Smart Click
This Page is created to let every one know about this great opportunity to show their talent, to promote this event so that no one remain unaware of Govt.
04/03/2023
𝐀𝐦𝐚𝐳𝐨𝐧 𝐅𝐫𝐞𝐞 𝐃𝐞𝐦𝐨 𝐂𝐥𝐚𝐬𝐬 𝐨𝐧 𝐙𝐨𝐨𝐦 Today 𝟖:𝟎𝟎𝐏𝐌 - 𝟗:𝟎𝟎𝐏𝐌
Date: March 4, 2023 (Saturday)
𝐖𝐡𝐚𝐭 𝐲𝐨𝐮 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐢𝐧 𝐓𝐡𝐢𝐬 𝐃𝐞𝐦𝐨 𝐂𝐥𝐚𝐬𝐬:
• What is AMAZON Business?
• How can you start Amazon From Pakistan?
• How much you can earn from AMAZON?
• How to start an Amazon business without investment?
• How you can build your own brand on Amazon?
• How to Find Top Selling Products?
• How can sell your skill on Upwork and other platforms ?
Zoom meeting details.
Topic: Amzon Demo class
Time: Mar 4, 2023 08:00 PM Asia/Karachi
Join Zoom Meeting
https://us04web.zoom.us/j/71000275584?pwd=wS689DxD6GoiRsh48GTfsmWu9P5Zon.1
Meeting ID: 710 0027 5584
Passcode: 5nC372
🔊🔊 join our whatsapp group for free webinar, training updates, Promotions, offers, earning methods and many more... link: https://chat.whatsapp.com/IZftulYVBcs9rmNLsO2BBD
𝐅𝐨𝐫 𝐅𝐮𝐫𝐭𝐡𝐞𝐫 𝐃𝐞𝐭𝐚𝐢𝐥𝐬 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐚𝐜𝐭 𝐔𝐬 call/whats app
0321-9742426
25/02/2023
>>We Offer Training Programs
02/01/2023
Opportunities For Uetians - Part time trainer/tutor - Project based positions
We are hiring Part time trainer/tutor & Project based positions
Designing and development
>Web Designing
>wordpress
>Android App
>Graphic Designing
Other Positions
>Content Writer
>Search engin optimizer
>E-commerce, Freelancer, >Upwork and fiver specialist
Send your cv at [email protected]
Last date for apply saturday, 28 january 2023
Looking forward to the kind support and cooperation in this matter for an effective & efficient Headhunting.
Thank you & Best Regards
04/10/2022
50 % discount all courses, limited time offer
registered yourself ----> https://forms.gle/41scQBpxk9DxvcKt5
30/09/2022
For registration click >>>>
https://forms.gle/XU6aEfQXJu2Eg6Vx7
27/09/2022
Join our courses apply now
https://forms.gle/vRjTTVBiRYZFMcCt8
21/09/2022
Have you tried this new feature of facebook?
31/08/2022
کالاباغ ڈیم ۔۔۔ اب نہیں تو کب۔۔۔( تاریخ جغرافیہ افادیت اور اعتراضات)
ایک عالمی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان اگلے دس سال میں پانچ ڈیم نہیں بناتا تو آگے ہونے والی گلوبل وارمنگ اور گلیشیر پگھلنے (یاد رہے دنیا کہ پانچ بڑے گلیشئیرز میں سے چار پاکستان میں ہیں) کی وجہ ملک ڈوب جائے گا۔۔۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس پانی سٹوریج کپیسٹی صرف تیس دن جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی سٹوریج کپیسٹی 480 دن ہے... یعنی کے اگر آبی قلت پیدا ہو جاتی ہے تو بھارت 480 دن تک پانی کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔۔۔ جبکہ پاکستان صرف 30 دن.. بھارت نے 70سال میں 54 چھوٹے بڑے ڈیم بنائے۔۔۔ جبکہ پاکستان میں 1960 کے بعد کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا گیا۔۔۔
