CSS made ridiculously easy
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from CSS made ridiculously easy, Educational Research Center, Lahore.
14/06/2025
Does Cambodia Really Want to Take Its Disputes With Thailand to the ICJ? Phnom Penh’s threat to internationalize the dispute could give it a bargaining chip during bilateral negotiations.
14/06/2025
CSP Teerath Kumar (52nd CTP- PAS)
پچھلے ایک ہفتے سے موبائل بجنا بند ہی نہیں ہو رہا۔ ہزاروں کالز، پیغامات اور حوصلہ افزائی ملی ہے۔ کئی قریبی لوگ ملے، جنہوں نے میری ہمت بندھائی۔ اس دوران میرے اوپر ایک غیر جذباتی اور بے حس سی کیفیت طاری رہی۔ خوشی کیا ہوتی ہے؟ غم کس چیز کا نام ہے؟ ان سب باتوں سے میں پہلے ہی دور تھا۔ اب دل پر جیسے ایک پردہ سا پڑ گیا ہے۔ شاید کسی عظیم مقصد کا حصول خود اُس کا انجام ہوتا ہے۔ ایک ضد تھی، جو پوری ہوئی۔ ایک خواب تھا، جس نے بے شمار خواب چھین کر حقیقت کا روپ دھار لیا۔ میں اس پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ بانٹنا چاہتا ہوں، اپنی **"ادھوری کہانی"**۔۔۔!!
یہ سال 2012ء تھا۔ میں نے کالج کے پہلے سال میں داخلہ لیا۔ ہریار سے نانی کے ہاتھوں کا پکا ہوا کھانا کھا کر مِٹھی پہنچتا تھا۔ دیر ہو جاتی تھی۔ ایک دن کچھ زیادہ ہی تاخیر ہو گئی، کالج دیر سے پہنچا۔ بڑے بال، پھٹے ہوئے چپل، کسی کے پرانے کپڑے جو ٹھیک سے فٹ بھی نہیں آ رہے تھے! دیر ہونے کی وجہ سے کالج کی راہداری میں نیم کے درخت کے نیچے ہی کھڑا رہا۔ کلاس میں ایک نہایت خوبصورت شخصیت بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ ڈر لگ رہا تھا۔ سوچا، کلاس ختم ہو تو اندر جاؤں۔ اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ ہاتھ کے اشارے سے اندر آنے کو کہا۔ سانس جیسے رک گیا ہو۔ دل میں خیال آیا کہ آج ڈانٹ پڑے گی۔ مگر اس نے بڑے ادب سے مجھے بیٹھنے کو کہا اور خود پڑھانا شروع کیا۔
اگرچہ وہ انگریزی میں پڑھا رہا تھا، لیکن ہر بات سمجھ میں آ رہی تھی۔ کلاس کے اختتام پر ایک اور استاد نے بتایا کہ وہ خوبصورت شخصیت "دھرمون بھاوآنی" ہے، جس نے حال ہی میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب میرے کانوں نے "سی ایس ایس" کا لفظ سُنا، اور وہیں فیصلہ کر لیا کہ مجھے بھی یہی کرنا ہے۔ ایک خواب نے ذہن اور دل میں انگڑائی لی۔ میرے اندر ایک پراسرار چمک جاگ چکی تھی۔
کلاسز مکمل ہونے کے بعد میں نے کسی کتابوں کی دکان پر جا کر سی ایس ایس کی کتابوں کے بارے میں پوچھا، تو جواب ملا:
**"سی ایس ایس کے چکر میں لوگوں کے بال سفید ہو گئے، تم تو ابھی فرسٹ ایئر میں ہو!"**
میرے معصوم خواب کو چوٹ لگی۔ اس طرح کے تبصرے معمول بن گئے، جو کہ چند دن پہلے ہی ختم ہوئے ہیں۔ اس وقت میں نے لطیف (شاہ لطیف) کو نہیں پڑھا تھا، اس لیے جلدی مایوس ہو جایا کرتا تھا، لیکن بعد میں ان باتوں کو برداشت کرنا سیکھ لیا۔ لطیف کا ایک شعر ہمیشہ میرے ساتھ رہا:
**ڏوٿين چيس ڏور، ڪيچ اڳاهون پنڌ ٿيو
ويتر پيس پور، وک وڌائين وتري۔**
*(اس نے کہا دور ہے، اور رستہ دشوار ہے، مگر میں نے قدم بڑھا دیے)*
