Apna Rishta Junction
ARJ — Where Hearts Connect ❤️
📩 Rishta & Confession Platform
🔒 Trusted • Modern • Private
💌 Send your confessions & rishtas for posting through DM.
11/06/2026
💍 **رشتہ مطلوب – آسٹریلیا (میلبرن) 🇦🇺**
👩 عمر: 26 سال
📏 قد: 5'6"
🕌 مسلک: سنی مسلم
👨👩👧 ذات: اعوان
💖 ازدواجی حیثیت: غیر شادی شدہ
🎓 بیچلر آف سائنس مکمل
🎓 میلبرن یونیورسٹی میں Doctor of Optometry کی طالبہ
🌟 آسٹریلیا میں پیدا ہوئیں اور وہیں پرورش پائی، اسلامی اور خاندانی اقدار کی حامل۔
👨👩👧👧 خاندانی پس منظر:
▪️ والد: آسٹریلیا میں کاروباری شخصیت
▪️ والدہ: گھریلو خاتون
▪️ ایک چھوٹی بہن زیرِ تعلیم
💍 مطلوبہ شریکِ حیات:
✔️ تعلیم یافتہ
✔️ خوش اخلاق اور باعزت
✔️ خیال رکھنے والا
✔️ خاندانی اقدار کا حامل
📌 عمر: 25 تا 35 سال
📌 ازدواجی حیثیت: غیر شادی شدہ
📌 مسلک: سنی مسلم
📌 ذات: کوئی بھی
🌍 ترجیحی مقامات:
🇦🇺 آسٹریلیا | 🇳🇿 نیوزی لینڈ | 🇺🇸 امریکہ | 🇵🇰 پاکستان
📩 صرف سنجیدہ اور حقیقی امیدوار رابطہ کریں۔
❤️ ARJ – Apna Rishta Junction
"Where Hearts Connect"
11/06/2026
Apna Rishta Junction
السلام علیکم دوستو،
میں ایک ایسے مسئلے سے گزر رہا ہوں جس نے مجھے اندر سے بہت پریشان کر دیا ہے، اور مجھے واقعی کسی مخلص مشورے کی ضرورت ہے۔
پہلے سمسٹر میں میرے گروپ کے کچھ لڑکے ہمارے ہی ایک دوست کی مسلسل بے عزتی اور بُلنگ کیا کرتے تھے۔ مجھے اس وقت بھی بہت افسوس ہوتا تھا، لیکن میں زیادہ کچھ نہیں کر پاتا تھا۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ اُس لڑکے نے اپنا سیکشن ہی تبدیل کر لیا۔
اب اسی سمسٹر میں وہی رویہ میرے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔ شروع میں بات اتنی زیادہ نہیں تھی، مگر پچھلے ایک ہفتے سے بُلنگ بہت بڑھ گئی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ میرا ایک نیا دوست بنا تھا جس کے ساتھ میری بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ ہماری وائب مکمل میچ کرتی تھی، میں اسے اپنا جگری دوست سمجھنے لگا تھا۔ لیکن پچھلے ہفتے سے وہ بھی انہی لوگوں کے ساتھ مل کر میرا مذاق اڑانے لگا۔
سچ کہوں تو اُس کی بات سب سے زیادہ چبھتی ہے، کیونکہ میں توقع کرتا تھا کہ وہ میرا ساتھ دے گا، نہ کہ دوسروں کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں اکیلا جواب دوں تو سامنے تین لوگ ہوتے ہیں۔ صورتحال اکثر 1 بمقابلہ 3 جیسی ہو جاتی ہے، اور پھر خاموش رہنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
اب میں سوچ رہا ہوں کہ کیا مجھے یہ گروپ چھوڑ دینا چاہیے؟
لیکن ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ اگر میں گروپ چھوڑ دوں تو شاید بالکل اکیلا ہو جاؤں۔ گروپ میں دو لڑکے ایسے ہیں جو واقعی اچھے انسان ہیں اور ایسی حرکتوں میں شامل نہیں ہوتے، مگر وہ بہت نرم مزاج ہیں اور کبھی کسی کے سامنے جواب نہیں دیتے۔ باقی زیادہ تر لوگ سنجیدہ دوستی کے قابل نہیں لگتے۔
