Qazi Muddassir Rasool Razvi

Qazi Muddassir Rasool Razvi

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Qazi Muddassir Rasool Razvi, Public Figure, Gojra.

PhD Scholar (Islamic Studies) | Graduate of Dars-e-Nizami | Area of Interest: Seerah (Life of Prophet Muhammad ﷺ) | Writer, Lecturer & Researcher | Former Student Leader | Ideological Worker

Photos from Qazi Muddassir Rasool Razvi's post 28/03/2026

A celebration of love, surrounded by the warmth of family ✨
Azeem Chuadhry
💍

Photos from Qazi Muddassir Rasool Razvi's post 27/03/2026

I had the privilege of presenting my research paper at the First International Quran Conference held at Government College University, Lahore.
My paper, titled "Contemporary Trends in Quranic Exegesis: A Critical Review of Tafsir Maqasid ul-Tanzil by Allama Ghulam Rasool Qasmi," explored how this tafsir emphasizes the Quran’s objectives and practical guidance, relying on authentic sources from the Quran, Hadith, and the teachings of the Sahabah and Tabi‘een.
It was a rewarding experience to engage with esteemed scholars and fellow presenters.
The images capture moments from the event receiving my certificate, presenting the paper, and interacting with senior scholars and participants.

Photos from Qazi Muddassir Rasool Razvi's post 22/03/2026

At the seminar
“Transforming Tribal Aggression into Moral Discipline: Insights from the Sirah,”
held at Jamia Muhammadi Sharif, Chiniot, meaningful discussions on the Sirah were presented.
I am grateful to have received books as a token of appreciation from
Sahibzada Qamar-ul-Haq Sialvi
(President, Jamia Muhammadi Sharif)
and
Prof. Faisal Hayat Jappa
(Principal, Govt. Graduate College JMS Chiniot).
It was a truly enriching experience.

Photos from Qazi Muddassir Rasool Razvi's post 17/03/2026

Honored to speak today at a seminar on “Transforming Tribal Aggression into Moral Discipline: Insights from the Sirah.”
Grateful to the organizers for this valuable opportunity.

07/03/2026

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

#یومِ_بدر
*

12/02/2026

آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

08/02/2026

وادی رضا کی ، کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے
کس کی مجال ہے کہ نظر بھی ملا سکے
دربار مصطفٰی میں ٹھکانہ رضا کا ہے
الفاظ بہہ رہے ہیں دلیلوں کی دھار پر
چلتا ہوا قلم ہے کہ دھارا رضا کا ہے
اس دور پرفتن میں نذرؔ خوش عقیدگی
سرکار کا کرم ہے، وسیلہ رضا ہے

03/02/2026

ہزاروں قومیں وجود میں آئیں دہر میں خشک و تر کے رشتے سے
ہم نے بنیاد دوستی رکھی یاد خیر البشر ﷺ کے رشتے سے❣️❣️

