Auto Point Trader
Toyota Honda Suzuki Auto Spare Parts & Accessories
27/09/2025
Imran Ibrahim on TikTok .ibrahim89 131 Followers, 296 Following, 360 Likes - Watch awesome short videos created by Imran Ibrahim
18/07/2025
Available
Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہِ صیام کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے بعد
عیدالفطر رب کی طرف سے خوشی کا انعام ہے۔
دعا ہے یہ عید آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے دل، گھر اور زندگی میں
محبت، سکون اور رب کی رضا کا پیغام بن کر اترے۔
نرمی، معافی اور خلوص کا پیغام لے کر آئے۔
عیدالفطر مبارک!
تقبل اللہ منا و منکم، و عیدکم مبارک
آپکا بھائی
محمد عمران ابراہیم
اٹو پوائنٹ ٹریڈر
03134288613 رابطہ نمبر
منٹگمری روڈ لاہور
29/10/2024
https://baseeratafroz.pk/article/125
سماجی تبدیلی کا درست مفہوم
تحریر : جنید احمد شاہ ، راولپنڈی
سماجی تبدیلی ایک مکمل سائنسی عمل ہے جس کے اصول و ضوابط اور دیگر جزئیات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے ہاں حکومتی تبدیلی ، نئے چہروں کے انتخاب ، نظام الیکشن مصنوعی رونقوں اور نعرہ بازی کو سماجی تبدیلی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ہمارا میڈیا بھی انہی خطوط پر اس سارے عمل کو بھرپور کوریج دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک حقیقی اور درست سماجی تبدیلی کا مفہوم کیا ہے اس کا فہم و شعور حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔۔
کسی بھی سماجی تبدیلی کے بنیادی طور پر تین دائرے ہیں۔۔
1۔ فکر و نظریہ
2۔ سیاست
3۔ معیشت
1۔فکرونظریہ
أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأمْرُ (القرآن، الاعراف ، 54)
ترجمہ :(سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا)
دنیا میں جب بھی کسی نظام مملکت کی تشکیل ہوگی تو وہ کسی خاص فکر پر ہوگی۔ کسی نظریہ کے بغیر کسی بھی نظام کی عمارت درست بنیادوں پر قائم نہیں کی جا سکتی۔۔۔سماجی تشکیل کا بنیادی مغز ریاستی اداروں کے پیچھے وہ نظریہ ہوتا ہے جس کے تمام ادارے پابند ہوتے ہیں اور اسی سوچ کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔
دین اسلام اپنی فکر میں وحدت انسانیت اور عدل و انصاف کے قیام کا قائل ہے۔ کائنات میں جب ہر چیز کا خالق اللہ تعالی کی ذات ہے تو حکم بھی پھر اسی کا چلے گا۔۔ اس لیئے ایک اسلامی ریاست بالکل واضح اور دو ٹوک نظریات کی پابند ہے ۔ قرآن کا ارشاد ہے :
الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔
ترجمہ :(وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو قدرت دیں ملک میں تو وہ قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور حکم کریں بھلے کام کا اور منع کریں برائی سے اور اللہ کے اختیار میں ہے آخر ہر کام۔) الحج ، :41:22:
فکر میں عدل یہ ہے کہ آپ تمام انسانوں کے لیئے اپنی سوچ میں وسعت پیدا کریں، بلا تفریق سب کے حقوق کی فراہمی کا نظریہ اپنائیں اور بغیر کسی مذہبی ، قومی اور ملی تعصب کے سب انسانوں کو اللہ کا کنبہ سمجھتے ہوئے ان کے لیئے خدمت انسانیت کا جذبہ رکھیں۔اس کی ضد گروہیت اور فرقہ واریت ہے۔۔جس کی ہمارے مذہب میں قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسلمانوں کے دور عروج میں کبھی بھی فرقوں کے مکمل خاتمے پر زور نہیں دیا گیا ، دین اسلام کی جنگ ہمیشہ قوتوں کے خلاف رہی ہے ، عقائد کی ترویج و اشاعت اور تبلیغ کے لیئے ہمیشہ دعوت کا میدان چنا گیا ۔ سوچنے کی آزادی سب کو دی گئی ہے لیکن فرقوں کی بنیاد پر تفریق، تقسیم ، تشدد، تنگ نظری ،دشنام طرازی اور منافرت پھیلانے کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔۔ اگر کسی ملک کی مقتدرہ اور نظام چلانے والی طاقت فرقہ وارانہ بنیادوں پر پروٹوکول اور سہولیات دینے کی قائل ہے تو اس کے خلاف عملی جدوجہد کرنا لازمی اور ضروری ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
ترجمہ :’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 : 103
2۔سیاست
ولْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
ترجمہ :(اور چاہیئے کہ رہے تم میں ایک جماعت ایسی جو بلاتی رہے نیک کام کی طرف اور حکم کرتی رہے اچھے کاموں کا اور منع کریں برائی سے اور وہی لوگ ہیں جو پہنچے اپنی مراد کو. )آل عمران، 3 : 104
دین اسلام اپنے سیاسی نظام میں جمہوریت کا قائل ہے اور آمریت کی نفی کرتا ہے۔۔ اقتدار اعلی کا مالک اللہ تعالی کی ذات ہے اور انسان بطور خلیفہ اس کرہ ارض پر خدا کا نائب اور خلیفہ ہے۔قرآن حکیم کی اس آیت مبارکہ میں واضح طور پر سیاسی نظام کے قیام کے ذریعے ظلم اور برائی کے خاتمہ کا حکم دیا گیا ہے اور نیکی اور عدل قائم کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔تمام انبیاء علیھم السلام کی آمد کے مقصد کو بھی آپ ص نے یوں ارشاد فرمایا ہے !
نبی اکرم ص کا ارشاد گرامی ہے :
: كَانَت بَنُو إسرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبياءُ، كُلَّما هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبيٌّ، وَإنَّهُ لا نَبِيَّ بَعدي، وسَيَكُونُ بَعدي خُلَفَاءُ فَيَكثُرُونَ،
ترجمہ :( بنو اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے ، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے۔)
سیاسی نظام کا بنیادی کام بلا تفریق رنگ ، نسل اور مذہب ساری رعایا اور کل انسانیت کیلئے امن و امان کی فراہمی ہے۔ انسانی جان، مال اور عزت و حرمت کی حفاظت کرنا اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔۔
امن درست سیاسی نظام کی بنیادی شرط ہے۔۔۔ تمام سیاسی ادارے بشمول انتظامیہ کسی ملک میں سماجی تشکیل کے تناظر میں امن و امان کی فراہمی اور قانون پر عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔۔ اور اگر کسی ملک میں بحثیت مجموعی خوف کی کیفیت طاری ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیاسی نظام اپنی بنیادی ذمہ داریاں درست خطوط پر سرانجام دینے سے قاصر ہے اور اسے تبدیل ہونا چاہیئے۔
3۔معیشت !
ضَرَبَ اللّـٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّـةً يَّاْتِيْـهَا رِزْقُـهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَـفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّـٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّـٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُـوْا يَصْنَعُوْنَ
ترجمہ :( اللہ ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جہاں ہر طرح کا امن چین تھا اس کی روزی با فراغت ہر جگہ سے چلی آتی تھی پھر اللہ کے احسانوں کی ناشکری کی پھر اللہ نے ان کے برے کاموں کے سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے یہ مزہ چکھایا کہ ان پر فاقہ اور خوف چھا گیا۔)
النحل، 16 : 112
اس آیت مبارکہ میں ایک مثالی معاشرے کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن حکیم نے اسے امن و امان کے ساتھ ساتھ رزق کی فراوانی اور خوشحالی سے بھی تعبیر کیا ہے۔معیشت یا معاشی نظام کی بنیادی ذمہ داری انسانی احتیاجات اور بنیادی ضروریات کی بروقت فراہمی ہے۔ ہر انسان کے لیئے روٹی ، کپڑا ، مکان، تعلیم ، روزگار اور صحت کی بروقت فراہمی درست معاشی نظام کی علامت ہے۔ایک خوشحال قوم کا وجود بغیر کسی معاشی نظام کے ناممکن ہے۔
دین اسلام اپنے معاشی نظام میں عدل کے اصول پر مساوات کا قائل ہے۔ ہر انسان کی مساویانہ بنیادوں پر اس کی بنیادی ضروریات پوری ہونی چاہیئں۔ اس کی ضد طبقاتیت ہے۔۔ اگر وسائل معیشت پر کسی خاص گروہ کا قبضہ ہے اور باقی ساری رعایا بھوک ، ننگ و افلاس ، مہنگائی اور بیروزگاری کا شکار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاشی نظام درست کام نہیں کر رہا ہے ، وہ ایک خاص طبقے کے مفادات کا محافظ ہے۔۔ اور ایسے معاشی نظام کوتبدیل ہونا چاہیئے۔۔
کسی بھی درست سماجی تبدیلی کے یہ وہ بنیادی تین دائرے ہیں جنکا درست فہم و شعور حاصل کیئے بغیر ایک بہترین نظام مملکت کا حصول ناممکن ہے۔۔
برعظیم پاک وہند کی ایک عظیم انقلابی شخصیت حضرت الامام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح (1762-1703) نے اپنی دور کی فکری خرابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اہل علم حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا !
" اے بیوقوف اور نادان لوگو! تم نے اپنا نام "علماء" رکھ لیا ہے۔ تم یونانی علوم، صرف و نحو (عربی گرائمر) اور علم معانی ( فصاحت و بلاغت) میں مشغول ہو، اور سمجھتے ہو بس یہی علم ہے۔ حقیقت میں علم، اللہ تعالی کی کتاب کی محکم آیات کا نام ہے، یا رسول اللہ ص کی قائم کردہ سنت کا نام ہے ، یا عدل و انصاف کے قائم کرنے کا فریضہ ہے کہ تم اس کی تعلیم حاصل کرو۔) التفہیمات الہیہ
اس طرح آپ نے سیاسی نظام کی بنیادی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا !
" منتظم شہر کو چاہیئے وہ اپنی عوام کے سب افراد سے اپنی اولاد کی طرح محبت کرے اور ان کے حق میں وہی بات پسند کرے جو وہ اپنے لیئے کرتا ہے، بہرحال وہ پورے معاشرے کی مصلحت اور ان کے حق میں شفقت و محبت کو مقدم رکھے۔
(البدروبازغہ عربی ص: 103، مترجم اردو ص:183)۔
معاشی نظام کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آپ نے فرمایا !
"وہ شاہانہ نظام ذندگی جس سے چند اشخاص یا چند خاندانوں کی عیش و عشرت کے سبب دولت کی صحیح تقسیم میں خلل واقع ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو جلد از جلد ختم کر کے عوام کو اس مصیبت سے نجات دلائی جائے اور ان کو مساویانہ نظام زندگی کا موقع دیا جائے"
(حجتہ اللہ البالغہ ، باب سیاست مدینہ)
ان افکار و تعلیمات کی روشنی میں بطور نوجوان ہماری آج سب سے بنیادی قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے ملک کے فکری ، سیاسی اور معاشی نظام کا تفصیلی علمی و تحقیقی جائزہ لیں اور ان سوالات پر غور کر کے اپنی راہ عمل کا قرآن و سنت کی روشنی میں درست تعین کریں!
1۔ کیا ہمارے ملک کا فکری نظام عدل و انصاف اور وحدت انسانیت کے نظریے پر کاربند ہے یا پھر گروہیت اور فرقہ واریت کو پروموٹ کرتا ہے ؟؟؟
2۔ کیا ہمارے ملک کا سیاسی نظام امن و امان کا ضامن اور جمہوری روایات کا پابند ہے یا پھر ظلم و بربریت ، خوف اور آمرانہ طرز حکمرانی کا نمائندہ ہے؟؟
3۔ کیا ہمارے ملک کا معاشی نظام مساوات اور خوشحال معاشرے کی علامت ہے یا پھر بھوک و افلاس ، معاشی تنگ دستی ، بیروزگاری اور مہنگائی جیسے گھمبیر مسائل کی پیداوار ہے؟
جب تک ہم ان سوالات اور ان کے درست جوابات پر غور نہیں کرتے اس وقت تک ہم سماجی تبدیلی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے۔
سماجی تبدیلی کا درست مفہوم - بصیرت افروز سماجی تبدیلی کا درست مفہوم سماجی تبدیلی کے حقیقی مفہوم کا مختصرا اصولی طور پر جائزہ لیا گیا ہے By جنید احمد شاہ Published on Sep 28, 2019 Views 6382 جنید احمد شاہ ، راولپنڈی الحج ، :41:22:...