البتہ جس نئے دوست کو میں اپنا قریبی دوست سمجھتا تھا اور جس نے آخرکار میرا ساتھ چھوڑ دیا، اُس سے میں ضرور بات کروں گا اور اسے بتاؤں گا کہ اُس کے رویے نے مجھے کتنا تکلیف پہنچائی ہے۔
مجھے کسی سے مشورہ لینا آسان نہیں لگتا، اس لیے یہاں لکھ رہا ہوں۔
اصل وجہ یہ ہے کہ میں پہلے بھی شدید بُلنگ کا شکار رہ چکا ہوں۔ نویں اور میٹرک کے دوران میرے ساتھ بہت برا سلوک ہوا تھا۔ مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا خودکشی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگر اُس وقت کوئی اچانک وہاں نہ آ جاتا تو شاید میں کوئی بہت بڑا غلط قدم اٹھا لیتا۔
میں دوبارہ اُس اندھیرے میں نہیں جانا چاہتا۔
میرے بہت سے خواب ہیں، بہت سے مقصد ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ چند فضول لوگوں کی باتیں مجھے اتنا توڑ دیں کہ میں اپنی زندگی اور مستقبل سے ہار مان جاؤں۔
مجھے اپنی صلاحیتوں پر یقین ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں ایک باصلاحیت انسان ہوں۔ میری معلومات اچھی ہیں، کھیلوں میں بھی اچھا ہوں، پوری کلاس میں شاید صرف مجھے ہی کوڈنگ اور آئی ٹی کی بہت سی اسکلز آتی ہیں، اور کم وقت پڑھ کر بھی 3.5+ CGPA لے آتا ہوں۔
میرا مسئلہ صرف یہ ہے کہ میں بہت زیادہ انٹروورٹ ہوں۔ لوگوں سے کھل کر بات کرنا یا اپنا دفاع کرنا میرے لیے آسان نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی لگتا ہے شاید قسمت بھی میرا ساتھ نہیں دیتی۔
بس اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں؟
کیا گروپ چھوڑ دینا چاہیے؟
کیا اُس دوست سے بات کرنی چاہیے جس نے میرا ساتھ چھوڑ دیا؟
یا پھر خاموش رہ کر صرف اپنی پڑھائی اور مستقبل پر توجہ دینی چاہیے؟
میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اپنے خواب نہیں کھونا چاہتا۔
08/06/2026
السلام علیکم!
میں بہت پریشان اور ٹوٹی ہوئی ہوں۔ میری عم27 سال ہے اور میں گریجویٹ ہوں۔ میری شادی کو 6 سال ہو چکے ہیں۔ مسلسل جھگڑوں، لڑائیوں اور ذہنی اذیت کے باوجود میری دو بیٹیاں پیدا ہوئیں اور اب میں تیسری بار حاملہ ہوں۔
میرا رشتہ گھر والوں کی مرضی سے میری خالہ کے گھر ہوا۔ منگنی تین سال تک رہی۔ اس دوران لڑکے کے گھر والے آہستہ آہستہ رشتہ ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن لڑکا بظاہر یہی کہتا تھا کہ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔ اسی وجہ سے میرے گھر والوں نے رشتہ برقرار رکھا۔
شادی کے بعد پہلے ہی دن سے میری ساس میرے شوہر کو میرے خلاف بھڑکاتی رہی۔ ہر روز کسی نہ کسی بات پر جھگڑا کروایا جاتا تھا۔ شادی کے صرف پندرہ دن بعد میرے شوہر نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ جب بھی گھر آتا، پہلے اپنی ماں کے کمرے میں جاتا اور پھر آ کر مجھے مارتا۔ میرے چہرے سے خون نکلتا، جسم پر تشدد کے نشانات ہوتے اور میں شدید تکلیف میں رہتی۔