اچھا مان لیجیئے اگر آج کالاباغ ڈیم موجود ہوتا تو خبریں کچھ اس طرح ہوتیں تربیلا ڈیم مکمل بھر چکا ہے۔۔۔ جبکہ کالاباغ ڈیم میں ابھی 23 فٹ پانی کی گنجائش باقی ہے۔۔۔
جی میرے بھائی کالاباغ ڈیم کی کپیسٹی ستائیس لاکھ کیوسک تک ہے۔۔۔ ایک قومی منصوبہ جو اناؤں کی نظر ہوگیا۔۔۔ چلیں پہل سے شروع کرتے ہیں۔۔۔۔
کالاباغ ڈیم کا نام تو آپ نے اکثر سنا ہو گا.... لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ آپ میں سے اکثریت نے اس کے اتنا قریب سے کبھی دیکھا نہیں ہوگا.... اور نہ کبھی تفصیل سے پڑھا ہوگا۔۔۔
جغرافیہ کی بات کی جائے تو دریائے سوات جوکہ کالام سے نکلتا ہے۔۔۔ جب کہ دریائے کابل افغانستان سے۔۔۔ یہ دونوں دریا سارا سال بہتے ہیں۔۔۔ اٹک کے قریب پہنچ کر دونوں دریا ، دریائے سندھ میں مل جاتے ہیں ۔۔۔ اٹک سے کالاباغ تک پانی کو ذخیرہ کرنے کی کوئی جگہ موجود نہیں۔۔۔ کالاباغ ڈیم سائٹ ایک قدرتی بنا بنایا ڈیم ہے۔۔۔۔ اس کے دونوں اطراف بلند و بالا پہاڑ ہیں۔۔۔ اسی لیے اس پر لاگت کم آنی ہے۔۔۔ محض چار سال کی مدت میں مکمل ہو سکتا ہے۔۔۔ یہ ڈیم کالاباغ ضلع میانوالی سے چند کلومیٹر اوپر پیر پکائی کے مقام پر بننا تھا۔۔۔
1953 پہلی بار اس پر غور کیا گیا... 1953 میں ماہرین کی ایک ٹیم پاکستان میں ڈیم بنانے کے حوالے سے آئی ۔۔۔ جس نے تربیلا اور کالاباغ کی فزیبلٹی رپورٹ حکومت کو دی۔۔۔ انہوں نے ڈیم کے لئے سب سے موزوں مقام کالاباغ ڈیم کی موجودہ سائٹ بتائی ۔۔۔ اسکے بعد واپڈا نے پاکستانی اور بیرونی ممالک کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائی جس نے کالا باغ ڈیم کی فیزیبلیٹی رپورٹ مرتب کر کے صوبوں کو پیش کی۔ جس پر صوبوں کی طرف سے کوئی اعتراض نہ اٹھا۔۔۔ مگر ایوب خان کے دور میں کالا باغ پر تربیلا ڈیم کو فوقیت دی گئی۔۔۔ اور یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔۔۔ اور ایوب خان کی حکومت ختم ہوگئی ۔۔۔
اس کے بعد کوئی اتنی پائیدار حکومت ناں آسکی۔۔۔ یحیی خان ملک ٹوٹنے جوڑنے میں مصروف رہے۔۔۔ اور بھٹو اندرونی معاملات میں الجھ پڑے۔۔۔ پھر ضیاء کا دور شروع ہو۔۔۔ یاد رہے اس سے پہلے کہیں سے بھی مخالفت کی آوازیں نہیں اٹھیں۔۔۔
1980 میں حکومت پاکستان کی درخواست پر ورلڈ بینک کے ماہرین کی ٹیم پھر سے پاکستان آئی انہوں نے فزیبلٹی رپورٹ پیش کی ۔۔۔ 1984 میں ضیإالحق نے کالا باغ ڈیم کا کام شروع کر دیا۔۔۔ ڈیم کا کام ایک برطانوی کمپنی کو دیا گیا ۔۔۔۔ کمپنی کے علم میں یہ بات آئی کہ 1929 میں ایک سیلاب آیا تھا ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے نوشہرہ اور مردان ڈوب گۓ تھے۔۔ برطاغ کمپنی نے نوشہرہ اور مردان کا کئی روز تک جائزہ لیا۔۔۔ اور سیلاب کی نوعیت جاننے کے لیے نوشہرہ شہر کے گھروں پر نشان لگانا شروع کیئے۔۔۔۔
اس وقت افغان جنگ کی وجہ سے اے این پی ضیإالحق کی شدید مخالفت کررہی تھی۔۔۔۔ انہوں نے یہ افواہ پھیلا دی اگر کالاباغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ شہر پانی میں ڈوب جاۓ گیا۔۔۔ اور یہ گورے اسی سلسلہ میں نشان لگارہے ہیں اتنے تک ڈوبے گا۔۔۔ مخالفت یہاں سے شروع ہوگئی۔۔۔ یوں کالا باغ ڈیم کی تعمیر پھر سے التواء میں پڑ گٸ ۔۔۔۔