23/10/2024
حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ
نقوشِ زندگی کا ایک مختصر خاکہ
✍ تحریر:حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
👈 * آپؒ کی پیدائش رجب 1344ھ / جنوری 1926ء کو حضرتِ اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہٗ کے گھر، اپنے آبائی وطن گمتھلہ، ضلع کرنال (اب صوبہ ہریانہ، انڈیا) میں ہوئی۔
👈 * حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہٗ نے آپؒ کا اسم گرامی سعیداحمد رکھا۔
👈 * پانچ سال کی عمر میں آپؒ کی والدۂ محترمہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد آپؒ اپنے والدِ گرامی کے ہمراہ حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے سایۂ شفقت میں خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں قیام پذیر ہوگئے۔
👈 * آپؒ کی تعلیم کا آغاز حضرت عالی شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے قائم کردہ مکتبِ قرآنی میں ہوا۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو پہلی ’’بسم اللہ‘‘ پڑھائی۔ اور خانقاہ رائے پور میں قائم مدرسہ فیض ہدایت درگلزارِ رحیمی میں شیخ القرآن حضرت مولانا خدابخش سے قرآنِ حکیم پڑھنا شروع کیا۔ جب آبائی وطن گمتھلہ جاتے تو حافظ مقصود احمد نوشہرویؒ سے پڑھتے اور جب اپنے ننہیالی گاؤں سکروڈھ ضلع سہارن پور میں تشریف لے جاتے تو حضرت قاری حافظ ولی محمد صاحبؒ سے قرآنِ حکیم کی تعلیم حاصل کرتے۔ حفظِ قرآنِ حکیم کی تکمیل خانقاہِ رائے پور کے ’’مدرسہ فیض ہدایت‘‘ میں ہوئی۔
👈 * ابتدائی فارسی اور عربی کی تعلیم سکروڈھ میں حضرت مولانا محمدیعقوب بن نور محمد حصارویؒ سے حاصل کی، جوکہ حضرت مولانا حسین احمد علویؒ کے بہنوئی ہوتے تھے۔
👈 * درسِ نظامی کے ابتدائی درجات کی کتب آپؒ نے اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ سے پڑھیں۔ انھوں نے آپؒ کو ’’شرح جامی‘‘ تک کی تمام درسی کتابیں پڑھائیں۔ آپؒ کو جب بھی کوئی کتاب شروع کرواتے تو حضرت مولانا محمدالیاس دہلویؒ اگر خانقاہ میں موجود ہوتے تو ان سے کتاب کا آغاز کرواتے۔
👈 * ’’تفسیر جلالین‘‘ تک کی کتابیں آپؒ نے حضرت مولانا محمداشفاق رائے پوریؒ (بھانجے حضرت عالی شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ ، متولی خانقاہ رائے پور و رُکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند) سے پڑھیں۔ تفسیر جلالین کا کچھ حصہ حضرت مولانا عبداللہ دھرم کوٹی اور مشکوٰۃ شریف کا کچھ حصہ حضرت مولانا عبداللہ رائے پوری شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ جالندھر (بعد میں ساہیوال) سے پڑھا۔
👈 * رمضان المبارک 1367ھ / 1947ء میں حضرتِ اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو اپنا امامِ نماز مقرر فرمایا۔
👈 * درسِ نظامی کے آخری دو سال کی تعلیم کے لیے آپؒ مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور تشریف لے گئے، جہاں آپؒ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلویؒ سے بخاری شریف، ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبداللطیفؒ سے ترمذی شریف، حضرت مولانا منظوراحمدؒ سے مسلم شریف اور حضرت مولانا اسعداللہ صاحب (بعد میں ناظم مدرسہ) سے طحاوی شریف، ابن ماجہ اور حدیث کی دیگر کتابیں پڑھیں۔ مدرسہ مظاہر العلوم کے رئیس دار الافتا مفتی سعیداحمد صاحبؒ سے مشکوٰۃ شریف اور شمائل وغیرہ پڑھیں۔ اور حضرت مولانا محمد امیر کاندھلویؒ سے ہدایہ آخرین وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ اس طرح آپؒ نے 1368ھ / 1949ء میں مدرسہ مظاہر العلوم سے تمام علومِ دینیہ کی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔
👈 * آپؒ نے طالبِ علمی ہی کے زمانے میں 1939ء میں حضرتِ رائے پوریؒ ثانی کی سرپرستی میں نوجوانوں کے لیے قائم ہونے والی جماعت ’’حزب الانصار‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ اس جماعت کے صدر، امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے شاگرد حضرت مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ تھے، جو بعد میں خانقاہ کے متولی بنے۔
👈 * حضرت رائے پوریؒ کی زیرسرپرستی حضرت مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کے ساتھ وابستہ ہوکر ہندوستان کی آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد کا شعور حاصل کیا۔ اس دوران خانقاہ میں تشریف لانے والے عظیم رہنمایانِ دین اور مشائخ حضرات، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ ، مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، امیر تبلیغ حضرت مولانا محمدالیاس دہلویؒ ، رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ وغیرہ کی صحبت سے مستفید ہوئے اور ان کی سیاسی مجالس میں شرکت کی۔
👈 * ظاہری تعلیم و تربیت کے بعد آپؒ کو حضرتِ اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے اپنی خصوصی تربیت اور نگرانی میں لے لیا اور ایک سال میں سلوک کی تکمیل کروائی۔
👈 * سلوک کی تکمیل اور سلسلۂ رائے پور کی نسبت کے حصول کے بعد 1369ھ / 1950ء میں آپؒ کو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔
👈 * 1950ء کے اواخر میں آپؒ ہندوستان سے پاکستان تشریف لائے۔ اور سرگودھا میں اپنے والدِ گرامی حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کے پاس قیام فرما ہوئے۔
👈 * حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو پاکستان اور ہندوستان کے اپنے اسفار میں اپنے ساتھ رکھا اور سکولز اور کالجز کے نوجوانوں میں کام کرنے کا حکم دیا۔
👈 * 1950ء سے 1967ء تک آپؒ نے خانقاہی سلسلے کے فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں دین کے غلبے کے فروغ کی جدوجہد اور کوشش کو بھی جاری رکھا۔
👈 * 16؍ اگست 1962ء کو آپؒ کے شیخ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کا وصال ہوا تو اس کے بعد آپؒ اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی زیرسرپرستی سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فروغ اور مدارسِ دینیہ اور کالجز و یونیورسٹیز کے نوجوان طلبا میں دینی شعور کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔
👈 * 1967ء میں آپؒ نے سرگودھا میں کالجز اور مدارسِ اسلامیہ کے نوجوان طلبا کی تعلیم و تربیت اور ان میں تحریک پیدا کرنے کے لیے ’’جمعیت طلبائے اسلام‘‘ قائم کی۔ اس کے افتتاحی اجلاس میں حضرت رائے پوری ثانی کے مجازین حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ اور حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ صاحبؒ (تلمبہ) بھی تشریف فرما تھے۔
👈 * 1970ء میں جمعیت علمائے اسلام کے اجلاس منعقدہ سرگودھا میں جمعیت کے انتخابی منشور میں انقلابی دفعات شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
👈 * 1973ء سے 1976ء تک جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان رسالے ’’ترجمانِ اسلام‘‘ کی مجلس ادارت میں آپؒ نے کام کیا۔
👈 * 1974ء میں آپؒ کی سرپرستی میں جمعیت طلبائے اسلام کے نوجوانوں نے ’’تحریک تحفظ ختم نبوت‘‘ میں بھرپور کردار ادا کیا۔
👈 * 1974ء میں ہی آپؒ کی سرپرستی میں جمعیت طلبائے اسلام کا ترجمان ’’عزم‘‘ سیریز کی شکل میں شائع ہونا شروع ہوا، جو اب تک نامساعد حالات کے باوجود اپنا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے۔
