Sasken Research & Development Foundation
Shina (Urdu: شینا Šīnā) is a language from the Dardic sub-group of the Indo-A***n languages spoken by the people in the Gilgit–Baltistan region of Pakista
شینا زبان کا ارتقا
زبانوں کی علاقائی اور مشابہتی درجہ بندی کے برعکس زبانوں کا وراثتی تعلق لسانی درجہ بندی کے لیے اب بھی ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وراثتی تعلق کا مطلب کوئی دو زبانیں بولنے والے گروہوں کا حیاتیاتی رشتہ نہیں ہے بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں کو ان کے مشترک اجداد کی بنا پر مختلف گروہوں یا خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کسی زبان کی ابتدا کو Stanford model میں بعض اوقات پروٹو لینگویج
29/07/2025
"کھڑکی بھر چاند" گلگت بلتستان کے فکشن میں ایک سنگِ میل
تحریر: طفیل عباس حیات
(ممبر، ساسکن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن)
احمد سلیم سلیمی صاحب کا شمار گلگت بلتستان کے اُن اوّلین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اُس عہد میں نثر کی روایت کو جِلا بخشی، جب پورا خطہ شعری محفلوں اور غزل سرائی کے سحر میں محو تھا۔ یہاں اگرچہ شعر صدیوں سے سماعت کی لذّت رہا ہے، مگر مطالعے کی سطح پر نثر، خصوصاً فکشن، ہمیشہ قارئین کے دل کو زیادہ چھوتا رہا۔ اس کے باوجود فکشن کو وہ وقار اور ادبی توجہ حاصل نہ ہو سکی جس کا وہ بجا طور پر مستحق تھا۔ سلیمی صاحب نے نہ صرف اس کمی کو شدت سے محسوس کیا بلکہ اپنے مسلسل تخلیقی عمل سے اس خلا کو پُر بھی کیا، اور یوں گلگت بلتستان کے ادبی منظرنامے میں فکشن کو ایک منفرد اور مستحکم شناخت بخشی۔
سلیمی صاحب کی تحریروں میں فطرت کی لطافت، مقامی تہذیب کی باریکیاں اور سماجی تضادات کی حقیقت نگاری اس خوبصورتی سے جلوہ گر ہوتی ہے کہ قاری خود کو ان مناظر اور کرداروں کے درمیان سانس لیتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ محبت، المیہ، مزاحمت اور ثقافتی کشمکش جیسے موضوعات کو سلیمی صاحب نے نہایت دل نشیں اور گہرے فنی شعور کے ساتھ برتا ہے۔
گزشتہ برس مدینہ مارکیٹ گلگت سے گزرتے ہوئے، "نارتھ بک" اسٹور کی شیشے کی الماری میں "کھڑکی بھر چاند" کا سرورق نگاہوں سے ٹکرایا۔ سرورق کی کشش نے مجھے ٹھہرنے پر مجبور کر دیا۔ کتاب خریدی اور رات کو چند صفحات پلٹنے کی نیت سے کھولی، مگر رفتہ رفتہ پوری رات انہی اوراق کی گرفت میں بسر ہوئی۔ سلیمی صاحب قاری کو کہانی کی ڈور سے یوں باندھ لیتے ہیں کہ کتاب ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتی۔
اس ناول میں دیامر جیسے حساس خطے کی ثقافت، رسوم و رواج اور بالخصوص ٹمبر مافیا کے جال کو (سانپ بھی مرے، لاٹھی بھی نہ ٹوٹے) کے مصداق نہایت سلیقے اور احتیاط سے بیان کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول حقیقت کے قریب محسوس ہونے کے ساتھ ساتھ احتیاط، توازن اور بیانیہ شفافیت کا مرقع بن جاتا ہے۔ دیامر کے خاردار جنگلات میں انسانی رشتوں اور زندگی کے پیچیدہ تناؤ کو سلیمی صاحب نے جس فنی مہارت اور پختگی سے سمیٹا ہے، وہ اُن کے تخلیقی ہنر اور بصیرت کا غماز ہے۔
