Advocate Umar Rajput
Get Service For Rapid Solution !!
We provide services in different types of litigation
✓ Family
✓Civil & agreements
✓Criminal case
Here provide you best and speedy ways to get remedy.
اہم ترین قانونی معلومات! فرد جرم عائد کرنا کسے کہتے ہیں فرد جرم کیسے عائد ہوتی ہے اور اس میں علاقہ مجسٹریٹ یا عدالت کس قسم کے سوالات کر کے ٹرائل کو اگے لے کر چلتی ہے۔فرد جرم دراصل سوالوں کا ایک خاکہ ہوتا ہے جو کہ ملزم کو عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا جاتا ہے جو اس پر ایف ائی ار ہوتی ہے اس کے متعلق سوالات کیے جاتے ہیں تفصیل اس ویڈیو میں دیکھیں
25/04/2026
1. ٹرائل کس سیکشن کے تحت لگتا ہے؟
فوجداری ٹرائل کا آغاز مختلف عدالتوں میں مختلف دفعات کے تحت ہوتا ہے:
مجسٹریٹ کی عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 241-A سے 250 CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
سیشن عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 265-A سے 265-N CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
جب پولیس دفعہ 173 CrPC کے تحت چالان (چاہے وہ مکمل ہو یا نامکمل) عدالت میں پیش کر دیتی ہے اور عدالت اس کا نوٹس (Cognizance) لے لیتی ہے، تو ٹرائل کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
2. کیا ٹرائل کے دوران تفتیش ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، ٹرائل شروع ہونے کے بعد بھی تفتیش جاری رہ سکتی ہے۔ قانون کی نظر میں چالان پیش کرنا تفتیش کے دروازے بند نہیں کرتا۔
دفعہ 173(8) CrPC: یہ دفعہ پولیس کو اختیار دیتی ہے کہ چالان جمع کروانے کے بعد بھی اگر کوئی نیا ثبوت یا گواہ سامنے آئے، تو وہ مزید تفتیش (Further Investigation) کر سکتی ہے۔
سپلیمنٹری چالان (بقیہ چالان): مزید تفتیش کے نتیجے میں پولیس جو نئی رپورٹ تیار کرتی ہے، اسے "بقیہ چالان" کہا جاتا ہے اور اسے ٹرائل کے دوران کسی بھی وقت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
3. تفتیش کب تک ہو سکتی ہے؟ (حدود و قیود)
تفتیش کے حوالے سے وقت کی کوئی آخری حد مقرر نہیں ہے، لیکن اس کے لیے کچھ اصول ہیں:
فیصلے سے پہلے تک: قانونی طور پر تفتیش اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک عدالت اپنا حتمی فیصلہ (Judgment) نہ سنا دے۔
عدالت کی اجازت: جب ٹرائل باقاعدہ شروع ہو چکا ہو، تو عام طور پر پولیس عدالت کو مطلع کرتی ہے کہ ہم مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
دوبارہ تفتیش (Re-investigation) بمقابلہ مزید تفتیش (Further Investigation): اعلیٰ عدالتوں (سپریم کورٹ) کے فیصلوں کے مطابق، پولیس "مزید تفتیش" تو کر سکتی ہے لیکن پورے کیس کی "دوبارہ تفتیش" (نئے سرے سے) کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات اور بعض اوقات اعلیٰ پولیس افسران یا عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
4. اہم قانونی نظائر (Case Laws)
PLD 2011 SC 616: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چالان پیش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تفتیش ختم ہو گئی۔ اگر نئے حقائق سامنے آئیں تو پولیس دفعہ 173(8) کے تحت مزید تفتیش کر کے اضافی ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
2002 SCMR 542: عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کے دوران بھی اگر تفتیشی ایجنسی کو لگے کہ کوئی بے گناہ پھنس گیا ہے یا اصل ملزم باہر ہے، تو وہ تفتیش جاری رکھ سکتی ہے۔
عدالتِ عالیہ (High Court)
سپریم کورٹ جب کسی ٹرائل کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے، تو اس کے لیے مخصوص وقت کا تعین کیس کی نوعیت اور عدالتی حکم پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے عمومی قانونی اصول اور اہم فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. ٹرائل مکمل کرنے کی مدت
عام طور پر جب ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کو ہدایت جاری کرتی ہے، تو وہ درج ذیل میں سے کوئی ایک مدت مقرر کرتی ہے:
3 ماہ (90 دن): زیادہ تر سنگین مقدمات میں عدالت 3 ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے۔
