Muhammad Sabir
subscribe my YouTube channel, for new lectures and Islamic content
https://www.youtube.com/@ProSabir1
14/02/2025
Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
28/10/2024
*جب ایک عورت بے پردہ ہو کر نکلتی ہے💕*
*تو عزت کی نگاہ سے کون دیکھتا ہے؟🔗*
*جب فرشتے ہی لعنت کردے پھر انسان کے اندر تو شیطان ہے💯*
*خود اندازہ فرمائیں کس کس کی گندی سوچوں کی محور بنتی.
28/10/2024
*✍🏻ہرچیز کا متبادل مل جائے گا لیکن اللّٰہ کی محبت کا متبادل کبھی بھی نہیں مل سکتا اللّٰہ کی محبت پر کمپرومائز نہ کریں...!!*
*آخرت میں ہم چیخیں گے کہ کاش سب سے زیادہ محبت اللّٰہ سے کر لیتے*...!
28/10/2024
. شیطان...!
بس آج آخری بار گناہ کر لو پھر نیک بن جانا...پھر توبہ کر لینا...!
ہمارا کرنے والا عمل...!
اور اگر یہ گناہ ہی آخری ہوا...! عزرائیل علیہ السلام آ گئے روح نکالنے...معافی کی مہلت نہ ملی تو...!!!؟😢💔
26/10/2024
درود شریف کا اہتمام کریں۔
26/10/2024
*✍🏻سب سے قیمتی چیز جو واپس نہیں آسکتی، وہ ہے وقت۔*
وہ سال اور مہینے جو ہم نے دوسروں کو خوش کرنے، ان کی توقعات پر پورا اترنے یا اپنی ذات کو پس پشت ڈالنے میں ضائع کیے ہیں،
ان کا ازالہ ممکن نہیں۔ یہ وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
*اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھیں،*
اپنی خوشیوں اور اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھیں، تاکہ زندگی کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
ہمیں اپنی زندگی میں
*دوسروں کی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنی خوشی اور مقصدیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ضائع شدہ وقت کی تلافی ممکن نہیں۔*💛
26/10/2024
25/10/2024
*چہرہ اے مصطفٰیﷺ اصل قُرآن ہے🫶🌹*
*عاشقوں کی تِلاوت پہ لاکھوں سلام*🌼❤
*صَلَّی اللّٰهُ عَلَیہِ وَآلِہِ وَسَلَّم*♥️
25/10/2024
*غیبت کے بارے میں بہت مؤثر*
*▪️غیبت کرنا ایسا ہے جیسے*
*تم محنت کرتے ہو اور خود کو عبادات اور نیک اعمال میں مشغول رکھتے ہو ، کسی اور کی بات سننا اور کہنا ایسا ہی ہے جیسے بدقسمتی سے کوئی اور آتا ہے اور تمہاری نیکیاں لے جاتا ہے... (بغیر کسی محنت اور مشقت کے) اور تمہیں ان نیکیوں کی شدید ضرورت ہوتی ہے!*
*"اے اللہ! میرے اعمال نامے کو علیین میں رکھ اور میری زبان کو لوگوں کے بارے میں غیبت سے محفوظ رکھ۔"*
`تعارف لفظ اہلبیت`
آخری قسط
*آل محمدﷺ کے معنیٰ*
🔶آل محمد ﷺ سے مراد صرف آپﷺ کے خاندان والے ہی نہیں ؛ بلکہ اس میں وہ سب لوگ آجاتے ہیں جو آپﷺ کے پیروکار ہوں اور آپﷺ کے طریقے پر چلیں خواہ وہ آپﷺ کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ۔
۔۔۔امام نوویؒ لکھتے ہیں:
واختلف العلماء فی آل النبی علی اقوال اظہرہا وھو الاختیار الازہری وغیرہ من المحققین انہم جمیع الامۃ والثانی بنوہاشم وبنو المطلب والثالث اہل بیتہ وذریتہ
(صحیح مسلم شرح نووی، باب الصلاۃ علی النبی)
(علماء نے آل نبیﷺ کے معنوں میں اختلاف کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کئی اقوال وارد ہیں ، ان میں راجح قول وہ ہے جسے ازہری اور دوسرے محققین نے اختیار کیا ہے کہ آل سے مراد تمام امت ہے)۔
اسی قول (راجح) کو امام مالکؒ، حافظ ابن عبدالبرؒ، احناف اور امام ابن تیمیہؒ وغیرہ نے بھی اختیار کیا ہے۔
۔۔۔صحابئ رسول حضرت جابر بن عبداللہؓ ان اولین لوگوں میں سے ہیں جن سے یہ قول منقول ہے۔ چنانچہ امام بیہقیؒ اور سفیان ثوریؒ نے حضرت جابرؓ سے یہی قول نقل کیا ہے۔
۔۔۔امام شافعیؒ کے بعض اصحاب نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے جلاء الافہام لابن قیم، باب السادس، فصل: وھل یصلی علی آلہ منفردین)۔
اسی طرح عرب اسکالر شیخ ابن عثیمینؒ نے فرمایا: اذا ذکر الآل وحدہ فالمراد جمیع اتباعہ علی دینہ (مجموع فتاویٰ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمینؒ، باب صلاۃ التطوع،156، سعودی عرب، 1999)
(جب لفظ آل تنہا مذکور ہو تو اس سے مراد جملہ متبعین دین ہیں )۔
