں لکھوں گا جو مرے قلم کو حاجت ہو گی
آزاد طبع، بے داد مگر، جرات ہو گی
میرا لکھنا ہی جہد میری عبادت ہو گی
میرا لکھا میرے ہونے کی شہادت ہو گی
انعام رانا
۷/۱۲/۲۵
28/09/2025
“اسیر”
انعام رانا
سوشل میڈیا جب آیا تو اسکے مقاصد میں سیاست، مذہبی پراپوگنڈا اور کئی دیگر رواج شامل ہی نا تھے۔ اسی لئیے اسے سوشل میڈیا یا “سماجی رابطے کی سائیٹس” کہا گیا۔ پچھلے ایک عشرے نے مگر اسے ایسی شکل دے دی ہے کہ اسکی ابتدائی صورت کسی کو یاد بھی نہیں۔ آج سوشل میڈیا ہر قسم کے گروپوں کیلئیے پراپوگنڈا مشین بھی ہے، “علمی و ادبی” مباحثوں کیلئیے اک جریدہ بھی بلکہ بھیک مانگنے کا جدید ترین کشکول بھی۔
سوشل میڈیا کے اس جدید دور کے ابتدائی برسوں میں قارئین نے ہر مختلف بات کرنے والے کو “فالو” کیا۔ نئے خیالات سنے اور سیکھے۔ سیاسی اور سماجی ایشوز پہ “رہنمائی” لی کیونکہ کچھ لوگ تھے جو دلیل اور گہرائی سے کسی بھی معاملے پہ گفتگو کرتے تھے۔ پھر کچھ لوگ تھے جو عام زندگی میں اپنے فن کے ماہر تھے یا پھر کچھ لوگ جو قاری کی پسند کی مذہبی/غیر مذہبی و سیاسی/غیر سیاسی وابستگی کے نمائندہ لکھاری بن جاتے تھے۔ ان ابتدائی برسوں کی ایک “بائی پراڈکٹ” سوشل میڈیا سیلیبریٹیز ہیں۔ انکو سراہا گیا، چاہا گیا، بت بنایا گیا اور عام زندگی میں بھی تعلقات بنائے گئے۔ پچھلے دو تین برس میں جب سوشل میڈیا نے موجودہ شکل اختیار کر لی تو اب سوشل میڈیا جو ایک بیٹھک تھا، ہائیڈ پارک کارنر بن گیا۔ جہاں ہر دو چار فٹ پہ کرسی پہ کھڑا ایک مقرر بس بولے چلا جا رہا ہے، اسکے گرد ایک گروہ ہے جس میں کچھ لوگ وہ ہیں جنکے مطلب کی وہ بات کر رہا ہے، کچھ وہ ہیں جو اسکی بات کا رد کرنے کیلئیے آن کھڑے ہوے ہیں اور کچھ بس آگے بڑھنے سے قبل موجود صورتحال سے لطف کشید کر رہے ہیں۔ کرسی پہ کھڑا وہ شخص جسے “سوشل میڈیا سیلیبریٹی” سمجھا جا رہا ہے، دراصل اسیر ہے۔
اسیر عموما کسی اور اسیر کا “کمنٹئیا” ہوتا ہے، پھر کچھ عرصے بعد جب اس نے لکھنا یا بولنا شروع کیا تو اسکے گرد تالی بجی۔ وہ چونکا اور اسے احساس ہوا کہ اسکے اندر تو ایک دانشور چھپا بیٹھا تھا جسے آج تک رونمائی کا موقع نا مل سکا تھا۔ اس نے مزید لکھا، مزید بولا اور اسکے گرد ہجوم اکٹھا ہونے لگا۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ تالی کا اسیر ہو چکا ہے، میلان کندرا کا رقاص بن چکا ہے جسے اب بس مسلسل ناچنا ہے، اپنے لئیے نہیں بلکہ آڈئینس کیلیئے۔
اسیر کو یہ احساس ہے کہ اسکے گرد جو ہجوم ہے وہ محض تماشائی ہے سو تماشا مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ تماشے میں بوریت پیدا نہیں ہونی چاہیے، ہر کچھ دیر بعد کچھ نیا ہونا چاہیے وگرنہ تماشائی کو تماشے بہت۔ کچھ تماشائیوں کا تقاضا ہے اور کچھ تماشے کا، ہر واقعہ، ہر موضوع پہ اسکا بات کرنا، “اپنا موقف دینا” اور گیان بانٹنا ضروری ہے۔ اسکے “معتقدین” اور تماشائی اگر اسکا موقف نا پائیں گے تو رفتہ رفتہ ہر اہم واقعہ پہ اسکی وال دھونڈنے کے بجائے کسی اور اسیر کی جانب چل پڑیں گے۔
