Sasken Research & Development Foundation

Sasken Research & Development Foundation

Share

Shina (Urdu: شینا Šīnā) is a language from the Dardic sub-group of the Indo-A***n languages spoken by the people in the Gilgit–Baltistan region of Pakista

شینا زبان کا ارتقا

زبانوں کی علاقائی اور مشابہتی درجہ بندی کے برعکس زبانوں کا وراثتی تعلق لسانی درجہ بندی کے لیے اب بھی ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وراثتی تعلق کا مطلب کوئی دو زبانیں بولنے والے گروہوں کا حیاتیاتی رشتہ نہیں ہے بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں کو ان کے مشترک اجداد کی بنا پر مختلف گروہوں یا خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کسی زبان کی ابتدا کو Stanford model میں بعض اوقات پروٹو لینگویج یا ابتدائی زبان سے موسوم کیا جاتا ہے۔
چنانچہ Volume 2, 1992 Sociolinguistic survey of Northern Pakistan از Peter C. Backstrom اورCarla F.Radloff میں The Dialects of Shina کے عنوان کےتحت شینا زبان کا لسانی جد Proto Classic A***n ہے۔ ابتدائی کلاسیکی آریائی زبان کے بعد ہند یورپی زبانوں کا درجہ آتا ہے۔ اس تناطر میں دیکھا جائے تو ہند ایرانی زبانوں کا بڑا خاندان ایرانی، نورستانی اور ہند آریائی زبانوں کے مزید خاندانوں میں بٹ جاتا ہے۔ اس لحاظ سے آریائی زبانوں کے دو بڑے گروہ بنائے گئے ہیں ایک گروہ شمال مغربی اوردوسرا گروہ وسطی کہلاتا ہے اور شینا کا تعلق زبانوں کے ہند شمالی مغربی گروہ کے تحتی درد خاندان سے ہے پانینی، رگ ویدا اور رامائن کو اگر ہم معتبر source قرار دیں تواس کی قدامت کا اندازہ 1500-600 قبل مسیح بنتاہے۔ اس گروہ میں تقریباً 13 زبانیں بولنے والے گروہ شامل ہیں۔
زبانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ شینا کی ابتدا وسط ایشیا میں کاکیشیا کے میدانوں اور وادیوں میں ہوئی۔
شینا بولنے والے تاریخ کے مختلف ادوار میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں اور اس نقل مکانی کی تاریخ History of Northern Areas, اور Records on Karakoram Highway, از ڈاکٹر احمد حسن دانی کی وساطت سے تین مفروضے قائم کئے جاتے ہیں:
میں اس مقالہ میں ان تینوں مفروضوں میں سے زیادہ قرین قیاس مفروضے پر بحث کرنا چاہتا ہوں۔ ایک زیادہ قرین قیاس مفروضہ یہ بتاتا ہے کہ شینا بولنے والے کاکیشیا کی وادیوں سے اٹھ کر براستہ جہلم کشمیر کی وادی میں وارد ہوئے ہوں اور طویل مدت وادئ کشمیر میں رہے ہوں۔کشمیر کی مضافاتی وادیوں گریس، دراس، کارگل اور لداخ میں شینا بولنے والوں کی موجودگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ شینا بولنے والے کشمیر کی وادی میں رہے ہوں گے۔ ”راج ترنگنی“ سے اس موجودگی کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔
آثار اس بات کے شاہد ہیں کہ شاید کسی دوسرے گروہ کی نقل مکانی کی وجہ سے شینا بولنے والوں کو راست شمال کی طرف دھکیل دیا گیا ہواور وہ وادی سے نکل کر موجودہ شینا بولنے والی وادیوں میں پھیل گئے ہوں۔ پھر بوجوہ ان وادیوں سے نکل کر شمالی علاقہ جات میں وارد ہوئے ہوں۔ E. F Night کی کتاب ‘Where Three Empires Meet’ اور ‘Oxus and Indus’ میں ان آثار پر بحث موجود ہے۔