تین چار روز میں کتاب مکمل کر لی۔ تبصرہ لکھنے کا ارادہ بھی تھا، مگر روزمرّہ مصروفیات حائل رہیں۔ آج جب قلم اٹھا رہا ہوں تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مجھ سے قبل اہلِ قلم کی ایک طویل فہرست " عبدالحفیظ شاکر، حبیب الرحمن مشتاق، عبدالسلام ناز، نیاز نیازی، کریم کریمی، محمد نذیر، رحمان آہی، ارشد جگنو، فاروق قیصر، ناصراللہ بیگ اور دیگر " اس ناول پر اپنے تاثرات اور تجزیے پیش کر چکے ہیں۔ شاید ہی گلگت بلتستان کی کسی اور کتاب پر اس قدر متنوع اور گہری گفتگو ہوئی ہو۔ تاہم یہ سطور میں اپنے ذاتی مشاہدے اور قاری کی حیثیت سے تاثرات کے طور پر رقم کر رہا ہوں۔
کتاب کا سرورق ناول کی داخلی فضا کا بصری عکس پیش کرتا ہے: برف پوش پہاڑ، نیم روشن چاند اور مغرب کی اذان کے بعد پھیلتی سنجیدگی فطرت کی پُراسراریت کو ابھارتی ہے۔ کھڑکی سے جھانکتی دوشیزہ انسانی تنہائی اور انتظار کی علامت ہے، جبکہ دیسی ٹوپی میں بندوق تھامے شخص کا عکس جمشید جیسے منفی کردار کی نمائندگی کرتا ہے۔ قریب کے مکان کی روشن کھڑکیاں کہانی میں چھپی زندگی، روشنی اور امید کی علامت کے طور پر اُبھرتی ہیں۔
یہ ناول جون 2024ء میں "نواب سنزز پبلی کیشنز" (اقبال روڈ، راولپنڈی) سے شائع ہوا۔ قیمت 1000 روپے ہے۔ طباعت اور سرورق نہایت عمدہ اور موضوع سے ہم آہنگ ہیں، البتہ کاغذ کا معیار نسبتاً اوسط درجے کا ہے۔
کہانی فلیش بیک کے انداز میں ایک فارسٹ آفیسر سلمان احمد کے ذریعے کھلتی ہے، جو اپنی پوسٹنگ کے تحت جنگلات میں گھرے علاقے "مادم پور" پہنچتا ہے۔ وہاں وہ نہ صرف فطرت کے رنگ اور مقامی ثقافت کو دیکھتا ہے بلکہ قبائلی اقدار اور تنگ نظری کے منفی اثرات سے بھی دوچار ہوتا ہے۔ وہیں اس کی ملاقات حنا سے ہوتی ہے، جو ایک حساس اور باوقار دیہاتی لڑکی اور ناول کا مرکزی نسوانی کردار ہے۔ سلمان اور حنا کی محبت محض ایک رومانوی داستان نہیں بلکہ روایت، جبر اور طبقاتی تضادات کے خلاف ایک جذباتی اور فکری بغاوت کی علامت بن جاتی ہے۔ اس خواب کی راہ میں حنا کا منگیتر جمشید آتا ہے، جو ٹمبر مافیا کا نمائندہ، ایک سفاک قوت، اور نہ صرف دونوں کرداروں کی محبت بلکہ فطرت کا بھی دشمن ہے۔
یہ داستان ابتدا سے ہی مزاحمت اور جدوجہد کے گرد گھومتی ہے، لیکن اپنے انجام پر حنا کے قتل پر منتج ہوتی ہے۔ یہ اختتام ناول کو المیے کی شدت تو بخشتا ہے، مگر قاری کو گہری مایوسی اور ادھورے پن کا احساس دے جاتا ہے۔ جمشید کے ہاتھوں حنا کا اغوا اور اس کے بعد کے سانحات کہانی کو صدمے اور حقیقت کے قریب تو لاتے ہیں، لیکن اختتام پر چھائی تاریکی وہ امید توڑ دیتی ہے جو پوری کہانی میں زندہ رہتی ہے۔ فنی اعتبار سے یہ انجام منطقی ضرور ہے، مگر بیانیے کے تاثر کو غیر متوازن کر دیتا ہے۔ اتنی مزاحمت اور جدوجہد کے بعد اگر اختتام جمشید کے انجام یا سلمان اور حنا کے ملاپ پر ہوتا تو قاری کے لیے زیادہ اطمینان بخش محسوس ہوتا۔
اس کے باوجود، "کھڑکی بھر چاند" منظرکشی، تہذیبی اظہار اور جذباتی شدت کے باعث گلگت بلتستان کے فکشن میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ البتہ چند پہلو ایسے ہیں جو ناول کے فنی حسن پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ٹائپنگ کی چند غلطیاں، کاغذ کا اوسط معیار اور بعض غیر محتاط جملے قاری کے ذوقِ مطالعہ کو متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً صفحہ 135 پر حنا کا جملہ:
"مجھے پیشاب کی حاجت ہو رہی ہے۔"
یہ جملہ اگرچہ فطری اظہار کا تقاضا کرتا ہے، لیکن حنا جیسے باوقار نسوانی کردار کی زبان سے اس کا صادر ہونا مقامی تہذیبی نزاکت کے منافی محسوس ہوتا ہے۔ یہاں "رفع حاجت" جیسا مہذب متبادل بیانیے کے وقار کو قائم رکھ سکتا تھا۔