1991 میں پھر پانی کی تقسیم کے ایک معاہدہ میں تمام وزرائے کو اپنی صوابدید پر نمائندہ وزیر کا انتخاب کرنے کا موقع دیا گیا۔۔۔ جس کے لئے پنجاب کی طرف سے وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کے ساتھ انکے وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی، سندھ کی طرف سے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کے ساتھ ان کے وزیر قانون سید مظفر شاہ، سرحد کی طرف سے وزیر اعلیٰ میر افضل خان کے ساتھ انکے وزیر خزانہ محسن علی خان اور بلوچستان کے طرف سے وزیر اعلیٰ میر تاج محمد جمالی کے ساتھ انکے ہوم منسٹر ذوالفقار مگسی نے نمائندگی دی گئی۔۔۔
پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے 21مارچ 1991 کے اجلاس میں باقاعدہ منظور کیا۔۔۔ اور پانی کے اس تاریخ ساز معاہدے میں چاروں صوبوں کے درمیان اعتماد کی بہترین فضا قائم ہوئی۔۔۔ یہ طے پایا گیا کہ دریائے سندھ اور دیگر دریاﺅں پر جتنے بھی ممکنہ ڈیم اور واٹر سٹوریج بنائے جا سکتے ہیں اس کی اجازت دی جاتی ہے۔۔۔
مشترکہ مفادات کونسل نے 8ممبران کی کمیٹی بنائی جس میں سے7 ممبران نے ڈیم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اس کو پاکستان کے لئے نہایت مفید قرار دیا۔۔۔ پانی کی تقسیم اور کالاباغ ڈیم منصوبے کی منظوری کے بعد میر افضل خان وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد نے کہا پہلے صوبہ سرحد کی 18 لاکھ ایکڑ اراضی آبپاشی کے ذریعے کاشت ہوتی تھی۔۔۔ اب اس معاہدہ کی بدولت ہماری مزید 9لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی جس سے گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوگا۔۔۔
اے این پی کے قائد خان عبد الولی خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ میں پانی کے معاہدے سے مکمل مطمئن ہوں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صوبوں نے اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا ہے۔۔۔صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی بدولت ہمیں 4.5ملین ایکڑ پانی مزید ملے گا۔۔۔ صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ہم پہلے تربیلا اور منگلا ڈیم کی وجہ سے صرف 6 لاکھ ایکڑا راضی سیراب کر رہے تھے۔۔۔ لیکن اب اس ڈیم کی بدولت ہماری 16لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔۔۔
ڈیم سائیٹ پر 1984 میں کافی زیادہ کام ہوچکا تھا۔۔ ابھی بھی سائیٹ پر جاکر دیکھیں تو رہائشی کالونیاں بنی ہوئی ہیں ۔۔۔ مشینری لگی ہوئی ہے۔۔۔ کروڑوں روپے کے پائپ پہنچ چکے تھے۔۔۔۔ اس کے علاؤہ ڈیم سائٹ پر موجود پہاڑ کے دونوں اطراف بڑے بڑے پلر تک کھڑے کر دیئے گئے تھے ۔۔۔۔ اس افواہ کی وجہ سے کروڑوں روپوں کا قیمتی سامان زنگ آلود ہوکر آج بھی ناکارہ پڑا ہے۔۔۔
ڈیم کے مجوزہ ڈیزائن کے مطابق اسکی اونچائی تقریباً 80 میٹر، لمبائی 3350 میٹر جبکہ بجلی کی پیداوار 3600 سے 5200 سو میگاواٹ ہوتی....اسکا تخمینہ لاگت 1984 میں 5 ارب ڈالر تھا۔۔۔ جو اب بڑھ کر 20 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔۔۔۔ ہر سال اس سے زیادہ نقصان پنجاب سندھ اور کے پی میں مون سون کی بارشوں سے ہوجاتا ہے۔۔۔ ایک اندازے کے مطابق 2010 کے سیلاب میں نقصان کا تخمینہ 43 ارب ڈالر تک تھا۔۔۔ مطلب اس نقصان کے آدھے میں ہم ڈیم بنا سکتے ہیں۔۔۔۔
اس ڈیم سے کے پی کے کی 7 لاکھ سے 10لاکھ سے ایکڑ اراضی سیراب ہو گی۔۔۔۔ جبکہ سندھ کی 10 لاکھ سے 12 لاکھ ایکڑ اراضی اس سے سیراب ہو سکے گی۔۔۔