حمل کے دوران بھی مجھے بری طرح مارا پیٹا گیا۔ میری ساس کہتی تھی کہ مجھے میرے میکے بھیج دیا جائے تاکہ علاج اور خرچ میرے والدین اٹھائیں۔ کئی بار میں ناراض ہو کر میکے گئی، پھر صلح ہو گئی، لیکن حالات کبھی نہ بدلے۔
سات ماہ کی حاملہ تھی جب میرے شوہر نے وعدہ کیا کہ الگ گھر لے گا، لیکن دھوکے سے دوبارہ اپنے گھر لے جانا چاہا۔ وہاں میری ساس نے میرا سامان دینے سے انکار کر دیا، چیزیں توڑ دیں اور مجھے بھوکا پیاسا رکھا۔ تین دن تک مجھے کھانا تک نہیں دیا گیا جبکہ میں حاملہ تھی۔
ایک دن میرے والد میرے لیے کچھ پھل لائے۔ اس بات پر میری ساس، دیور اور نندوں نے مل کر مجھ پر حملہ کر دیا۔ ایک بزرگ خاتون نے مجھے خبردار کیا کہ یہ لوگ مجھے اور میرے بچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے میں جان بچا کر وہاں سے بھاگی۔ راستے میں گر گئی، شدید تشدد کا نشانہ بنی اور خون میں لت پت حالت میں گھر پہنچی۔
میرے والد مجھے ہسپتال لے گئے۔ میری حالت اتنی خراب تھی کہ میں چل بھی نہیں سکتی تھی اور وہیل چیئر پر منتقل کیا گیا۔ رپورٹ بھی درج کروائی گئی لیکن کوئی انصاف نہ ملا۔
اس دوران میرے شوہر نے دوسری منگنی بھی کر لی۔ بعد میں وہ رشتہ بھی ختم ہو گیا۔ میرے والد نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا۔ پھر جب میری ڈیلیوری کا وقت آیا تو میرا شوہر معافیاں مانگنے لگا اور دوبارہ صلح کی کوشش کی۔
میں نے کئی بار گھر بچانے کی خاطر اسے معاف کیا، لیکن اس کا رویہ کبھی نہ بدلا۔ دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی میرے والدین ہی تمام اخراجات اٹھاتے رہے۔ میرے شوہر نے نہ بچوں کی ذمہ داری لی، نہ مناسب خرچ دیا اور نہ ہی محبت یا عزت سے پیش آیا۔
مسلسل ذہنی دباؤ، تشدد اور اذیت کی وجہ سے میری ذہنی حالت بھی متاثر ہوئی۔ مجھے نفسیاتی علاج کروانا پڑا۔ ڈاکٹروں نے بھی میرے شوہر کو سمجھایا کہ میری صحت کا خیال رکھے، لیکن اس نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔
آج بھی وہ معمولی بات پر جھگڑا کرتا ہے، خرچ دینے سے کتراتا ہے، بیماری میں میرا خیال نہیں رکھتا اور اکثر لڑ کر مہینوں کے لیے چلا جاتا ہے۔ جب اس کا دل کرتا ہے واپس آ کر معافیاں مانگتا ہے، اور میں بچوں کے مستقبل کی خاطر اسے معاف کر دیتی ہوں۔
اب میں بہت تھک چکی ہوں۔ میری زندگی میں سکون، محبت اور خوشی کا کوئی لمحہ نہیں آیا۔ مجھے ڈپریشن، ذہنی دباؤ، بے چینی اور جسمانی بیماریوں کا سامنا ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیا ایسی زندگی سے علیحدگی بہتر نہیں؟ لیکن پھر اپنی بیٹیوں کے مستقبل کا خیال آ جاتا ہے۔
آخر میرا قصور کیا ہے؟ میں نے صرف اپنا گھر بچانے کی کوشش کی، لیکن بدلے میں مجھے ہمیشہ اذیت، ظلم اور بے قدری ہی ملی۔
Mery Liye dua kry or mjhy achi nasehat or Raye dedy
02/06/2026