مختلف ادوار میں نقل مکانی کے سبب شینا بولنے والوں نے اپنی ہمسایہ زبانوں سے بہت اثر لیا ہے۔. Linguistic research in Gilgit and Hunza: some results and perspectives1985. Journal of Central Asia Vol. III: 127-32. میں ڈاکٹر گیارگ بدروس کے مطابق بروشسکی کی ہمسائیگی کے سبب شینا کی صوتی حالت اور گرائمر کچھ Aerial اور typological فرق کے ساتھ بروشسکی سے بہت ملتی جلتی ہے جبکہ شینا اور بروشسکی کا صوتی نظام اور ان دو زبانوں کا pitch accent pattern بھی بالکل ایک جیسا ہے۔ اس لیے ان دو زبانوں نے ایک دوسرے سے الفاظ کی صورت میں بھی بہت کچھ لیا ہے۔ ثقافتی لحاظ سے جب ہم شینا اور بروشسکی کے سوچنے کے عمل کی نچلی تہوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ”بِٹن“ اور ”دںۡیل“ کی وجدانی شاعری کے شینا Mythemes اور بروشسکی رزمیے کا شینا ہونا اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ان زبانوں کا ثقافتی عمل ایک ہی نوع کے سوتے سے پھوٹا ہو گا۔ Heidelberg University کے پروفیسر Dr. Holtzwarth کا کام اس جانب رہنمائی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
شینا زبان بولنے والوں کا سماجی ڈھانچہ قبائلی رہا ہے۔ ان کی زندگی گلہ بانی کسانی رہی ہے ایسی حالت نے اکثر انہیں تمدن کے مراکز اور شہری زندگی سے دور رکھا ہے۔ وہ اکثر پہاڑوں کی وادیوں میں زندگی گذارتے رہے ہیں جس کی وجہ سے شینا نے اپنے خاص حالات میں اپنے طور نشونما پائی ہے۔ ان حالات اور ماحول کو اگر نظر میں رکھا جائے تو شینا بے حد ثروت مند زبان ہے۔ الفاظ کا ذخیرہ بے اندازہ اور فراواں ہے جو اس کی مستقل ترقی کا ضامن ہے۔
کاروباری، تکنیکی اور علمی اصطلاحات شینا بھی دیگر زبانوں کی طرح مستعار لے رہی ہے اور وہ اردو کے ذریعے لے رہی ہے۔
شینا اگرچہ قدیم ہے اس میں کلاسیکی شاعری اور لوک ادب کا بے اندازہ ذخیرہ موجود ہے جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے۔ لیکن تمدنی آسائشوں کے نہ ہونے کے سبب شینا میں تحریر کی صورت بہت دیر بعد پیدا ہوئی۔ ایک نظریہ ابھی حال ہی میں لپی Lipi کے حوالے سے سامنے آیا ہے کہ شینا بولنے والوں کے کسی تمدنی دور میں لِپی ان کا تحریری نظام رہا ہو۔ سارگن saargin اور نیلوۡ بٹ niilo baṭ کے آثار اس بات کا بخوبی پتہ دیتے ہیں کہ شینا بولنے والے ایک تمدنی دور سے گذرے ہیں لیکن ان کا مذہبی اور تحریری ورثہ زمانے کے دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکا۔
لہٰذا پروفیسر عثمان علی خان کے مطابق شینا کوپہلی بار 1893 میں محکمہ بندوبست کے ایک نائب مہتمم امیر سنگھ نے لکھنے کی کوشش کی۔جبکہ 1915 میں محکمۂ بندوبست کے ایک اور نائب مہتمم ٹھاکر سنگھ نے بھی شینا لکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ مگر اس بارے میں باقاعدہ کام کا آغاز 1924 میں (T. Graham Baily) ٹی گراہم بیلی نے شینا گرائمر لکھ کر کیا۔ شینا کو باقاعدہ طور پر اردو رسم الخط میں ڈالنے والا پہلا شخص محمد امین ضیا ہے جس نے شینا گرائمر اور شینا صوتیات مرتب کر کےشینا کوابتدائی باقاعدہ صوتی حروف بہم پہنچائے۔
