Ikhwan al-Safa

Ikhwan al-Safa

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ikhwan al-Safa, Writer, Gilgit.

“ PURITY OF HEART, LIGHT OF REASON, AND QUEST FOR TRUTH "
— This is the message of Ikhwan al-Safa.

دل کی صفائی، عقل کی روشنی اور حقیقت کی جُستجو۔
یہی اخوان الصفا کا پیغام ہے۔

28/05/2026

جین زی امام

آغا خان پنجم شاہ رحیم الحیسینی ان دنوں دیدار کیلیے پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود ہیں۔ وژن اور ملنساری میں اپنے پر دادا سلطان محمد شاہ کاعکس ہیں۔

سلطان محمد شاہ کے کریڈٹ پہ بہت کچھ ہے۔لیگ آف نیشز کی صدارت، مسلم لیگ کی صدارت، شملہ وفد کی قیادت، لندن گول میز کانفرنس، عمان سے گوادر کی خریداری، فلاحی نیٹ ورک، اور بہت کچھ۔

مگر جو کام سب سے بڑا ہے،وہ برصغیر کے مسلم سماج میں جدید علوم کی ترویج ہے۔ جدید علوم کی قدر انہی کو ہوسکتی ہے جنکی کتابیں ضبط ہوئی ہوں اور لائبریریاں جلائی گئی ہوں۔ صدیوں تک جنہوں نے جلاوطنیاں اور تنہائیاں کاٹی ہوں۔ محتسب سے چھپ چھپاکر یونانی فلسفہ پڑھا ہو۔

ہم اسماعیلیوں کی تاریخ میں صرف حسن صباح کے قلع الموت کے بارے میں جانتے ہیں، وہ بھی غلط جانتے ہیں۔ چھاپہ مار فکشن نگاروں نے ہمیں قلع الموت کی حشیش تو دکھا دی، ان خفیہ حلقوں کے بارے میں نہیں بتایا جن سے جلاوطن مسلم فلاسفر اور سائنسدان وابستہ تھے۔

سلطان محمد شاہ کو نکال دیں تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ ادھوری ہے۔ ایک لاکھ جیب سے دیے، 29 لاکھ کیلیے شہر شہر جھولی پھیلائی، تب جاکر ایم اے او کالج کو (علی گڑھ) یونیورسٹی کا درجہ ملا۔

علی گڑھ کے بڑے ناموں میں ایک یہی تھے جو عورت کی شمولیت کے بغیر ترقی کےایجنڈے کو نامکمل سمجھتے تھے۔بچیوں کیلیے انہوں اسکول کالجز کا الگ سے جال بچھایا۔

ان کا قول ہے،اگر میرے دو بچے ہوتے، ایک بیٹا ایک بیٹی، میری استعداد ایک بچے کو تعلیم دینے کی ہوتی، میں بیٹی کو تعلیم دیتا۔اس قول کے اثرات گوجال اورغذرکے علاقوں میں لڑکیوں کی شرح خواندگی کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

پچانوے سے ستانوے فیصد تک شرح خواندگی صرف قول کا نتیجہ نہیں ہے۔اس میں عمل بھی شامل ہے۔امامت کے پچاس سال پورے ہوئے تو عقیدت مندوں نےآغا خان سلطان محمد شاہ کوسونے میں تولا۔ سونے اور نذرانوں کی رقم بچیوں کی تعلیم کیلیے ہنزہ اور چترال بھجوادی۔ یہ کہانی امامت کے ساٹھ سال پورے ہونے پر پھر سے دہرائی گئی۔جو کچھ ہے اسی اچھائی کے صدقے ہے۔

شاہ کے بعد شاہ کے پوتے شاہ کریم الحسینی مسند پر آئے۔وہ کم بولتے تھے زیادہ کرتے تھے۔انکی پوری زندگی اپنے دادا کے خوابوں کی تعبیر میں گزری۔دادا کی فلاحی سوچ کو منظم کر کے ایک عالمگیر تحریک کی صورت دی۔

ساتھ ہی ایک ایسا مزاج تشکیل دینے میں خود کو وقف کیا جو فطرت سے ہم آہنگ ہو۔ جس میں ٹھہراو ہو۔ جس کے لیے انسانی حقوق قانون کا نہیں، طبعیت کا معاملہ ہو۔ جس کیلیے مکالمے کا مطلب بولنے کی آزادی نہ ہو، بلکہ سننے کا حوصلہ ہو۔ صنفی برابری معمول کی بات ہو۔

جو برتری اور تسلط کے شوق سے پاک ہو۔ جو خدمت کے بدلے عقیدے نہ خریدتا ہو۔تہذیبوں کے ساتھ تصادم کے بجائے اپنے اور دوسرے کے بیچ مشترک قدریں ڈھونڈتا ہو۔ پرنس نے کسی بھی تصادم سے بچنے کیلیے یہ سب اخوان الصفا کے مفکروں کی طرح خاموشی اور تدبر کے ساتھ کیا۔

