Dast e Hunar

Dast e Hunar

Share

دست ہنرسے۔۔۔۔۔زینتِ مکان تک شاندارروایت

19/06/2026

عمر عمر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

17/06/2026

یکم محرم الحرام ۔ یوم شہادت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ❣️

15/06/2026

آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

14/06/2026

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ❣️

13/06/2026

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❣️

12/06/2026

جمعہ مبارک ❣️

11/06/2026

ڈاکٹر صاحب 😂

Photos from Dast e Hunar's post 10/06/2026

ایک خوشگوار ملاقات
محمد احمد رضا انصاری صاحب بچوں کے ادب کے ایک عمدہ اور باصلاحیت لکھاری ہیں ۔ جن کی متعدد کہانیاں اور ناول شائع ہو چکے ہیں۔ ان سے میرا پہلا تعارف فیس بک کے توسط سے ہوا ۔ اور جب معلوم ہوا کہ وہ ہمارے شہر کوٹ ادو سے تعلق رکھتے ہیں تو ان سے ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی۔ پہلی ملاقات سرِراہ سلام دعا اور مختصر گفتگو تک محدود رہی ۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سلائی کا کام بھی کرتے ہیں تو یوں اپنا سوٹ سلوانے کے سلسلے میں ان کے پاس جانے کا موقع ملا اور ان سے تفصیلی ملاقات و گفتگو ہوئی۔
گفتگو کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ماشاءاللہ انکی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور نویں کتاب اشاعت کے مراحل میں ہے ۔ان کی کتابوں کا سرسری مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ بچوں کی تربیت اور کردار سازی پر مبنی کہانیوں سے لے کر دلچسپ ناولوں تک ان کی تحریروں میں محنت اور خلوص نمایاں نظر آیا۔ میں ان سے دو کتابیں لے کر آیا۔ ایک ناول (جزیرے کا اغوا) اور دوسری بچوں کے لیے اصلاحی کہانیوں پر مشتمل کتاب (امانت کی واپسی) .
ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ آج تک میں نے جتنے ناول، ڈائجسٹ اور کہانیاں پڑھیں ہیں وہ یا تو کرایہ پر حاصل کیں یا دوستوں سے لیں یا موبائل پر پڑھیں۔ بچپن میں بچوں کا اسلام ہو یا مسلمان بچے
بعد میں عمران سیریز ہوں یا طاہر جاوید مغل صاحب کے ناول ۔ جاسوسی ڈائجسٹ ہوں یا سسپنس ۔خرید کر پڑھنے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا۔ لیکن اس بار میں نے اپنا یہ پرانا ریکارڈ توڑ دیا اور (امانت کی واپسی) احمد رضا انصاری صاحب سے خرید کر حاصل کی۔ انصاری صاحب تو محبت میں یہ کتاب بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے مگر میں نے اصرار کرکے کتاب نہ خریدنے کا ریکارڈ توڑنا مناسب سمجھا 😅
البتہ ناول (جزیرے کا اغوا) انہوں نے مجھے مطالعے کے لیے دیا ہے تاکہ پڑھنے کے بعد واپس کر دوں۔ ناول کا کچھ حصہ پڑھ چکا ہوں اور ابتدائی تاثر بہت اچھا ہے۔
اللہ تعالیٰ محمد احمد رضا انصاری صاحب کے قلم میں مزید برکت عطا فرمائے اور انہیں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایسی ہی مفید اور معیاری تحریریں پیش کرتے رہنے کی توفیق دے۔
رانا احسان اللہ

09/06/2026

سبحان اللہ العظیم ❣️

09/06/2026

محفل میں نفس کشی پر گفتگو ہورہی تھی ہمارے ایک جیالے عالم فاضل ڈاکٹر دوست معلومات کے دریا بہا رہے تھے ۔
’’قرون وسطیٰ میں عیسائی راہبوں کا ایک گروہ "
فلاجیلیشیا " (Flagellants) کہلاتا تھا وہ اپنے گناہوں کے کفارے کے لیے سرِعام خود کو کوڑے مارتا تھا‘‘۔
یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب نے مجلس پر طائرانہ نظر ڈالی اور شرکاء کے چہروں پر اپنی علمیت کے رعب کا جائزہ لینے کے بعد گویا ہوئے
’’ ہندو مذہب میں بھی روح کو پاک کرنے کے لیے، مایا جال سے مکتی کے لئے ’’منش‘‘ یعنی انسان، جسم کو شدید تکالیف سے گزارتا ہے۔کوئی سادھو اور یوگی برسوں تک ایک ٹانگ پر کھڑا رہتا ہے اور بعض اپنا ایک بازومستقل ہوا میں معلق رکھتے ہیں جس سے ان کا وہ بازو سوکھ سڑ کر کسی کام کا نہیں رہتا۔‘‘ یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب نے سگریٹ کا لمبا کش لیا اور کمرے میں دھویں کے مرغولے چھوڑتے ہوئے بولے ’’اس کام میں جین مت یا جین مذہب والے بھی خوب ہیں ۔ ان کا ایک فرقہ ہے ’’دگامبرہ‘‘ ،اس کے سادھو کسی شے کی ملکیت نہیں لیتے اس عدم ملکیت کے فلسفے میں وہ لباس کو بھی شامل کرتے ہیں وہ ننگ دھڑنگ رہتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے داڑھی مونچھوں بھنووں، سر کے بالوں کو نوچ نوچ کر خود کو ایذا دیتے رہتے ہیں۔۔۔‘‘
ڈاکٹر صاحب مزید مثالیں دینے کے موڈ میں تھے کہ سیلانی کی رگ شرارت پھڑکی جھٹ سے کہا لیکن جو نفس کشی کا کا م ہمارے یہاں ہوا ہے وہ سب سے ہٹ کر ہے ‘‘
ڈاکٹر صاحب ہی نہیں سب ہی چونک کر سیلانی کی جانب دیکھنے لگے
’’ہمارے گلگت بلتستان والے دوستوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر فلاجیلشیا اور جین مت کے سادھوؤں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اب زرا جیالی حکومت آنے دیں ایسی نفس کشی ہوگی کہ جین مت والے کیا بیچتے ہیں ۔۔۔۔۔ ‘‘
سیلانی کی اس بات پر لگنے والا قہقہ غنیمت تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی مغلظات دبا گیا ،ڈاکٹر صاحب غصے سے لرزتے کھڑے ہوئے اور ہتھیلی پھیلا کر سیلانی کی طرف کر کے مجلس سے اٹھ کر چل دیئے،سیلانی اور دوستوں نے بڑی مشکل سے جپھی ڈال کر انہیں روکا اور صوفے پر دھکا دے کر بٹھایا ڈاکٹر صاحب منہ بنا کر بیٹھ تو گئے لیکن اس کے بعد نفس کشی پر قسم لے لیں جو ایک جملہ کہا ہو پیشانی پر بل ڈالے سگریٹ پھونکتے رہے اور سیلانی شرارتی انداز میں بائیں آنکھ کا گوشہ دبا کر انہیں دیکھتا رہا دیکھتارہا اور دیکھتا چلا گیا۔
Copy from kohati

Want your business to be the top-listed Shop in Kot Addu?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address

Noor Shah Road
Kot Addu