👈 * فروری 1987ء میں آپؒ نے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات اور ان کے سلسلے کے علما کی عظیم الشان انقلابی جدوجہد سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے اور دین اسلام کا انقلابی شعور پیدا کرنے کے لیے ’’تنظیم فکرِ ولی اللّٰہی‘‘ کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔
👈 * 15؍ جنوری 1988ء /1409ھ بروز جمعۃ المبارک کو خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور (انڈیا) میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ نے آپؒ کو سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
👈 * 1990ء میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے سلسلے کے علمائے ربانیین کے تحریر کردہ دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کے لیے ’’شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن‘‘ قائم کی۔ یہ فاؤنڈیشن اب تک علمائے ربانیین کے تحریر کردہ 70 کے قریب پمفلٹس شائع کرچکی ہے۔ جس سے نوجوان مستفید ہو رہے ہیں۔
👈 * 3؍ جون 1992ء کو آپؒ کے والدِ گرامی اور شیخ ثانی حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کا وصال ہوا۔ اس کے بعد سے سلسلۂ رائے پور کے فروغ کی تمام تر ذمہ داری آپؒ کے کاندھوں پر آگئی۔ اس ذمہ داری کو سرانجام دینے کے لیے آپؒ نے بڑا کام کیا۔
👈 * اس دوران آپؒ نے ہندوستان اور پاکستان میں سلسلۂ عالیہ رائے پور کے وابستگان کی ظاہری اور باطنی تربیت کے لیے مسلسل اسفار فرمائے۔ اسی حوالے سے خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور ضلع سہارن پور (انڈیا) میں آپؒ کا متعدد مرتبہ قیام ہوا۔
👈 * 14؍ ستمبر 2001ء کو آپؒ نے لاہور میں ’’ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ‘‘ قائم فرمایا، جس میں آپؒ کی سرپرستی میں نوجوانوں میں قرآنی علوم کے فہم و شعور کی جامع تعلیم و تربیت کا نہایت عمدہ اہتمام کیا گیا۔ اسی مرکز میں بیٹھ کر آپؒ نے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فروغ کے لیے بڑی جدوجہد اور کوشش فرمائی۔ پھر گزشتہ سالوں میں کراچی، سکھر، ملتان اور راولپنڈی میں بھی ادارہ رحیمیہ کے ریجنل کیمپسز آپؒ کی سرپرستی میں قائم ہوئے۔
👈 * 2001ء میں ہی ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ میں آپؒ کی سرپرستی میں دارالافتا قائم کیا گیا، جس میں دینی مسائل کے حوالے سے شریعتِ اسلام اور فقہ کی روشنی میں جید مفتیانِ کرام عوام الناس کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
👈 * 2002ء میں آپؒ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ سے الحاق کرنے والے مدارسِ دینیہ کا ایک بورڈ ’’نظام المدارس الرحیمیہ پاکستان‘‘ کے نام سے قائم کیا، جس میں ملک بھر کے پچاس سے ساٹھ کے قریب مدارس ملحق ہیں اور ان میں شب و روز حفظِ قرآنِ حکیم، تفسیر، حدیث، فقہ اور علومِ دینیہ کی تعلیم کا عمدہ نظام قائم ہے۔
👈 * 2004ء میں آپؒ کی سرپرستی اور نگرانی میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و افکار سے نوجوان نسل کو متعارف کرانے کے لیے ملک بھر میں ’’شاہ ولی اللہ سیمینارز‘‘ کے عنوان سے بڑے سیمینارز کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات اور جدوجہد و کوشش سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا گیا اور ان کے سلسلے کے سچے علمائے ربانیین کا تعارف کرایا گیا۔
👈 * 2007ء میں آپؒ کی سرپرستی میں جنگِ آزای 1857ء کے ڈیڑھ سو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں سیمینارز کا اہتمام کیا گیا۔ خاص طور پر لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، ملتان اور سکھر میں برعظیم پاک و ہند کی آزادی کی تحریک سے نوجوانوں کو متعارف کرانے کے لیے بڑے سیمینارز منعقد ہوئے۔