⭕ درودابراہیمی میں آل محمدﷺ سے اگر صرف بنو ہاشم و بنو مطلب مراد لیے جائیں جو نسباً آل محمد ﷺ ہیں ، تو اس میں نیک و بد اور مؤمن و کافر سب شامل ہو جائیں گے۔ دوسری طرف آل ابراہیم میں مغضوب وضالین بھی شریک ہوجائیں گے جو نسباً آل ابراہیم ہیں؛ حالانکہ قرآن میں فرمایا گیا:
اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (سورۂ آل عمران: آیت نمبر 68)
ابراہیم کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، نیز یہ نبی (آخر الزمان) اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائے ہیں، اور اللہ مؤمنوں کا کارساز ہے۔
🔹 لہٰذا آل ابراہیم (علیہ السلام) وآل محمد ﷺ میں صرف وہ لوگ شامل ہیں جو متبعِ شریعت ہیں ، نہ کہ وہ جو دین میں غلو کرتے ہیں اور آیات الٰہیہ میں تحریف کرتے ہیں؛ بلکہ آل میں صرف متبع رسولﷺ شامل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس پر جسے اللہ نے اتارا اور اپنے گزرے ہوئے بھائیوں کے لیے یہ دعا کرتے ہیں :
رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا (سورۃالحشر آیت نمبر 10)
وہ یہ کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہماری بھی مغفرت فرمائیے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔
تمام شُد .
`*تعارف لفظ اہلبیت*`
قسط 6️⃣
*لفظ اہل اور آل میں فرق:*
کسی شخص کے اہل بیت وہ ہوتے ہیں جو اس کے قریبی اور رشتہ دار ہوں ، خواہ وہ اس کے متبع ہوں یا نہ ہوں اور آل وہ کہلاتے ہیں جو کسی کے متبع ہوں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔
دوسری بات یہ کہ آل عام لوگوں کی اولاد کے لیے استعمال نہیں ہوتا، یہ صرف شاہانِ مملکت اور عظیم شخصیات کی اولاد اور ان کی نسل یا ان کے اصحاب ومتبعین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
🔸 *درود ابراہیمی میں آل کے معنی:*
نماز میں پڑھے جانے والے درود میں آل محمّد ﷺ وآل ابراہیم (علیہ السلام) کا مطلب اور اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لینا مناسب ہے کہ غیر نبی پر درود بھیجنا جائز ہے یا نہیں ؟
*درود علیٰ غیر النبی:*
🔸صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ترجمۃ الباب قائم کیا: ھل یصلی علی غیرالنبی (کیا غیرنبی پر درود بھیجا جاسکتا ہے؟) اور پھر اس کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں :
عن ابن ابی اوفٰی قال کان اذا اتی رجل النبی ﷺ بصدقۃ قال اللّٰہم صل علیہ فاتاہ ابی بصدقۃ فقال اللّٰہم صل علی آل ابی اوفی (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ھل یصلی علی غیرالنبی)
(حضرت ابن ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس جو کوئی صدقہ لے کر آتا تو آپ ﷺ فرماتے، اے اللہ اس پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما۔ اسی دوران میرے والد (ابو اوفی) بھی صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ آل ابی اوفی پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما)۔
🔹 اسی طرح امام ابوداؤد رحمۃ الله نے ترجمۃ الباب قائم کیا:
الصلاۃ علی غیرالنبی۔
اس باب کے تحت امام ابوداؤد یہ حدیث لائے ہیں :
عن جابر بن عبد اللّٰہ ان امرأۃ قالت للنبی صل علیّ و علی زوجی فقال النبی وعلی زوجک (ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، (باب تفریع ابواب الوتر) باب الصلاۃ علی غیرالنبی) (ایک عورت نے کہا کہ میرے اور میرے شوہر کے لیے دعاء رحمت فرمائیں ۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تم پر اور تمہارے خاوند پر رحمت نازل فرمائے)۔
⭕ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں حضورﷺ کے سوا دوسروں پر بھی درود بھیجنا جائز ہے؛ لیکن مستقلاً اور علیحدہ طور پر درود علی غیرالنبی کے سلسلہ میں اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ درست نہیں ۔ یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور احناف سے منقول ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: ما اعلم الصلاۃ ینبغی علی احد من احد الا علی النبی (فتح الباری، شرح صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ھل یصلی علی غیرالنبی) (رسول اللہﷺ کی ذات مبارک کے سوا کسی پر بھی تنہا درود پڑھنا درست نہیں)۔
جاری ہے ....
Click here to claim your Sponsored Listing.