Sakher Rasool
Mature love, excitement, unlimited fun
09/03/2026
01/09/2025
12/08/2025
05/12/2024
Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
11/11/2024
''لاہور لاہور ہے‘‘ کا جملہ عرصے سے ہم سنتے آئے ہیں۔ پنجابی کا ایک مقولہ ہے کہ جس شخص نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔
1961ء میں لاہور کی آبادی صرف 16 لاکھ تھی۔ اب ایک کروڑ 44لاکھ ہے‘
نیا لاہور پرانے لاہور کو کھا گیا ہے اور ایک عجیب دیوہیکل اور بے ہنگم شہر نے جنم لیا ہے جس میں اشرافیہ کی بستیاں اب بھی خوبصورت ہیں لیکن یہ بستیاں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین ہڑپ کر چکی ہیں۔
۔ پہلے یہاں ارزاں مگر اعلیٰ تعلیمی ادارے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہم تقریباً 100 روپے ماہانہ فیس دیتے تھے۔ لاہور میں لائبریریاں‘ کتب خانے‘ کھیلوں کے میدان عام تھے۔ مڈل کلاس تانگے‘ سائیکل اور بس کا استعمال عام کرتی تھی۔ ہمارے کالج میں طالب علموں کی اکثریت سائیکلوں پر آتی تھی۔ متعدد پروفیسر صاحبان بھی سائیکل کا استعمال کرتے تھے۔ یونیورسٹی گراؤنڈ‘ قذافی سٹیڈیم‘ منٹو پارک (اب گریٹر اقبال پارک) اور لارنس گارڈن کھیلوں کے معروف گراؤنڈ تھے۔ موہنی روڈ کے اکھاڑے نہ صرف آباد تھے بلکہ انٹرنیشنل لیول کے پہلوان بھی پیدا کرتے تھے۔ سموگ یا آلودگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
ایف سی کالج‘ سینٹ انتھونی اور کیتھڈرل سکول اعلیٰ پائے کے تعلیمی ادارے تھے۔
میلہ چراغاں کئی روز تک چلتا تھا۔ بسنت کا تہوار آتا تو آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سج جاتا۔ یہ رنگ موسم بہار کے رنگ تھے۔
موچی گیٹ میں سیاسی جلسہ ہوتا یا دینی خطاب‘ لوگ کثرت سے آتے تھے۔
برٹ انسٹیٹیوٹ گڑھی شاہو میں بیڈ منٹن بھی ہوتی تھی اور باکسنگ بھی۔
گریفن کلب میں ہفتے میں ایک دن ڈانس ہوتا تھا لہٰذا اس کا دوسرا نام ناچ گھر پڑ گیا تھا۔
ریلوے گالف کلب جم خانہ گالف کلب کے علاوہ تھی۔ پنجاب یونیورسٹی کی کرکٹ ٹورنامنٹ میں اکثر گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج فائنل میں ہوتے۔ یہ میچ یاد گار ہوتا تھا۔ دونوں جانب سے دلچسپ نعرے لگتے تھے۔ گورنمنٹ کالج والے نعرہ لگاتے 'گامے ماجے ہائے ہائے‘ تو اسلامیہ کالج والے جواب دیتے 'سرخی پاؤڈر ہائے ہائے‘۔ تین چار دن یونیورسٹی گراؤنڈ میں میلے کا سا سماں ہوتا تھا۔
اُس زمانے کا لاہور ایک غریب پرور شہر تھا۔ تانگے والا دن میں پندرہ بیس روپے کما کر بڑا خوش ہوتا تھا۔ پانچ چھ روپے میں وہ اپنے جانور کی سیوا کرتا۔ شام کو لکشمی چوک سے ایک روپے میں دال چاول کی پلیٹ کھاتا اور بارہ آنے کی ٹکٹ خرید کر کسی سینما میں اپنی پسند کی فلم دیکھتا۔ اسے سکرین کے بالکل سامنے بیٹھ کر فلم دیکھنا پسند تھا۔ اشرافیہ گیلری کا ٹکٹ لیتی تھی‘ جو دو روپے دس آنے کا ہوتا تھا۔