👈 * آپؒ کی تعلیم و تربیت سے جہاں ہزاروں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد فیض یاب ہوئی، وہاں باصلاحیت علما اور فضلا نے بھی آپؒ سے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں سلوک و احسان کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور باطنی فیضان اور نسبت کے حامل بنے۔ تربیت کے بعد آپؒ نے تیس حضرات کو اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا۔
👈 * رمضان 1367ھ /1947ء سے لے کر شوال 1429ھ / 2008ء تک، 63 سال تک آپؒ نے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے مشائخ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ، حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کے زمانے میں اور اپنے دورِ خلافت میں نمازوں کی امامت کرائی۔ شوال 1429ھ / 2008ء میں آپؒ عارضۂ قلب اور گھٹنوں کی تکلیف کے سبب معذور ہوگئے تو آپؒ نے راقم سطور کو امامِ نماز مقرر فرمایا۔
👈 * جنوری 2009ء سے آپؒ کی زیرسرپرستی ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور سے ماہنامہ ’’رحیمیہ‘‘ کا آغاز ہوا، جو گزشتہ 4 سالوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ مقررہ تاریخ پر قارئین کی رہنمائی کے لیے شائع ہوجاتا ہے۔
👈 * مئی 2009ء میں ’’رحیمیہ مطبوعات‘‘ کے نام سے نشر و اشاعت کا ایک ادارہ قائم کیا، جس میں علمائے حق کی کتابیں تحقیق کے ساتھ شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔
👈 * جولائی 2009ء سے آپؒ کی زیرسرپرستی ایک تحقیقی سہ ماہی مجلہ ’’شعور و آگہی‘‘ کا آغاز ہوا، جو اب تک اپنی تحقیقی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بڑے اہتمام کے ساتھ ہر سہ ماہی میں تسلسل کے ساتھ بروقت شائع ہو رہا ہے۔
👈 * 2009ء میں آپؒ نے اپنے خلفا اور متوسلین کی تربیت کے لیے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ عمرہ کے دوران حرم کی پاک سرزمین میں ان حضرات کی تربیت کا سلسلہ چلتا رہا۔ اسی دوران حرمین شریفین، بالخصوص جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ اور مدینہ یونیورسٹی کے اساتذۂ حدیث نے آپؒ سے سلسلۂ حدیث کی سند حاصل کی۔
👈 * آپؒ نے اپنی پوری زندگی پاکستان اور ہندوستان میں تعلیمی، تربیتی اور اصلاحی دورہ جات کا اہتمام رکھا۔ ہمہ وقت آپؒ نوجوانوں کی تربیت کے لیے اسفار کی صعوبت برداشت کرتے رہے۔ خاص طور پر آپؒ نے ہندوستان میں خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے 1999ء اور 2006ء تا 2009ء ہر سال مسلسل اسفار کیے اور وہاں قیام کیا۔
👈 * 2010ء میں آپؒ نے اپنے خلفا اور متوسلین کے ہمراہ اپنی زندگی کا آخری حج ادا فرمایا۔ اگرچہ اس سے قبل آپ کئی حج ادا کرچکے تھے، لیکن خلفا اور متوسلین کے اصرار پر باوجود ضعف اور کمزوری کے ان کی دل جوئی اور ان کی تعلیم و تربیت اور باطنی نسبت کی ترقی کے لیے یہ سفر حج فرمایا۔ اور اس دوران بہت کچھ باطنی فیوض و برکات سے اپنے متعلقین کو مستفیض فرمایا۔
👈 * 9؍ ستمبر 2012ء کو آپؒ کو دوسری دفعہ دل کا عارضہ لاحق ہوا اور اس کے بعد تقریباً 18 روز تک بیمار رہ کر مؤرخہ 8؍ ذی قعدہ 1433ھ/ 26؍ ستمبر 2012ء، بروز بدھ، بوقت صبح 9:35 پر تقریباً 90 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
👇
ماخوذ
ماہنامہ رحیمیہ
ستمبر اکتوبر 2012ءS
17/09/2024
https://rahimia.org/publications/september-2024/september-2024
ستمبر-2024ء | ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ادارہ رحیمیہ ماہنامہ مجلہ رحیمیہ۔ لاہور ماہ ستمبر 2024ء
05/09/2024
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 20:00 |
| Tuesday | 09:00 - 20:00 |
| Wednesday | 09:00 - 20:00 |
| Thursday | 09:00 - 20:00 |
| Friday | 09:00 - 20:00 |
| Saturday | 09:00 - 20:00 |
27/09/2025