اسی طرح صفحہ 189 کے بعد کہانی کا بیانیہ اچانک دیامر سے ہٹ کر ایک ایسے قبیلے "بگھوتا" کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، جس کے کرداروں اور ناموں (جیسے سمورا، تکاشہ، زانگو) کا خطے کی تہذیبی ساخت سے کوئی فطری ربط نہیں ملتا۔ یہ تبدیلی قاری کے فکری تسلسل کو توڑ دیتی اور کہانی کو غیر مانوس فضاء میں لے جاتی ہے۔
صفحہ 282 پر کہانی کا سب سے غیر منطقی موڑ سامنے آتا ہے، جہاں سسر اور داماد اُسی شخص سے سمجھوتہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو ان پر گولیاں برسا چکا تھا اور حنا کو اغوا کر کے سانحے کو مزید سنگین بنا چکا تھا۔ یہ صورتحال کہانی کے جذباتی ربط اور کرداروں کے نفسیاتی تاثر کو متاثر کرتی ہے۔
ان چند فنی کوتاہیوں کے باوجود، "کھڑکی بھر چاند" گلگت بلتستان کے فکشن میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ محض ایک رومانوی داستان نہیں بلکہ فطرت، مزاحمت، المیے اور انسانی جذبوں کا ایسا امتزاج ہے جو دیر تک قاری کے ذہن و دل پر نقش رہتا ہے۔
ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشنئی چیئرمین گا کابینائی طرفے جو بوٹے مسلمان تو ݜیݨا تھین بوٹوٹ ❤️گوٹمار گن عید مبارک
04/05/2025
ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن گا فورم فارم لینگویج اینیشیٹیوزئی باہمی تعاون گنی گلتے مجا ایک مشاعراک چھوبیدو۔ مشاعرہ مجا ٹوارازم ڈیپارٹمنئی سیکریٹری ضمیر عباس، معروف شاعر و مصنف عبدالخالق تاج، قرآن پاکئی ݜیݨا ترجمہ تھیتو سید نجم الحسن شاہ، ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشنئی چیئرمین عبدالحفیظ شاکر، وائس چیئرمین غلام عباس نسیم، ڈائریکٹر گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی عارف حسین عارف، حبیب الرحمان مشتاق، محمد نظیم دیا، فاروق قیصر، نذیر حسین نذیر، طالب حسین طالب، شیر عالم شہباز، افتخار الدین افتخار، صدیق مغل گا موتے توشاریک ݜیݨا شاعری مشار بیگے۔ مشاعرہ مجا بوٹے شاعریس ݜیݨا مجا توم کلام موچھو تھے مرکہ تپےگے۔ انے کھیݨر چگا مور تھوجو مشار ہنوک جگ سے رئیگے کہ ݜیݨا گلتئی بوٹونوجو بڑی باݜ ہن، گئی گورنمنٹ سات گٹی بے قاعدہ گا ترتیب دے حکومتئی ہتھیر دیتن۔ تین حکومت سے کمک چماٹ تھے آنے باݜ سکول مجا پڑروکیی ڈآکو گݨوت۔ ریس ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشنیٹ گہ جوٛ تھیگے کیٛس بوٹے شاعری خصوصاً چاکروٹ سٹیج مجا دش دے رینؤ شاعری کوݨ دیگے۔ گلتے مجا ادے بے مݜٹے مارکئیے بیلے تو علاقار امن گا وائی تو نے جگ گا مثبت کوم کارو وار پھریجن۔
04/05/2025
ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن گلگت کا ایک اہم اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین عبد الحفیظ شاکر نے کی جب کہ اجلاس میں نئے اراکین پروفیسر ڈاکٹر امجد ساگر، نوید الحسن،نذیر احمد نذیر اورشیر عالم شہباز بھی شریک ہوئے،ادارے کی جانب سے اراکین نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اجلاس میں ادارے کی نئی تنظیم سازی پر غور و خوض کے بعد باقاعدہ طور پر SRDF کی تنظیم نو کے عمل کو مکمل کیا گیا۔ اس موقع پر عبد الحفیظ شاکر کو آئندہ تین سالوں کےلئے دوبارہ متفقہ چیئرمین منتخب کرلیا گیا جب کہ فہیم اختر کو جنرل سیکریٹری منتخب کرلیا گیا۔ اجلاس میں طفیل عباس حیات کو سیکریٹری مالیات، فاروق قیصر کو سیکریٹری اطلاعات، نوید الحسن کو وائس چیئرمین، نذیر احمد نذیر کو ڈپٹی جنرل سیکریٹری، محمد جمیل کو ایڈمن آفیسر، شیر عالم شہباز کو فوکل پرسن اور پروگرام آرگنائزر کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔علاوہ ازیں شکیل احمد اور مبارک حسین کو میڈیا کی زمہ داریاں بھی تفویض کر دی گئیں۔ اجلاس میں معروف ماہر لسانیات شکیل احمد شکیل کو ادارے کا پیٹرن انچیف منتخب کیا گیا جب کہ معروف شاعر غلام عباس نسیم، پروفیسر ڈاکٹر امجد ساگر اور شاہد حسین کو کابینہ میں بطور مشیران خاص منتخب کرلیا گیا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین عبد الحفیظ شاکر،جنرل سیکریٹری فہیم اختر و دیگر نے ادارے کی جانب سے شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا۔ ایس،آر،ڈی،ایف کی نومنتخب ایگزیٹیو باڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی توانائیاں علاقائی زبانوں بالخصوص شینا زبان کی ترقی و ترویج اور تحفظ کےلئے خرچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شینا زبان کے لکھاری اور بولنے والے سکرپٹ اور قاعدے پر متفق ہوچکے ہیں جسے اب سکولوں میں رائج کرکے نصاب تعلیم کا حصہ بنانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لہٰذا حکومت گلگت بلتستان اس حوالے سے سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے شینا زبان میں ادب کی ترقی پر بھی بات چیت کی اور قرآن پاک کے شینا زبان میں ترجمہ سمیت دیگر کتابوں کی اشاعت کو اس زبان کی ترویج کے لئے مفید قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں فورم فار لینگویج انیشیٹیوز کی خدمات کو بھی سراہا گیا کہ جن کی بدولت شینا و دیگر زبانوں پر کام ہورہا ہے۔اجلاس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ گزشتہ اسمبلی اور حکومت کے دور میں لسانیات اور تعلیم کے شعبے میں جو اقدامات اٹھائے گئے تھے انہیں بحال کرکے گلگت بلتستان کی زبانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ شینا اور بلتی زبان مردم شماری میں شامل ہونے کے باوجود اب تک گلگت بلتستان کا ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا ہے جو اس علاقے اور ان زبانوں کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فوری طور پر ادارہ شماریات سے رابطہ کرکے گلگت بلتستان کے لسانی شعبے کا ڈیٹا حاصل کیا جائے۔۔
شکریہ گلگت میڈیا نیٹ ورک شکریہ شیر عالم شہباز
Thanks to Gilgit Media Network
27/04/2025
ݜیݨا مشاعرہ
04/03/2025
So, language embodied culture and Pakistani definition “culture embodied language” is wrong. زبانیں ہمارے ثفافت کا حصہ کہنا غلط ہے۔ بلکہ ثقافت کا وجود ہی زبانوں کی وجہ سے ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے مادری زبانوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ساسکن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے اس بابت پروگرام پر نیو نیوز کے مبارک حسین آزاد کی رپورٹ
25/02/2025
'Gilgit-Baltistan’s soul lies in its stones, trees, and tongues' | Language shapes our worldview, and in Gilgit-Baltistan, that worldview is rooted in ancient animist and shamanic philosophies.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Gilgit
51500