نومبر 2013 میں میں نے سندھ یونیورسٹی کی پری انٹری ٹیسٹ دی، اور بمشکل پاسنگ مارکس لے سکا۔ مجھے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ ملا، لیکن دل نہیں لگا۔ چند دن کلاسز میں گیا۔ ایک دن کلاس کے دوران ہی ننگر والے دوست "بگھوان" کا میسج آیا:
**"سائیں، آپ کا ایڈمیشن تو کرمنالوجی میں ہوا ہے۔"**
اسی وقت کتابیں اور نوٹس سمیٹے اور کرمنالوجی ڈیپارٹمنٹ چلا گیا۔ کالج میں دھرمون سے ملنے کے بعد کرمنالوجی میں آنا میرے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
یونیورسٹی میں میں اور ہشمت نے مثالی دوستی قائم کی۔ کتابیں پڑھنے میں مقابلہ ہوتا۔ رہنے کے لیے ہیرآباد کے ایک اسکول کا بندوبست کیا، جہاں میرا بڑا بھائی پرائیویٹ چوکیداری کرتا تھا۔ جب بھائی کا کام ختم ہوا تو میں نے چوکیداری سنبھالی اور جھاڑو بھی دیتا تھا، جس کے بدلے دن کا کھانا اور روز کے 50 روپے ملتے تھے۔ رات کا کھانا "ناصر" نامی دکاندار کھلاتا تھا۔ دو سال بعد ٹیوشنز پڑھانا شروع کیا، جس سے گزر بسر اور ذہنی ترقی دونوں ہوئی۔ ہم نے آخرکار یونیورسٹی مکمل کی۔ میں اور ہشمت دونوں پُرامید تھے، لیکن یونیورسٹی سے نکلتے ہی زندگی کا بوجھ محسوس ہوا۔ پڑھائی دور، جینا بھی مشکل ہو گیا۔ ایسے میں "علی نواز برہمانی" نے مجھے پریس تک پہنچایا۔
پریس ایک الگ دنیا تھی۔
پہلی کامیابی، پھر کوشش، مہران ٹی وی اور مختلف ادارے۔
روڈ، میں، جھوٹی سچی خبریں، جاگتے رہنا اور کچھ بھی نہیں!
پریس نے نیند چھین لی، جس کے ساتھ صحت اور یادداشت بھی جاتی رہی۔
اسی دوران میں نے کمیشن کا پہلا اٹیمپٹ دیا۔ انگلش مضمون میں فیل ہو گیا۔ بہت ساری کتابیں پڑھنے کا غرور چکناچور ہو گیا۔ رزلٹ والے دن کوشش کے کچن میں بچوں کی طرح رویا۔ شاید کوئی نہیں سمجھ سکا کہ بلندی سے گرنا کیا ہوتا ہے۔ خود پر شک ہونے لگا۔ اعتماد کی عمارت گر گئی۔ دل میں طوفان تھا، لیکن جلد ہی خود کو سنبھال لیا۔ انہی طوفانوں نے مجھے سنوارا۔ اپنی محرومیوں اور کمزوریوں کو طاقت میں بدلا۔ پھر کتابیں، کوشش، حیدرآباد کی سڑکیں اور میں۔۔۔! نیند کو قربان کر دیا تھا۔ صرف دو آنکھیں بچی تھیں۔ دوست کہتے:
**"تو رات کو نشہ کر کے سوتا ہوگا۔"**
اس عرصے میں خاموشی سے خود پر کام کیا اور لگا کہ اب پھر سب کچھ بہتر ہونے لگا ہے۔
2021ء میں یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ زہریلا ماحول ملا، لیکن بچوں نے بےپناہ عزت اور پیار دیا۔
اسی دوران کسی کا "رنگ" مجھ پر چڑھ گیا۔ اپنی ڈائری میں اس واقعے کو یوں لکھا:
**"میران اور کبیر کو 'سانوریا' کا رنگ لگا تھا۔ ایک پائل پہنے رقص میں تھی اور دوسرا نظمیں لکھ رہا تھا۔ مجھ پر بھی ایک سانوری کا رنگ چڑھا ہے۔ ہر وقت رقص میں ہوں، گیت بھی لکھتا ہوں، پر کاغذ پر نہیں لاتا۔"**
زندگی بامعنی لگنے لگی، مایوسی محبوبہ بن کر سہارا دینے لگی۔
میں نے اپنے رویے مثبت کیے، اندر کی صفائی کی۔ ایسے کئی دوستوں سے ملا جنہوں نے نئی جان ڈال دی۔ ان دوستوں کا ذکر اپنی کتاب کے لیے چھوڑتا ہوں۔
خیر، فروری 2023ء میں میں نے سی ایس ایس کا دوسرا اٹیمپٹ دیا۔ انگلش کا پرچہ دیکھ کر چونک گیا، لیکن واپسی کا کوئی دروازہ نہیں تھا۔ خود پر یقین کم، قلم پر بھروسہ زیادہ تھا، اور وہی سچ ثابت ہوا۔ میں اس امتحان کے تمام مراحل میں کامیاب ہوا اور پاکستان کی اعلیٰ بیوروکریسی کا حصہ بن چکا ہوں۔