اب آغا خان پنجم شاہ رحیم الحسینی کا زمانہ ہے۔ پر دادا کے خواب پورے ہوچکے اور مزاج تقریبا پنپ چکا۔ اب دائرہ بڑھانے کا وقت ہے۔

پرنس رحیم مسند سے اتر کر لوگوں کی دسترس میں آرہے ہیں۔جین زی کو سن رہے ہیں اور بچوں کو پیار کررہے ہیں۔نالج ایکسچینج اورعالمی شراکت داری کی سوچ کو نئے رخ پر لے جارہے ہیں۔

گلوبل وارمنگ کو چیلینج اور مصنوعی ذہانت کو ہدف کے طور پر لے رہے ہیں۔بھائی چارہ جیسے الفاظ کو لغت سے مٹاکر جینڈر نیوٹرل الفاظ کو رواج دے رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم سے محروم کروڑوں بچوں کو کارامد بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ذہنی صحت کو اہمیت دے رہے ہیں۔کھیلوں کو رابطے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔میراتھون ریس میں مسلسل حصہ لے رہے ہیں۔

کہہ رہے ہیں، کھیل ذاتی نظم و ضبط اور برداشت سکھاتے ہیں۔ہارجیت کے آداب سکھاتے ہیں۔مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔آپ لوگ عمر کے جس حصے میں بھی ہوں، دن میں کچھ وقت جسمانی صحت کیلیے ضرور نکالیں۔

انکی گفتگو سن کر ایک عید یاد آتی ہےجو ہنزہ میں گزری۔اتفاق سے کل عید ہے۔عید کی نماز ہم نے عطا آباد جھیل کے کنارے گلمت کے ایک میدان میں ادا کی۔ اس حسین تجربے پر الگ سے ایک کالم بنتا ہے۔

مُکی نے بیس منٹ کی مختصر گفتگو میں پندرہ منٹ صحت کو دیے۔بالائی علاقوں میں دل دماغ کے بڑھتے ہوئے امراض کو انہوں نے آکسیجن اور لائف اسٹائل کے ساتھ جوڑا۔ نیند پوری کرنے پر زور دیا۔صبح جلدی اٹھنے، اچھی غذا لینے اور پابندی سے ورزش کرنے کی ترغیب دی۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے منبروں سے دھیمے لہجے میں زندگی کی بات ہوتی ہے۔

امامت کا حلف لیتے ہوئے شاہ رحیم نے دنیا بھر کے اسماعیلیوں سے براہ راست گفتگو کی۔انہوں نے دو فرمان جاری کیے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایسا کردار ادا کرو کہ مثال قائم ہوجائے۔اپنے اپنے ملکوں کے وفادار شہری بن کر رہو۔

شہری وفاداری والی بات آج کتنی اہم ہوگئی ہے یہ بیرون ملک مقیم مسلمان اب بھی نہیں سمجھ پارہے۔خاکم بدہن، سنبھلاو نہ آیا تو وقت انہیں کڑی آزمائش میں ڈالنے والا ہے۔

احساس کہیں نہ کہیں موجود ہے مگر تربیت آڑے آرہی ہے۔ غلبے کی نفسیات اور برتری کا احساس انہیں کھائے جا رہا ہے۔

ہمارے امیگرینٹس شمولیت اور شراکت کو پسپائی سمجھتے ہیں۔آغا خان سوئم اسے تہذیب سمجھتے تھے۔اس لیے انہوں نے پچھلے زمانے میں ہی سمجھا دیا تھا کہ ایک طرف امام کا فرمان ہو دوسری طرف ملک کا آئین ہو، تم نے آئین کا وفادار رہنا ہے۔

آج جب امریکا اور یورپی ممالک میں سسٹم اور امیگرینٹس کے بیچ تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں تو پرنس رحیم نے بات کو پہلے ہی خطبے میں دہرانا ضروری سمجھا۔

شاہ رحیم الحسینی دیدار کیلیے جہاں گئے، تین باتوں پر زور دیا۔مثبت سوچ، رواداری اور جدید تعلیم۔وہ جانتے ہیں کہ کہاں کتنا بولنا ہے۔

دنیا جہاں میں وہ جین ایڈیٹنگ، گرین انرجی اور مصنوعی ذہانت پر بات کر رہے ہیں۔شمال پہنچے تو سادہ سی ایک بات کہی۔ مثبت سوچ کو جگہ دو اور انگریزی سیکھ لو۔مقدر کے سکندر بن جاوگے۔

فرنود عالم / روزنامہ جنگ

Photos from Juu_hunzai's post 23/05/2026
21/05/2026

🇵🇰❤️

21/05/2026

اسماعیلی مسلمانوں کے حاضر امام عزت مآب شہزادہ رحیم آغا خان پنجم کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے ناشتے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر انھوں نے نہایت گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔

20/05/2026

جناب مولانا محمود الحسن کوکب تبریزی (پشاوری) کی نظم۔

اے وارثِ امامتِ دوران خوش آمدی
اے رہنمائے جادۂ ایمان خوش آمدی
ترجمہ۔ اے زمانے کی امامت کے وارث اور ایمان کی راہ کے رہنما! خوش آمدید۔

