Naila Rathore- Poetess
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naila Rathore- Poetess, Public Figure, Lahore.
02/04/2026
ادب لطیف کے شمارے میں شامل میری غزل اور نثری نظم
ز
تمہارے خواب سے رستہ جدا ہے
دیا تھا زخم جو اب تک ہرا ہے
بھلی لگنے لگی ہے تیری فرقت
کہ تیرے ہجر کا اپنا مزا ہے
زمانہ پوچھتا ہے کون ہو تم
بتاؤ کیا کہیں اب کیا چھپا ہے
زباں بندی میں بھی ہے حشر برپا
وہ چپ رہ کر بھی سب کچھ کہہ گیا ہے
کسی کے واسطے گر کچھ نہیں میں
تو کیوں گھر گھر میں میرا تزکرہ ہے
ترے لہجے میں کیوں ہے زہر اتنا
نجانے کون نفرت بو گیا ہے
اسیران وفا ڈرتے نہیں ہیں
کہ جاں سے پیارا یہ عہد وفا ہے
جلاتا کون ہے یوں گھر کو اپنے
مرا دشمن بھی مجھ پر ہنس رہا ہے
یہ تخت و تاج ہیں اسکی امانت
مرا حاکم فقط میرا خدا ہے
جو پس منظر میں بھی رہ کر عیاں ہوں
مرے ایقان کا ہی یہ صلہ ہے
نائلہ راٹھور
تخئیل
میں تم سے دور رہ کر بھی تمہیں محسوس کر سکتی ہوں
بدلتے موسموں میں
فضا کی خنکی میں تمہارے شہر سے آنے والے موسموں کی گیلاہٹ ہے
لگتا ہے شب بھر کسی نے یاد میں آنسو بہائےہیں
ہوا کی سرسراہٹ میں تمہاری نظموں کی سرگوشیاں سنائ دیتی ہیں
چاندنی تمہارے در پر ماتھا ٹیک کر فسوں انگیز ہو جاتی ہے
صبح کی کرنیں تمہارے آتشدان سے آگ کی تپش لے کر ابھرتی ہیں
اداسی روح میں جال بچھاتی چلی جاتی ہے
وجود خامشی کے طلسم میں موم کی صورت پگھلتا ہے
پہاڑوں سے پرے دور دیس میں
کوئی کسی بات پر کھلکھلا کر ہنستا ہے
مسکراہٹ جھرنا بن کے پہاڑوں سے میری اور سفر کرتی ہے
فضا نکھرنے لگتی ہے
بادلوں پر پیام لکھ کر بھیجا تھا بارش بن کر اسکے آنگن میں برسا ہو گا
تب ہی تو آنکھوں کا درپن گیلا تھا
آج وہاں پورا چاند ہو گا
مجھے بھی چاندنی اوڑھ کر سونا ہے
سپنوں کا میلا لگے گا
خوابوں کی انگلی تھامے تم بھی یہاں چلے آنا
خوابوں پر صرف نیند کاپہرہ ہوتا ہے
زمینی سرحدیں کب خوابوں کا رستہ روک سکتی ہیں
آج شب بھی میں جلد سو جاءونگی
نائلہ راٹھور
07/03/2026
ماہنامہ بیاض میں شامل میری غزل اور نثری نظم
10/02/2026
ادب لطیف میں شامل نثری نظم اور غزل
10/02/2026
غزل
یہ ترے مزاج کی تلخیاں کہیں رنجشوں کو ہوا نہ دیں
تو کہے اگر تو کبھی کبھی کا یہ رابطہ بھی گھٹا نہ دیں
ملے اب تو جاں کو کہیں اماں رہیں کب تلک یونہی بے اماں
وہ جو خواب تھا کسی آنکھ کا اسے خواب سے ہی مٹا نہ دیں
تجھے جب ملیں کبھی فرصتیں تو یہ بیٹھ کے ذرا سوچنا
کہ بنے ہوئے ہیں جو راہبر وہی بستیوں کو جلا نہ دیں
کہیں کس سے یہ اپنی داستاں جسے دیکھو وہ ہے دکھا ہوا
یہ جدا مزاج کے لوگ ہیں تجھے پستیوں سے ملا نہ دیں
ہے عجب طرح کی یہ بےکلی نہیں چین ایک بھی پل مجھے
کہ تری انا کے یہ مسئلے کہیں دکھ کا جال بچھا نہ دیں
تو ذرا سنبھل کے اٹھا قدم نہ سمجھ یوں خود کو ہی عقل کل
مرے دوست تیرے حبیب ہی تجھے راستے میں دغا نہ دیں
نائلہ راٹھور
28/12/2025
ایسا نہ ہو کہ زندگی میری محال ہو