17/01/2026

محدثِ اعظم پاکستان : علم، کردار اور عشقِ رسول ﷺ کی تابندہ مثال
امتِ مسلمہ کی فکری و روحانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جو محض اپنے عہد تک محدود نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مینارہ نور ہیں۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو علم و عمل، شریعت و طریقت اور کردار و گفتار کا حسین امتزاج ہیں۔ برصغیر کی دینی و علمی تاریخ میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار انہی درخشاں ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور عشقِ رسول ﷺ کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔
حضرت محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کی دینی و علمی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیرہے ۔ وہ امت کے ان درد مند معالجوں میں سے تھے جو اس کی فکری و اعتقادی بیماریوں کی تشخیص بھی جانتے تھے اور ان کا مؤثر علاج بھی۔ دنیاوی مال و متاع، جاہ و منصب اور ظاہری آسائشیں آپ کے نزدیک بے وقعت تھیں۔ آپ کا اوڑھنا بچھونا علمِ دین اور آپ کی زندگی کا مقصد تبلیغِ دین اور اصلاحِ امت تھا۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد نے آپ کی صحبت اور دعوت کے ذریعے صراطِ مستقیم کی راہ اختیار کی۔
حضور محدث اعظم پاکستان کی ولادت 1323ھ بمطابق 1905ء ضلع گورداسپور کے معروف قصبہ دیال گڑھ میں ہوئی۔یہ وہ دور تھا جب برصغیر شدید فکری انتشار اور دینی کمزوری سے دوچار تھا۔ ایسے حالات میں آپ کی پیدائش ایک ایسے چراغ کی مانند تھی جس نے آگے چل کر علم و ہدایت کی روشنی عام کی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد آپ لاہور تشریف لائے اور دیال سنگھ کالج میں ایف اے کی تیاری میں مصروف تھے کہ اسی دوران شہزادہ اعلیٰ حضرت، حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خطاب نے آپ کے قلب و ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ یہ محض ایک خطاب نہ تھا بلکہ ایک روحانی پکار تھی جس نے آپ کوعصری تعلیم سے علمِ دین کی طرف راغب کر دیا۔ یوں آپ نے کالج کو خیر باد کہا اور بریلی شریف کا رخ کیا، جہاں علم کے چشمے رواں تھے۔
بریلی اور اجمیر شریف میں قیام کے دوران آپ نے حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان،مفتی اعظم حضرت مولانا مصطفیٰ رضا خاں اور صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی اعظمی جیسے جلیل القدر اساتذہ کی صحبت میں علوم دینیہ کی تحصیل کی ۔ آپ کی غیر معمولی محنت، ذوقِ علم اور اخلاص کے باعث آپ کو اپنے اساتذہ کی خصوصی شفقت حاصل رہی اور علمی حلقوں میں آپ کی ممتاز حیثیت قائم ہو گئی۔
سندِ فراغت کے بعد آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادۂ علم و فضل کے زیرِ سایہ دارالعلوم منظر اسلام اور بعد ازاں دارالعلوم مظہر اسلام میں تقریباً سولہ برس تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ صدر المدرسین اور شیخ الحدیث جیسے بلند پایہ مناصب پر فائز رہے۔ آپ کا درسِ حدیث محض کتابی تعلیم نہ ہوتا بلکہ عشقِ رسول ﷺ سے معمور ایک روحانی مجلس بن جاتا، جہاں علم کے ساتھ دلوں کی اصلاح بھی ہوتی۔
قیامِ پاکستان کے بعد حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ نے ہجرت کر کے پاکستان کو اپنا وطن بنایا۔ ابتدا ء ساروکی قیام فرمایا اور بعد ازاں آپ نے لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کا انتخاب کیا، جو اس وقت ایک نیا اور غیر آباد سا شہر تھا۔ نہایت محدود وسائل، مخالفانہ ماحول اور بے سروسامانی کے باوجود آپ نے 1368ھ/1949ء میں دارالعلوم جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد کی بنیاد رکھی، جو قلیل عرصے میں علمِ حدیث اور مسلکِ اہلِ سنت کا مضبوط مرکز بن گیا۔
حضرت محدثِ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ کو دو مرتبہ حج بیت اللہ اور زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کی سعادت حاصل ہوئی۔ پہلی حاضری 1945ء میں ہوئی، جہاں آپ نے طویل قیام کے دوران عبادت، تدریس اور تبلیغ میں وقت گزارا اور صحیح بخاری کا مکمل دورہ فرمایا۔ مدینہ منورہ میں آپ کو جلیل القدر محدثین سے سندِ حدیث عطا کی گئی۔ دوسری مرتبہ 1956ء میں حرمین شریفین کی حاضری کے موقع پر شام، عراق، مصر اور دیگر ممالک کے متعدد علماء و مشائخ نے آپ سے سندِ حدیث اور سندِ خلافت حاصل کی، جس سے آپ کی علمی عظمت بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی گئی۔