لیکن صوتیات سے اگلا مرحلہ فونیات Phonemics کا درپیش ہوتا ہے جس کا تجزیہ حاصل ہونے کے بعد ان تمام صوتی آوازوں کو فونیاتی اکائیاں قرار دیا جاتا ہے۔ ان حاصل شدہ صوتی آوازوں کے تجزیے سے میسر آنے والی فونی اکائیاں کسی زبان کے لفظ کی بناوٹ میں معنوی صورت کی حامل ہوتی ہیں۔ اس بات سے معلوم ہوا کہ صوتی حرف کسی زبان کے لیے معنوی صورت کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ کسی زبان میں موجود ایک آواز کی غیر مرتب صورت ہے۔ اس ضمن میں ان صوتی حروف کو فونی حروف کی صورت دینے والا پہلا شخص بھی محمد امین ضیا ہے جن کی شینا قاعدہ اورگرائمر حوالے کا درجہ رکھتی ہے۔
شینا صوتیات و فونیات پر جدید لسانیاتی بنیادوں پر کام کا آغاز سمر انسٹٹیوٹ آف لنگوسٹکس کی ماہر لسانیات کرلا ایف ریڈلاف نے Aspects of the Sounds of Gilgiti Shina, 1999 مرتب کر کے کیا ہے۔ اب شینا زبان کی پشت پر ایک باقاعدہ تحقیق شدہ صوتیات و فونیات کا کام موجود ہے جس کو سامنے رکھ کر ایک باقاعدہ علم الاصوات پر مبنی لکھائی کے نظام کو تشکیل دیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پڑھائی لکھائی کا نظام فونیات کے مرحلے پر آ کر ایک باقاعدہ لکھائی کے نظام کا روپ نہیں دھار سکتا، بلکہ یہ عمل ایک اگلے مرحلے میں داخل ہوتا ہے جہاں اس کا تعلق سماج کی سوچ، اس کے رویے اور اس کی سیاسی تنظیم اور اس سے پیدا ہونے والی فکر سے مربوط ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس مرحلے میں جمہور کی طرف سے کسی نئے ۟مجوزہ نظام پڑھائی لکھائی کو پزیرائی مل سکتی ہے یا اسے نا پسند کیا جا سکتا ہے۔ اس پزیرائی یا نا پسندیدگی کے عمل کو وقوع پذیر کرنے کے لیے اس سماج کے زبانی روایتی ادب کو جو ان کے حافظے میں کسی حد تک محفوظ ہوتا ہے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر لکھائی کا نظام علم الاصوات پر مبنی نظام ہے تو وہ جمہور کے ذہنی خاصے کی عکاسی کرے گا اور ایک مستقل لفظی شکل کی صورت اختیار کرے گا۔
اس سارے عمل کی ساخت پر غور کیا جائے تو اس کی تقویم کے نتیجے میں وجود میں آنے والا لسانی ماڈل ایک بالکل نئے لسانی ڈسپلن کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔ یہ لسانی ماڈل شکیل احمد شکیل نےاپنی تحقیقی کاوش ”شینا زبان–نظام پڑھائی لکھائی کا جائزہ (لسانیاتی، سماجیاتی، نفسیاتی تجزیہ )“ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ چنانچہ اس کام نے شینا کو لکھنے کے لیے ”علم الاصوات پر مبنی باقاعدہ لکھنے کا نظام“ بہم پہنچایا۔ اب ہم تاریخ کے اس دھانے پر کھڑے ہیں جہاں سے شینا کے لوک ادب کو تحریر کی صورت دینے اور جدید شینا ادب پیدا کرنےکاسفر شروع کیا جاتا ہے۔
آخر میں مجھے گندھارا ہندکو بورڈ پاکستان اور اس کانفرنس کے منتطمین کی اس بے لاگ کاوش کو خراج تحسین پیش کرنا ہےجس نے پاکستان میں بولی جانے والی بیسیوں زبانوں کے حساس لوگوں کوایک پلیٹ فارم مہیا کر کے ان کو یک آواز کردیا ہے،
ہم نے سیکھا ہے آذانِ سحری سے یہ اصول
لوگ خوابیدہ سہی ہم کو صدا دینا ہے
عبدالحفیط شاکر
نائب صدر : شینا لینگویج اینڈ کلچر پروموشن سوسائٹی گلگت
ا شتیا ق ا حمد یا د
جنر ل سیکر یٹر ی، شینا لینگویج اینڈ کلچر پروموشن سوسائٹی گلگت
آفس نمبر 317 ، تھرڈ فلور، قلندر پلازہ سینما بازار گلگت
رابطہ نمبر: 0323-9900095 ، 0344-9482795 ، 0346-8488874
Email : [email protected] ، [email protected]