اے گوہرِ یگانۂ دریائے معرفت
اے ماہِ برجِ حجت و برہان خوش آمدی
ترجمہ۔ اے معرفت کے سمندر کے نایاب موتی اور دلیل و برہان کے آسمان کے روشن چاند! خوش آمدید۔

اے محرمِ رموزِ نہاں خانۂ وجود
دانائے سِرِّ عالمِ امکان خوش آمدی
ترجمہ ۔اے کائناتِ وجود کے پوشیدہ رازوں سے واقف اور عالمِ امکان کے بھید جاننے والے! خوش آمدید۔

اے یادگارِ اشرفِ اولادِ فاطمہؑ
اے شمعِ جمعِ بزمِ نیاگان خوش آمدی
ترجمہ۔ اے حضرت فاطمہؑ کی برگزیدہ اولاد کی نشانی اور اپنے بزرگوں کی محفل کے روشن چراغ! خوش آمدید۔

اے سبطِ ابنِ جعفرِ صادقؑ امامِ دیں
اے شہریارِ کشورِ عرفان خوش آمدی
ترجمہ۔ اے امامِ دین، حضرت جعفرِ صادقؑ کی نسل کے فرزند اور عرفان کی سلطنت کے بادشاہ! خوش آمدید۔

اے روشن از ضیائے قدومد حریمِ جاں
در بزمِ ما چو شمعِ فروزاں خوش آمدی
ترجمہ ۔ آپ کی آمد کی روشنی سے دلوں کی دنیا منور ہوگئی؛ آپ ہماری محفل میں روشن شمع کی مانند خوش آمدید۔

اے نائبِ رسولِ امیںؐ پیشوائے دہر
مسند نشینِ محفلِ ایمان خوش آمدی
ترجمہ ۔اے رسولِ امینؐ کے نائب، زمانے کے پیشوا اور ایمان کی محفل کے صدرنشین! خوش آمدید۔

سلطانِ دیں امامِ زماں مقتدائے عصر
اے نورِ چشمِ ملتِ پاکاں خوش آمدی
ترجمہ۔ اے دین کے سلطان، زمانے کے امام اور اہلِ ایمان کی آنکھوں کے نور! خوش آمدید۔

ہر ذرۂ وطن شدہ پُرنور و پُرضیا
چوں مہرِ ضوفشاں و درخشاں خوش آمدی
ترجمہ ۔آپ کی آمد سے وطن کا ہر ذرہ نور سے جگمگا اٹھا، کیونکہ آپ روشن سورج کی طرح تاباں ہوکر آئے ہیں۔

زد جلوہ گاہِ طور پشاور ز مقدمت
اے مظہرِ تجلیِ یزداں خوش آمدی
ترجمہ ۔آپ کی آمد سے پشاور جلوہ گاہِ طور بن گیا؛ اے خدا کی تجلی کے مظہر! خوش آمدید۔

یعقوب وار دیدۂ ما نورِ تازہ یافت
اے یوسفِ عزیزؑ بہ کنعاں خوش آمدی
ترجمہ ۔حضرت یعقوبؑ کی طرح ہماری آنکھوں کو نئی روشنی ملی؛ اے یوسفِ عزیزؑ! کنعان میں خوش آمدید۔

کوکبؔ بصد نیاز رسیدہ بخدمتت
شہزادۂ کریم آغا خان خوش آمدی
ترجمہ۔ کوکبؔ نہایت عقیدت و نیاز کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہے؛ اے شہزادۂ کریم آغا خان! خوش آمدید۔

1960 میں پشاور یونیورسٹی کی تقسیمِ اسناد کی تقریب میں آمد پر امامِ شاہ کریم آغا خان چہارم کے حضور میں جناب مولانا محمود الحسن کوکب تبریزی (پشاوری) نے فارسی زبان میں عقیدت سے بھری نظم پیش کی۔

20/05/2026

خوش آمدید مولا ❣️
حاضر امام پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

اَلّٰھُمَ صَلّیِ عَلّٰیٰ مُحَمَّدِؐ وَّآلِ مُحَمَّــد 🌸

Photos from Ikhwan al-Safa's post 19/05/2026

اسلام آباد میں حکومت پاکستان کی جانب سے مولانا حاضر امام کو خوش آمدید کہنے کے لیے بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔
🥀❣️

19/05/2026

اسلام آباد

اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم آغا خان کل اپنے چھ روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔

وہ اپنے دورے کے دوران چترال اور گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے، جہاں مختلف مقامات پر اپنے مریدین کو دیدار کا شرف بخشیں گے۔

دورے کے سلسلے میں متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
یہ دورہ شمالی علاقوں میں مقیم اسماعیلی برادری کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، کیوں کہ بطور پچاس ویں امام یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔

18/05/2026

اسماعیلی مسلمانوں کے حاضر امام شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کا دورہ گلگت بلتستان و چترال کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں۔
اس خوشی کے موقع پر عمارتوں اور راستوں کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے۔

30/04/2026

دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر
دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Gilgit