اگرچہ حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا بڑا حصہ تدریسِ حدیث، دعوت و تبلیغ اور دینی تربیت کی مسلسل مصروفیات میں گزرا، تاہم اس کے باوجود آپ نے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کا قلم نہ اشتعال انگیز تھا اور نہ ہی وقتی ردِ عمل کا اسیر، بلکہ ایک متوازن، تحقیقی اور سنجیدہ علمی مزاج کی نمائندگی کرتا تھا۔ آپ کی تحریروں میں قرآن و سنت سے وابستگی، اسلاف کے منہج کی پیروی اور زبان و بیان کی شائستگی نمایاں نظر آتی ہے، جس کے باعث آپ کا علمی کام عام قارئین اور اہلِ علم دونوں کے لیے قابلِ استفادہ ہے۔
حضرت محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی اردو زبان میں تصنیفی خدمات میں متعدد ایسی کتب و رسائل شامل ہیں جن میں دینی مسائل کو سادہ مگر تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا۔ ان میں تبصرہ مذہبی بر تذکرہ مشرقی، نصرتِ خداداد، فتاویٰ محدثِ اعظم، اسلامی قانونِ وراثت، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور موت کا پیغام جیسے علمی کام شامل ہیں۔ ان تحریروں میں فقہی مباحث ہوں یا تاریخی و اعتقادی موضوعات، ہر جگہ اعتدال، استدلال اور علمی ذمہ داری کا پہلو غالب نظر آتا ہے، جو آپ رحمہ اللہ کے متوازن فکری منہج کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی طرح عربی زبان میں علومِ حدیث کے حوالے سے آپ کی خدمات بھی نہایت اہم ہیں۔ صحیح بخاری اور دیگر کتبِ حدیث پر تحریر کردہ حواشی و تعلیقات، مختلف ابواب پر مرتب کردہ دلائل اور علمی رسائل اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ کو حدیثِ نبوی ﷺ کے فہم اور اس کے عملی اطلاق پر گہری دسترس حاصل تھی۔ آپ کا اسلوب روایت کی پاسداری کے ساتھ تحقیق، تطبیق اور استنباط پر قائم تھا، جس نے آپ کو اپنے عہد کے ممتاز محدثین میں شمار کرایا۔
ان مطبوعہ تصانیف کے علاوہ حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بڑا علمی سرمایہ غیر مطبوعہ صورت میں بھی محفوظ ہے، جس میں عقائد، فقہ، حدیث اور مختلف دینی مسائل پر قلمی مسودات، فتاویٰ، درسی نوٹس اور خطوط شامل ہیں۔ یہ ذخیرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کی علمی سرگرمیاں محض کتابی تصنیف تک محدود نہ تھیں بلکہ تدریس اور رہنمائی کے ہر مرحلے پر علم کو محفوظ اور منتقل کرنے کی سعی جاری رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت محدثِ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفی خدمات ان کی علمی زندگی کا وہ مضبوط پہلو ہےجو ان کے فکری تسلسل کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے ۔ آج اگرچہ ان کی کئی تحریریں مختلف صورتوں میں اہلِ علم کے پاس محفوظ ہیں، تاہم حضرت محدثِ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ کی علمی عظمت کا نمایاں پہلو آپ کے تلامذہ ہیں جو آپ سے فیضیاب ہو کر ملک و بیرونِ ملک دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف ہوئے۔ آپ کے شاگردوں میں جید محدثین، فقہاء، خطباء اور مصنفین شامل ہیں جنہوں نے دنیا بھرمیں علمِ دین کے چراغ روشن کیے۔ خلف اکبر حضرت علامہ صاحبزدہ قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی،مفسر اعظم مولانا ابراھیم رضا خان ، شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی، شارح بخاری علامہ غلام رسول رضوی، علامہ عبد الرشید جھنگوی، علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی،علامہ فیض احمد اویسی، علامہ نصر اللہ خان افغانی،شیخ القرآن علامہ سیدمحمد زبیر شاہ،علامہ مفتی نواب الدین، مولانا سید جلال الدین شاہ ، مولانا مفتی وقار الدین قادری ،مفتی عبد القیوم ہزاروی اور دیگر اکابر اہلِ علم آپ کے تربیت یافتہ تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں، جو آپ کے علمی تسلسل کی روشن کڑی ہیں۔
حضرت محدثِ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا مرکزی جوہر عشقِ رسول ﷺ تھا۔ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ آپ کی روح کی غذا اور نعتِ رسول ﷺ آپ کے لیے سامانِ سرور تھی۔ درسِ حدیث کے دوران جب نبی کریم ﷺ کے احوالِ مبارکہ کا ذکر آتا تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے۔ اتباعِ سنت، احترامِ سادات اور اولیائے کرام سے والہانہ محبت آپ کی عملی زندگی کا نمایاں وصف تھا۔