ہر وقت “دوکان” کو آباد رکھنے کی یہ خواہش مضحکہ خیر بنتی چلی جاتی ہے۔ دوکان میں طرح طرح کا سودا رکھنا پڑتا ہے اور منافع کمانے کیلیئے دوکان لمبے اوقات تک کھلی رکھنی پڑتی ہے۔ منافع وہ تالی ہے جسکا یہ سیلبرٹی اسیر ہو چکا اور اس تالی کو جدید دور میں لائک کہتے ہیں۔ اب اگرچہ اسیر کی مہارت ہو نا ہو، وہ ایسے موضوعات پہ بھی “بطور ماہر” گفتگو کرتا ہے جن پہ اسے بطور طالب علم بھی دسترس حاصل نہیں ہوتی۔ وہ کبھی جان بوجھ کر ایسی متنازعہ گفتگو کرتا ہے جو سنسنی پھیلائے، وہ جھوٹ گھڑتا ہے، جذباتی استحصال کرتا ہے۔ اسے اس بات کی پروا نہیں ہے کہ وہ غلط کر رہا ہے، اسے لائیک چاہیے، مجمع چاہیے۔ وہ دن میں چار پانچ بار ایک مختلف موضوع کے ساتھ تماشائیوں کے سامنے رقص پیش کرتا ہے اور درمیانی وقفے میں وہ اپنی پوسٹ پہ “ری ایکشنز” گنتا ہے۔
“ریچ” اور “ری ایکشن”، یہ دو اصطلاحیں آپ کو اسیر کے منہ سے بارہا سننے کو ملتی ہیں۔ ریچ یعنی اسکی پوسٹ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، کیونکہ جتنی زیادہ ریچ ہو گی اتنے ہی تالی کے زیادہ امکانات۔ چنانچہ آپ نے اکثر “اسیروں” کو ریچ کم ہونے کا شکوہ و غم کرتے دیکھا ہو گا اور پھر اسے بڑھانے کیلیئے دوسروں سے درخواست، سائنسی بنیادوں پہ تجربات بلکہ دیسی ٹوٹکے اور دعائیں کرتے بھی۔ اگر ریچ قابل اطمنان ہے تو اب اسے فکر ری ایکشنز کی ہے۔ اگر پوسٹ پہ پہلے آدھ گھنٹے میں حسب توقع ری ایکشن (یعنی کمنٹ، لائک، ہارٹ، شیئر) وغیرہ نہیں آئے تو اسیر کو ڈپریشن ہونے لگتا ہے۔ وہ پوسٹ کو دو چار بار خود پڑھتا ہے، مسکراتا ہے یا دکھی ہوتا ہے جیسے ایک قاری اور پھر مزید دکھی ہو جاتا ہے کہ ابھی تک ری ایکشنز کیوں نہیں آ رہے۔ اگر ری ایکشنز کی کثیر اور حسب توقع تعداد اکٹھی ہو جائے تو اسیر کا اگلا ٹاسک شروع ہو جاتا ہے۔ اب وہ گنتا ہے کہ لائک کتنے ہیں، دل کتنے ہیں، لافٹر کتنے ہیں اور ارے یہ غصے والا ایموجی کیوں اور کس کا ہے؟ وہ اس اینگری ایموجی والے کی وال پہ جاتا ہے کہ اسے جان سکے۔ کچھ تو بس ایسے ایموجی والے کو فورا بلاک کر دیتے ہیں (اگرچہ اپنی کسی دوسری ائی ڈی سے اسے فالو بھی کرتے ہیں کہ مخالف پہ نظر رکھنا ضروری ہے) اور کچھ اس کے اپنے مشترکہ دوست دھونڈ کر اسکی شکایت لگاتے ہیں کہ دیکھئیے آپ کے ہارون کی پوسٹ پہ قارون نے غصہ والا ایموجی دیا ہے، اب شارون کے ہوتے ایسا ہو تو یہ پھر دوستی تو نا ہوئی نا۔ ایک عذاب مرحلہ کمنٹس کا ہے۔ اسیر ہر کمنٹ کو پڑھتا ہے، اکثر کا جواب دیتا ہے یا پھر کم از کم لائک کرتا ہے، ایک تو اس سے تماشائیوں سے انگیجمنٹ بڑھتی ہے اور دوسرا ایسا مانا جاتا ہے کہ اس سے ریچ بھی بڑھتی ہے۔ اسکے علاوہ ایک دو دن بعد پوسٹ کو “ترونکا” مار کر تازہ بھی کیا جاتا ہے۔ اسیر کو اب اس پوسٹ پہ مسلسل پہرہ بھی دینا ہے کیونکہ کچھ بدتمیز لوگ ناگفتہ قسم کا کمنٹ کر دیتے ہیں جو اسیرِ برداشت نہیں کر سکتا اور اسکا بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ یا تو وہ ایسے ناخلف تماشائی کو فورا بلاک کر دیتا ہے یا پھر ہارون بھائی قارون۔ ھائی والی کہانی شروع ہو جاتی ہے۔
اس بدتمیزی کا شکوہ آپ کو اکثر اسیروں کی وال پہ ملے گا۔ وہ شکوہ گو رہتے ہیں کہ بدتمیزی بہت بڑھ گئی ہے۔ انکے لئیے لکھنا بولنا مشکل ہو چکا ہے۔ اس پہ وہ ایک علہدہ سے پوسٹ کر سکتے ہیں بلکہ جب کرنے کو کچھ نا ہو تو یہی کچھ کر لیتے ہیں۔ ایسی پوسٹ التجائیہ بھی ہوتی ہے اور دھمکی آمیز بھی۔ کچھ اسیر ہر ایک دو ماہ “نئے آنے والوں” کیلیئے ایک “ہدایت نامہ” بھی جاری کرتے ہیں۔ “تماشے کے رہنما اصول” قاری کو سکھاتے ہیں کہ اگر وہ واقعی دانش کشید کرنا چاہتا ہے تو کیسے اسے صم بکم ہو کر فقط “واہ مرشد، آپ لیجنڈ ہیں” ٹائپ تالی مارنی ہے۔ کیسے کسی بات پہ ہنسی یا رونا آئے تو اسیر کی نظر سے بچا کر نکالنا ہے۔ اور ساتھ بتایا جاتا ہے کہ ہدایت نامے کی خلاف ورزی آرٹیکل چھ سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ کچھ اسیر اپنے بلاک شدگان کی فہرست گاہے بہ گاہے جاری کرتے رہتے ہیں تاکہ عوام میں خوف برقرار رہے اور وہ انڈے کے چھلکوں پہ چلتے ہوے تماشا دیکھیں۔
آپ کسی اسیر سے ملئیے، وہ آپ سے مل کر بھی آپ کے ساتھ نہیں ہو گا۔ وہ دوران گفتگو اپنی کسی پوسٹ پہ یا مسکرا رہا ہو گا یا اس پہ آئے کسی کمنٹ پہ کھول رہا ہو گا۔ اسی لاتعلقی میں ہو سکتا ہے کہ آپ اسے اپنے والد کی وفات کا قصہ سنا رہے ہوں اور وہ کھکھلا کر ہنس پڑے کیونکہ اس نے اچانک دیکھا کہ اسکی پوسٹ پہ شازیہ ویزوں والی یا معاذ کینگرو نے کوئی چٹکلا چھوڑ دیا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کوئی فلسفیانہ سی گفتگو کرنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ سیکھ سکیں اور وہ یکدم خودکلامی کرے “ایس پین چو نو تے بلاک کرو”۔ آپ سوچتے ہیں کہ “دکھ تو یہ ہے کہ وہ ہمارے نا ہوے”۔ اگر اسیر گفتگو پہ مائل بھی ہو تو وہ اس بات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے کہ آپ اسکی چار چھ پوسٹوں کا ذکر کر کے اسے لیجنڈ کہیں نا کہ اس سے حالات حاضرہ پہ فضول گفتگو کریں۔ اس گفتگو کے دوران وہ آہ بھر کر زمانے کی ناشناسی، ریچ، ری ایکشن اور بدتمیزی پہ فلسفیانہ گفتگو بھی کرے گا اور اگلی پوسٹ کا کانٹینٹ بھی سوچے گا۔
