Rose Valley Development Organization
VISION:
Establishment of a prosperous society, based on the principal of social justice, equity
ضلع تورغر گواندلہ مداخیل کے لوگوں نے اپنے مدد اپ اپنے گاوں کے لئے ایمبولنس لیں ایا جو تور غر کے عوام میں بیداری کی ایک نئے لہر ہے جو سماجی کاموں کے طرف بڑھ رہے ہیں ۔سلام ہے ان سب نوجوانوں اور بزرگوں پر جنہونے یہ قدم اٹھا یا ہے سلام سلام
پاکستان میں غربت سے لوگ پریشان ہوگئے زندگی سے موت کو ترجیح دینے لگے کہ حکومت کوئی ایسا محکمہ بنا لیں کہ وہ عریب کو جہاں دیکھیں اسے گولی مار دے
09/05/2026
مداخیل
28/04/2026
پولیس میں بھرتی کی اخری تاریخ 30 اپریل 2026
28/04/2026
زندگی
16/04/2026
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
ہزاروں بچوں کی ماں عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی انتقال فرما گئیں
15/04/2026
#قیامت/ #خودـ بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری ہیں 🤬💔
سندھ کے ضلع خیرپور میں انسانیت ایک بار پھر شرمسار ہو گئی ہے جہاں گمبٹ کے قریب ٹنڈو مستی کے علاقے میں نوجوان لڑکی روبینہ چانڈیو کو سینکڑوں افراد کے ہجوم کے سامنے بے دردی سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق روبینہ نے پسند کی شادی کے لیے گھر چھوڑا تھا، تاہم اسے برادری کے دباؤ پر محض 24 گھنٹوں کے اندر واپس لایا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس اس تمام صورتحال سے واقف تھی اور اسے علم تھا کہ بچی کی جان کو خطرہ ہے، اس کے باوجود اسے کسی محفوظ پناہ گاہ یا عدالت میں پیش کرنے کے بجائے مبینہ طور پر انہی ورثاء کے حوالے کر دیا گیا جو اس کی زندگی کے دشمن بنے ہوئے تھے۔
عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق، قتل سے قبل یہ معصوم لڑکی وہاں موجود مردوں کے سامنے اپنی پاکدامنی کی قسمیں کھاتی رہی اور رحم کی اپیل کرتی رہی، لیکن پتھر دل ہجوم میں سے کسی ایک انسان کا ضمیر بھی نہ جاگا۔ جہاں سینکڑوں لوگ موجود تھے، وہاں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں تھا جو اس بچی کو بچانے کے لیے آگے بڑھتا، بلکہ لوگ اس لرزہ خیز منظر کی ویڈیوز بناتے رہے۔
پسند کی شادی کی خواہش رکھنے والی روبینہ بار بار دہائی دیتی رہی کہ اسے اس کے پسند کے شخص کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے، مگر کارو کاری جیسی جاہلانہ رسم اور جھوٹی غیرت کے نام پر اس کے اپنے ہی خون نے اس کے سانسوں کی ڈور کاٹ دی۔
اس واقعے نے ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی ڈھانچے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ سوال زبان زدِ عام ہے کہ جب لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ہی سماجی و معاشی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے اور شادی کے خواہشمند تھے، تو کیوں ان کے اس شرعی اور قانونی حق کو تسلیم کرنے کے بجائے موت کا راستہ چنا گیا؟
عوام کی جانب سے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ اور عدلیہ سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نہ صرف قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، بلکہ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جنہوں نے ایک نہتی لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے موت کے جبڑے میں دھکیل دیا۔ ٹنڈو مستی کا یہ المیہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.