ضروری ہدایت: تفصیلات پڑھنے کے بعد رابطہ کریں۔ صرف فیصل آباد یا قریبی شہروں والے ہی رابطہ کریں۔
کوائف (Details):
جنس: لڑکی
رہائش: فیصل آباد
عمر: 28 سال
تعلیم: ایم ایس سی (MSc)
برادری: راجپوت بھٹی
فیملی اسٹیٹس: مڈل کلاس
والدین: الحمدللہ، بقیدِ حیات ہیں
بھائی: 3
Apna Rishta Junction
29/05/2026
💔 ایک ادھورا اعتراف
میں یہ کہانی کسی کو الزام دینے کے لیے نہیں لکھ رہا… بس دل میں بہت کچھ جمع ہو چکا ہے جو اب لفظوں میں نکلنا چاہتا ہے۔
یہ بات چند سال پہلے کی ہے۔ میں ایک عام سی زندگی گزار رہا تھا، نہ زیادہ خوش قسمت نہ زیادہ بدقسمت۔ اسی دوران میری زندگی میں ایک لڑکی آئی۔ وہ بہت سادہ، خاموش اور اپنے کام سے کام رکھنے والی تھی۔ اس کی یہی سادگی مجھے آہستہ آہستہ اس کے قریب لے آئی۔
شروع میں سب کچھ نارمل تھا۔ صرف سلام دعا، چھوٹی چھوٹی باتیں، اور روزمرہ کی بات چیت۔ مگر وقت کے ساتھ وہ باتیں دل تک پہنچنے لگیں۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ میری عادت نہیں بلکہ ضرورت بنتی جا رہی ہے۔
میں نے کبھی اسے یہ نہیں بتایا کہ میں اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہوں۔ شاید ڈر تھا کہ کہیں وہ دور نہ ہو جائے… یا شاید یہ امید کہ وقت خود سب کچھ واضح کر دے گا۔
مگر وقت ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں ہوتا۔
ایک دن اچانک اس نے وہ جگہ چھوڑ دی جہاں ہم ملتے تھے۔ نہ کوئی الوداع، نہ کوئی وضاحت۔ بس ایک خاموشی… جو آج تک میرے اندر موجود ہے۔ میں نے پہلے سوچا شاید وہ واپس آ جائے گی، لیکن دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔
میں نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی راستہ نہ ملا۔ نہ سوشل میڈیا پر، نہ کسی جاننے والے کے ذریعے۔ جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔
اس کے بعد زندگی چلتی رہی، مگر میرے اندر کچھ رک گیا تھا۔ میں ہنستا رہا، لوگوں سے ملتا رہا، مگر دل کہیں پیچھے رہ گیا۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک ادھورا پن تھا۔
آج بھی کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید وہ بھی کچھ کہنا چاہتی تھی… شاید وہ بھی رکی ہوئی تھی… مگر ہم دونوں ہی وقت پر بات نہ کر سکے۔
مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہے، کیسی ہے، خوش ہے یا نہیں۔ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ کچھ لوگ زندگی میں آ کر ہمیں بدل دیتے ہیں، اور پھر ہمیشہ کے لیے یاد بن جاتے ہیں۔
یہ کوئی محبت کی کامیابی نہیں… بلکہ ایک خاموش سی ناکامی ہے۔
اور شاید یہی زندگی ہے—سب کچھ کہنے کا موقع نہیں ملتا، اور جو دل میں رہ جائے وہ ہمیشہ کے لیے دل میں رہ جاتا ہے۔ 💔
Us When???.....
Help me to reach Million
Tabish is not coming slow🙂🤣
Wait for it😂
Views Nahin aa rahy🙂
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore
54782
17/02/2024
12/09/2023