آپ کسی اسیر سے بھی کہیے کہ وہ اسیر ہے، وہ کبھی نہیں مانے گا۔ ہر سگریٹ نوش کی مانند بتائے گا کہ وہ جب چاہے سوشل میڈیا چھوڑ سکتا ہے گو وہ جب کبھی اب نہیں بنتی۔ پھر وہ اپنے لکھنے بولنے کو اپنا ایکسپریشن، ذات کا اظہار وغیرہ وغیرہ بتائے گا۔ پوچھیئے کہ آخر اتنے جھمیلوں میں پڑنا ضروری ہی کیوں ہے؟ وہ کہے گا “میں تو بس اس قوم کا قرض اتار رہا ہوں” یا “میں تو بس اپنے لئیے لکھتا ہوں، ذات کا اظہار وغیرہ وغیرہ”۔ آپ مسکرا کر کہئیے کہ پھر تو کمنٹس کو “فرینڈز اونلی” کر کے یا کمنٹس بند کر کے بھی لکھا جا سکتا ہے، پھر ریچ اور ری ایکشن کے شکوے کیوں؟ پھر سوائے اپنی پوسٹ کسی اور کو نا پڑھنا کیوں، پھر یہ بے چینی اور اینگزائٹی کیوں؟ مگر رکئیے، یہ مت پوچھیئے گا، آپ بلاک ہو جائیں گے۔
19/07/2025
حضور ص کا نام خوف کی علامت نہیں ہے
شور اٹھا ہے اور بہتی گنگا میں مولوی فضل الرحمان صاحب نے بھی وضو کر لیا، وضو کا لوٹا البتہ ایک ایسے مجرم نے پکڑا ہوا ہے جس پہ قتل، قبضہ گیری اور جانے کس کس قماش کے پرچے درج ہیں، سر پہ البتہ اب اس نے گیروی دستار باندھ لی ہے۔
شور میں مذہبی طبقات نے یہ سوچے سمجھے بنا اپنی آواز شامل کر دی کہ آخر چیخیں بلند کیوں ہوئی ہیں، مدعا کیا تھا، مسلئہ کیا ہے۔؟
سرکاری اداروں کی رپورٹ آئی کہ یہ مسلمانوں کے ملک میں یکدم جو گستاخوں کا جم غفیر دریافت ہوا ہے، اسکے پیچھے کچھ بدنیت مولویوں، ناکام وکیلوں اور کرپٹ سرکاری افسروں کا ایک ناپاک سازشی ٹولہ ہے، فیکٹ فوکس نے بھی یہی رپورٹ کیا۔ کچھ ملزمان کے ورثا نے “رٹ پٹیشن” کی کہ جناب حکومت کو کہا جائے کہ ایک کمیشن بنایا جائے جو تحقیق کرے کہ سچائی کیا ہے، یوں مقدمہ “نور فاطمہ بنام فیڈریشن” شروع ہوا۔ تیسری چوتھی پیشی پہ ہی عدالت نے کمیشن بنانے کا حکم دے دیا مگر کچھ لوگ عدالت پہنچے کہ جناب اس رپورٹ میں ہمارا بھی نام ہے سو ہمیں سنا جائے۔ اگرچہ ذاتی خیال تو یہ ہے کہ عدالت کہتی دوہری ایکسرسائز کیوں، آپ اپنا موقف کمیشن کو ہی دیجیئے گا مگر قدرت نے نقاب سرعام اتارنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
دس بیس نہیں، بیالیس دن عدالت نے طرفین کو موقع دیا، ہلڑبازیوں اور رنگ بازیوں کے باوجود جرات مند جج، چہرے پہ سنت رسول سجائے سردار اسحاق نیبوی منہج پہ ڈٹا رہا اور کند ذہن خود کو مزید پھنساتے رہے، قدرت چہروں سے نقاب کھینچتی رہی۔ وہ ناپاک جرات جو کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آتی، آدھی سے زیادہ لائیو سٹریم ہوتی سماعتوں میں دنیا بھر نے دیکھ کر انگلیاں منہ میں داب لیں۔ معلوم ہوا کہ ناکام وکیلوں، دھتکارے مولویوں اور کرپٹ افسروں پہ مشتمل ایک گروہ جعلی مقدمات ہی نہیں شاید قتل تک میں ملوث ہے، مگر کیونکہ سماعت کا دائرہ محدود اور شاید کوئی پریشر تھا کہ جج نے موقع پہ ہی راؤ نامی وکالت پہ دھبے کے خلاف قتل کی تفتیش کا حکم نا دیا وگرنہ ثبوت تو کافی وہ خود دے گیا تھا۔