یہ تو تھی تاریخ، افادیت اور جغرافیہ اب بات کرتے ہیں اعتراضات پر ۔۔۔پختون قوم پرستوں کا اعتراض صرف ایک ہی ہے کہ اس سے نوشہرہ، صوابی ، پبی اور جہانگیرہ کا علاقہ ڈوب جائے گا۔۔۔۔ جس کے دلیل میں انکے پاس وہی ضیاء الحق کے دور میں مکانات پر لگائے گئے نشانات کا پروپیگنڈہ ہی ہے۔۔۔یہ جھوٹ اس شدت سے پھیلایا گیا ہے کہ کوئی دوسری بات سننے کو تیار نہیں۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم نوشہرہ سے 130 کلومیٹر دور ہے اور نشیب میں ہے ۔۔۔ اگر یہ ڈیم بھر بھی جائے تب بھی نوشہرہ اس سے 60 فٹ اونچائی پر ہو گا۔۔۔ ڈاکٹر شمس ملک جوکہ سابق چیئرمین واپڈا اور جی ایم تربیلا ڈیم رہے ہیں۔۔۔ انہوں نے پختون قوم پرستوں کو کالاباغ ڈیم پر مناظرے کا چیلنج دے رکھا ہے۔۔۔ آج تک کسی ایک پختون قوم پرست نے چیلنج ایکسپٹ نہیں کیا۔۔۔
سندھی قوم پرستوں کا پروپیگنڈہ بھی ملاحظہ کیجیے ۔۔۔ عوام کو خوف دلایا گیا ہے کہ اگر ڈیم بن گیا تو سمندر میں گرنے والا پانی کم ہو جائے گا۔۔۔ اور سندھ کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔۔۔ اور پانی پر پنجاب کی اجارہ داری قائم ہوجائے گی۔۔۔۔ حالانکہ دریائے سندھ کا 90 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہوتا ہے۔۔۔ سمندر میں گرنے والا پانی اگر پچاس فیصد کم بھی ہو جائے تو یہ عالمی معیار کے مطابق ہو گا اور کالاباغ ڈیم نے سارا پانی تو نہیں روک لینا۔۔۔سمندر میں ایک معقول حد تک تو پانی بھر بھی گرتا رہے گا۔۔۔ ڈیم بن جانے پر گریٹر تھل کا دائرہ کار وسیع کر کے اسے سندھ کو سیراب کیا جائے گا۔۔۔
سندھ قوم پرستوں کا ایک اور اعتراض بھی ہے۔۔۔ کہ ڈیم پر جو بجلی پیدا ہوگئی اس سے پانی کی طاقت کم ہو جائے گی اور پانی میں موجود طاقتور ایلیمنٹ نکل جائیں ۔۔۔ اور یہی پانی سندھ تک پہنچے گا۔۔۔ اور اس پانی سے فصلیں پیدا نہیں ہوسکتی۔۔۔ لو کر لو گل جہاں بھٹو آج تک زندہ ہو ۔۔۔ وہاں ایسی ہی دلیلیں وجود میں آتی ہیں۔۔۔
ایک بات اور کالاباغ ڈیم کے لئے اسلام آباد کے بڑے بڑے ائیرکنڈیشنڈ دفاتر کی بجائے کالاباغ ڈیم سائیٹ پر سیمینارز منعقد کئے جائیں ۔۔۔ میڈیا چینلز نیاز سٹوڈیو کے بجائے اسی سائیٹ پر مہمانوں کو بلاکر ڈیبیٹ کرے وہاں سے لائیو نشریات کرے .... کے پی کے اور سندھ صوبوں کے پڑھے لکھے طبقہ کو جن میں وکلاء، ڈاکٹر، انجنیئر، پروفیسرز کو بلائے ان سے سوال و جواب کرے۔۔۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ صورتحال لوگوں کے سامنے آئے گی تو لوگ سمجھیں گے ۔۔۔
29/08/2022
Opportunity to Do Fully Funded PhD from Abroad & University of Leicester UK and then come back to serve AIOU (Allama Iqbal Open University) as Assistant Professor (BPS-19) on the funding of AIOU
38 PhD Scholarships in every fields of Social sciences & Humanities, Sciences, Education, Arabic & Islamic Studies
Deadline to apply : 12 September, 2022
Candidates must have Masters/MPhil (18 years of Education) in relevant disciplines. Max. 30 years of age
** Those who already have applied need not to apply, but they can update their profile
Website
see the details on below website under tag PDP
https://aiou.edu.pk/Jobs.asp
Advertisment:
https://epaper.dawn.com/Advt.php?StoryImage=28_08_2022_008_006
21/08/2022
14/08/2022
May Allah shower all the blessings upon Pakistan on this 75th Independence Day.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Islamabad
44000