Photos from Sasken Research & Development Foundation's post 29/07/2025

"کھڑکی بھر چاند" گلگت بلتستان کے فکشن میں ایک سنگِ میل
تحریر: طفیل عباس حیات
(ممبر، ساسکن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن)
احمد سلیم سلیمی صاحب کا شمار گلگت بلتستان کے اُن اوّلین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اُس عہد میں نثر کی روایت کو جِلا بخشی، جب پورا خطہ شعری محفلوں اور غزل سرائی کے سحر میں محو تھا۔ یہاں اگرچہ شعر صدیوں سے سماعت کی لذّت رہا ہے، مگر مطالعے کی سطح پر نثر، خصوصاً فکشن، ہمیشہ قارئین کے دل کو زیادہ چھوتا رہا۔ اس کے باوجود فکشن کو وہ وقار اور ادبی توجہ حاصل نہ ہو سکی جس کا وہ بجا طور پر مستحق تھا۔ سلیمی صاحب نے نہ صرف اس کمی کو شدت سے محسوس کیا بلکہ اپنے مسلسل تخلیقی عمل سے اس خلا کو پُر بھی کیا، اور یوں گلگت بلتستان کے ادبی منظرنامے میں فکشن کو ایک منفرد اور مستحکم شناخت بخشی۔
سلیمی صاحب کی تحریروں میں فطرت کی لطافت، مقامی تہذیب کی باریکیاں اور سماجی تضادات کی حقیقت نگاری اس خوبصورتی سے جلوہ گر ہوتی ہے کہ قاری خود کو ان مناظر اور کرداروں کے درمیان سانس لیتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ محبت، المیہ، مزاحمت اور ثقافتی کشمکش جیسے موضوعات کو سلیمی صاحب نے نہایت دل نشیں اور گہرے فنی شعور کے ساتھ برتا ہے۔
گزشتہ برس مدینہ مارکیٹ گلگت سے گزرتے ہوئے، "نارتھ بک" اسٹور کی شیشے کی الماری میں "کھڑکی بھر چاند" کا سرورق نگاہوں سے ٹکرایا۔ سرورق کی کشش نے مجھے ٹھہرنے پر مجبور کر دیا۔ کتاب خریدی اور رات کو چند صفحات پلٹنے کی نیت سے کھولی، مگر رفتہ رفتہ پوری رات انہی اوراق کی گرفت میں بسر ہوئی۔ سلیمی صاحب قاری کو کہانی کی ڈور سے یوں باندھ لیتے ہیں کہ کتاب ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتی۔
اس ناول میں دیامر جیسے حساس خطے کی ثقافت، رسوم و رواج اور بالخصوص ٹمبر مافیا کے جال کو (سانپ بھی مرے، لاٹھی بھی نہ ٹوٹے) کے مصداق نہایت سلیقے اور احتیاط سے بیان کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول حقیقت کے قریب محسوس ہونے کے ساتھ ساتھ احتیاط، توازن اور بیانیہ شفافیت کا مرقع بن جاتا ہے۔ دیامر کے خاردار جنگلات میں انسانی رشتوں اور زندگی کے پیچیدہ تناؤ کو سلیمی صاحب نے جس فنی مہارت اور پختگی سے سمیٹا ہے، وہ اُن کے تخلیقی ہنر اور بصیرت کا غماز ہے۔
تین چار روز میں کتاب مکمل کر لی۔ تبصرہ لکھنے کا ارادہ بھی تھا، مگر روزمرّہ مصروفیات حائل رہیں۔ آج جب قلم اٹھا رہا ہوں تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مجھ سے قبل اہلِ قلم کی ایک طویل فہرست " عبدالحفیظ شاکر، حبیب الرحمن مشتاق، عبدالسلام ناز، نیاز نیازی، کریم کریمی، محمد نذیر، رحمان آہی، ارشد جگنو، فاروق قیصر، ناصراللہ بیگ اور دیگر " اس ناول پر اپنے تاثرات اور تجزیے پیش کر چکے ہیں۔ شاید ہی گلگت بلتستان کی کسی اور کتاب پر اس قدر متنوع اور گہری گفتگو ہوئی ہو۔ تاہم یہ سطور میں اپنے ذاتی مشاہدے اور قاری کی حیثیت سے تاثرات کے طور پر رقم کر رہا ہوں۔
کتاب کا سرورق ناول کی داخلی فضا کا بصری عکس پیش کرتا ہے: برف پوش پہاڑ، نیم روشن چاند اور مغرب کی اذان کے بعد پھیلتی سنجیدگی فطرت کی پُراسراریت کو ابھارتی ہے۔ کھڑکی سے جھانکتی دوشیزہ انسانی تنہائی اور انتظار کی علامت ہے، جبکہ دیسی ٹوپی میں بندوق تھامے شخص کا عکس جمشید جیسے منفی کردار کی نمائندگی کرتا ہے۔ قریب کے مکان کی روشن کھڑکیاں کہانی میں چھپی زندگی، روشنی اور امید کی علامت کے طور پر اُبھرتی ہیں۔
