EMKAS

EMKAS

Share

Educational Management, Konsultancy And Support

03/01/2024

ایک بستی تھی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے۔۔۔
اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کرلیا تمام تر شرعی احکام بجا لائے گئے سوائے اعلانِ نکاح کے۔۔ قاضی بھی موجود تھا, گواہ بھی تھے اور ایجاب و قبول بھی ہوا۔۔۔
کچھ عرصے کے بعد میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی اور ان دونوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا لیکن شوہر نے عورت کو تمام تر شرعی حقوق سے محروم رکھا جس پر عورت نے معاملہ قاضی کی عدالت میں پہونچا کر اپنے حقوق حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو شوہر نے عورت کو سرے سے جاننے سے ہی انکار کردیا۔۔
جس پر عورت نے کہا کہ میرے نکاح کے گواہ موجود ہیں انہیں طلب کیا جائے۔۔ گواہوں کو طلب کیا گیا تو گواہوں نے بھی عورت کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا۔۔۔

قاضی نے عورت سے کہا تمہارے گھر میں کتے ہیں۔۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا تو قاضی نے کہا۔۔!

ھَلْ تَقْبِلِیْنَ بِشَہَادَةِ کِلَابِہِمْ وَحُکْمِہِمْ۔۔؟؟
کہ کیا آپ ان کی گواہی اور فیصلے کو قبول کریں گی۔؟؟
عورت نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
تو قاضی نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عورت کو اس کے گھر لے جاؤ, عورت کو دیکھ کر اگر کتے بھونکنے لگے تو عورت جھوٹی هـے کیوں کہ کتا نامانوس فرد کو دیکھ ہی بھونکتا هـے اگر عورت سچی هـے تو کتے نہیں بھونکیں گے کیوں کہ وہ اس سے مانوس ہوں گے۔۔۔

یہ فیصلہ سننا تھا کہ شوہر اور گواہوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بغلیں جھانکنے لگے۔۔۔
کیوں کہ ان کی جھوٹی گواہی کی قلعی کھل چکی تھی اور انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرلیا۔۔۔

اس وقت قاضی نے ایک تاریخی جملہ کہا اگر کسی میں رتی بھر شرم و حیا اور غیرت ہو تو یہ جملہ اس کی زندگی سنوارنے کے لئے کافی هـے اور جن میں رتی بھر بھی نہ ہوں تو پھر وہ جو چاہے کرتا رہے۔۔۔
قاضی نے کہا۔۔۔۔۔
بئس القریٰ اللتی کلابھا اصدق من اہلہا۔۔۔
بدترین ہے وہ بستی جس کے کتے وہاں کے باسیوں سے زیادہ سچے ہوں۔۔۔

تھوڑا نہیں پورا سوچئیے اپنے گریبانوں میں جھانک کر۔۔۔

(عربی کتاب سے ماخوذ)

3📖🖋️اردو تحریرات💯🖋️📋 03/01/2024

مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان تھا جو نظام فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا، اسے چار چیزوں سے سخت نفرت تھی,
‏اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی, وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا۔
‏اسے گمنامی سے نفرت تھی, وہ دنیا کا مشہور ترین شخص بننا چاہتا تھا۔
اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی, وہ اپنے ماضی کو اپنے آپ سے کھرچ کر الگ کردینا چاہتا تھا۔
‏اسے عام لوگوں کی طرح ستر, اسی برس میں مر جانے سے بھی نفرت تھی, وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔
‏وہ ایک ایسا گلوکار بننا چاہتا تھا جو ایکسو پچاس سال کی عمر میں لاکھوں لوگوں کے سامنے ڈانس کرے, اپنا آخری گانا گائے, پچیس سال کی گرل فرینڈ کے ماتھے پر بوسہ دے اور کروڑوں مداحین کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
‏مائیکل جیکسن کی آنے والی زندگی ان چار خواہشوں کی تکمیل میں بسر ہوئی۔
اس نے 1982ء میں اپنا دوسرا البم ’’تھرلر‘‘ لانچ کیا, یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ ایک ماہ میں اس کی ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور یہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا تھا۔ مائیکل جیکسن اب دنیا کا مشہور ترین گلوکار تھا، اس نے گمنامی کو شکست دےدی تھی۔
‏مائیکل نے اس کے بعد اپنی سیاہ جلد کو شکست دینے کا فیصلہ کیا اور پلاسٹک سرجری شروع کرا دیی، امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں، یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت، جلد، نقوش اور حرکات و سکناتبدل گئیں۔
‏سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔
‏اس کے بعد ماضی کی باری آئی، مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کردیا، اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے، اس نے کرائے پر گورے ماں باپ حاصل کر لئے اور تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا، وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اسکی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔
‏اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی، اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی۔
‏لہٰذا اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئےدلچسپ حرکتیں کرتاتھا، مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا، وہ جراثیم، وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ‏ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔
‏یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے، اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا، اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں، گردوں، آنکھوں، دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا۔یہ وہ ڈونر تھے، جن کے تمام اخراجات مائیکل اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے، چنانچہ اسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا۔
‏لیکن پھر 25 جون کی رات آئی، اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی، اس کےڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئر ڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا، یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو ہسپتال لے گئے۔
‏وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا، جو کسی سے ہاتھملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا، جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25 برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا ہو۔ وہ شخص صرف 50 سال کی عمر میں اور صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی، یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25 منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا کہ بہت زیادہ احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا، وہ سر سے گنجا ہو چکا تھا، اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، اس کے کولہے، کندھے، پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔‏وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا، چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز، یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہاں سے چلا گیا اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے، انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا فرعون
‏وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔وہ موت کو شکست نہیں دے سکتا۔
‏لیکن حیرت ہے کہ ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے، ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں گے۔
‏اللہ کریم ھمیں عمل کی توفیق بخشے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے
آمین ثمہ آمین

3📖🖋️اردو تحریرات💯🖋️📋 WhatsApp Group Invite

16/11/2023

Educational Management, Konsultancy And Support

16/11/2023

Director Academics EMKAS (Educatioal Management, Konsultancy And Support)

16/11/2023
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

547 K Canal View Housing Society
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:00 - 03:00
Tuesday 08:00 - 03:00
Wednesday 08:00 - 03:00
Thursday 08:00 - 03:00
Friday 08:00 - 03:00
Saturday 08:00 - 03:00