Hunza First

Hunza First

Share

Hunza First

12/05/2026

جلکھڑ تک راستہ اوپن ہو چکا ہے اور اِن شاءاللّٰہ بہت جلد بابوسر ٹاپ بھی اوپن ہو جائے گا
اس وقت بابوسر پر درجہ حرارت تقریباً 0°C ہے، جبکہ ناران میں شدید سردی ہے لیکن برفباری نہیں ہوئی۔ البتہ جھیل کے پہاڑوں اور بٹاکنڈی کے اطراف پہاڑ برف سے ڈھکے ہوئے ہیں ❤
اپنا ٹرپ پلان کرنے سے پہلے گرم کپڑے لازمی ساتھ رکھیں تاکہ سفر آرام دہ رہے 🤗
مزید ناران ویلی کی تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے میرا پیج فالو کرنا نہ بھولیں 😊
Hunza First

11/05/2026

خوش آمدید یا مولا، خوش آمدید یا مولا
New Kalam is out on YouTube
https://youtube.com/shorts/WYYuDEDgJj8?si=QMn6J4yvMGrzWZdB

Poet: Iqbal Essa Khan
Production: Roohani Beats

08/05/2026

ہنزہ سے تعلق رکھنے والے معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر اعجاز ایوب کو انتقام کا نشانہ بنانا بند کیا جائےـ
ڈاکٹر اعجاز ایوب جیسے سینئر، نہایت قابل، تجربہ کار اور بین الاقوامی معیار کے انٹرونشنل کارڈیالوجسٹ کے ساتھ مبینہ امتیازی اور انتقامی رویہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش ہے۔ ایک ایسے ڈاکٹر جنہوں نے ہنزہ، نگر، بلتستان اور دیامر جیسے دور افتادہ اور مشکل علاقوں میں نہایت خلوص اور دیانتداری کے ساتھ خدمات انجام دیں، آج اُسی شخصیت کو نشانہ بنانا محکمہ صحت میں میرٹ اور انصاف کے اصولوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ڈاکٹر اعجاز ایوب کا تعلق ہنزہ سے ہے، اور اُن کی سادگی، شرافت اور اصول پسندی کو کمزوری سمجھ کر اگر اُنہیں آسان ہدف بنایا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف ناانصافی بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں ایک ہی سینئر اور قابل کنسلٹنٹ کو بار بار ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ افراد جو کبھی بڑے شہروں سے باہر خدمات انجام دینے نہیں گئے، اُن پر یہی اصول لاگو نہیں ہوتے؟
اگر واقعی محکمہ صحت میں میرٹ، مساوات اور شفافیت موجود ہے تو پھر پالیسی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ کسی ایک مخلص، ایماندار اور قابل ڈاکٹر کو ذاتی پسند و ناپسند یا مبینہ انتقامی سوچ کی بنیاد پر دباؤ میں لانا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔
چیف سیکرٹری صاحب سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ اس حساس معاملے کا فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ نوٹس لیں، اور اُن عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو ایک سینئر ماہرِ امراضِ قلب کی عزتِ نفس، پیشہ ورانہ خدمات اور میرٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے پروفیشنلز قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں، اُن کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ عزت افزائی ہونی چاہیے۔

Hunza First

04/05/2026

Didar Mubarak in advance,🙏💚

Hunza First

04/05/2026

یہ تمام ٹورسٹ اور کاروباری حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ کل رات تقریبا 10:30 بجے بہ مقام فورٹ چوک نزد پبلک واشرومز کریم آباد ٹورسٹ پولیس کریم آباد کو ایک ائی فون Iphone ملی ہے جس کسی کا بھی ہے یا جس کسی کو بھی اس بارے کوئی اطلاع ملے تو برائے مہربانیSGC عبدالعزیز ٹورسٹ پولیس کریم اباد سے پہچان کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔

شکریہ
آپریٹر ٹورسٹ پولیس ہنزہ۔

16/04/2026

انتہاپسندی کا پائیدار حل، اسٹارٹ اپس اور انٹرپرینیورشپ کلچر

اقبال عیسیٰ خان

گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال جغرافیائی طور پر دور افتادہ ضرور ہیں، مگر آبادی کے اعتبار سے یہ خطے نوجوان توانائی کا خزانہ ہیں۔ یہاں کے نوجوان فطری ذہانت، محنت اور جدوجہد کی روایت رکھتے ہیں، لیکن محدود معاشی مواقع، صنعتی پسماندگی اور جدید روزگار کے راستوں کی کمی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جو وقت کے ساتھ سماجی بے چینی اور فکری انتشار کو جنم دیتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں منفی اور انتہاپسند بیانیے اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اب عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے کہ انتہاپسندی محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج ہے۔ جہاں نوجوان خود کو معاشی نظام سے کٹا ہوا محسوس کریں، وہاں شدت پسند نظریات آسانی سے جڑ پکڑ لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب نوجوانوں کو باعزت روزگار، تخلیقی اظہار اور خود مختار معاشی کردار ملتا ہے تو وہ تشدد نہیں، تعمیر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں اسٹارٹ اپس، انٹرپرینیورشپ اور انکیوبیشن سینٹرز ان خطوں کے لیے ایک مؤثر اور دور رس حل بن سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی حساس اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں نوجوانوں پر مبنی کاروباری ماڈلز نے حالات کا رخ بدل دیا۔ شمالی افریقہ، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں انکیوبیشن سینٹرز نے نہ صرف بیروزگاری کم کی بلکہ نوجوانوں کو ایک مثبت شناخت دی۔ وہاں ریاست نے نوجوانوں کو خیرات پر نہیں بلکہ مواقع پر کھڑا کیا۔ یہی اصول گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔
ان خطوں کے معاشی امکانات کسی سے کم نہیں۔ سیاحت، ماحول دوست ٹریول، زراعت، لائیو اسٹاک، ہینڈکرافٹس، معدنیات، ہائیڈرو پاور، آئی ٹی اور فری لانسنگ ایسے شعبے ہیں جہاں مقامی اسٹارٹ اپس کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اگر ہر ضلع میں جدید انکیوبیشن سینٹرز قائم کیے جائیں، جہاں بزنس پلاننگ، مالیاتی نظم، ڈیجیٹل مہارتیں اور مارکیٹ تک رسائی فراہم ہو، تو نوجوان خود روزگار کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
انتہاپسندی کا ایک بڑا ہتھیار نوجوانوں کو مقصد اور شناخت کا جھوٹا احساس دینا ہے۔ انٹرپرینیورشپ اسی شناخت کو مثبت رخ دیتی ہے۔ ایک نوجوان جب اپنا کاروبار کھڑا کرتا ہے تو وہ خود کو معاشرے کا مفید رکن محسوس کرتا ہے۔ اس کا مفاد امن، استحکام اور قانون کی بالادستی سے جڑ جاتا ہے۔ یہی نوجوان پھر کسی نفرت انگیز بیانیے کا آسان شکار نہیں بنتا۔
اس کے لیے ریاست، صوبائی حکومتوں، مقامی قیادت، جامعات اور نجی شعبے کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انکیوبیشن سینٹرز کو محض تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ انتہاپسندی کے تدارک اور قومی سلامتی کی سرمایہ کاری سمجھا جائے۔ مقامی جامعات کو صنعت سے جوڑا جائے، کامیاب کاروباری افراد کو رہنمائی کے لیے شامل کیا جائے اور نوجوانوں کو آسان فنانسنگ فراہم کی جائے۔
گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال کے نوجوان کسی مسئلے کا بوجھ نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہیں۔ انہیں مواقع، اعتماد اور رہنمائی دی جائے تو یہی نوجوان نفرت کے اندھیروں میں امید کی روشنی بن سکتے ہیں۔ اسٹارٹ اپس اور انٹرپرینیورشپ صرف معیشت کو مضبوط نہیں کرتے، یہ معاشروں کو محفوظ اور مستقبل کو روشن بناتے ہیں۔ آج کا فیصلہ آنے والی نسلوں کے امن اور استحکام کا تعین کرے گا۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

Hunza First

04/04/2026

سابق چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے دو ارب ڈالر واپس کرنے ہے اس مہینے میں اور وہ کسی بھی صورت میں اس مرتبہ ڈیل نہیں کررہے تھے یہاں تک کہدیا گیا کہ اگر آپ اپنے ٹائم پر واپس نہیں کرینگے تو دبئی میں جتنے پاکستان کے سیاسی لوگوں کی پراپرٹی ہے اس کو ضبط کیا جائے گا میرے ماننا ہے کہ حکومت نے راتوں رات تیل کی قیمت جو بہت زیادہ بڑھائی ہے اس کی وجہ ان کو دو ارب ڈالر واپس کرنے ہے اگر دیکھا جائے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کے قیمت بڑھی نہیں ہے پاکستان کو ٹیکس اور تمام اخرجات کیساتھ پیٹرول 270 روپے فی لیٹر میں مل رہے ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ دو ارب ڈالر کہاں گئے جس کے بدلے اب عام آدمی اس کا نقصان اٹھا رہا .

04/04/2026

پٹرول کی قیمت:
پہلے 55 روپئے کا اضافہ کیا تھا ابھی 57.4 روپئے کا اضافہ کل ملاکر 112.4 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔۔

Want your university to be the top-listed University in Hunza?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Ali Abad
Hunza