یہ ناول جون 2024ء میں "نواب سنزز پبلی کیشنز" (اقبال روڈ، راولپنڈی) سے شائع ہوا۔ قیمت 1000 روپے ہے۔ طباعت اور سرورق نہایت عمدہ اور موضوع سے ہم آہنگ ہیں، البتہ کاغذ کا معیار نسبتاً اوسط درجے کا ہے۔
کہانی فلیش بیک کے انداز میں ایک فارسٹ آفیسر سلمان احمد کے ذریعے کھلتی ہے، جو اپنی پوسٹنگ کے تحت جنگلات میں گھرے علاقے "مادم پور" پہنچتا ہے۔ وہاں وہ نہ صرف فطرت کے رنگ اور مقامی ثقافت کو دیکھتا ہے بلکہ قبائلی اقدار اور تنگ نظری کے منفی اثرات سے بھی دوچار ہوتا ہے۔ وہیں اس کی ملاقات حنا سے ہوتی ہے، جو ایک حساس اور باوقار دیہاتی لڑکی اور ناول کا مرکزی نسوانی کردار ہے۔ سلمان اور حنا کی محبت محض ایک رومانوی داستان نہیں بلکہ روایت، جبر اور طبقاتی تضادات کے خلاف ایک جذباتی اور فکری بغاوت کی علامت بن جاتی ہے۔ اس خواب کی راہ میں حنا کا منگیتر جمشید آتا ہے، جو ٹمبر مافیا کا نمائندہ، ایک سفاک قوت، اور نہ صرف دونوں کرداروں کی محبت بلکہ فطرت کا بھی دشمن ہے۔
یہ داستان ابتدا سے ہی مزاحمت اور جدوجہد کے گرد گھومتی ہے، لیکن اپنے انجام پر حنا کے قتل پر منتج ہوتی ہے۔ یہ اختتام ناول کو المیے کی شدت تو بخشتا ہے، مگر قاری کو گہری مایوسی اور ادھورے پن کا احساس دے جاتا ہے۔ جمشید کے ہاتھوں حنا کا اغوا اور اس کے بعد کے سانحات کہانی کو صدمے اور حقیقت کے قریب تو لاتے ہیں، لیکن اختتام پر چھائی تاریکی وہ امید توڑ دیتی ہے جو پوری کہانی میں زندہ رہتی ہے۔ فنی اعتبار سے یہ انجام منطقی ضرور ہے، مگر بیانیے کے تاثر کو غیر متوازن کر دیتا ہے۔ اتنی مزاحمت اور جدوجہد کے بعد اگر اختتام جمشید کے انجام یا سلمان اور حنا کے ملاپ پر ہوتا تو قاری کے لیے زیادہ اطمینان بخش محسوس ہوتا۔
اس کے باوجود، "کھڑکی بھر چاند" منظرکشی، تہذیبی اظہار اور جذباتی شدت کے باعث گلگت بلتستان کے فکشن میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ البتہ چند پہلو ایسے ہیں جو ناول کے فنی حسن پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ٹائپنگ کی چند غلطیاں، کاغذ کا اوسط معیار اور بعض غیر محتاط جملے قاری کے ذوقِ مطالعہ کو متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً صفحہ 135 پر حنا کا جملہ:
"مجھے پیشاب کی حاجت ہو رہی ہے۔"
یہ جملہ اگرچہ فطری اظہار کا تقاضا کرتا ہے، لیکن حنا جیسے باوقار نسوانی کردار کی زبان سے اس کا صادر ہونا مقامی تہذیبی نزاکت کے منافی محسوس ہوتا ہے۔ یہاں "رفع حاجت" جیسا مہذب متبادل بیانیے کے وقار کو قائم رکھ سکتا تھا۔
اسی طرح صفحہ 189 کے بعد کہانی کا بیانیہ اچانک دیامر سے ہٹ کر ایک ایسے قبیلے "بگھوتا" کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، جس کے کرداروں اور ناموں (جیسے سمورا، تکاشہ، زانگو) کا خطے کی تہذیبی ساخت سے کوئی فطری ربط نہیں ملتا۔ یہ تبدیلی قاری کے فکری تسلسل کو توڑ دیتی اور کہانی کو غیر مانوس فضاء میں لے جاتی ہے۔
صفحہ 282 پر کہانی کا سب سے غیر منطقی موڑ سامنے آتا ہے، جہاں سسر اور داماد اُسی شخص سے سمجھوتہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو ان پر گولیاں برسا چکا تھا اور حنا کو اغوا کر کے سانحے کو مزید سنگین بنا چکا تھا۔ یہ صورتحال کہانی کے جذباتی ربط اور کرداروں کے نفسیاتی تاثر کو متاثر کرتی ہے۔
ان چند فنی کوتاہیوں کے باوجود، "کھڑکی بھر چاند" گلگت بلتستان کے فکشن میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ محض ایک رومانوی داستان نہیں بلکہ فطرت، مزاحمت، المیے اور انسانی جذبوں کا ایسا امتزاج ہے جو دیر تک قاری کے ذہن و دل پر نقش رہتا ہے۔