جج کو فقط ایک شے دیکھنی تھی، “کیا بادی نظر میں مدعی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاملہ مشکوک ہے اور ایک تحقیقاتی کمیشن کی تحقیقات ضروری ہیں؟” کوئی عقل کا اندھا بھی تو دیکھ سکتا ہے کہ یہ بات ثابت ہو چکی کہ معاملہ مشکوک اور قابل تحقیق ہے۔ اب جج کو ریلیف دینا تھا، وہ ریلیف جو مدعیان نے مانگا، کیونکہ یاد رہے کہ یہ رٹ پٹیشن تھی ، دو فریقین کے درمیان مقدمہ نا تھا۔ سو جج نے حکم دیا کہ کمیشن بنایا جائے جو تحقیق کرے اور سچ سامنے لائے۔ حکم نامہ نا تو توہین رسالت کے قانون کی بات کرتا ہے نا ہی چلتے ہوے مقدمات میں کسی قسم کے ریلیف کی۔
کمیشن کا اختیار یا دائرہ کار کیا ہے؟
۱- کیا یہ ناپاک گروہ واقعی لوگوں کو زبردستی /سازش سے توہین رسالت کے مقدمات میں ملوث کرنے کا مجرم ہے؟
کمیشن اگر یہ طے کر لے کہ راؤ، معاویہ اور سرکاری افسران پہ مشتمل ناپاک گروہ نے جعلی مقدمات بنائے اور لوگوں کو پھنسوایا یا عبداللہ کے قتل میں ملوث تھے تو نتائج کیا ہوں گے؟
۱- راؤ اور اسکے ہمنواؤں کے خلاف قتل کی تفتیش کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
۲- کوئی چار سو مقدمات، کی دوبارہ تفتیش کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ جس کیلئیے ضروری نہیں کہ ان ملزمان کی ضمانت بھی دی جائے، بس تین ماہ میں دوبارہ منصفانہ تفتیش کی جا سکتی ہے۔
۳- سرکاری افسران برطرف کئیے جا سکتے ہیں۔
۴- قانون میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے جو عصر حاضر (اے آئی دور) کے مطابق تفتیش کو فول پروف بنا سکے۔
اب اس سب میں کیا کہیں بھی کوئی اندیشہ ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو کچھ ہو گا؟ قطعا نہیں۔
لیکن مجرم مافیا جانتا ہے کہ اگر سچ سامنے آ گیا تو انکی جان کڑکی میں پھنس جائے گی۔ سو ان کے پاس جذباتی استحصال کا ایک نعرہ ہے، ہئے توہین رسالت، پکڑو پکڑو مارو مارو۔ اور دینی طبقات موت سے وضو کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ مولوی فضل کو شاید اندازہ نہیں کہ اس بار تھوکا تو اسکے اپنے چہرے کو آلودہ کر جائے گا۔ اندیشہ اگر ہو سکتا ہے تو فقط ایک، کہ اس کاروائی کے نتیجے میں توہین رسالت کا کوئی ملزم جو ان مقدمات میں ملوث ہے اور واقعی مجرم ہے بچ نکلے گا۔ بھائی، اسلامی تعلیمات ہی کے مطابق اگر تین سو نناوے واقعی مجرم ہیں تو ایک معصوم کو بچانے کیلئیے ان تین سو نناوے کو بخش بھی دینا پڑے تو عین اسلامی ہے( گو یاد رہے کہ ایسا ممکن نہیں ہو گا)۔
یارو، توہین رسالت کے قانون کے پیچھے جناب رسول اللہ ص کی محبت کا جذبہ ہے کہ ہم انکی توہین یا گستاخی نہیں ہونے دیں گے، مجرم کو سزا دلائیں گے۔ کیا آپ اپنی محبت کو ناپاک مقاصد کیلیئے استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں؟ کیا مجرم گروہ اس قانون کو یوں استعمال کریں کہ لوگ اسلام اور محبت سے بددل ہو جائیں؟ نام محمد صلی اللہ علیہ و آل وسلم کو محبت کی علامت بنائیے، خوف کی نہیں۔
انعام رانا
Click here to claim your Sponsored Listing.