حضرت محدث اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ محمد سراج الحق چشتی علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے۔ اسی کے ساتھ آپ سلسلہ قادریہ رضویہ میں حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمہ سے فیض یاب ہوئے اور مفتی اعظم الشاہ مولانا مصطفی رضا خان نوری علیہ الرحمہ اور حضور صدرالشریعہ سے جملہ سلاسل طریقت کی اجازت اور خلافت حاصل فرمائی۔ 1381ھ/1961ء میں عرس اعلیٰ حضرت کے موقع پر، آپ نے پاکستان بھر سے تشریف لائے جید علماء و مشائخ کی موجودگی میں اپنے نور نظر حضرت علامہ صاحبزادہ پیرقاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی رحمہ اللہ کو جمیع سلاسل طریقت کی خلافت اور دستار سجادگی عطا فرمائی۔اسی سال جامعہ رضویہ مظہر اسلام کے سالانہ جلسہ دستار فضیلت کے موقع پر آپ نے حضور شمس المشائخ کو دستار فضیلت عطا فرمائی اور جملہ علوم و فنون کی روایت کی سند سے مشرف فرمایا۔
یکم شعبان 1382ھ بمطابق دسمبر 1962ء کی شب یہ آفتابِ علم و عرفان غروب ہو گیا۔ فیصل آباد میں آپ کی نمازِ جنازہ ایک تاریخ ساز اور ایمان افروز اجتماع ثابت ہوئی، جس میں علماء، مشائخ اور عوام الناس کی بے مثال تعداد نے شرکت کی۔ یہ منظر اس بات کا عملی اعلان تھا کہ حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورا عہد تھے۔ آپ کے انتقال پر ڈاکٹر اسحا ق قریشی یو ں رقمطراز ہوئے کہ :
آپ کی وفات امت مسلمہ کیلئے ایک صدمہ جانکاہ ہے ۔موت نے بیک وقت ایک عالم با عمل، با ذوق صوفی ، صاحب شریعت و طریقت ، خاندان قادریہ کا گل سرسبز ، معروف محدث، شیخ الحدیث والتفسیر اور سب سے بڑھ کر قول نبوی کی صحیح تفسیر اور فعل نبوی کی کامل تصویر ہم سے چین لی ہے۔ عشق رسول ﷺ کا مجسمہ اور اطاعت دین کا کامیاب پیکر ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیاہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے انوارو انعامات کی بے پناہ بارشیں ان کی قبر انور پر ہمیشہ ہمیشہ نازل فرماتا رہےاور آپ کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے آمین۔
آج اگرچہ حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ ہم میں موجود نہیں مگر ان کے کارنامے ہمیشہ آب زر سے لکھے جائیں گے اور نا تواں دل ان کی یاد سے استقلال و جرا ت کا سبق حاصل کرتا رہے گا۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی یاد تا ابد زندہ رکھیں اور ان کے حضور ہدیہ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم اس نورانی شمع کو جو حضور محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ نے سرزمین پاکستان پر فروزاں فرمائی ہے اپنی حرارت ایمانی سے چار چاند لگاتے رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے، ان کی راہ یقینا صراط مستقیم ہے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گور کی نگہبانی کرے
حضرت نبیرہ محدث اعظم ، جانشین شمس المشائخ صاحبزادہ پیرقاضی محمد فیض رسول رضوی زید مجدہ کی زیر صدارت 65 ویں سالانہ عرس امام اعظم و محدث واعظم کی مرکزی تقریب آستانہ عالیہ محدث اعظم پاکستان، مرکزی سنی رضوی جامع مسجد جھنگ بازار فیصل آباد میں 19، 20 جنوری2026ء کو منعقد ہو رہی ہے ۔ جس میں دنیا بھر سے معتقدین و محبین محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ شریک ہوں گے۔
✍️ قاضی محمد مدثر رسول رضوی
١١جنوری٢٠٢٦ء

Photos from Qazi Muddassir Rasool Razvi's post 21/11/2025

قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں

21/10/2025

ہم نے اس کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا
لیکن پھر بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا

26/06/2025

✨مقالہ: نسبتِ شیخ کامل
✒️ قاضی محمد مدثر رسول رضوی

📖 منتخب الفاظ:
▫️ شیخِ کامل
▫️ مریدِ صادق
▫️ صدقِ طلب
▫️ تہہ مزار
▫️ ہدایت

"اگرشیخ کامل اور مرید صادق ہو تو اگرچہ شیخ تہہ مزار ہی کیوں نہ ہو، وہ مرید صادق کی ہدایت کا ذریعہ ہوتا ہے، والعکس فکذا۔
در اصل ہدایت کا مدار نہ تو صرف ظاہری صحبت پر ہے، نہ کسی رسمی نظام پر،بلکہ اس باطنی سچائی پر ہے کہ شیخ فی الحقیقت کامل ہو اور مرید صدقِ طلب سے جُڑا ہو۔"
٢٦جون ٢٠٢٥ء

#تصوف #روحانیت #ہدایت

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gojra?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Gojra