شہر میں درجنوں سینما گھر تھے۔ انڈین فلمیں 1965ء تک لاہور میں خوب چلتی رہتیں۔ دلیپ کمار کی فلم 'آن‘ رتن سینما میں لگی تو مہینوں تک چلی۔ ریگل اور پلازہ سینما صرف انگریزی فلمیں لگاتے تھے۔ بعد میں الفلاح اور اوریگا سینما بھی انگلش فلمیں دکھانے لگے۔ انگریزی کی فلمیں دیکھنے اشرافیہ کے پڑھے لکھے لوگ آتے تھے یا وہ طالب علم جو فرفر انگریزی بولتے بھی اور سمجھتے بھی تھے۔ دوسری قسم ان طالب علموں کی تھی جو ہماری طرح کے تھے‘ یعنی مشکل سے آدھے ڈائیلاگ سمجھ آتے تھے لیکن دوستوں کو متاثر کرنے کیلئے ضرور بتاتے تھے کہ انگلش فلم دیکھ کر آئے ہیں۔ انگلش فلمیں دیکھنے والے اکثر لوگ بیگمات کے ساتھ آتے تھے اور خوش لباس ہوتے تھے۔ اشرافیہ نے ابھی شلوار قمیص پہننا شروع نہیں کی تھی۔
لوگ پنجاب پبلک لائبریری کے علاوہ برٹش کونسل اور امریکن سنٹر بھی جاتے تھے۔ گرمیوں میں ٹھنڈے ٹھار امریکن سنٹر میں بیٹھ کر پڑھنے کا بڑا مزہ آتا تھا۔
سمن آباد کے بعد خال خال آبادی تھی۔ سکیورٹی حالات مکمل کنٹرول میں تھے۔
لاہور کی ادبی زندگی وائی ایم سی اے‘ پاک ٹی ہاؤس‘ کافی ہاؤس کے گرد گھومتی تھی۔ حلقۂ اربابِ ذوق کا ہفتہ وار اجلاس باقاعدگی سے وائی ایم سی اے میں ہوتا تھا۔
1965ء تک انڈین اخبار اور رسالے بھی آتے رہے۔ ان میں سے آئی اے جوہر کا فلم فیئر خاصا مقبول تھا۔ لاہور کی زندگی میں ایک فکری حسن تھا۔ ادبی محفلوں کے علاوہ لوگ مٹر گشت کرتے ہوئے بھی سیاسی اور ادبی مضامین پر بحث کرتے تھے۔
ریگل سینما کو جانے والی گلی کے آغاز میں ایک چائے کا کھوکھا تھا جس کے سامنے گاہکوں کے لیے مُوڑھے رکھے ہوئے تھے۔ اسے عرف عام میں کیفے ڈی مُوڑھا کہا جاتا تھا۔ یہاں ایک روپے کی ہاف سیٹ چائے منگوا کر لوگ گھنٹوں بیٹھتے تھے۔
تصوف کی پیاس بجھانے والے داتا صاحبؒ اور حضرت میاں میرؒ جاتے تھے۔
دینی مسائل سمجھنے والے مولانا مودودیؒ اور مولانا احمد علی (شیرانوالہ گیٹ) کی محافل میں جاتے تھے۔
گانے اور موسیقی کے رسیا ٹکسالی کے قرب و جوار کی گلیوں میں رات گئے جاتے تھے۔ لاہور میں چند مے خانے موجود تھے اور انہیں قانونی تحفظ حاصل تھا۔ زاہد اور رِند ایک ہی شہر میں رہتے تھے اور ایک دوسرے کو برداشت کرتے تھے۔
مال روڈ سے واپسی پر پان کھانا لازمی تھا۔ پان کے لیے مولا بخش اور انور پان والا مشہور تھے۔
بسکٹ اور پیسٹری کے لیے محکم دین اور خطائی کے لیے دہلی گیٹ والے خلیفہ مشہور تھے۔ دودھ دہی کی دکانیں اکثر پہلوانوں کی تھیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
54950
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 20:00 |
| Tuesday | 09:00 - 20:00 |
| Wednesday | 09:00 - 20:00 |
| Thursday | 09:00 - 20:00 |
| Friday | 09:00 - 20:00 |
| Saturday | 09:00 - 20:00 |