06/06/2025

ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشنئی چیئرمین گا کابینائی طرفے جو بوٹے مسلمان تو ݜیݨا تھین بوٹوٹ ❤️گوٹمار گن عید مبارک

Photos from Shina Poetry Club 's post 04/05/2025

ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن گا فورم فارم لینگویج اینیشیٹیوزئی باہمی تعاون گنی گلتے مجا ایک مشاعراک چھوبیدو۔ مشاعرہ مجا ٹوارازم ڈیپارٹمنئی سیکریٹری ضمیر عباس، معروف شاعر و مصنف عبدالخالق تاج، قرآن پاکئی ݜیݨا ترجمہ تھیتو سید نجم الحسن شاہ، ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشنئی چیئرمین عبدالحفیظ شاکر، وائس چیئرمین غلام عباس نسیم، ڈائریکٹر گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی عارف حسین عارف، حبیب الرحمان مشتاق، محمد نظیم دیا، فاروق قیصر، نذیر حسین نذیر، طالب حسین طالب، شیر عالم شہباز، افتخار الدین افتخار، صدیق مغل گا موتے توشاریک ݜیݨا شاعری مشار بیگے۔ مشاعرہ مجا بوٹے شاعریس ݜیݨا مجا توم کلام موچھو تھے مرکہ تپےگے۔ انے کھیݨر چگا مور تھوجو مشار ہنوک جگ سے رئیگے کہ ݜیݨا گلتئی بوٹونوجو بڑی باݜ ہن، گئی گورنمنٹ سات گٹی بے قاعدہ گا ترتیب دے حکومتئی ہتھیر دیتن۔ تین حکومت سے کمک چماٹ تھے آنے باݜ سکول مجا پڑروکیی ڈآکو گݨوت۔ ریس ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشنیٹ گہ جوٛ تھیگے کیٛس بوٹے شاعری خصوصاً چاکروٹ سٹیج مجا دش دے رینؤ شاعری کوݨ دیگے۔ گلتے مجا ادے بے مݜٹے مارکئیے بیلے تو علاقار امن گا وائی تو نے جگ گا مثبت کوم کارو وار پھریجن۔