نتیجہ آنے پر گھر گیا۔ امی، ابو، دادی، بہنیں، بھائی، گاؤں کے لوگ، سب بہت خوش تھے۔
چند لمحے ایسے تھے جن میں ساری اذیتیں بھول گیا۔
کس نے زخم دیے؟ کس نے سہارا دیا؟ کچھ یاد نہیں رہا۔
بس یاد رہ گئیں تو سفر کی خوبصورتی۔
اس راستے پر چلتے ہوئے میں نے ہر قدم پر اپنی روح کو درد کی سلائی دی ہے۔
سیکھا ہے، سکھایا ہے، غلطیاں کیں اور درست کیں۔
روز خود سے لڑائیاں کیں اور صلح بھی۔
سینکڑوں میل پیدل چلا۔ مایوسی کے کنویں میں گر کر چیخا۔
لیکن کسی سے کچھ کہا نہیں۔
اپنے مجسمے کی مٹی جھاڑی اور آگے بڑھتا رہا۔
یہ سب فطری اور نارمل ہے۔
ایک ہی وقت میں بے شمار خیالات کا طوفان آ کر سوچ کے تسلسل کو توڑ دیتا ہے۔
ہجر، درد، تنہائی، اجنبیت، اور محرومیوں کی وہ ساری کہانیاں جو دل کی دیوار پر کہیں اَٹک کر رہ گئی ہیں، انہیں اگلی قسط کے لیے چھوڑتا ہوں۔
ان نوجوان دوستوں کے لیے جو اس راستے پر چلنے کا عزم رکھتے ہیں، ایک ہی مشورہ ہے:
**اگر ایک بار سوچ لیا ہے، تو پیچھے نہ دیکھو۔**
کیونکہ سفر کا اپنا مزہ ہے۔
منزل اور نتیجوں کی پروا کیے بغیر سفر کی لذت کو محسوس کرو۔
غم کی خوشیوں کا لطف اٹھاؤ۔ اچھی کتابیں پڑھو اور بار بار پڑھو۔
لوگوں کی باتوں کی پروا نہ کرو۔
ملک، خاندان اور دوست سب کچھ ہیں۔
زہریلے لوگوں سے دور رہو۔
وہ تمہاری کامیابی سے کبھی خوش نہیں ہوں گے۔
لائبریری کو اپنا مسکن بناؤ۔
معیاری موسیقی سنو۔
اچھی فلمیں دیکھو۔
لمبی واک کرو۔
لطیف کو خود سے پڑھو اور سنو۔
خلیل جبران کی نظم **"The Defeat"** سنو۔
چارلس بوکوسکی کی شاعری کا لطف لو۔
اپنی ڈائری میں اُلٹے سیدھے خیالات لکھو۔
اپنے اندر سے نفرت، جلن، احساس کمتری اور ایسے منفی جذبات نکال کر کسی صفحے پر دفن کر دو۔
جلدبازی نہ کرو۔
مٹی سے جڑے رہو۔
اپنے لوگوں سے وابستہ رہو۔
گردن چاہے بلند ہو، مگر عاجزی اور انکساری کو ہتھیار بناؤ۔
یہ کائنات بہت بڑی ہے، ہم اس میں بہت ہی چھوٹے ہیں۔
کہاں ہیں، کوئی نہیں جانتا۔
ناکامی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، جہاں پہنچے ہو، کامیاب ہو،
**راستہ ہی منزل ہے۔**
**عجیب ہوتی ہے یہ راہِ سخن بھی نصیر
وہاں بھی آ گئی، جہاں رسائی نہ تھی۔**
**- Teerath Kumar, 52nd CTP — PAS**
14/06/2025
To get enrolment in my online English and Current & Pakistan Affairs Batches, WhatsApp at 0333-5621591.
14/06/2025
✅ To get enrolment in my online English and Current & Pakistan Affairs Batches, WhatsApp at 0333-5621591.
14/06/2025
How to Start your CSS/PMS/ One paper preparation|Step -2 by Assistant commissioner Zia Ullah Gondal Here are some steps for CSS/PMS and one-paper exam preparation:*CSS/PMS Preparation Steps:*1. *Understand the syllabus*: Familiarize yourself with the CSS/PM...
29/04/2025
29/04/2025
To register for online English and Current Plus Pakistan Affairs Batches from 1st May, WhatsApp at 0333-5621591.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Culinary Team
Attire
Address
54600
14/06/2025