6 ماہ: پیچیدہ مقدمات میں جہاں گواہان کی تعداد زیادہ ہو، 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر سماعت (Day-to-Day Basis): اگر کیس بہت پرانا ہو یا ملزم کافی عرصے سے جیل میں ہو، تو عدالت روزانہ سماعت کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
2. قانونی دفعات (CrPC)
دفعہ 344 CrPC: یہ دفعہ ٹرائل کے التوا (Adjournment) سے متعلق ہے۔ اعلیٰ عدالتیں اکثر اس دفعہ کا حوالہ دیتی ہیں کہ ٹرائل میں بلاوجہ التوا نہ دیا جائے۔
آرٹیکل 10-A (آئینِ پاکستان): یہ ہر شہری کو "فیئر ٹرائل" اور جلد انصاف کا حق دیتا ہے۔
3. اہم عدالتی فیصلے (Judgments)
اعلیٰ عدالتوں نے بارہا ٹرائل کی مدت کے حوالے سے سخت احکامات جاری کیے ہیں:
الف: ٹرائل کی مدت اور ضمانت (2021 SCMR 651 - سپریم کورٹ)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ہائی کورٹ نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے کوئی وقت (مثلاً 4 ماہ) مقرر کیا تھا اور ٹرائل اس دوران مکمل نہیں ہوا، تو ملزم ضمانت (Bail) کے لیے دوبارہ رجوع کر سکتا ہے۔ عدالت نے اسے ملزم کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ب: روزانہ سماعت کا حکم (PLD 2017 SC 733)
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ وہ مقدمات جو ہائی کورٹ کی طرف سے "ٹائم باؤنڈ" (Time Bound) کیے گئے ہوں، ان کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور ٹرائل جج کو بلاوجہ التوا نہیں دینا چاہیے۔
ج: ٹرائل جج کی ذمہ داری (2019 YLR 1242 - لاہور ہائی کورٹ)
لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ کے دیے گئے وقت کے اندر فیصلہ نہیں کر پاتی، تو ٹرائل جج کو ہائی کورٹ سے باقاعدہ "وقت میں توسیع" (Extension of Time) کی درخواست کرنی چاہیے، ورنہ اسے عدالتی حکم کی عدولی تصور کیا جا سکتا ہے۔
4. اگر ٹرائل مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ٹرائل لیٹ ہو رہا ہو، تو آپ کے پاس یہ قانونی راستے موجود ہیں:
درخواست برائے تعمیلِ حکم (Implementation Petition): اسی ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کریں جس نے حکم دیا تھا، تاکہ ٹرائل کورٹ سے جواب طلبی کی جائے۔
ضمانت کی نئی بنیاد: اگر ملزم جیل میں ہے، تو وقت گزرنے کو "تازہ گراؤنڈ" (Fresh Ground) بنا کر دوبارہ ضمانت کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
توسیع کی مخالفت: اگر استغاثہ (Prosecution) تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، تو عدالت سے ان کے گواہان کا حقِ شہادت ختم کرنے کی استدعا کی جا سکتی ہے۔
قانون میں کوئی ایک فکس مدت نہیں ہے، لیکن ہائی کورٹ کا حکم حتمی ہوتا ہے۔ عموماً 3 سے 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر اس دوران ٹرائل مکمل نہ ہو، تو ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور ٹرائل جج کو ہائی کورٹ میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔
جب اچانک آپ کو پتہ چلے یا تھانہ سے کال آئے کہ اپ کے خلاف ایف آئی آر ہو گئی ہے تو سب سے پہلے آپ کو کیا کرنا چاہیے یہ ویڈیو دیکھیں۔
02/04/2026
وہ نایاب لوگ حاضر ہوں جنہوں نے تختی، سلیٹ، ٹیلیفون، انٹینا، 3310 اور ٹچ موبائل سے لے کر AI تک کا سفر دیکھا ہے۔
Effects of Love Marriage|Fight of Saas & Bahu 😋
゚ U.S. Army
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اپنے اٹامک ہتھیار پروگرام کا ختم نہ کیا تو تاریخ کی سب سے بڑی بمباری کی جائے گی، دوسری طرف اسرائیل کے پے در پے حملوں کی وجہ سے ایران میں 1300 سے زائد شہادتیں ہو چکی ھیں!! ایران اب کیا کرنے والا ھے ؟؟ اہم تفصیل
09/03/2026
انسان کی حقیقت 🌹
゚
امریکہ نے ایران پر شدیدحملہ کرنے کا واضح پلان دے دیا ،یہ جنگ تیسری عالمی کی طرف اشارہ گے اور بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی، سب سے اہم بات پاکستان کِس طرف کھڑا گے۔
23/02/2026
اگر کوئی آپ کو مارنے یا آپ کی پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دے تو سیکشن 506 پاکستان پینل کوڈ کے تحت کاروائی کی جا سکتی ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore