Mir Of Ghizer Official
Columnist today
جنرل عاصم منیر صاحب بہت بہت مبارکباد اور دل کی گہرائیوں سے دُعا بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کڑے امتحان میں سرخرو ہونے کی توفیق دے۔
’’خداتم کو حکم دیتا ہے ہے امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو۔ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے۔ بے شک خدا سنتا اور دیکھتا ہے۔‘‘(سورۃ النساء۔ آیت 58۔ مضامین قرآن حکیم۔ مرتّبہ۔ زاہد ملک)
جناب جنرل حافظ سید عاصم منیر بہت بہت مبارکباد اور دل کی گہرائیوں سے دُعا بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کڑے امتحان میں سرخرو ہونے کی توفیق دے۔ یہ عہدۂ جلیلہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کلیدی منصب رہا ہے ۔ اس سے توقعات بہت رہی ہیں مگر چند ایک ہی تاریخ اور جغرافیے کی امیدیں پوری کرسکیں۔
آپ کو ہدیۂ تبریک بھی پیش کرنا ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمدردی بھی کہ آپ اس عظیم مملکت کے جس موڑ پر سپہ سالار مقرر ہوئے ہیں، اس وقت واہگہ سے گوادر تک ایک انارکی ہے۔ کرپشن کا دَور دورہ ہے۔ مالی کرپشن بھی، ذہنی بھی، ذاتی مفادات قومی مفادات پر حاوی ہیں۔ ملک کے حقیقی مالک یعنی 22کروڑ عوام حکمرانوں، سیاستدانوں اور اداروں سے تنگ آچکے ہیں۔ پہلے یہ گلے شکوے سینہ بہ سینہ چلتے تھے۔اب کروڑوں پاکستانیوں کے ہاتھوں میں موبائل ہیں۔ ساری آہ و فغاں اسکرین پر بلند ہوتی رہتی ہے۔ مبالغہ آرائی بھی ہے۔ ہمارے بیرونی دشمن بھی اس صورت حال سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ بہت سے سوشل میڈیا گروپوں کی آبیاری ان دیرینہ دشمنوں کی طرف سے بھی کی جارہی ہے۔ ہمارے سیاسی، سماجی اور مذہبی قائدین اپنے حامیوں کو اعتدال پر رکھنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ معیشت سنبھالنے کے ذمہ دار اپنی ذاتی کمزوریوں کی بنا پر ملک میں مالی استحکام نہیں لاسکے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ آپ کی تقرری سے ملک کی اکثریت نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ ہر پاکستانی کے دل میں روشن مستقبل کے لئےامید جاگ اٹھی ہے۔ اب ہم جیسے عمر رسیدہ پاکستانیوں کی دعا یہی ہے کہ آپ 22 کروڑ کی توقعات پر پورا اتریں۔ پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ وہ اس ملک کی بنیاد ’’لاالہ الا اللہ‘‘ سمجھتے ہیں۔ اس لئےجب انہیں معلوم ہوا کہ آپ کے سینے میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید محفوظ ہے تو انہیں مزید تسکین ہوئی ہے کہ آپ اپنے دماغ میں موجود تجربات و مشاہدات کے ساتھ اپنے سینے میں محفوظ اس روشنی سے بھی رہنمائی حاصل کریں گے تو وہ یہ باور کررہے ہیں کہ پاکستان اب ایک فیصلہ کن موڑ سے ہمکنار ہورہا ہے۔ اس ڈولتے جہاز کو لنگر انداز ہونے کے لئے ساحل نصیب ہورہا ہے۔ ہمارے اندرونی اور بیرونی تجزیہ کار سول ملٹری تعلقات کی اصطلاح استعمال کرتے رہے ہیں۔ غیر ملکی مصنّفین اور مورخین نے کتابوں کے نام بھی ایسے رکھے ہیں۔The Warrior State ۔ Pakistan -A Hard Country -A Garrison State۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے لمحات بہت کم بلکہ آئے ہی نہیں ہیں۔ جب امور مملکت اپنے آئین کی حدود اور قیود میں چلائے گئے ہوں لیکن میں اسے سول ملٹری کشیدگی نہیں کہتا کیونکہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کی فوج کے درمیان کبھی کوئی تنازع نہیں ہوا۔ چند سیاستدانوں اور چند جنرلوں کے درمیان کشمکش ضرور ہوئی ہے۔اس میں دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں۔
پاکستان کو ابتدا سے ہی دشمن ہمسائے ملے ہیں۔ ایک طرف بھارت دوسری طرف افغانستان۔ اس لئے ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلاتے رہے ہیں۔ بھارت پاکستان پر تین مرتبہ باقاعدہ جارحیت کا ارتکاب کرچکا ہے۔ مشرقی پاکستان۔ سندھ۔ بلوچستان میں تخریب کاری کرتا رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کو دوسرے ملکوں کی نسبت سلامتی کے زیادہ خطرات رہے ہیں۔ اس لئے یہاں ایک طاقت ور۔ جدید اسلحے کی تربیت یافتہ فوج کو سبقت حاصل رہی ہے۔ بھارت کی طرف سے کشمیر پر غاصبانہ قبضے نے بھی پاکستان کے لئے عسکری تیاریاں ناگزیر رکھی ہیں۔ افغانستان پشتونستان کا ہوّا کھڑا کرتا رہا ہے۔
پاکستان کے سیاسی امور میں فوجی مداخلت پر خود پاکستانی جنرلوں نے بھی بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ اس لئے ان المیوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
سبکدوش ہونے والے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بجا طور پر یہ کہا ہے کہ اب فوج سیاست سے دور رہے گی۔ لیکن پاکستان کے 75 سال کے پس منظر میں یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ پاکستانی سماج عسکریت کا عادی ہوچکا ہے۔ فوجی حکومت ہو یا منتخب سیاسی حکومت ہماری فوج غالب رہتی ہے کیونکہ ہماری قومی سیاسی پارٹیاں اپنے اندر جمہوری ڈھانچہ نہیں رکھتیں۔ فوج میں پھر بھی ڈسپلن ہے، مہارت ہے ۔پیشہ ورانہ معیار ہے۔ یہاں قیادت موروثی نہیں ہے۔ اپنے قواعد و ضوابط کے تحت ہی ایک عام فوجی کیپٹن، میجر، کرنل، بریگیڈیئر، میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچتا ہے۔
اب جب آپ پاکستان کے سپہ سالار مقرر ہوگئے ہیں۔29 نومبر کو انشاء اللہ آپ اس عظیم فوج کی کمان سنبھالیں گے۔ جنرل قمر باجوہ چھڑی آپ کے سپرد کریں گے۔ یہ یقیناً ایک شاندار لمحہ ہوگا۔ آپ کیلئے، فوج کیلئے اور پاکستان کے عوام کیلئے۔ پاکستان کے عوام بھی جانتے ہیں کہ صرف اعلان سے فوج سیاست سے دور نہیں ہوجائے گی۔ اس کے لئے باقاعدہ لائحہ عمل طے کرناہوگا۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ پہلے بھی فوج نے بیرکوں تک محدود ہونے کی کوشش کی ہے۔ مگر بعض طالع آزما جنرلوں نے ذاتی مفادات کے لئے نامعلوم ٹیلی فونوں کا سہارا لیا۔ جس طرح بعض سیاستدان پسندیدہ جنرلوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس طرح بعض جنرل بھی پسندیدہ سیاستدانوں کی جستجو میں رہے ہیں۔ اس سے مسائل اور المیوں نے جنم لیا ہے۔ جس طرح پاکستان کے عوام نے 75سال اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر ملکی سلامتی کی خاطر فوج کو مضبوط بنایا ہے۔ اسی طرح اب فوج کو بھی آئین کی پابندی کرتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور ملکی استحکام کے لئے پرانی روش کو چھوڑنا ہوگا۔ ہر تحصیل، ہر ضلع اور ہر صوبے پر نظر رکھنا ہوگی کہ فوج صرف اپنے پیشہ ورانہ امور تک محدود رہے۔ کون وزیر اعظم ہو۔ کون وزیر اعلیٰ ہو۔ یہ منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائے۔ اب کہیں بھی کوئی پاکستانی لاپتہ نہیں ہونا چاہئے۔
پاکستان کے کمزور اور غیر مقبول سیاستدان فوج کو مداخلت کیلئے اب بھی مجبور کریں گے۔ وہیں سپہ سالار کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور ضمیر کی آواز سننا ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ عوام کا موڈ کیا ہے؟ اب امانتیں جن کی ہیں، ان کے سپرد کرنے کا وقت آگیا ہے۔
امیدیں کمزور کر دیتی ہیں
ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تها تو ایک بوڑھے دربان کو دیکها جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تها۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچهنے لگا:
"سردی نہیں لگ رہی۔۔۔؟؟؟؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ہے حضور۔۔۔!!!
مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"
"میں ابهی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بهیجتا ہوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بهول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکهی گئی یہ تحریر بهی:
"بادشاہ سلامت۔۔۔!!!
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تها
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
✨ سہارے انسان کو کهوکهلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پرجینا شروع کیجئے۔
💫خدارا سہاروں کی بساکهیاں پهینک کر اپنی طاقت آزمائیں اور اللہ پر یقین رکھ کر کوشش کرتے رہیں وہ کبهی نا امید اور ناکام نہیں چهوڑے گا ۔۔۔
سیاحت گلگت بلتستان۔
سیاحت کے عتبار سے گلگت بلتستان کسی سیاحتی مقام سے کم نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کا صدر مقام گلگت شہر ہے ۔
اور گلگت بلتستان کا مشہور کھیل پولو ہے جو کہ چترال اور شندور کے مقام پر کھیلا جاتا ہے۔ یہ شندور گلگت اور چترال کو ملا دینے والا ایک درہ ہے۔
جو سیاہ کیلے بہت مستفید ہے۔ اور یہاں شندور پر ہر سال میں ایک میلا لگتا ہے۔ جسے شندور میلا کہتے ہیں۔ اس میں پولو سمیت دیگر کھیلوں کے مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کو اللہ تعالی نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔
گلگت بلتستان کے 3 ڈویزن ہیں۔ گلگت ۔ بلتستان۔ دیامیر استور ڈویزن گلگت میں 4 ضلعے ہیں اور بلتستان میں چار ضلع ہیں ۔ دیامیر استور ڈیویژن میں 2
گلگت بلتستان یکم نمبر 1948 کو ڈوگر حکومت سے آزاد کرایا گلگت بلتستان کے بزرگوں نے۔
اور آزاد کرانے کے بعد گلگت بلتستان کے بزرگوں نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کر کے زم ہوئے۔ اور اسی دوران قائداعظم نے ایم عالم کو گلگت بلتستان کی سٹپ کیلے بیجھا انہوں نے کشمیر کے راجا ہری سنگھ کے ساتھ مل کر گلگت کو ایک متانازعہ علاقہ بنا کہ رکھ دیا ۔
اور گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے ساتھ بہت دلی لگاو رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کیلے بے شمار قربانیاں دے ہیں۔
پاکستان کی ہر فورس کا حصہ بنے ہیں۔ پاکستان کی عالی عزاز نشان حیدر ہے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا نائک حوالدار لالک جان کو نشان حیدر سے نوزا گیاہے۔
جس کا تعلق گلگت غزر یاسین سے تعلق ہیں اسی طرح اور بھی گلگت سے تعلق رکھنے والا جنہوں نے پاکستان کے عالی عزاز کے ساتھ سپرد خاک ہوئے ہیں۔ اور اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کئے ہیں۔ یہ گلگت بلتستان کی ایک چھوٹی سی تاریخ ہے۔
اسی کے ساتھ میں اپنا کالم طرف آنا چاہوگا ۔ سیر و سیاحت کیلے پاکستان میں گلگت بلتستان سے زیادہ موزوں اور کوئی ایسی جگہ نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کی لوگوں کے محبت میں ایک الگ سا مٹھاس ہے۔ اور ان کی محبت سے سیاہ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ گلگت میں سیاہ کو کسی بھی جگہ میں چھوٹی سی راکاوٹ تکلیف یا مشکلات پیش آتی تو گلگت کے لوگ ان کی خدمت کیلے حاضر ہوتے ہیں۔ اور ان کو اس مشکلات سے نکالتے ہیں۔
اور اسی اثنا پر میں یہاں تھوڑ ی سی مری کے حولے سے بھی زکر کرونگا کیوں کہ مری بھی ایک ٹوریزم کیلے بہت اہمیت رکھتی ہے اللہ نے خوبصورتی تو وہاں بھی دیے ہیں۔
لیکن جتنا پیار محبت خلق خدمت اللہ تعالی نے گلگت والوں کو دی اتنا وہاں نہیں۔ گزشتہ دن پہلے مری میں برفانی آفت آئی اس وقت وہاں کے لوگوں اور وہاں کی گورنمنٹ نے جو سلوک سیاہ کے ساتھ کئے وہ آپ مجھ سے بہتر جانتے۔ وہاں کچھ لوگوں کی جوانی اور کچھ پھول جیسے معصوم بچوں کی وہ موت دیکھ کر میری آنکھیں نم ہوجاتی۔اور دل خون کی آنسوں روتا ہے۔
اور ہاں مری سے زیادہ خوبصورت جگیں تو گلگت بلتستان میں ہیں جہاں سے سیاہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
مری سے زیادہ سیاہ کو گلگت میں لطف اندوز ہونے کو ملے گا۔ناران کاغان سے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان کی سفر شروع ہوتی ناران سے آگے راستے میں لولوسر جھیل آئے گا لولوسر جھیل والڈ لیول میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ سیاہ کیلے بہت انجوائے ہونے کو ملے گا ۔سیاہ ادھر کا نظارہ دیکھ سکتے ہیں۔ جوں ہی وہاں سے آگے نکلو گے تو گھیتی داس کے مقام پر پہنچو گے اور وہاں روڈ کے آس پاس کے مقام سرسز اور شاداب ہیں اور کھلا سا میدان ہیں۔ اور وہاں سے اگے بابوسر ٹاپ آئے گا۔ بابوسر ٹاپ میں ہزاروں کی تعداد میں سیاہ پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
اور وہاں ہوٹل اور کھانا پینے کا انتظامات موجود ہیں۔ اور یہ بابوسر ٹاپ ایک درہ ہے جو پاکستان کو گلگت سے ملادیتا ہے۔
بوبوسر ٹاپ کی لمبائی 13700 فٹ ہیں وہاں سے گلگت شہر تک 180 کلو میٹر ہے۔ اور چلاس کے کے ایچ تک 44 کلو میٹر ہے ۔اور خنجراب ٹاپ تک 384 کلو میٹر ہے ۔ بابوسر ٹاپ سے کے کے ایچ تک روڈ میں اسپیشل سکیورٹی تعنات ہیں جو سیاہ کی مدد کیلے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کے کے ایچ 0 پوئنٹ سے دایئں طرف گلگت شہر ہے اور بایئں طرف چلاس شہر ہے۔
اور گلگت بلتستان کے مشہور شہروں میں چلاس، گلگت،سکردو، ہنزہ، گاہگوچ، استور، اور جگلوٹ، ہیں۔ اور اس کے علاوہ قدرت کے حسین نظاروں میں اور خوبصورت پہاڑوں سلسلے بھی یہاں موجود ہیں۔ جن۔ میں درہ بابوسر، فیری میڈوز، استور، دیوسائی، کچورہ، ہنزہ، درہ خنجراب، پھنڈر، نلتر، راما، سیاچین، راکاپوشی، شگر، اور داریل 8۔ بہت مشہور سیاحتی علاقے ہیں۔ جہاں ہر سال لاکھوں سیاہ ہر سال خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلے گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں۔
دنیاں کی سب سے دورسری بلند ترین چوٹی k2 گلگت کے مقام پر موجود پاکستان کا پہلا اور دورسرا بلند ترین چوٹی k2اور ننگاپربت گلگت کے مقام پر ہیں۔ چلاس سے ایک گھنٹہ کی سفر پر رائیکوٹ آئے گا جہاں سے فیری میڈوز کا رستہ نکلے گا اور ننگا پربت بھی اسی فیری میڈوز کی مقام پر ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ گلگت بلتستان سے آتا ہے۔ جو پاکستان۔ کو سیراب کرتاہے۔ سیاچین گلیشر بھی گلگت کی مقام میں پایا جاتا ہے۔ اور اب دنیاں کا سب سے بڑا پراجکٹ سی پیک۔ شروع ہورہا ہے اور یہ سی پیک کا مین گیٹ گلگت بلتستان ہے۔
آتنا خوبصورتی اللہ رب کریم نے گلگت بلتستان میں رکھی ہے کہ میں گن نہیں سکتا یہ ہمارا رب کا ہم پے کرم ہے۔
تحریر کے آخر میں چند التجا کے طور پر چند الفاظ یہاں شامل کرنا چاہونگا۔ میں بحثیت فدح اللہ حسرت گلگتی میرے تمام فرینڈ جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا میرا یہ کالم جس کے پاس بھی پہنچا جنہوں نے پڑا وہ میرا یہ کالم پاکستان کے ہر شہری تک پہنچائے اور یہ پیغام ان تک پہنچے جس سے ہمارا گلگت کی حوالے سے ان کو آڈیا ہوگا کہ اسطرح کا بھی مقام ہے ہے جو سیاہ کی ایک ماننز کی حثیت رکھتی ہے۔
13/10/2022
13/10/2022
تحریر: نواز خان ناجی
ہم کون .....؟
نام کی اہمیت
آغاز
مادی وجود رکھنے والی یہاں تک کہ تصور میں آنے والی تمام چیزوں کے لئے نام کا
استعمال ہوتا ہے۔ نام اہتمام کے ساتھ رکھا جاۓ یا نہ رکھا جاۓ ہر حال میں وجود کا نام پڑ
ہی جاتا ہے لیکن جن چیزوں کے والی وارث اور دلچسپی رکھنے والے ہوں تو اس چیز کا نام
اہتمام کے ساتھ رکھتے ہیں ۔ لا ورٹ اور کسی کی دلہی سے خالی چیزوں کے نام اتفاقیہ
پڑ جاتے ہیں اور مشہور ہو جاتے ہیں۔ نام انسانوں کا ہو یا جانوروں کا ، علاقوں کا ہو یا اجرام
فلکی کا ، یا دیگر مادی وتصوراتی اشیاء کا سب کسی نہ کسی طرح بامعنے اور با مقصد ہوتے ہیں ۔
جن سے اس چیز کا چہرہ سامنے آتا ہے اور ان کی وجود اور حقیقت کی پہچان ہوتی ہے ۔
ہم اس کتابچہ کے ذریعے ایک مخصوص حیثیت، خصوصیت اور وجود رکھنے والے قطعہ
ارض جو کہ اپنے الگ نام سے محروم ہے کیلئے کسی مناسب نام کا تلاش کرتے ہیں کیونکہ اس
وقت اس قطعہ ارض کیلئے جو نام استعمال ہورہا ہے وہ اس کے الگ وجود کی حیثیت کے
مقابلے میں کم اور نا مناسب ہے۔
ہمارا مطلب شمالی علاقہ جات ہیں جو انتظامی اضلاع گلگت، بلتستان ، دیامر ، غذر اور جد و جہد بالا درستان
گانگچھے پرمشتمل ہے۔ یہ علاقہ پاکستان کے زیرانتظام ہونے کے ناطے اسے پاکستان
کے شمالی علاقہ جات کہا جا تا ہے ۔ حالانکہ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ناطے پاکستان کے زیر
انتظام کیا اور وہ میری اپنا مال علاقہ کہتے ہیں۔ یہ علاقہ اگر متنازعہ ہونے
کے بجائے پاکستان کا با قاعدہ آئینی حصہ ہوتا تو شاید اس نام پر تنقید کم اور معمولی نوعیت کی
ہوتی لیکن جس طرح سیاسی اور آئینی طور پر یہ علاقہ الگ وجود رکھتا اور معمولی نوعیت کی
ہوتی لیکن جس طرح سیاسی اور آئینی طور پر یہ علاقہ الگ وجودرکھتا ہے اس طرح کا الگ نام
ہونالازمی ہے۔
ہم اس کتابچے میں اس علاقے کی آئینی حیثیت کسی سے جوڑنے ، یا توڑ نے پر بحث
نہیں کرتے ہیں بلکہ محض اس علاقے کیلئے کوئی مناسب نام تجویز کرنے کی کوشش کرتے
ہیں ۔خواہ اس علاقے کا مستقبل پاکستان سے جڑ جاتا ہے یا کشمیر سے یا پھر دونوں سے
الگ۔ اس نام کو استعمال میں لایا جاسکے اور ہر صورت میں اس علاقے کی حیثیت برقرار
رہے۔
جس طرح یہ علاقہ کسی بھی ہمسایدا کائی سرحد یا کشمیر وغیرہ کا ذیلی حصہ نہیں اسی طرح
علاقے کی پہچان بھی ان اکائیوں کے مساوی ہونا چاہئیے ۔ ورنہ موجودہ صورت میں نہ صرف
اس علاقے کا معروف نام نہیں بلکہ اس علاقے کی الگ حیثیت بھی محض نام کے نہ ہونے کی
وجہ سے مشکوک ہے ۔اور شمالی علاقوں کی وجہ سے ہر سیاسی اکائی اس کا دعوے دار ہے اور اپنا
شمالی علاقہ جات سمجھ رہا ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف پاکستان کا شمالی علاقہ سمجھا جارہا ہے بلکہ سرحد
اور کشمیر والے بھی اسے اپنا شالی علاقہ سمجھ رہے ہیں اور دوسری طرف بھارت بھی جموں کشمیر
کے حوالے سے اسے اپنے سے منسوب شمالی علاقہ سمجھ رہا ہے ۔ یہ سب خطرناک اشارات
ہیں جو ہماری قوم سے تعلق رکھنے والے کسی بھی ذی شعور اور احساس رکھنے والوں کیلئے
نا قابل برداشت ہیں۔ لہذا ہمیں اپنا الگ قومی نام اختیار کرنا چاہئے ورنہ اس نام سے
پورے کا پورا کام جواب تک بگڑا ہوا ہے مزید بگڑ جائیگا ۔
ہمارا مستقبل خواہ جو بھی ہو ہماری پہچان ہر حال میں ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں اس
کتابچے میں تاریخی و جغرافیائی ناموں اور ان کے مختلف تلفظ اور دیگر متعلقہ ناموں کو اختصار
سے زیر بحث لایا گیا ہے۔ تمام زمینی حقائق کی روشنی میں مناسب ترین تجویز اپنا نا اب قوم کا
فرض بنتا ہے اس سلسلے میں مثبت تنقیدی رویہ اختیار کرتے ہوۓ علمی ونقلی بنیادوں پر ہمیں
حقیقت کو تسلیم کرنے میں کسی قسم کی ذاتی خیال اور جذباتی معاملے کو رکاوٹ بننے نہ دینا
چاہیئے ۔
تاریخ
قدیم دور :۔
گلگت بلتستان میں زمانہ قبل از تاریخ کی بودو باش اور دیگر حالات سے آگاہی کے لئے علاقے
میں جو بے شمار آثاریاتی شواہد موجود ہیں ان کی مدد سے ماہرین وسطی ہجری دور سے فروغ اسلام تک کی
گمشدہ کڑیاں تلاش کرنے میں مصروف ہیں جس میں انہیں جزوی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ جملہ
آثاران دیو قامت چٹانوں پرکندہ ہیں جو د ی گزرگاہوں یا دریا کے حاشیوں پر واقع ہیں۔ اس قسم کے نگی
نقوش کا مطالعہ مقامی اغرافیائی حقائق کے ساتھ ساتھ ماوراۓ پامیر علاقہ (زنگ ڈیانگ ) لداخ بہت
سائبیریا، کشمیر اور سوات کے حوالے سے بھی کیا گیا ہے۔ ایک وسیع منطقہ پر پھیلے ہوۓ ان کندہ کاریوں
میں ایک تاریخی ربط نظر آ تا ہے۔
(ہسٹری آف ناردرن ایریاز ،ص ۹۸،۹۷)
گلگت بلتستان میں فکر نگاری(Ideography) تصویر نویسی (Pictography) اور صوت
نویسی (Hierography) کے یہ نادرنگی نمونے چلاس ،شتیال، نو پورہ ، گلگت جھلین ، رائیکوٹ پل
ہنزہ، یاسین اور سکردو میں پاۓ جاتے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے راک آرٹ اور پامیر والتائی نقوش میں تھی
مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہاں کی قدیم ترین تاریخ غارنشین ساج (Troglodyte Society) اورنگی
فن پاروں کے آغاز سے شروع ہوتی ہے ۔ ماہرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ چھ ہزار دوسو سے لے کرنو
ہزار پانچ سوسال قبل مسیح کے دوران پاکستان کے بیشمالی خطے شدید بارشوں کی زد میں رہے۔ نتیجہ یہ کہ یہاں
زبردست ہریالی ہوئی ۔ جہاں سبزہ وشجر ہو وہاں جنگلی حیات تو لازمی ہے ۔ لہذا دور دراز کے بعض آوارہ وطن
شکاری گروہ ان خطوں کی طرف بھی متوجہ ہوۓ ۔ انہوں نے موسی یا عارضی قیام کے دوران یہاں کی
چٹانوں پرخدارسینگوں والے بکروں اور نیلی بھیڑوں کی بھدی شکلیں کندہ کیں ۔ ہو بہواس طرح کے نقوش
مغربی ایشیاء اور سائبیریا کی چٹانوں پر بھی کندہ ہیں ۔ان اشکال میں مشابہت کی ایک وجہ ایک ہی شکاری
گروه (Hunting Band) کا آرٹ ہے جو تین ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح سے متعلق ہے
اشکومن اور یاسین میں موجود کلاں سنگی دائرے (Megalith Circles) بھی اس زمانے کے مدفن
خیال کئے جاتے ہیں ۔ (الفلوو)
یوریشیائی انداز کے جانوروں کی تصویر میں میتھین (Scythian) قبائل کی بنائی ہوئی تھی جو
پہلی ہزار میل میچ میں یہاں وارد ہوئے ۔ یہ تصویر میں سونے کی چوٹ سے بنائی گئی ہیں ۔ اس سے ثابت
ہوتا ہے کہ میتھین (Scythian) قبائل دھاتی اوزار لے کر آئے تھے یا بنانے پر قادر تھے ۔ اس طرح کیتصویر یا علامت نگاری کا پھیلا ؤ سندھ کے بالائی علاقوں سے لے کر تبت تک ہے۔شکاریوں کے بعد کلاں
سنگی معماروں (Megalith Builders) کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے غالباً
مثقف رہائش اختیار کی ،زبینہ نما کھیت بنائے اور برفانی نالوں کے پانی سے کاشتکاری کا آغاز کیا۔
(شاہراہ قراقرم پر تحریری اور کندہ آثار ص ۲،۵،۴ )
آریاؤں کی آمد۔
بعض مورخین کے مطابق برصغیر میں آریاؤں کی آمد 1700 قبل مسیح میں شروع ہوئی جس سے
ہندو پاک کے مستقبل پر زبردست اثرات مرتب ہوۓ ۔ آریاؤں کا تعلق کسی خاص نسلی گروہ سے نہیں تھا
تاہم بی گندمی رنگت کے لوگ تھے۔ ہزاروں ماہ وسال کے عرصے میں مختلف آریائی قبائل یورپ اور ایشیاء
کے ایک وسیع تر علاقے میں پھیل گئے ۔ بعض تاریخی شواہد کے مطابق رومن ایمپائر کے زمانے میں خراسان
اور افغانستان پرمشتمل علاقے کوامر یا نہ کہا جا تا تھا۔ پندرہ سوقبل مسیح کے بعد ہند آریائی زبان بھی تشکیل پاگئی
جس کی چند شاخیں شینا ، ونی ،کھوار اور کشمیری بھی ہیں ۔
آریائی نوآبادکاری کے عروج تک ہندو پاک میں بہت سی سلطنتیں قائم ہوئیں جن میں گندھارا ،
کمبوجہ اور مدرا قابل ذکر ہیں ۔ضمنا عرض ہے کہ بروشسکی زبان کے نگری لہجے کوکھونا بھی کہتے ہیں ۔ جان
بڈلف کے بقول کھجونا دراصل کمبوجہ سے مشتق ہے ۔
ہندوستان سے سکندراعظم کی روانگی کے بعد چندر گپتا مایورا نے 330 قبل مسیح میں برصغیر کے
ایک بڑے علاقے کو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا۔اشوکا چندر گپتا کا پوتا تھا جس نے اپنے فرامین مایوران ایمپائر
کے دور دراز علاقوں میں بھی پتھر کے ستونوں پر کندہ کرواۓ ۔ گلگت میں این ایل آئی مارکیٹ کے مشرقی
گیٹ کے پاس کسی زمانے میں ایسا ہی ستون گڑ انظرآ تا تھا۔ بعض سکالرز اہے اشوکا کی لاٹھ ہی کہتے ہیں ۔
اس حوالے سے کہا جا تا ہے کہ آج کا گلگت بلتستان بھی مور می خاندان کے زیر نگین تھا۔ آل موریہ کے علاوہ
می علاقے باختری یونانیوں ،کشان ،سفید ہنوں اور ترک شاہیوں کے اثرات سے بھی نہیں بچ سکے۔
باختری یونانیوں کے بعد ستاون قبل مسیح میں سا کا (Saka) گروہ نے یہاں کا رخ کیا۔سا کا
تاریخ میں سینتھسز (Scythians) کے نام سے بھی معروف رہے ہیں۔ چینی انسل وی خاندان
(Chinese wei Dynasty) کے دور میں مرقوم تاریخ (wei-Lo) کے مطابق سا کا بروفل
یاسین سے ہوتے ہوئے پاکستان کے شمالی علاقوں میں داخل ہوۓ ۔ مشہور مورخ ہیروڈوٹس سیتھینز کے
بارے میں لکھتا ہے کہ ہخامنشی بادشاہ داریوں نے وسط ایشیاء میں میتھیئز کے مرکز پر کاری ضرب لگا کر انہیں
تتر بتر ہونے پر مجبور کیا۔ ان کا ایک گروہ آوارہ وطن ہوکر جنوبی افغانستان میں آباد ہوا۔ اس بارے میں چینی
ذرائع بھی واضح ہیں کہ سا کا یا سیتھئز کا ایک ریلہ تاش غورغان سے پامیر ہوتے ہوۓ واخان
(Wakhan) پہنچا وہاں سے دریاۓ وٹی جر کے حاشیے کو استعمال کر تے ہوئے درکوت پاس کے راستے
یاسین میں داخل ہوا۔ یاسین وہ مقام ہے جہاں سے گلگت کا راستہ اختیار کئے بغیر چلاس یا موجود ضلع دیامر میں داخل ہونا آسان ہے ۔القصہ چلاس اور دار میل تانگیر میں سیٹھئز کے ابتدائی حکمرانوں کا، گوشا ،مترا اور
سمودھرا کے نام صاف صاف لکھے گئے ہیں ۔ان علاقوں میں میتھینز کی آمد ٹیکسلا کے ساتھ سیاسی واقتصادی
تعلقات کی شروعات ثابت کرتی ہے۔ (ایضا۔ ص ۹،۸،۷) - موروثی حاکمیت کا دور : -
چوتھی صدی عیسوی کے بعد گلگت بلتان میں مورونی حاکمیت شروع ہوئی اور سلطنت اور اپولو
تشکیل پاگئی ۔ مورخین کے مطابق سلطنت پلولو دوحصوں میں منقسم تھی ۔ بلتستان بلور کلاں اور گلگت بلورخود
تھا۔ حکمران طبقہ بلور کلاں میں رہتا تھا۔ القصہ پوٹالا خاندان نے بڑی مستحکم حکومت قائم کی ۔اس زمانے
میں گلگت میں بین الاقوامی سطح کی سیاسی بازی گری کا بھی آغاز ہوا۔ بقول کارل جشمار :
ٹھو میں صدی عیسوی کے اوائل میں سنٹرل ایشیاء میں چینیوں کے زور کو تبت کی بڑھتی
ہوئی شہنشاہیت نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ بعد میں مغرب میں جلدی ہی ایسا اشارہ ملا کہ بہت زیادہ
خطرہ ہے ۔ جس کی دلیل می دی گئی کہ تبت والے اپنے برابر کے جھگڑالوعر بوں سے شاید دوستی کا ہاتھ
بڑھائیں اور ان کی مدد سے چین کے وسط ایشیائی مقبوضات کو تاراج کریں...
سلطنت بلور کی وضاحت کرتے ہوۓ پروفیسر کارل جٹما رآگے لکھتا ہے:... اور دوحصوں پرمشتمل تھا۔ مشرقی نصف بلور کلاں جو آٹھویں صدی عیسوی کے پہلے نصف
میں بے شمار سفارتیں چین کے درباروں میں بھیج سکا۔ مغربی نصف حصہ بلورخر دکہلاتا تھا۔ قدیم ریاست باور
کا حکمران تبت والوں سے شکست کھا کر بلورخرد کی جانب بھاگ گیا جبکہ عوام اور شرفاء تثبت ہی کے زیر تسلط
بلورکلاں میں ہی رہے۔ لیکن مغربی حصہ آزاد ہونے کے باوجود بھی مقروض ہونے کے سبب دھمکیوں کی زد
میں رہا۔ چینیوں کو فوج اور معاشی مددبھیجنا پڑی...
رد
تبتیوں نے بلتستان کو ۲۱ اور گلگت کو ۳۷ے میں فتح کیا تھا۔ لہذا چینیوں کی پریشانی قابل فہم
چیز ہے۔ اب یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ماقبل تبتی فوج دریائے جیحوں پر قابض ہوگئی تھی۔ کوریائی نژاد چینی
جرنیل کا ڈسین چی نے گوپس کے مقام پر یاسین اور شندور کے پانیوں کے مقام اتصال پر قائم پلی کواڑادیا
تاک تی بیجوں میں مقیم دستے کورسد نہ پہنچاسکیں ۔اس واقعہ کے بعد یاسین 755ء تک چین کا باجگزار رہا۔
تاریخ میں یہ بھی درج ہے کہ اس زمانے میں عرب تبتیوں کے اور کشمیری چین کے حمایتی تھے۔ یوں عربوں
کے ہاتھوں کا ڈسین چی کوشکست ہوئی اور وسط ایشیاء پر چین کا کنٹرول ڈھیلا پڑ گیا۔
(قدیم لداخ ۔ تاریخ وتدن ، کا پوسکندرخان سکندر،ص۲۲ ۲۳۰ ۲۴۰)
مختلف عوامل کے باعث دسویں صدی عیسوی کے بعد تبت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ نتیجہ یہ
برآمد ہوا کریلنستان اور گلگت جیسی دورافتادہ مقبوضات اس کے ہاتھ سے نکل گئے اور دونوں علاقوں میں نے
حکمران خاندان نمودار ہوۓ ۔
گیارھویں صدی عیسوی کے بعد گلگت بلتستان اور چترال میں آل رئیسہ ، آل تراخان ، آل کٹور آل خوش دقت ، آل بروشہ ، آل مغلوٹ ، آل ایشن ، آل مقبون ، آل اماچہ اور آل یبگو کی حکومتیں قائم
ہوئیں۔ میلی یا دست نگر ریاستیں تھیں جو ہمسایہ بڑی سلطنتوں کو علامت تابعداری کے طور پر باج خراج ادا
کرتی تھیں ۔
خالص دور:۔
۱۸۴۰ء میں راجہ کو ہرامان کے ہاتھوں والی گلگت سکندرخان قتل ہوا۔ راجہ سکندر خان کا چھوٹا بھائی
کریم خان گور کا حاکم تھا۔ اس دلخراش واقعہ کی اطلاع پا کر وہ وقت ضائع کئے بغیر سری نگر کشمیر چلا گیا اور
سکھوں سے گو ہرامان کے خلاف کمک مانگی جول گئی ۔ایک ہزار جنگجوؤں پرمشتمل خالصہ فوج کرنل تھے شاہ
کی سرکردگی میں گلگت پہنچی ۔ دل خالصہ اور گو ہرامان کے لشکریوں میں بسین کے مقام پر خون ریز جھڑ میں
ہوئیں۔ اس معرکہ میں سکھوں کا پلہ بھاری رہا۔ گو ہرامان یاسین چلا گیا۔
مولوی حشمت الللکھنوی مؤلف تاریخ جموں لکھتا ہے:... گلگت کو سکھوں نے بعد مہاراجہ کھڑک سنگھ کشمیر سے بزمانہ صوبہ داری شیخ غلام محی الدین
بسرکر دگی کرنل تھے شاہ ساکن گوجرانوالہ حسب درخواست کریم خان برادر شاہ سکندر خان راجہ گلگت جسے قتل
کر کے راجہ کو ہرامان گلگت پر قابض ہو گیا تھا، فتح کر لیا تھا اور حکومت اس کی کریم خان کو سپر دکر دی تھی اور
اپنانیم قبضہ بذریعہ ایک دستہ فوج خالصہ کے قائم رکھا تھا۔ جب کشمیر پر مہاراجہ گلاب سنگھ کا تسلط ہو گیا تو اسی
تھے شاہ کو اپنی ملازمت میں لے کر مہاراجہ نے گلگت کا قبضہ حاصل کرنے کی غرض سے روانہ کیا۔ اس میں
کوئی وقت پیش نہیں آئی ۔ افواج ڈوگرہ نے دستہ فوج خالصہ کو استور اور گلگت میں سبکدوش کر دیا۔ ان کی
تعداد ایک سو سے زیادہ تھی ۔اکثر سکھ سپاہیوں نے جدید حکمران کشمیر کی ملازمت اختیار کی ۔ نتھے شاہ قبضہ
لینے کے بعد گلگت میں ٹھہر گیا اورانتظام میں مصروف ہوگیا.....‘‘
اینگلوڈوگرہ دور :
علاقہ کشمیر ۱۸۱۹ء میں رنجیت سنگھ کے تصرف میں آیا اور برابر ستائیس برس تک یہ قبضہ
برقراررہا۔ ہر فرعون را موسی کے مصداق دوسری طرف انگریز بھی استعماری عزائم کے ساتھ عرض بلد کے
حساب سے پنجاب کی طرف سرک رہے تھے۔ بالآخر ۱۸۴۵ء میں برطانوی ہند کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ
رونما ہوا۔ یعنی اس سال انگریزوں اور سکھوں میں اولین جنگ چھڑ گئی۔ بیان فیصلہ کن لڑائیوں میں سے
ایک تھی جو انگریزوں نے ہندوستان میں لڑیں۔ بہر حال سو براؤں (Sobroan) کی لڑائی نے قسمت کا
فیصلہ کیا اور میدان انگریزوں کے ہاتھ رہا۔ سکھ ہار گئے اور ایک معاہدہ 9 مارچ ۱۹۴۶ءکوئل میں آیا۔ بات
یہاں ختم نہیں ہوئی ۔انگر بریسکھوں کی جنگجوانہ خصلت سے سخت نالاں تھے اور ان کی قوت کو ہمیشہ ہمیشہ کے
لئے ختم کرنا چاہتے تھے ۔ لہذا انہوں نے سکھ سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ۔ اس شکستہ سلطنت سے ور
انگریزوں نے جموں و کشمیر کے نام سے ایک نئی ریاست تشکیل دی اور اسے جموں کے ایک ڈوگرہ راجپوت
گلاب سنگھ کے ہاتھ معاہدہ امرتسر مرقومہ ۱۲مارچ۱۸۴۷ء کے تحت پچھتر لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض
فروخت کیا اور اس راہ سے گلاب سنگھ کشمیر کا حکمران بنا۔ نہ صرف کشمیر بلکہ جملہ کوہستانی علاقے لداخ
بلتستان ،استور اور گلگت بھی مہاراجہ کشمیر کے قلمرو میں آگئے ۔اس وسیع وعریض خطے پر حکمرانی کے عوض
گلاب سنگھ نے انگریزوں کو پچھتر لاکھ نانک شاہی کوں کی ادائیگی کے علاوہ خود کواس امر کا بھی پابند کیا کہ
سرحدات کے آس پاس کسی جنگ کی صورت میں اس کی فوج انگریزوں کی مدد کے لئے بلا تاخیر پہنچے گی ۔
اس نے یوں بالا دستی قبول کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری شالوں کی شکل میں سالانہ معمولی ساخراج دینے کا
بھی وعدہ کیا گلگت 1935-1877ء) از پروفیسر امرسنگھ چوہان )
کتاب گلگت نظری اور آزادی‘‘ میں رقم طراز ہیں:۔
گلگت کے ہوئے پھل کی طرح ڈوگروں کی جھولی میں کیسے گرا۔ اس بابت پروفیسر عثمان علی اپنی
اگر چہ لگت، معاہدہ امرتسر کی حد وسعت میں نہ آتا تھا، تاہم کشمیر، معاہدہ لا ہور کے تحت
انگریزوں کو تقل ہو چکا تھا اور اس معاہدے کی انجام دہی سے پہلے سکھ گلگت پر قابض ہو چکے تھے۔ مہاراجہ
گلاب سنگھ نے کشمیر سے اس تعلق کے بنا پر گلگت تھی لینے کاعزم کیا....
بلتستان کے باب میں معروف صحافی محمد قاسم نیم گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر میں کچھ یوں تجزیہ.. جہاں تک معاہدہ امرتس او پاکستان کا تعلق ہے معاہدہ امرتسر کا اطلاق بلتستان پر سرے سے
ہوتا ہی نہیں ہے کیونکہ مجھنے کی بات یہ ہے کہ جب مارچ کو بدنام زمانہ معاہدہ امرتسر کے ذریعے
کشمیر اور اس سے ملحقات 75لاکھ نانک شاہی کے عوض مہاراجہ کشمیر کے ہاتھوں فروخت کی دستاویزات پر
دستخط ہورہے تھے تو اس وقت کشمیر پر سکھوں کی حکومت تھی اور سکھ حکمران تاوان جنگ کے عوض کشمیر
انگریزوں کو دینا چاہتے تھے جبکہ انگریزوں نے کشمیر اور ان کے ملحقات (ایسے علاقے جوسکھوں کے قبضے
میں تھے اور اب انگریزوں کے ہاتھ آرہے تھے ) کو مہاراجہ کشمیر کے ہاتھ فروخت کر دیئے لیکن لداخ اور
بلتستان کو ۱۸۴۰ء میں ڈوگروں نے فوجی تسلط کے ذریعے پہلے ہی اپنے قبضے میں لے رکھا تھا یعنی جب معاہدہ
امرتسر ہور ہا تھا، اس وقت لداخ او بلتستان پر جموں کے مہاراجہ کی حکمرانی پہلے سے موجود تھی ۔ اس طرح
پیش کرتے ہیں:
ور
معاہدہ امرتسر کے تحت مہاراجہ کے ہاتھوں فروخت ہونے والے علاقوں میں بلتستان کے شامل ہونے کا
سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا....
بیع نامہ امرتسر کے دفعہ نمبر۲ میں لکھا گیا تھا کہ:
" The eastern boundary of the tract transferred by the forgoing
article to Maharaja Gulab Singh shall be laid down by
Commissioners appointed by the British government and Maharaja Gulab Singh respectively for the purpose and shall
be defined in a separate engagement after Survey."
ترجمہ
جو علاقہ مہاراجہ گلاب سنگھ کو اس عہد نامہ کی مندرجہ بالاشرائط کے تحت منتقل کیا جاتا ہے اس کی حدود
مشرقی مقررکرنے کے لئے برٹش گورنمنٹ اور مہاراجہ گلاب سنگھ کی طرف سے کمشنر مقرر کئے جائیں گے اور
می دو کلید واقرار نامہ کے ذریعے تعین کی جائیں گی ...
مذکورہ بالاشق میں جن کمشنران کا تذکرہ ہے ان میں پیٹرک الیگزینڈرویز امینو Patrick)
(1822-1848 Alexander Vans Agnew ڈائر یکٹر ایسٹ انڈیا کمپنی اور کرنل رالف
ینگ(Col.Ralph Young) شامل تھے۔ دونوں فرنگی افسران نے علاقے کی سیاحت ضرور کی لیکن
سرحد بندی کا کام ان سے نہیں ہوسکا۔ وہ دراصل کسی اور پراسرارمشن کی تکمیل کے لئے گلگت آۓ تھے نہ کہ
تشکیل سرحد کے سلسلے میں ۔ دیگر یہ کہ انگریز روی توسیع پسندی کے خوف سے لرزاں تھے۔ ان کو اندیشہ
لاحق تھا کہ روی اگر گلگت پر قابض ہوتے ہیں تو دہلی بھی چنداں دور نہیں ۔لہذا مذکورہ بالا حضرات کی آمد بھی
اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اپنی جگہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مہاراجگان کشمیر نے گلگت میں انگریزوں کی
مداخلت کو کبھی بھی اچھی نظروں سے نہیں دیکھا۔ لیفٹنٹ جارج ہیوارڈ (Lt George Hayward)
کا بیہما نقتل، بی ڈبلیولیٹر (G.W. Leitner) کو ہراساں کرنے کی کوشش اور جان بڈلف John)
(Biddulph کواس کے قیام گلگت کے دوران ستانے کے واقعات اس کے بین ثبوت ہیں۔ یہ الگ
بات ہے کہ انگریزوں نے پیہم کوششوں سے آخر کار اپنے مقاصد تو حاصل کر ہی لئے ۔لارڈ میو Lord)
(Mayo نے ۱۸۷۰ء میں فورساتھ مشن ان علاقوں کی طرف روانہ کیا۔ پانچ برس بعد ہی بڈلف مشن بھی
گلگت پہنچا۔ دونوں مشنز کی خفیہ رپورٹوں کے نتیجے میں ۱۸۷۷ء میں گلگت ایجنسی کا قیام عمل میں آیا اور جان
بڈلف کا بحیثیت افسر بکار خاص تقر ریمل میں آیا۔ اب ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ بڈلف کی سفارتی اور
انتظامی ناکامیوں کے باعث ۱۸۸۱ء میں ایجنسی کی بساط لپیٹ دی گئی ۔ تاہم ان علاقوں میں حالات سے
باخبر رہنے کے لئے انگریزوں نے جاسوسوں کا ایک جال بچارکھا تھا۔لہذا ۱۸۸۲ء میں والی افغانستان
امیرعبدالرحمن کا چترال پر حق جتانے اور ۱۸۸ء میں روسی کرنل گرا چونکی کی ہنزہ آمد نے فرنگیوں کی نیند میں
حرام کر دیں ۔ یوں ۱۸۸۸ء میں گلگت ایجنسی کے دوبارہ قیام کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی ۔اس
طرح حکومت ہند نے مارچ ۱۸۸۹ء میں گلگت ایجنسی کے دوبارہ قیام کاحتمی فیصلہ کیا اورلیفٹنٹ کرنل اے
جی اے ڈیورینڈ کا انتخاب پولیٹکل ایجنٹ گلگت کی حیثیت سے کیا گیا۔ اس آفیسر نے کاجولائی ۱۸۸۹ء کو
اپنے عہدے کا چارج لیا۔ میطبعا سخت گیر اور دلیر آفیسر تھا۔ ہنزہ نگر کی ریاستیں اس کے دور میں شکست سے
دوچار ہوئیں ۔
گلگت کی آزادی تک کل پچیس افسران فرنگ نے علاقے میں فرائض انجام دیئے ۔ان اہلکاروں ۔
کاتعلق افواج برطانوی ہند کے شعبہ جاسوسی سے تھا جن کا چناؤ بہت چھان پھٹک کے بعد کیا جا تا تھا ۔ان
پچیس افسران کے خلاف کسی قسم کا مالی یا جنسی سکینڈل نہیں بنا۔ کولونیل دور کے ان وکٹوریائی اور ایڈورڈ مین
افسران میں سے بعض نے افسانوی شہرت پائی۔اے جی اے ڈیورینڈ کا برادر بزرگ مور کمر ڈیورینڈ
’’ڈیورینڈ لائن‘‘ کے باعث مشہور ہوا۔ میک ماہن نے بھی بلوچستان اور افغانستان کے درمیان خط تقسیم کینچ
کر شہرت پائی۔ یہ آفیسر اپنی قابلیت، دلیری اور حسن انتظام کے باعث مدت العمر تک لوگوں کے دلوں پر
راج کرتے رہے۔
ور
گلگت میں اینگلو ڈوگرہ دور حکومت با ہمی کھچاؤ کا بھی شکار رہا۔ اس بارے میں جموں یونیورسٹی
کے پروفیسر ڈاکٹر امرسنگھ چوہان کا تجز یہ ملاحظہ کیجئے :.. و روز ارت گلگت اور اس کے ماتحت اہلکاری طور پر پیشکل ایجنٹ کے احکامات کے
پابند نہیں تھے لیکن عموماً اس سے ہی ہدایات لیتے تھے لہذا پیشکل ایجنٹ ریاستی انتظامیہ کی نااہلی ،تساہل،
رشوت خوری اور غبن جیسے معاملات کے ضمن میں جو دراصل وزیر وزارت کے دائرہ اختیارات کے امور
تھے، لازما مشورہ و ہدایات صادر کرتا تھا۔ اس کارن وزارت کے علاقے میں دونسلی کی کیفیت نظر آتی تھی ،
جس کا نتیجہ باہمی کشیدگی کی صورت میں نظر آتا تھا۔ القصہ اس طرح کی صورت حال ایک مؤثر اور انچی
انتظامیہ کے لئے مفید نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی انتظامیہ اس دوسلی سے چھٹکارا چاہتی تھی ۔ اس خواہش
کی تحمیل منفی انداز میں اس وقت ہوئی جب ۱۹۳۵ء میں ریاست نے گلگت کا انتظام ساٹھ سال کے بے
پر انگریزوں کو دیا ... ‘‘
۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۷ء تک انگریزوں نے بلاشرکت غیرے گلگت پر حکمرانی کی ۔ دوسری جنگ عظیم
نے برطانوی سامراج کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اب وہ اپنی مقبوضات تیزی سے کھورہے تھے۔ ہندوستان بھی
جاگ اٹھا تھا۔ آزادی کی تحریک میں ہندومسلم دونوں سرگرم عمل تھے۔ اس زمانے میں برصغیر میں پانچ سو
سے زیادہ ریاستیں موجود تھیں جن کا فیصلہ کیا جانا تھا۔ اس بارے میں میجر غضنفر عباس قیصر فاروقی لکھتے ہیں:.... برصغیر کی تحریک آزادی اپنے منطقی انداز کو پہنچی تو ہندوستان کے والیان ریاست کے تاج و
تخت کافیصلہ مئی ۱۹۴۷ءکو کامبینیشن کی طرف سے چانسلر آف دی چیمبر آف پرنسز کے نام ایک یادداشت
کے ذریعے یوں کیا گیا کہ دیسی ریاستوں کے حقوق جو تاج برطانیہ کے تعلق سے انہیں میسر تھے،منسوخ
قرار پائیں گے اور ریاستیں برطانوی ہند میں معرض وجود میں آنے والی نئی مملکتوں کے ساتھ وفاقی رشتے یا
کسی اور خاص انتظام کے تحت اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر یں گے ۔ اس کے ساتھ ہی وائسرائے کی
حکومت نے انتداب گلگت کا ساٹھ سالہ معاہدہ منسوخ کر کے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کی دیرینہ خواہش کی تکمیل
کرتے ہوۓ شمالی علاقے کو واپس در بارکشمیر کے حوالے کر دیا اور مہاراجہ بہادر کی طرف سے بریگیڈیئر
گھنسارا سنگھ جموال کو گلگت کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ نیا گورنر ریاستی فوج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل
سکاٹ کی معیت میں بذریعہ طیارہ ۳۰ جولائی ۱۹۴۷ء کو گلگت پہنچا تا کہ برطانوی پولیٹکل ایجنٹ کرنل بیکن
سے گلگت کے نظم ونسق اور خزانے کی ذمہ داریاں سنھالے۔
(سیاچن کی سرحد پر۔ میجرغضنفرعباس ص 93-92)
اس فیصلے کے نتیجے میں گلگت جب بار دیگر مہاراجہ کشمیر کے قبضے میں چلا گیا تو علاقے میں مایوی
کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ چھٹی جموں وکشمیر کے مسلمان عناصر جن کا سرخیل کیپٹن ( بعدازاں کرنل ) حسن خان تھا ،
نے اب یا بھی نہیں کی بنیاد پر گلگت سکاؤٹس کے صوبیدار میجر ( بعدازاں کیپٹن ) راجہ بابر خان اور ان کے
ساتھیوں کے ساتھ مل کر جد و جہد آزادی کے لئے لائے تیل تیار کیا۔ بفضل تعالی می کوششیں رنگ لائیں ۔ کیم
نومبر ۱۹۴۷ءکو ڈوگرہ گورنر گھنساراسنگھ کی گرفتاری کے ساتھ ہی جنگ آزادی کی ابتدا ہوئی۔ یہ جنگ ۱۹۴۹ء
تک جاری رہی۔ تا ہم فروری ۱۹۴۹ء میں جنگ بندی بھی ہوئی ۔ خط متارکہ جنگ کے حتمی تعین کا مرحلہ
اقوام متحدہ کے مبصرین کی عمرانی میں دسمبر ۱۹۳۹ء میں تکمیل کو پہنچا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
15200