کچھ تو کرو کہ رابطہ پھر سے بحال ہو
کھویا اسے تو جیسے مکمل ہے پا لیا
لگتا ہے اسکا ہجر بھی جیسے وصال ہو
دیکھا اسے تو دیر تلک دیکھتے رہے
لگتا نہیں تھا اسکو بھی کوئی ملال ہو
سمجھا زمانہ ہم کو نہ سمجھے اسے ہی ہم
الجھا ہوا سا جیسے کوئی اک سوال ہو
کھونے کو کیا تھا پاس کروں جسکا میں ملال
چاہے ملے عروج ،کہ مجھ کو زوال ہو
ہر شخص بدگمان ہے ہر شخص ہے خفا
اتنا بھی چاہتوں کا جہاں میں نہ کال ہو
دل اس کا مستحق تھا کیا اس نے جو کیا
کھلتا نہیں سلوک اگر حسبِ حال ہو
ہم نے تو جیسے تیسے گزارا تھاکر لیا
اللہ کرے ترے لئے اچھا یہ سال ہو
نائلہ راٹھور
تمہارے خواب سے رستہ جدا ہے
دیا تھا زخم جو اب تک ہرا ہے
بھلی لگنے لگی ہے تیری فرقت
کہ تیرے ہجر کا اپنا مزا ہے
زمانہ پوچھتا ہے کون ہو تم
بتاؤ کیا کہیں اب کیا چھپا ہے
زباں بندی میں بھی ہے حشر برپا
وہ چپ رہ کر بھی سب کچھ کہہ گیا ہے
کسی کے واسطے گر کچھ نہیں میں
تو کیوں گھر گھر میں میرا تزکرہ ہے
ترے لہجے میں کیوں ہے زہر اتنا
نجانے کون نفرت بو گیا ہے
اسیران وفا ڈرتے نہیں ہیں
کہ جاں سے پیارا یہ عہد وفا ہے
جلاتا کون ہے یوں گھر کو اپنے
مرا دشمن بھی مجھ پر ہنس رہا ہے
یہ تخت و تاج ہیں اسکی امانت
مرا حاکم فقط میرا خدا ہے
جو پس منظر میں بھی رہ کر عیاں ہوں
مرے ایقان کا ہی یہ صلہ ہے
نائلہ راٹھور
22/12/2025
( غیر مطبوعہ )
مجھے سمجھنے کا ہے جو دعوٰی تو یہ بتاؤ کہ کیا ہوا ہے
ہے آنکھ نم کیوں یہ دل ہے غمگیں فَضا بھی جیسے خفا خفا ہے
ہے دل کا عالم دھواں دھواں سا' پلک پلک پر ہیں خواب اٹکے
یہ شام اتری ہے کیسی گھر میں دیا جلا ہے نہ در کھلا ہے
میں سر جھکائے کھڑی ہوں کب سے ہے دور تک بس وہی اندھیرا
مرا مقدر ہے یہ سیاہی نہ صبح جاگی نہ دن چڑھا ہے
یوں تم نہ حیرت سے مجھ کو دیکھو یقین مانو کہ سچ یہی ہے
گیا جو اک بار کب ہے لوٹا یہی ہے دیکھا' یہی سنا ہے
نہ راستوں پر گلاب مہکے نہ سایہ کرنے سحاب آئے
کہ یوں ہی کانٹوں پہ چلتے چلتے یہ زندگی کا سفر کٹا ہے
ہوا نے دی تھی یہی بشارت گھڑی دعا کی یہی تھی شائد
ترے تسلّط سے جان نکلی تو پھر ہی اذن سفر ملا ہے
( نائلہ راٹھور )
12/12/2025
تمہارے خواب سے رستہ جدا ہے
دیا تھا زخم جو اب تک ہرا ہے
بھلی لگنے لگی ہے تیری فرقت
کہ تیرے ہجر کا اپنا مزا ہے
زمانہ پوچھتا ہے کون ہو تم
بتاؤ کیا کہیں اب کیا چھپا ہے
زباں بندی میں بھی ہے حشر برپا
وہ چپ رہ کر بھی سب کچھ کہہ گیا ہے
کسی کے واسطے گر کچھ نہیں میں
تو کیوں گھر گھر میں میرا تزکرہ ہے
ترے لہجے میں کیوں ہے زہر اتنا
نجانے کون نفرت بو گیا ہے
اسیران وفا ڈرتے نہیں ہیں
کہ جاں سے پیارا یہ عہد وفا ہے
جلاتا کون ہے یوں گھر کو اپنے
مرا دشمن بھی مجھ پر ہنس رہا ہے
یہ تخت و تاج ہیں اسکی امانت
مرا حاکم فقط میرا خدا ہے
جو پس منظر میں بھی رہ کر عیاں ہوں
مرے ایقان کا ہی یہ صلہ ہے
نائلہ راٹھور
Click here to claim your Sponsored Listing.