04/05/2025

ساسکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن گلگت کا ایک اہم اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین عبد الحفیظ شاکر نے کی جب کہ اجلاس میں نئے اراکین پروفیسر ڈاکٹر امجد ساگر، نوید الحسن،نذیر احمد نذیر اورشیر عالم شہباز بھی شریک ہوئے،ادارے کی جانب سے اراکین نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اجلاس میں ادارے کی نئی تنظیم سازی پر غور و خوض کے بعد باقاعدہ طور پر SRDF کی تنظیم نو کے عمل کو مکمل کیا گیا۔ اس موقع پر عبد الحفیظ شاکر کو آئندہ تین سالوں کےلئے دوبارہ متفقہ چیئرمین منتخب کرلیا گیا جب کہ فہیم اختر کو جنرل سیکریٹری منتخب کرلیا گیا۔ اجلاس میں طفیل عباس حیات کو سیکریٹری مالیات، فاروق قیصر کو سیکریٹری اطلاعات، نوید الحسن کو وائس چیئرمین، نذیر احمد نذیر کو ڈپٹی جنرل سیکریٹری، محمد جمیل کو ایڈمن آفیسر، شیر عالم شہباز کو فوکل پرسن اور پروگرام آرگنائزر کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔علاوہ ازیں شکیل احمد اور مبارک حسین کو میڈیا کی زمہ داریاں بھی تفویض کر دی گئیں۔ اجلاس میں معروف ماہر لسانیات شکیل احمد شکیل کو ادارے کا پیٹرن انچیف منتخب کیا گیا جب کہ معروف شاعر غلام عباس نسیم، پروفیسر ڈاکٹر امجد ساگر اور شاہد حسین کو کابینہ میں بطور مشیران خاص منتخب کرلیا گیا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین عبد الحفیظ شاکر،جنرل سیکریٹری فہیم اختر و دیگر نے ادارے کی جانب سے شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا۔ ایس،آر،ڈی،ایف کی نومنتخب ایگزیٹیو باڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی توانائیاں علاقائی زبانوں بالخصوص شینا زبان کی ترقی و ترویج اور تحفظ کےلئے خرچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شینا زبان کے لکھاری اور بولنے والے سکرپٹ اور قاعدے پر متفق ہوچکے ہیں جسے اب سکولوں میں رائج کرکے نصاب تعلیم کا حصہ بنانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لہٰذا حکومت گلگت بلتستان اس حوالے سے سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے شینا زبان میں ادب کی ترقی پر بھی بات چیت کی اور قرآن پاک کے شینا زبان میں ترجمہ سمیت دیگر کتابوں کی اشاعت کو اس زبان کی ترویج کے لئے مفید قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں فورم فار لینگویج انیشیٹیوز کی خدمات کو بھی سراہا گیا کہ جن کی بدولت شینا و دیگر زبانوں پر کام ہورہا ہے۔اجلاس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ گزشتہ اسمبلی اور حکومت کے دور میں لسانیات اور تعلیم کے شعبے میں جو اقدامات اٹھائے گئے تھے انہیں بحال کرکے گلگت بلتستان کی زبانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ شینا اور بلتی زبان مردم شماری میں شامل ہونے کے باوجود اب تک گلگت بلتستان کا ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا ہے جو اس علاقے اور ان زبانوں کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فوری طور پر ادارہ شماریات سے رابطہ کرکے گلگت بلتستان کے لسانی شعبے کا ڈیٹا حاصل کیا جائے۔۔

03/05/2025
30/04/2025

شکریہ گلگت میڈیا نیٹ ورک شکریہ شیر عالم شہباز

27/04/2025

Thanks to Gilgit Media Network

27/04/2025

ݜیݨا مشاعرہ

04/03/2025

So, language embodied culture and Pakistani definition “culture embodied language” is wrong. زبانیں ہمارے ثفافت کا حصہ کہنا غلط ہے۔ بلکہ ثقافت کا وجود ہی زبانوں کی وجہ سے ہے۔

27/02/2025

موسمیاتی تبدیلی سے مادری زبانوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ساسکن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے اس بابت پروگرام پر نیو نیوز کے مبارک حسین آزاد کی رپورٹ

Category

Telephone

Address

01
Gilgit
51500